سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص
نشستوں کے کیس میں سنی اتحاد کونسل کی بینچ پر اعتراض اور ویں26 آئینی ترمیم کے فیصلے تک سماعت
مؤخر کرنے کی متفرق درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ عدالت نے کیس کی لائیو سٹریمنگ کی متفرق
درخواست منظور کرتے ہوئے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان
کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں
پر سماعت کی۔
دوران سماعت بارہ جولائی کے فیصلے
سے متاثرہ خواتین کے وکیل مخدوم علی خان نے سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر
اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے اے اور پریکٹس پروسیجر
ایکٹ کے ہوتے ہوئے اس بینچ پر انیس سو اسی کے رولز کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘
بینچ میں موجود جسٹس جمال مندو خیل
نے ریمارکس دیئے آپ بتائیں سپریم کورٹ کے انیس سو اسی کے کونسے رولز نئی آئینی ترمیم
سے مطابقت نہیں رکھتے؟
مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا
نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی حد تک انیس سو اسی کے رولز مطابقت نہیں رکھتے، نئی آئینی
ترمیم میں آئینی بینچ کے دائرہ اختیار کا تعین کیا گیا ہے، انیس سو اسی کے رولز کے
تحت نظرثانی پر سماعت پرانا بینچ کیا کرتا تھا، اب 26ویں ترمیم کے بعد آئینی تشریح
کے مقدمات کی نظرثانی آئینی بینچ کرے گا، اس بینچ میں ججز کی تعداد کے حوالے سے اعتراض
کیا گیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میری نظر
میں یہ گیارہ نہیں تیرہ رکنی بینچ ہے، اس تیرہ رکنی بینچ میں سے سات ججز کی اکثریت
نظرثانی پر فیصلہ کرے گی۔‘ مخدوم علی خان نے کہا کہ ’اس کیس کی براہ راست نشریات کے
حوالے سے درخواست دائر کی گئی، میری رائے میں یہ اس عدالت کا فیصلہ ہوگا کہ براہ راست
نشریات ہونگی یا نہیں، اگر عدالت براہ راست نشریات کا فیصلہ کرے بھی تو کوئی اعتراض
نہیں۔‘
’تیسری درخواست تھی کہ 26ویں ترمیم کے فیصلے
تک اس کیس کو ملتوی کیا جائے، کونسا کیس کب لگنا ہے یہ طے کرنا اس عدالت کا اختیار
ہے، کسی کی خواہش نہیں، فرض کریں اگر عدالت یہ درخواست منظور کرکے کیس کی سماعت ملتوی
کرتی ہے، تو پھر یہ آئینی بینچ 26ویں ترمیم کے فیصلے تک دیگر کوئی درخواستیں بھی نہیں
سن سکے گا، کل کو دیگر کیسز کی درخواست گزار بھی اسی خواہش کا اظہار کریں گے۔‘
وکیل مخدوم علی خان کے سنی اتحاد کونسل
کی متفرق درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس امین
الدین خان نے ریمارکس دیئے ہم دس منٹ کی مشاورت کے بعد دوبارہ آتے ہیں۔
آئینی بینچ اٹھنے لگا تو سنی اتحاف
کونسل کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے اور موقف اختیار کیا کہ کیا 26ویں آئینی ترمیم
میں جواب جواب الجواب کا حق ختم کردیا گیا ہے؟
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے
آپ نے درخواست دی اس پر مخدوم علی خان نے دلائل دیے، آپ کیا جواب الجواب کرنا چاہتے
ہیں؟
فیصل صدیقی نے کہا اگر 26ویں ترمیم
کے بعد جواب الجواب ختم ہوگیا ہے تو ہمیں بتا دیا جائے، میں خواجہ حارث جتنا وقت تو
نہیں لوں گا جواب الجواب میں مگر مناسب وقت چاہیے۔
مخدوم علی خان نے کہا سنی اتحاد کونسل
کا اس کیس میں حق دعویٰ نہیں بنتا، چلتے ہوئے کیس میں اعتراضات کی درخواستیں دائر کی
گئیں۔
فیصل صدیقی نے اونچی آواز میں کہا
پھر ہمیں کیوں اس کیس میں فریق بنایا گیا؟ جس پر جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی
سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے آپ ایک سینئر وکیل ہیں آپ کا رویہ ناقابل قبول ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فیصل صدیقی
صاحب آپ مخدوم علی خان سے نہیں ہم سے مخاطب ہوں، چلیں ہم آپ کو فئیر ٹرائل کا موقع
دیتے ہیں۔
کچھ دیر بعد عدالت نے مختصر فیصلہ
سناتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی ایک متفرق درخواست منظور جبکہ دو درخواستیں مسترد کردیں۔
عدالت نے سنی اتحاد کونسل کی بینچ
پر اعتراض اور 26ویں آئینی ترمیم کو پہلے سننے کی درخواستیں مسترد جبکہ کیس کی کارروائی
کو براہ راست نشتر کرنے سے متعلق درخواست منظور کرلی۔
عدالت نے نظر ثانی کیس کی کارروائی
کی لائیو سٹریمنگ کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو لائیو سٹریمنگ کے
انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت چھبیس
مئی تک ملتوی کردی گئی۔