پنجاب میں طوفانی بارشوں اور آندھی سے تباہی: کم از کم آٹھ افراد ہلاک، 45 زخمی

پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں راولپنڈی، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ اور میانوالی سے ایک ایک ہلاکت شامل ہے جبکہ جہلم میں تین افراد ہلاک ہوئِے۔

خلاصہ

  • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے
  • غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک خاتون ڈاکٹر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کے 10 میں سے 9 بچے ہلاک ہو گئے
  • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 25 مئی سے ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے
  • آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران افواجِ پاکستان کی قربانیوں، سیاسی قیادت کے تعاون اور قوم کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے عشائیہ دیا جس میں سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی

لائیو کوریج

  1. ’متاثرین اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں تھے‘: اسرائیلی سفارت خانے نے ہلاک ہونے والے جوڑے کی شناخت ظاہر کر دی

    israel

    ،تصویر کا ذریعہEmbassy of Israel to the USA

    امریکہ میں اسرائیل کے سفارت خانے نے واشنگٹن میں ہلاک ہونے والے جوڑے کا شناخت بتائی ہے اور ان کا نام یارون اور سارہ ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان کے پورے نام یارون لیشنسکی اور سارہ ملگرام ہیں۔

    سفارت خانے نے ایکس پر لکھا کہ ’متاثرین اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں تھے۔ ایک دہشت گرد نے انھیں گولی مار کر اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ واشنگٹن میں کیپیٹل جیوئش میوزیم میں ایک تقریب سے باہر نکل رہے تھے۔‘

    سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ان کا عملہ اس قتل سے ’دل برداشتہ اور پریشان‘ ہے۔

    سفارتی ذرائع کی جانب سے خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی سفارت خانے کے عملے کے دو ارکان میں سے ایک یارون لیشنسکی کے پاس جرمن پاسپورٹ تھا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ لیشنسکی جوانی میں ہی اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔ سنہ 2022 میں وہ اسرائیلی سفارت خانے کے لیے کام کرنے کے لیے واشنگٹن منتقل ہوئے۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اس حملے کو ’قابل مذمت‘ قرار دیا ہے۔

  2. ہم نے انڈیا اور پاکستان کا تنازع تجارت سے حل کیا، ڈر ہے کہ کچھ بڑا ہو جاتا تو کہتے یہ ٹرمپ کی غلطی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کو تجارت کے ذریعے ٹالنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے یہ کیا اور تنازعے کو تجارت سے حل کیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہم انڈیا کے ساتھ ایک بڑی ڈیل کریں گے، ہم پاکستان کے ساتھ بھی بڑی ڈیل کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا کے ساتھ ایک میڈیا انٹرویو میں پاک بھارت دشمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ دنیا مںی تنازعات کم کر ہے ہیں اور انڈیا اور پاکستان کے معاملے میں ’میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ کسی نہ کسی کو تو آخری وار کرنا ہوگا۔ ‘

    ان کا کہنا تھا ’حملے، بدترین سے بدترین، بڑے سے بڑے ہوتے جا رہے تھے۔ ہم نے دو دن بعد اسے حل کروایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ بڑا ہو جاتا تو کہتے یہ ٹرمپ کی غلطی تھی۔ ‘

    انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے ان کی بات ماننے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان کے لوگ بہترین ہیں اور ان کے پاس عظیم لیڈر ہیں۔ اور مودی بھی میرے دوست ہیں اور ہم نے اچھا کیا۔‘

  3. پاکستان کا انڈین سفارتخانے کے ایک اہلکار کو مُلک چھوڑنے کا حکم

    دفترِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان نے انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اہلکار کو غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس فیصلے کے متعلق مطلع کر دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز انڈیا نے بھی پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں مُلک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

    پاکستان کی طرح انڈیا نے بھی پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار پر غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

  4. نفرت اور شدت پسندی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں اسرائیلی اہلکاروں کے قتل کی مذمت

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGet

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارتخانے کے اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ یہود دشمنی پر مبنی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے قتل واضح طور پر یہود دشمنی پر مبنی ہے اور ایسے حملوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’نفرت اور شدت پسندی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔‘

    بدھ کے روز اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کیپیٹل جوئش میوزیم میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

    اسرائیلی سفارتخانے کی ترجمان ٹال نائم کوہن کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو نزدیک سے گولی ماری گئی ہے۔

    امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیل لائیٹار نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا ہے کہ مارے جانے والے دونوں افراد کی منگنی ہونے والی تھی۔

    ’نوجوان اہلکار نے اگلے ہفتے یروشلم میں اپنی ساتھی کو شادی کی پیشکش کرنے کی غرض سے رواں ہفتے انگوٹھی خریدی تھی۔‘

    ’وہ ایک خوبصورت جوڑا تھا۔‘

  5. واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے کے اہلکاروں کا قتل: حملہ آور کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    امریکی پولیس نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے کے اہلکاروں پر حملے کرنے والے کی شناخت ایلائس روڈریگز کے نام سے کی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے بتایا کہ 30 سالہ حملہ آور شکاگو کا رہائشی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کے حملے سے قبل روڈریگز کو میوزیم کے باہر بے چینی سے ٹہلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ اور چار افراد کے ایک گروپ کی جانب بڑھا اور بندوق نکال کر دو افراد کو قتل کر دیا۔

    روڈریگز اب حراست میں ہے۔ وشنگٹن ڈی سی کے میئر باؤزر کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    واشنگٹن پولیس چیف پامیلا سمتھ کا کہنا ہے کہ دورانِ جراست روڈریگز نے ’آزاد فلسطین، آزاد فلسطین‘ کے نعرے لگائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے ماضی کے ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ وہ پولیس کے ریڈار پر ہوتا۔

    ایف بی آئی کے واشنگٹن فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سٹیو جینسن کا کہنا ہے تفتیش کے دوران کسی بھی ممکنہ دہشتگردی کے امکان کو بھی دیکھا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہیں حملے کی وجہ ’نفرت پر مبنی جرم‘ تو نہیں۔

  6. امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

    واشنگٹن

    ،تصویر کا ذریعہCBS

    ،تصویر کا کیپشنذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ایک ٹارگٹد کارروائی لگتی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    مارے جانے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس کو ذرائع نے بتایا کہ دونوں افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کیپیٹل جوئش میوزیم میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بظاہر یہ ایک ٹارگٹد کارروائی لگتی ہے۔

    اس علاقے میں متعدد سیاحتی مقامات، میوزیم اور حکومتی عمارتیں ہیں جن میں ایف بی آئی کا واشنگٹن فیلڈ آفس بھی شامل ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، فائرنگ کے وقت اسرائیلی سفارتخانے کے متعدد اہلکار میوزیم میں ہونے والی اس تقریب میں موجود تھے۔

    امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی چیف کرسٹی نوم نے ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو واشنگٹن میں جوئش میوزیم کے باہر قتل کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے میں ملوث مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

    اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے مندوب ڈینی ڈینن نے اس واقعے کو ’یہود-مخالف دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی کمیونٹی اور سفارتی عملے کو نقصان پہنچانا ریڈ لائن ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی حکام اس مجرمانہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

  7. اسرائیل میں غزہ جنگ کے خلاف آوازوں میں اضافہ: ’موسم بدل رہا ہے، ہوا مخالف سمت سے چلنا شروع ہو گئی ہے‘, ٹام بیٹ مین، بی بی سی نیوز

    اسرائیلی مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسرائیل کے چینل 12 کی طرف سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 61 فیصد اسرائیلی جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی محفوظ واپسی چاہتے ہیں

    جیسے جیسے غزہ میں اسرائیلی جنگ تشدد کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں جیسے یہ جنگ لڑی جا رہی ہے کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

    بائیں بازو کے سیاست دان اور اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی کمانڈر یائر گولن کو سوموار کے روز اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایک سمجھدار ملک کی طرح برتاؤ کرنا شروع نہیں کیا تو اسرائیل بھی جنوبی افریقہ کی طرح ایک پاریہ ریاست بن جائے گا۔

    اسرائیلی ریڈیو پر مارننگ نیوز پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’ایک سمجھدار ریاست عام شہریوں کے خلاف جنگ نہیں کرتی، کسی مشغلے کے طور پر بچوں کو ہلاک نہیں کرتی، اور اپنے علاقوں سے مکینوں کو نکالنے کا ہدف نہیں اپناتی۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انھیں ’بہتان‘ قرار دیا ہے۔

    سابق اسرائیلی وزیر دفاع اور چیف آف سٹاف موشے ’بوگی‘ یاعلون نے بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک حکومتی پالیسی ہے جس کا حتمی مقصد اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔ ’یہ پالیسی ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔‘

    صرف 19 ماہ قبل جب حماس کے عسکریت پسندوں نے سرحدی باڑ عبور کر کے اسرائیل میں حملہ کیا تھا تو اس وقت اس طرز کے بیانات ناقابل تصور تھے۔

    اب غزہ تباہی کا شکار ہے، اسرائیل نے ایک نیا فوجی حملہ شروع کیا ہے اور 11 ہفتوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے اعلان کے باوجود اب تک غزہ میں پہنچنے والی امداد بہت محدود ہے۔

    اسرائیل کے چینل 12 کی طرف سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 61 فیصد اسرائیلی جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی محفوظ واپسی چاہتے ہیں، جبکہ صرف 25 فیصد غزہ میں فوجی کارروائیوں میں اضافے اور قبضے کی حمایت کرتے ہیں۔

    اسرائیلی حکومت کا اصرار ہے وہ حماس کو ختم کرے گی اور بقیہ یرغمالیوں کو بچا لے گی۔ نتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ ایک ’مکمل فتح‘ حاصل کر سکتے ہیں۔

    سابق اسرائیلی یرغمالی مذاکرات کار گیرشون باسکن کہتے ہیں کہ اسرائیلی معاشرے کے دیگر طبقات میں ’مایوسی اور صدمے‘ کے جذبات پائے جاتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے یرغمالیوں کے خاندانوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ جنگ ختم ہونی چاہیے اور ایک معاہدہ ہونا چاہیے۔

    تاہم ایک قلیل تعداد پہلے حماس کے خاتمے اور پھر یرغمالیوں کو آزاد کروانے کے حق میں بھی ہے۔

    اتوار کے روز، تقریباً 500 مظاہرین نے اسرائیل کے نئے فوجی حملے کے خلاف احتجاجاً سڈروٹ شہر سے غزہ کی سرحد تک مارچ کیا۔

    ان میں سے اکثر ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے جس پر ’غزہ میں بربریت بند کرو‘ لکھا ہوا ٹھا اور انھوں نے اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔

    اس مظاہرے کا اہتمام ’سٹینڈنگ ٹوگیدر‘ نامی ایک گروپ نے کیا تھا جو اسرائیل کے یہودی اور فلسطینی شہریوں کا ایک چھوٹا لیکن تیزی سے بڑھتا ہوا جنگ مخالف گروپ ہے۔ انھوں نے ایک سڑک بلاک کرنے کی کوشش کی، اور گروپ کے رہنما ایلون لی گرین اور آٹھ دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    گرین جو اپنے گھر میں نظر بند تھے نے بی بی سی کو بتایا، ’میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ اسرائیلیوں میں بیداری آئی ہے، اور زیادہ لوگ واضح موقف اختیار کر رہے ہیں۔‘

    اسرائیلی مطاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناتوار کے روز، تقریباً 500 مظاہرین نے اسرائیل کے نئے فوجی حملے کے خلاف احتجاجاً سڈروٹ شہر سے غزہ کی سرحد تک مارچ کیا۔

    اس گروپ کے ایک کارکن اوری ویلٹ مین کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں لوگوں کا اس بات پر یقین بڑھتا جا رہا ہے کہ جنگ کا جاری رہنا نہ صرف فلسطینی شہریوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یرغمالیوں ، فوجیوں اور ہم سب کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔

    یاد رہے کہ فوج کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے اپریل میں خطوط پر دستخط کیے تھے جس میں نتن یاہو حکومت سے لڑائی بند کرنے اور بقیہ مغویوں کی واپسی کے لیے بات چیت پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    تاہم، اسرائیل میں بہت سے لوگ اس سے مختلف خیالات بھی رکھتے ہیں۔

    بدھ کے روز غزہ میں کریم شالوم کراسنگ پر بی بی سی نے گیڈون ہاشاویت کا انٹرویو کیا۔ وہ اس علاقے میں امداد کی اجازت کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپ کے ایک رکن ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ غزہ میں رہنے والے ’بے قصور نہیں۔‘

    ’جب انھوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کو چنا تو انھوں نے اپنا انتخاب کر لیا تھا۔‘

    منگل کے روز، برطانیہ نے اسرائیلی معاشرے کے کچھ انتہا پسند آبادکار گروپوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔

    برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت روک دی اور اسرائیلی سفیر کو طلب بھی کیا جبکہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے غزہ میں فوجی کشیدگی کو ’اخلاقی طور پر ناقابل جواز‘ قرار دیا۔ یہ برطانیہ کا اب تک کا اسرائیل کو لے کر سخت ترین موقف ہے۔

    یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن کے معاہدے پر نظرثانی کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ یورپی یونین اور اسرائیل کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس کا کہنا ہے کہ ارکان کی ’مضبوط اکثریت‘ 25 سال پرانے معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

    برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی سوموار کے روز ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے اور غزہ میں انسانی صورت حال بہتر نہ ہونے کی صورت میں ’مزید فیصلہ کن کارروائی‘ کی تنبیہ کی گئی ہے۔

    ویلٹ مین کا ماننا ہے کہ ’موسم بدل رہا ہے، اور ہوا مخالف سمت سے چلنا شروع ہو گئی ہے۔‘

  8. غزہ میں حماس کے خلاف مظاہرے تیسرے روز میں داخل

    گذشتہ تین روز سے جنوبی غزہ میں فلسطینی حماس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں افراد جنگ کے خاتمے اور عسکریت پسند گروہ کی غزہ سے بیدخلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے خلاف آواز اٹھانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ منگل کے روز صحافیوں کے واٹس ایپ گروپس پر انھیں کسی بھی ایسی ’منفی خبر‘ کی اشاعت سے منع کیا گیا جس سے لوگوں کے مورال کو ٹھیس پہنچے۔

    سماجی کارکنوں کے مطابق یہ احتجاج سوموار کے روز نو عمر نوجوانوں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جس میں دیگر لوگ شامل ہوتے گئے۔

    مظاہرین کے غصے کا نشانہ حماس کے سینیئر رہنما تھے اور اس کی وجہ حماس رہنما سمیع ابو زہری کا حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ایک انٹرویو ہے۔

    ویڈیو جو کہ مارچ میں نشر ہونے والے ایک پوڈ کاسٹ کی ہے میں زہری کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ’دائمی‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم گھروں کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور ہر شہید کے بدلے مزید درجنوں بچے پیدا کریں گے۔‘

  9. نیتن یاہو کے خطاب کے پانچ اہم نکات

    اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے آج یروشلم میں خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے چند اہم نکات پر نظر ڈالتے ہیں:

    • نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ’ممکنہ طور پر‘ محمد سنوار کو ہلاک کر دیا ہے، جو غزہ میں حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی ہیں۔
    • وزیرِاعظم نے کہا کہ اسرائیل ایک عارضی جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ اُس وقت ختم کرے گا جب کچھ ’واضح شرائط‘ پوری ہوں جو ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
    • نیتن یاہو کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے جبکہ 30 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • انھوں نے دعویٰ کی کہ جنگ کے اختتام پر پورا غزہ اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہو گا۔
    • نیتن یاہو نے غزہ کے لیے ایک تین نکاتی امدادی منصوبہ پیش کیا جس میں امریکی کمپنیوں کی مدد سے خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کرنا اور سکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص زون تشکیل دینا شامل ہیں۔
  10. نیتن یاہو: اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنانے والی ’واضح سکیورٹی شرائط‘ کے تحت جنگ ختم کرنے کو تیار ہوں

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ جنگ اُس صورت میں ختم کرنے کے لیے تیار ہیں جب کچھ ’واضح شرائط‘ پوری ہوں جو اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان شرائط میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا ہتھیار ڈالنا، اس کی قیادت کا غزہ سے جلاوطن ہونا اور علاقے کا مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا شامل ہے۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ جو غزہ چھوڑنا چاہتے ہیں، انھیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسرائیل سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ ’غزہ پر حماس کی حکمرانی برقرار رہے۔‘

  11. ایران اب بھی اسرائیل کے لیے ’بڑا خطرہ‘ ہے: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خطاب جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کے باوجود ایران اسرائیل کے لیے ’اب بھی ایک بڑا خطرہ‘ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکے۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل ایسے کسی بھی معاہدے کا خیرمقدم کرے گا تاہم ساتھ ہی یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ اپنی سلامتی کا دفاع خود کر سکے۔

  12. جب تک غزہ کے تمام علاقے مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں نہیں آ جاتے، جنگ جاری رہے گی: نیتن یاہو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی مکمل طور پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول میں ہو گی اور حماس کو شکست دی جائے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ کے تمام علاقے مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں نہیں آ جاتے، جنگ جاری رہے گی۔

    اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں کے لیے تین نکاتی منصوبہ پیش کیا۔

    ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ کو بنیادی امدادی اشیا فراہم کی جائیں گی، امریکی کمپنیوں کے ذریعے خوراک کی تقسیم کے مراکز قائم کیے جائیں گے جنھیں اسرائیلی فوج کی سکیورٹی حاصل ہو گی اور غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص زون قائم کیا جائے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکومت پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔

  13. بریکنگ, اسرائیل نے ’ممکنہ طور پر‘ یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی اور حماس رہنما محمد سنوار کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ’ممکنہ طور پر‘ حماس کے رہنما محمد سنوار کو ہلاک کر دیا ہے۔ خیال رہے محمد سنوار حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل عارضی جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے تیار ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے 20 یرغمالیوں کے زندہ ہونے کا امکان ہے جبکہ 30 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نیتن یاہو نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ اسرائیل کا حماس کو شکست دینے کا ’واضح اور جائز‘ مقصد ہے۔

    انھوں نے کہا ’ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے آخر تک پرعزم ہیں‘ انھوں نے مزید کہا کہ ان کا کام ’ابھی مکمل نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے کہا ’ہمارے پاس ایک بہت منظم منصوبہ ہے۔‘

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ’درجنوں عسکریت پسندوں‘ اور ’ان کے ڈھانچوں‘ کو ختم کر دیا ہے۔

  14. اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ دیر میں خطاب کریں گے

    بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اب سے کچھ دیر میں خطاب کریں گے۔

    جیسا کہ ہم پہلے رپورٹ کر چکے ہیں کہ غزہ میں فلسطینی اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ منگل کے روز 93 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیمیں اب تک امداد تقسیم نہیں کر پائی ہیں۔

  15. متعدد مُمالک کی جانب سے سفارتکاروں کے وفد پر فائرنگ کے واقعے کی اسرائیل سے وضاحت طلب

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے زیر قبضہ جینن کے علاقے میں سرکاری دورہ کرنے والے سفارتکاروں کے ایک وفد پر اسرائیلی فوج کی جانب سے چلائی جانے والی گولی کے معاملے پر متعدد مُمالک کی جانب سے ردِعمل سامنے آرہا ہے۔

    تاہم فلسطین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر اس سفارتی مشن پر گولیاں برسائی گئیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خبردار کرنے کے لیے اس وقت گولیاں چلائیں جب یہ وفد متعین کردہ روٹ سے ادھر ادھر ہو گیا تھا تاکہ انھیں دوبارہ درست روٹ کی طرف موڑا جا سکے۔

    جنین میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے متعدد مُمالک کی جانب سے اس پر ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔

    فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وفد میں ایک فرانسیسی سفارت کار بھی شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے وضاحت طلب کریں گے کہ اس ’ناقابل قبول‘ واقعے کے دوران کیا ہوا۔

    آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم سائمن ہیرس نے کہا ہے کہ وہ اس خبر پر حیران اور پریشان ہوئے ہیں۔ انھوں نے اسے ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وفد میں دو آئرش سفارت کار بھی شامل ہیں۔

    جرمنی کی وزارت خارجہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس گروپ میں ایک جرمن نمائندے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا ہوا ہے۔

    ترکی کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ترک عہدیدار جنین میں موجود گروپ میں شامل تھے اور اس واقعے کو اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    ہالینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’وفد میں ہالینڈ کے ایک سفارت کار بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ سفارت کاروں کو اپنا کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے اور انھیں دھمکی دینا ناقابل قبول ہے۔‘

    مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس گروپ میں مصر کے ایک سفیر بھی شامل ہیں اور کہا ہے کہ یہ واقعہ تمام سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اسرائیل سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

  16. غزہ میں خوراک بہت کم رہ گئی ہے، روزانہ خوراک سے لدے سینکڑوں ٹرک درکار ہیں: فلسطین کی فلاحی تنظیموں کا مؤقف

    فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہAmjad Shawa

    فلسطین کی این جی اوز کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد شاوا نے کہا ہے کہ غزہ میں خوراک تیزی سے ختم ہو رہی اور اشیا بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

    انھوں نے ایک واٹس ایپ پیغام میں کہا کہ ’اس وقت بازاروں اور خیراتی اداروں کے پاس بھی کچھ نہیں رہ گیا ہے اور لوگوں کو زندہ رکھنے کے لیے بہت تھوڑی خوراک ہی دستیاب ہے۔‘

    ان کے اس پیغام میں پس منظر میں ایئرکرافٹ ڈرونز کی آوازیں بھی آ رہی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ اب پانی کے بھی ’محفوظ وسائل‘ دستیاب نہیں ہیں اور اس سے مزید لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جبکہ ’وہ بھوکے بھی ہیں۔‘

    امجد شاوا کا کہنا ہے کہ دوائیوں کی کمی کے باعث ہر روز مریضوں کی بڑی تعداد ضابطیس، کینسر، گردے یا دل کی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور زخمی افراد درر سے بلبلا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ہک ہمیں روزانہ سینکڑوں انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کی ضرورت ہے تاکہ اس صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ عام شہریوں پر حملے بھی بند کرنا ہوں گے۔

  17. فلسطینی صدر محمود عباس کا اسرائیل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا خیر مقدم

    EPA-EFE/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/Shutterstock

    فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی کے محاصرے پر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے نسل کشی، تباہی اور فاقہ کشی کے جرائم کے سامنے خاموش رہنا اب ممکن نہیں ہے۔‘

    محمود عباس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے ممالک کے موقف، عطیہ دہندگان ممالک کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان سبھی نے ناکہ بندی، بھوک، نقل مکانی اور زمین پر قبضے کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا۔‘

    یورپی یونین نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے ایسوسی ایشن معاہدے پر نظر ثانی کر رہا ہے، جو اس کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ پیر کی رات برطانیہ نے فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ اگر غزہ میں انسانی صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو مزید ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس کے بعد ایک اور بیان جاری کیا گیا جس پر برطانیہ سمیت 27 ڈونر ممالک نے دستخط کیے، جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد کی فراہمی کے نئے ماڈل کی جانب بڑھنے کی مذمت کی گئی تھی۔

  18. اسرائیل بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے: برطانوی وزیر جینی چیپمین

    BBC

    برطانیہ کی وزیر برائے ترقیاتی امور جینی چیپمین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں بی بی سی کی مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار لوسی ولیمسن سے بات کرتے ہوئے چیپمین نے کہا کہ اسرائیل ’لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لیے خوراک روک رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر برطانیہ یا ہماری کوئی شراکت دار حکومت بس ایک جانب رہ کر ایسا ہونے کی اجازت دے۔‘

    چیپمین کا کہنا تھا کہ ’برطانوی حکومت کا اسرائیل کے لیے واضح پیغام ہے کہ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اسے ان یرغمالیوں کو واپس لانے کا پورا حق ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم شروع سے ہی اس بارے میں واضح رہے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کی ہے۔ مگر جو اب ہو رہا ہے وہ بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔ اس سے یرغمالیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس سے ان یرغمالیوں کو زندہ بچانے اور اپنے گھروں میں واپس لانے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔‘

    چیپمین نے کہا کہ ’اگر اسرائیل یرغمالیوں کو واپس اپنے وطن لانا چاہتا ہے تو انھیں جنگ بندی اور مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    واضح رہے کہ برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کرنے، ملک کے سفیر کو طلب کرنے اور مغربی کنارے کے آباد کاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے جبکہ وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے غزہ میں فوجی کشیدگی کو ’اخلاقی طور پر غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔

  19. مغربی کنارے میں سفارتی مشن کو خبردار کرنے کے لیے گولیاں چلائیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سفارتکاروں کو مغربی کنارے میں متعین روٹ سے متعلق خبردار کرنے کے لیے گولیاں چلائیں۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سفارتکاروں کا یہ وفد اسرائیل کے زیر قبضہ جینن کے علاقے میں سرکاری دورے پر تھا۔

    فلسطین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر اس سفارتی مشن پر گولیاں برسائیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خبردار کرنے کے لیے اس وقت گولیاں چلائیں جب یہ وفد متعین کردہ روٹ سے ادھر ادھر ہو گیا تھا تاکہ انھیں دوبارہ درست روٹ کی طرف موڑا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے فائرنگ کے اس واقعے میں کوئی زخمی یا اور کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ سفارتی مشن مغربی کنارے کے اس علاقے میں انسانی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کر رہا تھا۔

    یورپی یونین نے اسرائیل سے وضاحت طلب کر لی

    یورپی یونین کے حکام نے اسرائیل سے اس واقعے پر وضاحت طلب کی ہے۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے اور سفارت کاروں کی جانوں کو لاحق خطرات کے لیے ذمہ داران کا تعین کرے۔

    اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے اپنی وزارت کو ہدایت کی ہے کہ ’روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے جنین واقعے سے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔‘

    اٹلی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس سے قبل انھوں نے یروشلم میں اٹلی کے ڈپٹی قونصل جنرل الیسانڈرو توٹینو سے بات کر کے تفصیلات حاصل کیں تھیں۔

  20. انڈیا کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کے ایک اور اہلکار کو مُلک چھوڑنے کا حکم

    ANI

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشننئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن

    انڈیا نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں مُلک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

    اس سے قبل 13 مئی کو بھی پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار کو بھی ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے مُلک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

    انڈیا کی حکومت کی جانب سے پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار پر غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار سے متعلق یہ اطلاع انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی ناظم الامور سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انڈیا میں کوئی بھی پاکستانی سفارتکار یا اہلکار اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے تجاوز نہ کرے اور نہ ہی اُن کا غلط استعمال نہ کرے۔