پاکستان کے صوبے بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے حکام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں سے آمد و رفت کے لیے کراسنگ پوائنٹس کو تاحکم ثانی بند کیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ کراسنگ پوائنٹس بند کیے جانے کے بعد ایران کے حالات کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخلے پر پابندی ہے جبکہ ان سے ایران سے پاکستانی شہریوں کے واپس آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
اگرچہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار اور وہاں سے آنے والی اشیاء پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے تاہم سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایرانی اشیاء بالخصوص تیل اور گیس کی آمد بند ہوگئی ہے جس سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر دور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ شہر میں بھی پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے لیکن کوئٹہ میں شہر میں ایرانی تیل کی فروخت پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے پابندی عائد کی گئی تھی۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’کوئٹہ شہر میں تیل کی کوئی قلت نہیں ہے اور ایسی افواہیں ایرانی تیل سے وابستہ سمگلرز کی جانب سے پھیلائی جا رہی۔‘
سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بارے میں سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
ایران سے متصل ضلع گوادر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق، حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ گوادر نے گبد-کلاتو 250 بارڈر پر راہداری کو تا حکمِ ثانی بند کر دیا ہے۔
اعلامیے میں عوام سے درخواست کی گئی کہ وہ تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی معلومات یا رہنمائی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔
دریں اثناء ایران سے متصل دوسرے ضلع پنجگور کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر چیدگی اور جیرک پروم بارڈر کے تمام پیدل آمد و رفت کے راستے تا حکم ثانی بند رہیں گے۔
بلوچستان کے ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں گوادر اور پنجگور کے علاوہ کیچ ، واشک اور چاغی شامل ہیں۔ باقی اضلاع کے حکام کی جانب سے بھی پاکستان کی جانب سے لوگوں کی ایران میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
جب اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد زہری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی صرف پاکستان سے ایران جانے کے لیے تاحکم ثانی عائد کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستانی شہری ایران سے آرہے ہیں ان کے پاکستان میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ ایران کے ساتھ جو کاروبار ہورہا ہے اس پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔‘
ایرانی پیٹرول اور گیس کی بندش
ایران سے متصل ضلع واشک کے سرحد شہر ماشکیل میں انجمن تاجران کے صدر کبیرریکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہاں سے گُزر کے نام سے تیل اور گیس لانے کے لیے جو کراسنگ پوائنٹ تھا اس کو بھی بند کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن گاڑیوں کو تیل اور گیس لانے کے لیے جو پرمٹس جاری کیے گئے تھے ان کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔
کبیر ریکی کا کہنا تھا کہ ماشکیل سمیت بلوچستان کے دیگر سرحدی شہروں میں ایران سے آنے والی خوراکی اشیاء پر پہلے سے پابندی عائد تھی لیکن تیل اور گیس کی بندش کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں تیل اور گیس کا ایک بڑا بحران پیدا ہوگا۔
انھوں نے ضلع واشک کی انتظامیہ سے اپیل کی وہ ایرانی تیل اور گیس کی آمد پر پابندی کو فوری طور پر ختم کریں تاکہ لوگوں کو ایندھن کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی یار جان بادینی کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی بندش سے نوشکی میں ایرانی تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جبکہ وہاں پاکستانی کمپنیوں کا تیل دستیاب نہیں۔
بلوچستان کے سرحدی اضلاع اور ان سے متصل دیگر اضلاع میں طویل عرصے سے پاکستانی کمپینوں کے پیٹرول پمپس بند ہیں جس کی وجہ سے وہاں سرکاری گاڑیوں کا انحصار بھی ایرانی تیل پر ہے۔
جہاں بلوچستان کے سرحدی شہروں کے علاوہ دیگر علاقوں کا انحصار ایرانی تیل اور ایل پی جی گیس پر ہے وہاں بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں روزانہ ایرانی ایل پی جی لیکر ٹینکرز پنجاب اور سندھ کے لیے جاتے ہیں۔
بلوچستان میں مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ ایرانی تیل کی بندش یا اس کی آمد میں کمی سے ان کی قیمتوں میں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دیگر علاقوں کی طرح کوئٹہ شہر میں بھی سستا ہونے کی وجہ سے لوگوں بالخصوص کم آمدنی والے طبقات کا انحصار ایرانی پیٹرول پر تھا۔