آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر‘ صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

خلاصہ

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
  • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔'
  • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ 'نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے'
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
  • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے مطابق اس حملے میں ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اسرائیلی فضائی حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے انٹیلی جنس چیف ہلاک

    ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ محمد کاظمی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم اور ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں محمد کاظمی، ان کے نائب حسن محقق اور کمانڈر محسن باقری بھی ہلاک ہو گئے۔

    کہا جاتا ہے کہ یہ تینوں تاجرش اسکوائر کے قریب حملے میں مارے گئے۔

    اس سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم نے ان کے چیف انٹیلی جنس افسر اور ان کے نائب کو تہران میں نشانہ بنایا ہے ۔‘

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 افراد ہلاک

    ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حسین کرمانپور کے مطابق گذشتہ 65 گھنٹوں میں 1,277 افراد زخمی اور ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔

    ایرانی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ ’90 فیصد سے زیادہ‘ مرنے والے عام شہری تھے، جن میں سے 522 افراد کو ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

  2. بریکنگ, ایران کا اسرائیل پر وزارت خارجہ کی عمارت پر جان بوجھ کر حملے کا الزام

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران کی وزارت خارجہ کی ایک عمارت پر جان بوجھ کر حملہ کیا ہے۔

    خطیب زادہ نے ایکس پر لکھا کہ ’حملے میں کئی شہری زخمی ہوئے، جن میں میرے متعدد ساتھی بھی شامل ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔‘

    انھوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ایک عمارت کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے اور ملبے کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اتوار کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

    ایرانی ٹیلی ویژن نے کہا کہ وسطی تہران میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، اور یہ کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ حملہ دارالحکومت کے وسط میں ایک گنجان آباد علاقے میں ہوا۔

    اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ چند منٹوں کے وقفے سے کم از کم دو بار زور دار دھماکوں نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے آسمان پر سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے۔

  3. ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کیا تھا: امریکی حکام

    کم از کم تین امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے حالیہ اسرائیلی منصوبے کو مسترد کیا تھا۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی سی کو ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’اسرائیلیوں کو خامنہ ای کو قتل کرنے کا موقع ملا تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے کہا کہ یہ ایک ’اچھا خیال‘ نہیں۔ ‘

    ان کا کہنا ہے کہ نتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان یہ بات چیت گذشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد ہوئی۔

    ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے کی خبر سب سے پہلے روئٹرز نے دی تھی۔

    اس سے قبل آج شام فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نتن یاہو نے روئٹرز کی رپورٹ کی براہ راست تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت کی بہت سی جھوٹی خبریں ہیں جو کبھی نہیں ہوئیں اور میں اس میں نہیں پڑوں گا۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’ہم وہ کریں گے جو ہمیں کرنا چاہیے اور مجھے لگتا ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ امریکہ کے لیے کیا اچھا ہے اور میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔‘

  4. بریکنگ, ایران کے اسرائیلی شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے

    ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایران نے تل ابیب، حیفا اور دیگر شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

    ایرانی ٹی وی کی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میزائلوں نے ’اسرائیلی دفاعی نظام کی پرتوں‘ کو عبور کر لیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی سروسز کو اطلاعات ملی ہیں کہ شمالی ساحلی شہر حیفا میں ’ایک بستی‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے تاہم املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

    حیفا کی فوٹیج اور تصاویر میں شہر کے اوپر رات کے آسمان میں گہرا دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جائے حادثہ سے دور رہیں اور زمین پر موجود پولیس کی ہدایات پر عمل کریں۔‘

  5. مسئلہ جنگ بندی کا نہیں، مسئلہ ان چیزوں کو روکنا ہے جو ہماری بقا کے لیے خطرہ ہیں: بنیامن نتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے امریکہ میں فاکس نیوز کو براہ راست انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’مکمل تعاون‘ کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں ملوث نہیں ہے۔

    جب نتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے ٹرمپ سے امریکی ساختہ ’بنکر بسٹر‘ بموں کی درخواست کی ہے جو زیر زمین اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں تو نتن یاہو کا کہنا تھا کہ’میں صدر کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔‘

    نتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن یہ سمجھیں کہ ان کے فیصلے ان کے اپنے فیصلے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پہلے ہی ایران کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچا چکا ہے، جس میں اصفہان میں جوہری پلانٹ پر حملہ بھی شامل ہے۔

    فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بیئر نے نتن یاہو سے سوال کیا کہ اسرائیل نے اب تک ایران کی جوہری صلاحیت کو کتنا نقصان پہنچایا ہے؟

    تو نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم نے انھیں کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مکمل طور پر حیران تھے۔‘

    انھوں نے جمعے کے روز سے اسرائیلی فضائیہ کی فضائی برتری کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل نے ’تہران تک آزاد راستہ‘ حاصل کر لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’اب ہم تہران اور دیگر مقامات پر مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ اسرائیل اور ایران کو’ایک معاہدہ کرنا چاہیے‘ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ (ایران) وہی کرتے ہیں جو صدر چاہتے ہیں (اور اپنی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں)۔

    لیکن انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس کا انتظار نہیں کرے گا۔

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر ایران کسی معاہدے کے تحت اسرائیل پر میزائل داغنا بند کرنے پر رضامند بھی ہو جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت کو بڑھانا بند کر دے گا۔

    انھوں نے مزید کہا ’یہاں مسئلہ کشیدگی کم کرنے کا نہیں ہے۔ یہاں مسئلہ جنگ بندی کا نہیں ہے۔ مسئلہ ان چیزوں کو روکنا ہے جو ہماری بقا کے لیے خطرہ ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران با ہرا جوپری ہتھیار بنانے کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

    بنیامن نتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا ایران میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایرانی حکومت بہت کمزور ہے۔‘

    نتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت کے پاس عوامی کی سپورٹ نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’80 فیصد عوام‘ اس حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔

    ان کا ززید کہنا تھا کہ ’فارسی لوگوں اور یہودیوں کے درمیان ایک قدیم دوستی رہی ہے۔ اس وقت عمل اور اٹھنے کا فیصلہ ایرانی عوام کا ہے۔‘

  6. ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا تیسرا روز: اتوار کو اب تک کیا ہوا؟

    آج امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے سے متعلق مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد آج ہونا تھا۔ اس کے برعکس، تیسری رات بھی اسرائیل نے ایران کے کئی کلومیٹر اندر جا کر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے اسرائیل پر دو بار بیلسٹک میزائل داغے۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کم از کم دس اسرائیلی شہری ایرانی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 128 شہری ہلاک جبکہ 900 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    • ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب ’جوابی میزائلوں‘ کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو پھر اسرائیل ’بہت سخت اور مزید شدید‘ جواب کی امید رکھے۔
    • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کو عام اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی ’بہت بھاری قیمت‘ چکانی ہو گی۔ بیت یام میں اس رہائشی عمارت کی جگہ پر جو ایرانی میزائل حملے میں تباہ ہوئی ہے نتن یاہو نے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو ’عام شہریوں، خواتین اور بچوں کا سوچا سمجھا قتل قرار دیا ہے۔‘
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے، اور وہ یہ معاہدہ کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وہ ایسے معاہدے کو یقینی بنائیں گے۔‘ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے دنیا بھر کے ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی طرف اشارہ کیا جس کو روکنے میں انھوں نے مدد کی ہے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا حصہ نہیں ہے مگر یہ ممکن ہے کہ وہ اس کا حصہ بن جائے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ روسی صدر کی ثالثی کی پیشکش کو تسلیم کرنے پر بھی تیار ہیں۔
    • ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ ان اسرائیلی حملوں میں شراکت دار ہے‘ جو ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے اور کہا کہ امریکہ ’اپنی ذمہ داری خود قبول کرے۔‘
    • اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے درجنوں جنگی طیاروں نے رات بھر اور ایران کے ساتھ لڑائی کے تیسرے روز تہران میں کم از کم 80 اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ان میں ایران کی وزارت دفاع کا ہیڈکوارٹرز، فوج کا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ اور دیگر اہداف جہاں ایرانی حکومت نے جوہری ذخیرہ چھپا رکھا ہے شامل ہیں۔
    • برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کی جانب سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔ برطانیہ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے امکان کی وجہ سے یہ ہدایات دی گئی ہیں۔ ادھر پاکستان نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کی جانب سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
  7. مختلف ممالک کا اسرائیل، ایران تنازع پر ردعمل

    دنیا بھر میں مختلف ممالک ایران، اسرائیل تنازع پر کیا کہہ رہے ہیں۔

    عراق کے وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے بغداد میں یورپی یونین کے سفیر کو بتایا کہ ایران پر اسرائیل کے حملے ’عراق اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے براہ راست خطرہ‘ ہیں اور ان کا مقصد سفارتی کوششوں کو روکنا ہے۔

    فرانس کے وزیر خارجہ ژان نوئل بارو نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل اور یورپ کی سلامتی اور ’وجود کے لیے خطرہ‘ ہے۔

    جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ تہران کو ’اسرائیل میں شہری اہداف پر بمباری فوری طور پر بند کرنی چاہیے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی اس امکان کے لیے تیاری کر رہا ہے کہ ایران جرمنی کے اندر اسرائیلی یا یہودی مقامات کو نشانہ بنائے۔

    ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے روسی ہم منصب کو ایک فون کال میں بتایا کہ صرف سفارت کاری سے ہی اس ’پریشان کن‘ تنازعے کو حل نکالا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سرکاری ذریعے نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اس فون کال کی تصدیق کی ہے۔

  8. روس کی ایران، اسرائیل کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش، ٹرمپ کا پوتن کی ثالثی قبول کرنے کا عندیہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا حصہ نہیں ہے مگر یہ ممکن ہے کہ امریکہ اس تنازع کا حصہ بن جائے۔

    اطلاعات کے مطابق انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کو بھی تسلیم کریں گے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پوتن اس تنازع کے حل کے لیے ثالث بن جائیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (پوتن) اس کے لیے تیار ہیں۔ ہماری اس حوالے سے طویل بات ہوئی ہے۔‘

    کریملن کے سرمایہ کاری کے سفیر کیریلی دمتروف نے علیحدہ سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ روس اس تنازع میں ثالث بن کر ایک خاص کردار ادا کر سکتا ہے۔

  9. انڈیا، پاکستان میں جنگ بندی سمیت ٹرمپ نے کون سے تنازعات کے حل میں اپنے کردار کا ذکر کیا؟

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا سوشل ٹروتھ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کر لینا چاہیے اور وہ ایک معاہدہ کریں گے جیسا کہ میں نے انڈیا اور پاکستان کو کرنے کے لیے کہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان دو ممالک سے میں نے کہا کہ امریکہ سے تجارت کریں۔ جنگ بندی پر پہنچنے کے لیے انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے رہنماؤں کی تعریف کی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اس کے علاوہ میری پہلی مدت کے دوران سربیا اور کوسوو میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی اور دونوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے ایسے ہی متنازعہ چل رہے تھے اور یہ دونوں ممالک جنگ کے دھانے پر تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے اسے (جنگ سے) روکا۔‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ سابق صدر بائیڈن نے کچھ ’انتہائی احمقانہ‘ فیصلے کیے جن سے کچھ پہلوؤں سے طویل مدتی نقصان پہنچا ہے لیکن میں اسے دوبارہ ٹھیک کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک اور معاملہ مصر اور ایتھوپیا کا ہے اور ایک بڑے ڈیم پر ان کی لڑائی ہے جس کا اثر دریائے نیل پر پڑ رہا ہے۔‘ ان کے مطابق ’میری مداخلت کی وجہ سے فی الحال اب وہاں امن ہے اور یہ اسی طرح رہے گا۔‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ ’اسی طرح ہم جلد ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان امن قائم کریں گے۔ ان کے مطابق ’اب بہت سی کالز اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’میں بہت کچھ کرتا ہوں، اور کبھی کسی چیز کا کریڈٹ نہیں لیتا، لیکن یہ ٹھیک ہے، لوگ سمجھتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مشرق وسطیٰ کو پھر سے عظیم بنائیں!‘

  10. اگر ایران پر حملے جاری رہے تو پھر اسرائیل کو ’سخت اور مزید شدید جواب‘ دیا جائے گا: مسعود پزشکیان

    اسرائیل پر تازہ حملوں سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو پھر اسرائیل ’بہت سخت اور مزید شدید‘ جواب کی امید رکھے۔

    عراقی وزیراعظم سے فون کال پر انھوں نے کہا کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو پھر خطے میں دیگر ممالک بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے اسلامی ممالک سے سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ تنازع شروع نہیں کیا ہے مگر اس نے مضبوطی سے اس کا جواب دیا ہے۔

  11. ایران کو ’بہت بھاری قیمت‘ چکانی ہوگی: نتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کو عام اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی ’بہت بھاری قیمت‘ چکانی ہو گی۔

    بیت یام میں اس رہائشی عمارت کی جگہ پر جسے ایران نے میزائل سے تباہ کیا ہے نتن یاہو نے خطاب کرتے ہوئے اسے ’عام شہریوں، خواتین اور بچوں کا سوچا سمجھا قتل قرار دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کے بقا کے لیے ایک خطرہ ہے۔

    نتن یاہو نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ حکام کی طرف سے حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

  12. اسرائیلی حملوں میں 128 شہری ہلاک اور 900 سے زائد زخمی ہوئے: ایران

    ایرانی میڈیا کی خبروں کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں 128 ایرانی شہری ہلاک اور تقریباً 900 زخمی ہوئے ہیں۔

    کچھ ایرانی تنظیموں اور میڈیا نے مختلف اعدادوشمار بھی جاری کیے ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے آزادانہ طور پر ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے کیونکہ ہم پابندیوں کی وجہ سے ایران میں اپنے صحافی نہیں بھیج سکتے۔

  13. بریکنگ, اسرائیل اور ایران میں معاہدہ ہو جائے گا، میں اسے یقینی بناؤں گا: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے، اور وہ یہ معاہدہ کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وہ ایسے معاہدے کو یقینی بنائیں گے۔‘

    ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے دنیا بھر کے ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی طرف اشارہ کیا جس کو روکنے میں انھوں نے مدد کی ہے۔

    ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جلد ہی ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ یوکرین اور روس کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں مدد کر رہا ہے۔ تاہم دونوں جنگیں ابھی تک جاری ہیں۔

    اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’اسی طرح ہم جلد ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان امن قائم کریں گے!‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اب بہت سی فون کالز اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ میں بہت کچھ کرتا ہوں اور کبھی کسی چیز کا کریڈٹ نہیں لیتا، لیکن یہ ٹھیک ہے، لوگ سمجھتے ہیں (کہ میں کیا کر رہا ہوں)۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’مشرق وسطی کو پھر سے عظیم بنائیں!‘

  14. امریکہ کی یروشلم میں اپنے سفارتی عملے کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت

    یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے عملے کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر محفوظ مقامات میں منتقل ہو جائیں جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ عملے کے خاندان کے افراد اگر چاہیں تو اسرائیل سے نکل سکتے ہیں۔

    اس وقت تل ابیب کے قریب انٹرنیشنل ایئرپورٹ بند ہے یعنی زمینی راستے سے صرف پڑوسی ممالک جیسے اردن کے راستے اسرائیل سے نکلا جا سکتا ہے۔

  15. ایران نے اسرائیل پر ’جوابی میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع‘ کر دی

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب ’جوابی میزائلوں‘ کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی طرف میزائل فائر کیے ہیں جس کے بعد متعدد علاقوں میں سائرن بجا دیے گئے۔ یہ سائرن کی آواز اس بات علامت ہوتی ہے کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان کے ’اسرائیلی فوج ان میزائلوں کو ناکارہ بنا رہی ہیں اور جہاں ضروری ہو گا خطرے کے خاتمے کے لیے حملے کیے جائیں گے۔‘

    ترجمان نے کہا ہے کہ عوام فوج کی طرف ملنے والے ہدایات پر عمل کریں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے عوام سے عوامی اجتماعات سے گریزکرنے کی ہدایت کی تھی۔

  16. تہران اور دیگر مقامات پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات

    ایران کی سرکاری ٹی وی کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

    دریں اثنا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفری نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے اپنے حملوں کو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں روکا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’اس وقت بھی ہم تہران کے درجنوں مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بھی ایرانی حملوں کے بارے میں کہا: ’ہمارے آگے مشکل دن ہیں، ہم آنے والے دنوں میں مزید آپریشن اور اور حملے دیکھیں گے۔‘

  17. ’خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ‘، پاکستان کی ایران اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو اسرائیل کے سفر سے محتاط رہنے کی ہدایت

    برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کی جانب سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔ برطانیہ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے امکان کی وجہ سے یہ ہدایات دی گئی ہیں۔ ادھر پاکستان نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ یہ کسی بھی وقت مزید خرابی کی طرف جا سکتی ہے۔‘ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل میں 13 جون کو ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد سے اسرائیل کی فضائی حدود ابھی بھی بند ہیں۔

    برطانوی دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو غزہ اور شام کی سرحد کے قریبی علاقوں کو سفر کرنے سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ نے اس سے قبل ایکس پر یہ اطلاع دی تھی کہ ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین کی واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سال بھر پاکستان سے ایران کو زائرین کی بڑی تعداد جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تجارت، تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک پاکستانی ایران کا رخ کرتے ہیں۔

  18. گذشتہ رات ایران میں کم از کم 80 اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے درجنوں جنگی طیاروں نے رات بھر اور ایران کے ساتھ لڑائی کے تیسرے روز تہران میں کم از کم 80 اہداف پر حملے کیے ہیں۔

    ان میں ایران کی وزارت دفاع کا ہیڈکوارٹرز، فوج کا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ اور دیگر اہداف جہاں ایرانی حکومت نے جوہری ذخیرہ چھپا رکھا ہے شامل ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ دیگر اہداف میں فیول کی دو ’دوہرے مقاصد کے لیے استعمال‘ ہونے والی سائٹس شامل تھیں جو فوجی اور جوہری دونوں کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کے تین دنوں سے بھی کم عرصے میں ایران میں 170 سے زیادہ اہداف اور 720 ملٹری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے جمعے کو ایران کے خلاف آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کے تحت حملے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں اس کے مطابق ایران کے فوجی اور جوہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    ان حملوں میں ہلاک ہونے والی اعلیٰ فوجی قیادت کے نام جب ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونا شروع ہوئے تو اسرائیل کے اس آپریشن کی وسعت کے بارے میں اندازہ ہونا شروع ہوا۔

    اس حملے میں نہ صرف ایرانی فوج کے سربراہ جنرل باقری ہلاک ہوئے بلکہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی سمیت متعدد اہم جوہری سائنسدان بھی مارے گئے۔

    اگرچہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ان افراد کے جانشین اور ساتھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے‘ لیکن ظاہر ہے کہ ان افراد کے ہلاک ہونے سے بلاشبہ ایران کو دھچکا پہنچے گا۔

    ان افراد کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ وہ رہبرِ اعلیٰ کے قریبی حلقے میں شامل تھے۔ ہم نے ان افراد کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

  19. یہ ایران میں ’رجیم‘ تبدیلی کا ایک موقع ہے: ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی

    ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتادر سے بے دخل ہونے والے شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے بی بی سی سے ایران اور اسرائیل کی صورتحال پر اپنا تجزیہ شیئر کیا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے سابق ولی عہد رہ چکے ہیں۔

    انھوں نے لورا کوئنس برگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں عام لوگ جو موجودہ حکومت کی مخالفت کرتے ہیں وہ اب اسرائیل کے حملوں کے بعد ’دوبارہ متحرک‘ ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’حتمی حل ’رجیم‘ کی تبدیلی ہے، اور اب ہمارے پاس ایک موقع ہے کیونکہ یہ حکومت اپنے کمزور ترین موڑ پر ہے۔‘

    انھوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ ’بے کار نہ بیٹھیں اور واضح طور پر یہ ظاہر کریں کہ صرف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ وہ ایرانی عوام کو جمہوریت اور آزادی کے لیے ان کی لڑائی کے لیے حمایت کا احساس دلانے کے لیے اگلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔‘

    رضا پہلوی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے مقصد کی حمایت کے لیے غیر ملکی طاقتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔

  20. ایران میں موساد سے تعلق کے شبے میں دو افراد گرفتار

    ایران کی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی پولیس نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعاون کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    تسنیم نے پولیس ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ موساد کی ’دہشت گرد‘ ٹیم کے دو ارکان جو کہ بم، دھماکہ خیز مواد اور الیکٹرانک آلات بنانے پر کام کر رہے تھے، کو تہران کے مغرب میں صوبہ البرز میں گرفتار کیا گیا ہے۔