آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب میں طوفانی بارشوں اور آندھی سے تباہی: کم از کم آٹھ افراد ہلاک، 45 زخمی

پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں راولپنڈی، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ اور میانوالی سے ایک ایک ہلاکت شامل ہے جبکہ جہلم میں تین افراد ہلاک ہوئِے۔

خلاصہ

  • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے
  • غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک خاتون ڈاکٹر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کے 10 میں سے 9 بچے ہلاک ہو گئے
  • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 25 مئی سے ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے
  • آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران افواجِ پاکستان کی قربانیوں، سیاسی قیادت کے تعاون اور قوم کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے عشائیہ دیا جس میں سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی

لائیو کوریج

  1. شمالی غزہ کے ہسپتال میں پینے کے صاف پانی کی قلت

    بی بی سی کی یوروشلم میں نامہ نگار ایلس کڈی کی شمالی غزہ میں قائم انڈونیشین ہسپتال میں ایک خاتون سے فون پر بات ہوئی ہے۔ یہ وہی ہسپتال ہے کہ جسے گزشتہ ہفتے کے آخر میں بند کر دیا گیا تھا۔

    ایلس کڈی کی جن خاتون سے بات ہوئی انھوں نے بتایا کہ عمارت کے اندر اب بھی مریض، ڈاکٹر اور دیگر اہلکار موجود ہیں۔ تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’پانچ منٹ قبل ہسپتال کے ارد گرد شدید فائرنگ ہوئی تھی اور وہ عمارت سے باہر اسرائیلی ٹینک دیکھ سکتی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے پاس خوراک تو ہے لیکن پینے کے لیے صاف پانی نہیں ہے۔‘

    انڈونیشیا کے ہسپتال کی تعمیر کرنے والی انڈونیشین غیر سرکاری تنظیم ایم ای آر سی کے چیئرمین ہادیکی حبیب نے بتایا کہ ’ہسپتال میں ایک شدید بیمار مریض اب ہوش میں نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عمارت میں موجود لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ فکرمند ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ہسپتال کے آس پاس کے علاقے میں کارروائیوں میں مصروف ہیں اور ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات‘ کو نشانہ بنا رہی ہے، لیکن خود ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔‘

  2. برطانیہ کا غزہ کے لیے 40 لاکھ پاؤنڈ امداد کا اعلان

    برطانیہ کی وزیر برائے ترقیاتی امور جینی چیپمین کے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دورے کے دوران برطانیہ نے غزہ کو انسانی بنیادوں پر 40 لاکھ پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    چیپمین نے دورے کے دوران کہا تھا کہ ’خوراک اور ادویات کی کمی کی وجہ سے کمزور پڑ جانے والے غزہ کے باشندوں کو فوری طور پر امداد تک مکمل رسائی دی جانی چاہیے۔‘

    حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس نئے امدادی اعلان سے ان تنظیموں کو مدد ملے گی جو ضرورت مندوں کو خوراک، پانی اور ادویات فراہم کرنا چاہتی ہیں اور ان کوششوں میں مصروف ہیں۔‘

    واضح رہے کہ غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53,655 ہو گئی ہے۔

  3. آئی ڈی ایف کا غزہ میں ’عسکریت پسندوں‘ کے 115 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ بھر میں عسکریت پسندوں کے 115 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں حماس کے جنگجو کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا جنگجو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا حصہ تھا۔

    ایکس پر آئی ڈی ایف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اُن میں لانچرز، سرنگیں، عسکریت پسندوں کے ٹھکانے اور عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال دیگر تنصیبات شامل ہیں۔‘

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران غزہ کی پٹی میں 82 افراد ہلاک اور 262 زخمی ہوئے ہیں۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حالیہ حملوں میں بہت سے لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ایمبولینسوں اور شہری دفاع کے عملے کے ذریعے ان تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔‘

    وزارت کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53,655 ہو گئی ہے۔

  4. انڈیا کی سکول بس حملے میں ملوث ہونے کی تردید: ’داخلی مسائل کا الزام انڈیا پر عائد کرنا پاکستان کی عادت بن چکی‘

    انڈین وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر حملے میں انڈیا کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ’انڈیا خضدار کے واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں پاکستان کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ انڈیا ایسے تمام واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی عادت بن چکی ہے کہ وہ اپنے تمام اندرونی مسائل کا الزام انڈیا پر عائد کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ بدھ کی صبح پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک سکول بس پر ہونے والے حملے میں چار بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 42 بچے زخمی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ’انڈیا کے دہشتگرد نیٹ ورک نے بلوچستان میں اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے یہ حملہ کروایا ہے۔‘

  5. میر علی میں مبینہ ڈرون حملہ: ’سکیورٹی فورسز پر بے بنیاد الزامات لگائے جانا مربوط گمراہ کُن مہم کا حصہ ہیں،‘ آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں 19 مئی کو پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر ’بے بنیاد اور گمراہ کن‘ الزامات لگائے گئے ہیں جو ’سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی ضمن میں کی گئی کوششوں کو داغدار کرنے کی ایک مربوط گمراہ کن مہم‘ کا حصہ ہیں۔

    یاد رہے کہ 19 مئی کو میر علی کے گاؤں ہرمز میں پیش آئے ایک واقعے میں چار بچے ہلاک جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی افراد اور قبائلی رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ گاؤں میں واقع ایک گھر پر ڈرون کی مدد سے دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا تھا اور یہ کہ یہ ایک مبینہ ڈرون حملہ تھا۔ مقامی حکام اس واقعے اور ہلاکتوں کی تصدیق تو کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تفتیش ابھی جاری ہے۔

    مقامی افراد نے اس مبینہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی میتوں کے ہمراہ میر علی میں گذشتہ دو روز سے دھرنا جو رکھا ہے جو نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق تاحال جاری ہے۔

    یہ واقعہ پیش آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے اس مبینہ ڈرون حملے کے حوالے سے غیرمصدقہ دعوے کیے جن میں سکیورٹی فورسز کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

    بدھ کی دوپہر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس نوعیت کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ’سکیورٹی فورسز اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ اس غیر انسانی فعل میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    منگل کے روم تحصیل میر علی میں اتمانزئی قبیلے کے ترجمان مولانا بیت اللہ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس مبینہ حملے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی میتیں میر علی میں انتظامیہ کے دفاتر کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔‘

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق میر علی میں جاری دھرے کے شرکا اور مقامی انتظامیہ کے درمیان دھرنے کو ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور ان کے کامیاب یا ناکام ہونے کے حوالے سے متعلق جلد ہی ایک اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں ہرمز میں یہ مبینہ حملہ پیر کے روز صبح کے وقت ہوا تھا جس کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو بنوں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

  6. معصوم بچوں پر حملہ ناقابل فہم اور قابلِ مذمت ہے: امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر

    پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خضدار میں بچوں سے بھری پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کی ہے۔

    امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی جانب سے خضدار میں بدھ کے روز ہونے والے حملے کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خضدار، بلوچستان میں سکول بس پر بے رحمانہ اور سفاکانہ حملے کی مذمت میں پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ شامل ہیں۔‘

    بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’معصوم بچوں کا قتل ناقابل فہم ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘

    پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی جانب سے جاری بیان میں کہنا ہے کہ ’کسی بھی بچے کو سکول جاتے ہوئے خوف کا ‌‌شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہم پاکستان میں اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس تشدد کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔‘

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں بدھ کی صبح ایک سکول بس پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں چار بچوں سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ 42 بچے زخمی ہوئے ہیں۔

  7. غزہ میں خوراک کی کمی سے حالات سنگین ہو رہے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام

    مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے انٹونی رینارڈ کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں امداد کی معطلی سے خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے غزہ کے لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔‘

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز ڈے پروگرام کو بتایا کہ ’اب تک بہت کم ٹرک کریم شالوم (سرحدی راہداری) اور غزہ میں موجود پلیٹ فارم سے غزہ کی پٹی کی طرف روانہ ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور جو ہوئے ہیں وہ غزہ میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔‘

    غزہ میں امداد کی تقسیم کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے اسرائیل کے منصوبے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں رینارڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ خوراک کے موجودہ نیٹ ورک کو برقرار رکھنے کی فل فور اجازت دی جائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بڑے پیمانے پر مسلسل امداد کی فراہمی کی ضرورت ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو غزہ کی پوری آبادی کو خوراک کی کمی کی وجہ سے بھوک کا شکار ہوتے دیکھ رہے ہیں اور ایسے میں بگڑ جانے والی صورتحال پر ہم قابو نہیں پا سکیں گے۔‘

  8. وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بلوچستان کو دورہ کریں گے

    وزیراعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج کوئٹہ کا ہنگامی دورہ کریں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بلوچستان پہنچنے پر وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کو خضدار میں دہشت گردوں کی جانب سے سکول کی بچوں اور اساتذہ پر حملے کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔‘

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت بھی کریں گے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں آج شام ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب کو خضدار میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی وجہ سے مؤخر کر دیا گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں بدھ کی صبح ایک سکول بس پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں چار بچوں سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ 42 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ خضدار شہر میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر علی الصبح اس وقت ہوا جب بچوں کو سکول لے جانے والی بس شہر کے مختلف مقامات سے بچوں کو پِک کر رہی تھی۔

  9. پوپ لیو کا غزہ میں ’مناسب انسانی امداد‘ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ

    ویٹیکن میں پوپ لیو نے حال ہی میں اپنے ایک خطاب میں انھوں نے غزہ کی پٹی میں ’مناسب انسانی امداد‘ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سینٹ پیٹرز سکوائر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو چہار دہم نے کہا کہ ’غزہ کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ تشویش ناک اور تکلیف دہ ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ایک مرتبہ پھر اپیل کرتا ہوں کہ منصفانہ انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دی جائے، دشمنی اور جنگ کو فل فور ختم کیا جائے جس کی بھاری قیمت غزہ میں بچے، بزرگ، خواتین اور بیمار ادا کر رہے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ69 برس کے رابرٹ پریوسٹ سینٹ پیٹر کے اس منصب پر فائز ہونے والے 267ویں پوپ ہیں اور یہ اُن کا پہلا خعوامی رابطہ یا خطاب سمجھا جا رہا ہے کہ جس میں اُنھوں نے فلسطینی عوام کے لیے ایک مرتبہ پھر آواز بلند کی ہے اور اسی کے ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  10. خضدار میں سکول بس حملے میں چار بچوں سمیت چھ ہلاکتیں ہوئیں، ٹھوس اطلاعات تھیں کہ انڈیا بلوچستان میں حملے کی تیاری کر رہا ہے: سرفراز بگٹی

    وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خضدار میں بچوں کی جس بس کو نشانہ بنایا گیا اس میں 46 بچے سوار تھے جس میں سے چار بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ باقی زخمی ہیں۔

    سرفراز بگٹی کے مطابق’جو بچے اس حملے میں شدید زخمی ہیں ان کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے خضدار سے کوئٹہ علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ کم زخمی بچوں کا وہیں علاج کیا جا رہا ہے۔‘

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ’ہمیں اس طرح کے واقعے کی ٹھوسں انٹیلیجنس رپورٹس تھیں کہ انڈیا بلوچستان میں حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا اس کی توقع نہیں تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو وہیکل بون آئی ڈی بلاسٹ (گاڑی میں نصب دھماکہ خیز مواد) سے حملہ کر کے نشانہ بنایا۔

    وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملے کا الزام انڈیا پر عائد کرتے ہویے کہا کہ ’یہ انڈیا کی بزدلانہ سوچ ہے کہ وہ بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دشمن سے اس قدر گرنے کی توقع نہیں تھی۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بھی خضدار واقعے کے حوالے سے اپنے بیان میں اس حملے کا ذمہ دار انڈیا کو ٹھرایا ہے اور کہا ہے کہ ’خضدار میں بچوں کی سکول وین کو نشانہ بنایا جانا انڈین ریاستی دہشتگردی کا ایک اور بزدلانہ حملہ ہے۔‘

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’افغان عبوری حکومت کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اپ نے پوری دنیا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ آپ کی زمین کسی دہشت گردی کے حملے میں استعمال نہیں ہو گی لیکن آپ کی سرزمین سے بار بار ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں گے اور اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے۔‘

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ پچھلے سات آٹھ مہینوں سے اس قسم کے سافٹ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی دہشت گردوں نے معصوم بچوں پر حملہ کیا تھا اور اس کا انجام بھی پھر سب نے دیکھا۔ ہم اس کا جواب دیں گے لیکن ہمارے نشانے پر بچے نہیں بلکہ دہشت گرد ہوں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کا مقدس خون رائیگاں نہیں جائے گا اور چن چن کے اس حرکت کے مرتکب افراد کو ماریں گے۔ میرا وعدہ ہے کہ بلوچستان کا امن لوٹ آئے گا۔‘

  11. خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں نا معلوم افراد کا پولیس چوکی پر حملہ، دو پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں نا معلوم افراد نے پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    بنوں کے ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور چوکی کے اندر داخل نہیں ہوئے اور انھوں نے باہر سے ہی فائرنگ کی ہے جس میں دو پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ مسلح شدت پسندوں نے پولیس چوکی کے مرکزی گیٹ کو بارودی مواد سے اڑایا ہے۔

    مقامی لوگوں کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں چوکی کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ قریب نصب ٹرانسفارمر بھی گر گیا ہے جبکہ سبزی منڈی میں دوکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    آر پی او بنوں سجاد خان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف علاقے میں کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور یہ حملہ ان شدت پسندوں کا جوابی حملہ ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بنوں میں یہ حملہ آدھی رات کے وقت کیا گیا ہے۔

    آر پی او سجاد خان نے بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک علاقے سے ان کا مکمل صفایا نہیں کر دیا جاتا تاکہ علاقے میں حکومت کی رٹ قائم رہے اور لوگ اپنی زندگی پر امن طریقے سے گزار سکیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ بنوں میں دو روز سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

    علاقے میں اغوا اور بد امنی کے واقعات کے خلاف لوگوں کا احتجاج جاری ہے۔ یاد رہے بنوں میں شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر مقامی سطح پر بار بار امن پاسون احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔

    بنوں میں دفعہ 144 کا نفاذ

    ضلع بنوں میں اسلحہ کی نمائش، ڈبل سواری اور گاڑیوں میں کالے شیشوں کے استعمال پر دفعہ 144 کے تحت ایک ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر بنوں محمد فہیم کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع بنوں کے حدود میں اسلحہ کی نمائش، ڈبل سواری اور گاڑیوں میں کالے شیشوں کے استعمال پر 24 مئی سے 30 مئی 2025 تک پابندی عائد کر دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر تعزیرات پاکستان دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں میں سبزی منڈی پولیس چوکی پرشدت پسندوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کے پی کے پولیس ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔‘

  12. بلوچستان: خضدار میں سکول بس پر حملہ، تین بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک، درجنوں طلبا زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں بدھ کی صبح ایک سکول بس پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ دو درجن سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ’انڈیا کے دہشتگرد نیٹ ورک نے بلوچستان میں اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے یہ حملہ کروایا۔‘

    ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ خضدار شہر میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر علی الصبح اس وقت ہوا جب بچوں کو سکول لے جانے والی بس شہر کے مختلف مقامات سے بچوں کو پِک کر رہی تھی۔

    ان کے مطابق جب یہ بس زیرو پوائنٹ پر پہنچی تو اس کے قریب دھماکہ ہوا۔ ڈی سی خضدار کے مطابق ’زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حملے کی نوعیت کے حوالے سے مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خضدار میں بچوں کی سکول وین کو نشانہ بنایا جانا انڈین یاستی دہشتگردی کا ایک اور بزدلانہ حملہ ہے۔‘

    آئی ایس پی آر نے اس حملے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد کی ہلاکتوں جبکہ متعدد بچوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اُدھر خضدار تھانے کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس بس کو نشانہ بنایا گیا وہ خضدار کینٹ میں واقع سکول کے بچوں کو لے جا رہی تھی۔‘

    انھوں نے کہا دھماکے میں بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ بس کے قریب ایک چھوٹی گاڑی بھی تباہ شدہ حالت میں موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تفتیش جاری ہے مگر بظاہر دھماکہ خیز مواد اسی چھوٹی گاڑی میں تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ دھماکہ خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا یا کسی خود کش حملہ آور نے اسے نشانہ بنایا۔

    بس میں 40 کے قریب بچے تھے: پولیس اہلکار

    جائے وقوع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کے عثمان زاہد کو بتایا کہ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ خضدار شہر سے نو سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ’ایک چھوٹی گاڑی نے سکول بس کو ہٹ کیا جس میں بس مکمل تباہ ہو گئی۔ ہمیں جیسے ہی اطلاع ملی ہم جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ بس میں 40 کے قریب بچے تھے۔ زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    خضدار کہاں واقع ہے ؟

    خضدار شہر بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے اندازا ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

    کوئٹہ کراچی شاہراہ پر واقع اس شہر کا شمار کوئٹہ کے بعد بلوچستان کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے اور یہ قلات ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔

    شہر سمیت ضلع خضدار کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے ۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔ چند روز قبل ضلع کے علاقے صمند میں لیوئز فورس کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں لیویز فورس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    اس سے قبل جنوری کے مہینے میں خضدار شہداد کوٹ روڈ پر ایک مسافر بس پر ہونے والے حملے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    رواں سال اس کے دو علاقوں زہری اور اورناچ میں مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد آئی تھی اور وہ کئی گھنٹے تک وہاں موجود رہے تھے۔

    ان مسلح افراد نے دونوں علاقوں سے پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں سے اسلحہ بھی لے گئے تھے جبکہ بعض سرکاری دفاتر کو نذر آتش بھی کیا تھا۔

    طویل عرصے سے خضدار شہر اور اس ضلع کے دیگر علاقوں میں سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

  13. آئین کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں: عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ’پاکستان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    عمران خان کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔ ن لیگ کی ’کٹھ پتلی‘ حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔‘

    میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے: عمران خان

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-‘

    عمران خان کے بیان میں کہا گیا کہ تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ہے۔

    عمران خان کے مطابق ’نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتے تھے۔ ان کے عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور ان حالات میں ملک و قوم کو متحد رہنے کی بہت ضرورت ہے اوربہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انھیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب عوام نو مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انھوں نے سچ کا ساتھ دیا تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔‘

    عمران خان نے بیان میں مزید کہا کہ ’میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی جانب سے پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-‘

  14. پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت کی پرزور مذمت

    پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں اور انسانی جانوں کے نقصان کی پرزور مذمت کی ہے۔

    دفترخارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہورہے ہیں۔

    دفترخارجہ نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی زمینی کارروائیوں میں توسیع اور اس کی جانب سے پورے غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے اعلان سے علاقے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

    بیان میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی نسل کشی کی مہم فوری طور پر بند کرائے اور غزہ میں دیرپا جنگ بندی یقینی بنائے۔

    دفتر خارجہ نے فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے، اسرائیل کی غیرقانونی بستیوں کو توسیع دینے یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کے کسی بھی حصے کو مدغم کرنے کی کسی بھی کوشش کی پاکستان کی جانب سے واشگاف الفاظ میں دوبارہ مخالفت کی ہے۔

    دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا ایک بار پھر یقین دلایا ہے۔

  15. بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے باوجود غزہ امداد کی فراہمی سے محروم،’فوری امداد نہ ملی تو آئندہ 48 گھنٹوں میں 14,000 بچے بھوک سے مر جائیں گے‘: اقوام متحدہ, ٹام بینیٹ، بی بی سی نیوز

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد امدادی گاڑیاں سرحد عبور کرنے کے باوجود غزہ میں ابھی تک کوئی امداد تقسیم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ منگل کے روز 93 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے جن میں آٹا، بچوں کی خوراک، طبی سازوسامان اور ادویات شامل تھیں۔

    تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرم شالوم کراسنگ کے فلسطینی حصے تک ٹرک پہنچنے کے باوجود ابھی تک کوئی امداد نہیں تقسیم کی گئی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ امدادی ادارے کی ایک ٹیم نے اسرائیل سے اس علاقے تک رسائی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے کئی گھنٹے انتظار کیا لیکن بدقسمتی سے وہ یہ سامان ہمارے گودام تک نہ لا سکے۔‘

    یاد رہے کہ اسرائیل نے اتوار کے روز ’بنیادی خوراک‘ کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    یہ بھی یاد رہے کہ عالمی ماہرین غزا میں قحط کے خطرے سے خبردار کر چکے ہیں اور اس حوالے سے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بھی مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے صورتحال کو ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی روشنی میں اب اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کی جائے گی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں امدادی کارروائی کو پہنچانے کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ کرم شالوم کراسنگ کے فلسطینی حصے پر سپلائی آف لوڈ کی جائے اور اسرائیلی ٹیموں کی رسائی کے بعد غزہ کی پٹی کے اندر سےسامان دوبارہ لوڈ کرے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ رسد کی آمد ایک مثبت پیشرفت تھی لیکن جتنی ضرورت کے مقابلے میں اس کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

    اقوام متحدہ کے محتاط اندازے کے مطابق غزہ کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے روزانہ 600 ٹرکوں کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر اسرائیل نے فوری طور پر امداد نہ آنے دی تو غزہ میں ہزاروں بچے مر سکتے ہیں۔

    بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر فوری امداد نہ ملی تو آئندہ 48 گھنٹوں میں 14,000 بچے بھوک سے مر جائیں گے۔‘

    جب ان سے ان اعداد و شمار تک پہنچنے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ طبی مراکز اور سکولوں میں ان کی ٹیمیں کام میں مصروف عمل ہیں۔ تاہم انھوں نے اس کی تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔

    بی بی سی نے بعد میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) سے اعداد و شمار پر وضاحت طلب کی، جس میں بتایا گیا کہ ’ہم غزہ میں شدید غذائی قلت کا شکار اندازاً 14,000 بچوں کو بچانے کے لیے سپلائی حاصل کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کی درجہ بندی (آئی پی سی) کی ایک رپورٹ پر روشنی ڈالی جس میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2025 اور مارچ 2026 کے درمیان چھ سے 59 ماہ کی عمر کے بچوں میں شدید غذائی قلت کے 14,100 سنگین کیسز متوقع ہیں۔

    آئی پی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تقریباً ایک سال کے دوران ہو سکتا ہے۔

    جب ایک نیوز کانفرنس میں اعداد و شمار کے حوالے سے دباؤ ڈالا گیا تواقوام متحدہ کے ایک ترجمان جینز لیریک نے کہا کہ ’ابھی کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایسے بچے ہیں جن کی زندگی بچانے کے لیے ان سپلیمنٹس کی فوری ضرورت ہے کیونکہ ان کی مائیں خود انھیں دودھ پلانے سے قاصر ہیں اور اگر یہ سپلیمنٹس ان تک فوری نہ پہنچے تو ان بچوں کی زندگی کو حطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے غزہ کی وزارت صحت نے اطلاع دی تھی کہ گزشتہ 11 ہفتوں میں غذائی قلت کے اثرات سے 57 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو غزہ میں محدود امداد کی اجازت دینے کے اسرائیل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ امداد دوبارہ آنا شروع ہو رہی ہے۔‘

    ایک ڈیموکریٹ کو جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’میں آپ کی بات کو سمجھتا ہوں کہ یہ مقدار کافی نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔‘

    پیر کے روز برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور فوری طور پر انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔‘

  16. ’ہم اپنے بچوں کو خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں‘

    غزہ میں خوراک کی کمی اور بچوں کی صورتحال کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چند ماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے بچوں کو بھوک سے کمزور ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔‘

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر نے بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا تھا کہ اگر امدادی سامان غزہ کے لوگوں تک نہیں پہنچا تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    دو بچوں کی والدہ شہناز کہتی ہیں کہ ان کا سات ماہ کا بچہ ’بھوک سے لگاتار روتا اور چیختا رہتا ہے۔‘

    وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہو چُکا ہے اور ان کی بیٹی کیلشیم کی کمی کا شکار ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ہماری تکلیف میں ہماری مدد کرنے کے قابل نہیں ہے۔‘

    دو چھوٹے بچوں کی والدہ فاطمہ خمیس کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے قابل نہیں وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چُکی ہیں اور بچوں کا فارمولا ملک یا تو دستیاب نہیں اور اگر ہے بھی ہم خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’میرے بچے کا چہرہ خوراک کی کمی کی وجہ سے پیلا پڑ چُکا ہے اور وہ شدید کمزور اور لاغر ہو چُکا ہے۔‘

    غزہ سے ہی تعلق رکھنے والی تیسری ماں حنا محمود اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’حمل کے دوران خوراک کی کمی نے ان کے بچے کی نشوونما کو متاثر کیا۔‘

    وہ اپنے پانچ ماہ کے بیٹے سے متعلق بتاتی ہیں کہ ’وہ کمزوری کی وجہ سے اب بھی بیٹھ نہیں سکتا، دودھ اور خوراک کی کمی کی وجہ سے اُس کی جان خطرے سے دوچار ہے۔‘

    برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے، غزہ میں ’ناقابل برداشت‘ فوجی کارروائی پر اسرائیلی سفیر کی طلبی

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ ہم 2030 کے دوطرفہ روڈ میپ کے تحت ان کے ساتھ تعاون کا جائزہ لیں گے۔‘

    ڈیوڈ لیمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ میں اسرائیلی سفیر تزیپی ہوٹوویلی کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے وزیر ہمیش فالکنر ہوٹوویلی کو بتائیں گے کہ ’غزہ کو امداد پر 11 ہفتوں کی پابندی ظالمانہ اور ناقابل دفاع ہے۔‘

    ڈیوڈ لیمی نے مزید کہا کہ ’غزہ میں جنگ برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’امداد روکنا، جنگ کو وسعت دینا، دوستوں اور شراکت داروں کے خدشات کو مسترد کرنا ناقابل دفاع ہے اور اس سب کو اب روکنا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایوانِ نمائندگان سے اپنے خطاب کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’غزہ میں خوراک کی کمی اور بھوک کا خطرہ عام شہریوں پر منڈلا رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس کے زیر حراست باقی اسرائیلی یرغمالیوں کو ’زیادہ خطرہ‘ لاحق ہے کیونکہ ان کے ارد گرد جنگ جاری ہے۔‘

    بیرونی دباؤ ہمیں ہمارے مقاصد کے حصول سے نہیں روک سکتا: ترجمان اسرائیلی دفتر خارجہ

    اسرائیل کے خارجہ امور کے ترجمان اورن مارمورسٹائن نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں مارمورسٹائن کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف کامنز یعنی ایوانِ نمائندگان میں ڈیوڈ لیمی کے اعلان سے قبل برطانوی حکومت کی جانب سے آزاد تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اگر برطانیہ اسرائیل مخالف جنون اور داخلی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اپنی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو یہ اُن کا اپنا فیصلہ ہے۔‘

    اسرائیل کے خارجہ امور کے ترجمان اورن مارمورسٹائن نے مزید کہا کہ ’مغربی کنارے میں متعدد افراد اور گروہوں کے خلاف برطانوی پابندیاں ’غیر منصفانہ‘ ہیں۔‘

  17. گزشتہ روز کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات

    • برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ایوانِ نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک نئے آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ ہم 2030 کے دوطرفہ روڈ میپ کے تحت ان کے ساتھ تعاون کا جائزہ لیں گے۔‘
    • حزب اختلاف کے ایک اسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل ’ایک پاگل ریاست بنتا جا رہا ہے،‘ انھوں نے اپنے ہی ملک پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مُلک شوقیہ طور پر بچوں کو قتل کر رہا ہے۔‘
    • حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں 87 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53,573 ہو گئی ہے۔
    • حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔
    • انڈیا کی مختلف ریاستوں میں پہلگام حملے اور پھر ’آپریشن سندور‘ پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کرے پر متعدد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
    • سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
  18. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید1

    یہاں آپ کے لیے ہم پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔ تاہم اگر آپ 20 مئی کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔