آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب میں طوفانی بارشوں اور آندھی سے تباہی: کم از کم آٹھ افراد ہلاک، 45 زخمی

پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں راولپنڈی، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ اور میانوالی سے ایک ایک ہلاکت شامل ہے جبکہ جہلم میں تین افراد ہلاک ہوئِے۔

خلاصہ

  • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی، طوفان، شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے
  • غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک خاتون ڈاکٹر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کے 10 میں سے 9 بچے ہلاک ہو گئے
  • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 25 مئی سے ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے
  • آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران افواجِ پاکستان کی قربانیوں، سیاسی قیادت کے تعاون اور قوم کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے عشائیہ دیا جس میں سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے کس نے کہا: راہل گاندھی کے جے شنکر سے سوالات

    انڈیا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے انڈین پاکستان تنازع کے حوالے سے ایک بار پھر چند سوال پوچھے ہیں۔

    راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جے شنکر کا ایک حالیہ انٹرویو شیئر کرتے ہوئے پہلا سوال کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو اب ایک ہی تناظر میں کیوں دیکھا جا رہا ہے۔

    پوسٹ میں دوسرا سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کی مذمت میں کسی ایک ملک نے بھی انڈیا کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔

    اپنے تیسرے سوال میں راہل گاندھی نے پاکستان انڈیا حالیہ تنازع میں ٹرمپ کی ثالثی میں سیز فائر پر سوال کیا ہے۔

    یاد رہے کہ 10 مئی کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

    اس تناظر میں راہل گاندھی نے اپنا تیسرا سوال کیا کہ ’ٹرمپ کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے کو کس نے کہا؟

    یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا نے سات مئی کی درمیانی شب پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فضائی حملے کیے تھے۔ جس کے بعد پاکستان نے بھی انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کی۔

    چار دن کی جنگی صورت حال کے درمیان دونوں اطراف سے لائن آف کنٹرول کے اطراف رہنے والے درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

    یہ بھی واضح رہے کہ چند روز قبل بھی انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے پاکستان کو حملہ سے قبل آگاہ کرنے کے ایک بیان پر راہل گاندھی نے کڑی تنقید کی تھی اور ان سے سوال کیے تھے کہ ایسا کرنا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت انھوں نے پاکستان کو حملے سے آگاہ کیا تھا۔

  2. انڈیا کی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

    پاکستانی فضائی حدود میں انڈین طیاروں کی پرواز پر پابندی میں توسیع کردی گئی ہے جس کے مطابق اب 24 جون 2025 صبح 4:59 بجے تک پاکستانی فضائی حدود میں انڈین طیارے پرواز نہیں کر سکیں گے۔

    یاد رہے کہ 24 اپریل کو پاکستان نے انڈیا کی فضائی حدود ، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

    پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے جمعے کے روز جاری اعلامیے کے مطابق اس پابندی کا اطلاق انڈین رجسٹرڈ، آپریٹڈ، ملکیت یا لیز پر لیے گئے تمام طیاروں پر ہو گا۔

    پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق یہ پابندی انڈین فوجی طیاروں پر بھی لاگو ہو گی۔ اعلامیے کے مطابق ایئرلائنز یا آپریٹرز کے زیر انتظام کوئی بھی پرواز پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکے گی۔

  3. مسئلہ کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ چین بھی ایک فریق ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازع حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ مسئلہ کشمیر کے تنازع میں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ چین بھی ایک فریق ہے۔

    جمعے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کا مطلب ہے کہ تنازع رک گیا لیکن مسئلے کی ’روٹ کاز‘ تو نہیں ختم ہوئیں۔ اور اس میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل وہاں کے لوگوں کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے ایک بار جارحیت کر کے نتیجہ دیکھ لیا ہے۔ اگر دوبارہ انھیں اس کا شوق ہو رہا ہے تو کر کے دیکھ لیں۔ ہم تیار ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر ان کو گھمنڈ ہے تو ایک بار پھر آزما لیں۔‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں عام لوگوں کو تکلیف ہو اس لیے آپریشن دن بہ دن کامیابی سے اور موثر طریقے سے ہو رہا ہے۔‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ بلوچ دہشت گردوں کی پراکسی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) جو مسنگ پرسن کی تصاویر کو لے کر پھرتے ہیں جب ہم دہشت گردوں کا ڈی این اے کرتے ہیں تو آدھے سے زیادہ ان میں مسنگ پرسن نکلتے ہیں۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ بلوچ دہشت گردوں کی پراکسی ہیں۔

    ’ماہ رنگ بلوچ کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔ وہ کون ہوتے ہیں کہ جعفر ایکسپریس میں دہشت گردوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کریں۔ وہ ان کے لواحقین کے حوالے کرنا تھیں۔ دنیا کے سامنے آ گیا ہے کہ وہ (ماہرنگ بلوچ) دہشت گردوں کی پراکسی ہیں۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان کامیابی کے ساتھ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیں جاری رکھے ہوئے ہے، زیادہ تر شدت پسندوں کا تعلق انڈیا سے ثابت ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’رواں سال ملک بھر میں 747 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جن میں سے 203 دہشت گردوں کا تعلق ’فتنہ الہندوستان‘ سے نکلا ہے۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ انڈیا کو بلوچستان کی ترقی برداشت نہیں ہوتی اور بلوچستان کی سماجی ترقی سے انڈیا پریشان ہے۔ صدر آکسفورڈ سٹوڈنٹ یونین، شاہ زیب رند اور عائشہ زہری جیسے نوجوان بلوچستان کا اصل چہرہ ہیں۔

  4. انڈیا پاکستان کے خلاف ’ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی‘ میں ملوث ہے، خضدار سکول بس حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کا الزام

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں گذشتہ دنوں سکول بس پر ہوئے حملے میں ’انڈین ریاست کی سرپرستی میں چلنے والی پراکسیز‘ ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ انڈیا نے خضدار حملے سے متعلق پاکستانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپنے ہر اندرونی مسئلے کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دینا پاکستان کا وطیرہ بن چکا ہے۔‘

    جمعہ کی دوپہر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا انڈیا گذشتہ 20 برسوں سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے خضدار میں سکول کی بس پر حملے کا الزام انڈیا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے حکم پر فتنہ الہندوستان نے 21 مئی کو بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ انڈیا جان بوجھ کر معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے کئی ناقابل تردید اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’دہشت گردوں کو پیسہ اور ہتھیار دیے جاتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان پاکستان میں کیسے دہشت گردی کرتا ہے اس کا اعتراف پکڑے گئے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ وہ اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    دورانِ پریس کانفرنس ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’خضدار بس حملے میں چھ بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 51 زخمی ہیں۔ یہ انڈیا کا مکروہ چہرہ ہے۔ اس حملے کے کئی زخمی بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں جعفر ایکسپریس پر حملے سمیت ماضی قریب میں بلوچستان میں متعدد حملوں کا ذمہ دار انڈیا کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’انڈیا اس سب دہشت گردی کی فنڈنگ میں ملوث ہے۔ انڈیا خطے میں امن کو سبوتاژکرنا چاہتا ہے۔‘

    ’دنیا کا کون سا ملک دہشت گردی کے واقعات پر جشن مناتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ ’خضدار واقعے کا انڈیا میں جشن منایا گیا ہے۔‘ ساتھ ہی انھوں نے سوال اٹھایا کہ انڈیا کے علاوہ دنیا کا کون سا ملک دہشت گردی کے واقعات پر جشن مناتا ہے؟

    اس پریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ خضدار حملہ صرف سکول بس پر نہیں بلکہ ہماری روایات اور اقدار پر کیا گیا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے میں انڈیا ملوث ہے۔

  5. میانوالی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران تین شدت پسند ہلاک، چھ مفرور

    پنجاب کے شہر میانوالی میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی میں تین شدت پسند ہو گئے ہیں جبکہ دوران آپریشن چھ شدت پسند مبینہ طور پر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے ہیں۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’میانوالی کے علاقے رحمانی خیل موڑ کے قریب سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر تین ’خطرناک دہشت گرد ‘ہلاک ہو گئے۔

    ترجمان کے مطابق ’مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق ’سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی تاہم اس دوران انھوں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسند اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے جبکہ چھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے رائفلیں، دستی بم، گولیاں اور بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ دہشت گرد پولیس چوکیوں پر پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی مکمل کرچکے تھے ،

    انسداد دہشت گردی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک شدت پسندوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ دہشت گرد پولیس چوکیوں پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی مکمل کرچکے تھے۔

  6. اسرائیلی وزیرِ اعظم کا برطانوی، فرانسیسی اور کینیڈین رہنماؤں پر حماس کی طرفداری کا الزام

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے برطانوی ہم منصب سر کیئر سٹارمر اور دیگر رہنماؤں نے ’باضابطہ طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حماس اقتدار میں رہے۔‘

    انھوں نے برطانوی، فرانسیسی اور کینیڈین لیڈرز پر حماس کی طرفداری کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی سفارت خانے کے عملے کی ہلاکت کے بارے میں جمعرات کو ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں نتن یاہو کا کہنا تھا کہ سر کیئر، ایمانویل میخواں اور مارک کارنی یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل ’رک جائے اور یہ مان لے کہ حماس کی متعدد قتل کرنے والی فوج قائم رہے گی۔‘

    برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے براہِ راست ردِ عمل نہیں دیا گیا ہے لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ سر کیئر سٹارمر نے واشنگٹن میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

    اس پوسٹ میں سر کیئر نے یہود مخالف نظریات کو ’ایک ایسی عفریت قرار دیا تھا جو ہم ختم کرنی ہے۔‘

    پیر کو برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے وسیع تر اسرائیلی فوجی آپریشن اور غزہ میں عام لوگوں کو انسانی امداد کے تعطل کی مذمت کی تھی اور اس کہا تھا کہ اگر اسرائیل نہ رکا تو اس کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور یہودیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم یہ عام سی بات فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کو کیوں سمجھ نہیں آتی۔

    ’میں صدر میخواں، وزیرِ اعظم کارنی اور وزیرِ اعظم سٹارمر سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب بڑے پیمانے پر قتل کرنے والوں، ریپسٹس، بچوں کو ہلاک کرنے والوں اور اغواکار آپ کا شکریہ ادا کریں تو آپ انصاف کی غط طرف موجود ہیں۔ آپ انسانیت کی غلط سائیڈ پر موجود ہیں اور آپ تاریخ کے غلط رخ پر موجود ہیں۔‘

    ایک اسرائیلی وزیرِ امیچائی چیکلی کا کہنا تھا کہ سر کیئر اور دیگر رہنما ’دہشت پھیلانے والی طاقتوں کو بڑھاوا‘ دے رہے ہیں۔

  7. ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کا بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے کا حق ختم کر دیا

    ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کا بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے کا حق ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کی قدیم ترین یونیورسٹی کے ساتھ اس کی خلیج میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سکریٹری کرسٹی نوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انتظامیہ نے ہارورڈ کے بین الاقوامی طلبا کے داخلہ پروگرام کو ’قانون کی تعمیل میں ناکامی کی وجہ سے‘ معطل کر دیا ہے۔

    انھوں نے جمعرات کو پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔‘ ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک بیان میں اس اقدام کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے بین الاقوامی طلبا اور سکالرز کو اندراج کرنے کی اپنی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، جو 140 سے زائد ممالک سے یہاں آتے ہیں اور یونیورسٹی اور اس قوم کو اتنا امیر بناتے ہیں۔‘

    یونیورسٹی نے کہا کہ ’ہم اپنی کمیونٹی کے اراکین سے رہنمائی اور تعاون حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس انتقامی کارروائی سے ہارورڈ کمیونٹی اور ہمارے ملک کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اس سے ہارورڈ کے تعلیمی اور تحقیقی مشن کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘

    ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہزاروں بین الاقوامی طلبا متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تعلیمی سال میں 6,700 سے زائد بین الاقوامی طلبا نے داخلہ لیا۔ یہ طلبا کی کل تعداد کا 27 فیصد ہے۔

  8. امریکہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اراکین کو گولی مارنے کے الزام میں گرفتار ملزم پر فردِ جرم عائد, میکس میٹزا، ندین یوسف، بی بی سی نیوز

    امریکہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اراکین کو گولی مارنے کے الزام میں گرفتار ملزم ایلیئس راڈریگیز پر قتل، غیر ملکی اہلکاروں کے قتل اور اسلحہ رکھنے سے متعلق فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

    امریکی اٹارنی جینین پیرو نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ بدھ کی رات ہونے والے حملے کو نفرت کی بنیاد پر کیا گیا جرم تصور کیا جا رہا ہے اور اس حوالے چیزیں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

    انھوں نے جمعرات کو کہا کہ ’اس مقدمے میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا فی الحال قبل از وقت ہو گا کہ وکلا سزائے موت کے لیے کوشش کریں گے یا نہیں۔

    ایف بی آئی واشنگٹن ڈی سی کے فیلڈ آفس سے سٹیو جینسن نے ان ہلاکتوں کو ’یہودی برادری کے خلاف تشدد اور دہشتگردی‘ قرار دیا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ہلاک ہونے والے جوڑے کی شناخت یارون لسچنسکی اور سارہ لن ملگرم کے طور پر کی گئی تھی اور انھیں بدھ کی رات مقامی وقت کے مطابق نو بج کر آٹھ منٹ پر واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل جیوئش میوزیم میں ایک تقریب کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی جانب سے اس تقریب سے نکلنے والے چار افراد پر فائر کیا گیا تھا جن میں سے دو ہلاک ہوئے۔

    پولیس کی جانب سے 30 سالہ ملزم کی شناخت ایلیئس راڈریگیز کے طور پر کی گئی ہے اور ان کا تعلق شکاگو سے ہے۔ انھیں اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ انھیں میوزیم کے باہر چلتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے متاثرہ افراد پر فائر کھول دیا۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے بعد انھیں ایک صدمہ کا شکار شخص کے طور پر دیکھا گیا اور انھیں میوزیم کے اندر مدد فراہم کی گئی۔

    ایک عینی شاہد یونی کالن کا کہنا تھا کہ میوزیم کے اندر لوگ ’انھیں دلاسہ دینے‘ کی کوشش کر رہے تھے۔ ’ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ انھوں نے لوگوں کو قتل کیا ہے۔‘

  9. پاکستان اپنے جوہری سکیورٹی نظام کی مضبوطی کے معاملے پر مکمل پراعتماد ہے، دنیا انڈیا کی فکر کرے: وزارت خارجہ

    پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے جامع جوہری سیکیورٹی نظام اور اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کی مضبوطی کے معاملے پر مکمل طور پر پراعتماد ہے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ایک انڈین میڈیا کے ادارے کو دیے گئے ریمارکس کے بعد جاری کیا ہے جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان کا ذکر تھا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ جان بولٹن کے ریمارکس راج ناتھ سنگھ کے بیان سے شروع ہوئے، جو ایک ہندو انتہا پسند تنظیم سے منسلک رہنما ہیں اور پاکستان کے خلاف جارحیت کی بار بار دھمکیاں دینے کی شہرت کے حامل ہیں۔

    ترجمان وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ درحقیقت بین الاقوامی برادری کو اس بات پر زیادہ فکر مند ہونا چاہیے کہ انڈیا کے جوہری ہتھیار راج ناتھ سنگھ جیسے افراد کے کنٹرول میں ہیں، جو پاکستان اور مسلم دشمنی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ور اپنی عظمت کے خطرناک وہم میں مبتلا ہیں۔

    ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کے سیاسی منظر نامے، میڈیا اور اس کے معاشرے کے بعض حصوں کی بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی جوہری سکیورٹی کے جائز خدشات کو جنم دیتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ خدشات انڈیا میں جوہری بلیک مارکیٹ کی موجودگی کی وجہ سے مزید بڑھ جاتے ہیں، جو اس کے جوہری سکیورٹی فریم ورک میں سنگین خامیوں کو اجاگر کرتی ہے، جیسا کہ حساس جوہری مواد کی چوری اور غیر قانونی سمگلنگ کے بار بار ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔

  10. بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار ارکان کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواستیں خارج, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پانچ رہنماؤں کے علاوہ نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیئر کارکن غفار بلوچ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواستوں کو خارج کردیا ہے۔

    بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل بینچ نے چند روز قبل اس سلسلے میں مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہرنگ کے وکیل عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ جمعرات کے روز بینچ نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو مسترد کیا اور ان 6 افراد کے خلاف ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم کو برقرار رکھا۔

    ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کی نفی کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ماہرنگ کے علاوہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جن رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف درخواستوں کو مسترد کیا گیا ان میں بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ شامل ہیں۔ جبکہ نیشنل پارٹی کے سینیئر کارکن اور بیبو بلوچ کے والد غفار بلوچ کی گرفتاری کے خلاف درخواست کو مسترد کیا گیا۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کے سینیئر وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے بھی ان رہنمائوں میں سے بعض کی گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی لیکن وہ فیصلہ محفوظ ہونے سے پہلے ہی اس بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ان کی درخواستوں کو دوسرے بینچ کو منتقل کیا جائے۔

    کوئٹہ شہر سے ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی قیادت کے علاوہ مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو 3ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جن میں بی وائی سی کے کارکنوں کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن شامل تھے۔

    ان 6 افراد کے سوا باقی تمام افراد کے خلاف محمکہ داخلہ نے 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم کو واپس لیا تھا جس کے باعث ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

  11. اسرائیلی وزیراعظم کا امریکہ میں ہلاک ہونے والے سفارتی عملے کے دو اہلکاروں کے والدین سے رابطہ، کہا ’ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے ہلاک ہونے والے دو اہلکاروں یارون لیسنسکی اور سارہ ملگریم کے والدین سے بات کی ہے۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اہل خانہ سے کہا کہ وہ تمام یہودیوں کے ساتھ ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے سفارتی عملے کے اہلکاروں کے والدین سے گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کی ہے۔

    امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفارت خانے نے واشنگٹن میں ہلاک ہونے والے جوڑے کی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا نام یارون لیشنسکی اور سارہ ملگرام ہیں۔

    اسرائیلی سفارت خانے نے اس واقعے کے بعد ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’متاثرین اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں تھے۔ ایک دہشت گرد نے انھیں گولی مار کر اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ واشنگٹن میں کیپیٹل جیوئش میوزیم میں ایک تقریب سے باہر نکل رہے تھے۔‘

    سفارتی ذرائع کی جانب سے خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی سفارت خانے کے عملے کے دو ارکان میں سے ایک یارون لیشنسکی کے پاس جرمن پاسپورٹ تھا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ لیشنسکی جوانی میں ہی اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔ سنہ 2022 میں وہ اسرائیلی سفارت خانے کے لیے کام کرنے کے لیے واشنگٹن منتقل ہوئے۔

  12. وزیر اعظم پاکستان نے آرمی چیف کو جنرل عاصم منیر کو’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘ دے دی

    ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل دی۔

    تقریب میں صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری شریک ہیں۔

    جمعرات کے روز ہونے والی اس تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان، سروسز چیفس، صوبائی گورنرز اور ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد، غیر ملکی سفارتکار، سول و عسکری حکام بھی موجود ہیں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ’آج کی تقریب کا مقصد بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے، پوری قوم کو اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔‘

    جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’ہم اپنے ہیروز کی خدمات کے معترف ہیں، بھرپور اور مؤثر جواب سے دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا، ہماری عسکری قیادت نے دشمن کے خلاف بےمثال اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔‘

  13. انڈیا نے ’آپریشن سندور‘ شروع ہونے کے بعد پاکستان کو بتایا تھا کہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے: انڈین وزارتِ خارجہ

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن سندور کے تحت کارروائی کرنے کے بعد ہی پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، نہ کہ پہلے۔

    وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کو بتایا۔۔۔ جب ہم نے اُن پر حملہ کیا تو اُس کے بعد ہم نے (پاکستان) کو ڈی جی ایم او کے ذریعے بتایا کہ ہم نے آپریشن سندور کے تحت جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔ لہذا ہم نے واقعے کے بعد (پاکستان) کو بتایا۔‘

    رندھیر جیسوال سے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اُس بیان سے متعلق پوچھا گیا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ شروع ہونے سے پہلے پاکستان کو اس کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ انڈین وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان آنے کے بعد انھیں انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جب انڈین وزیر خارجہ کے اس بیان سے متعلق پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری سے سوال کیا گیا تھا، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ انڈین میڈیا کی طرف سے چلایا جانے والا ایک مزاحیہ بیانیہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘

  14. خضدار میں سکول بس پر حملہ، انڈیا کی پشت پناہی سے چلنے والی پراکسیز کے ذریعے کیا گیا: کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’خضدار میں افسوسناک کارروائی انڈیا کی پشت پناہی سے چلنے والی پراکسیز کے ذریعے کی گئی، جس کے نتیجے میں 4 معصوم بچے اور 2 بے گناہ افراد ہلاک ہوئے۔‘

    کور کمانڈرز کانفرنس کے کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں ’نہتے شہریوں، بالخصوص معصوم بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کو انسانیت کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاَ اور قابلِ مذمت خلاف ورزی قرار دیا گیا۔‘

    کانفرنس کے دوران اندرونی اور بیرونی سلامتی کے درپیش چیلنجز اور مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’فورم نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کی بقا کے لئے کسی بھی بیرونی جارحیت کا مکمل آپریشنل تیاری سے مقابلہ کرنے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

    کانفرنس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گا کہ ’طاقت کے استعمال اور دھمکی آمیز رویے کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    اعلامیہ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کانفرنس کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں متحرک انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیوں کی سرکوبی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ کیا۔‘

  15. انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی باہمی رضامندی سے ختم ہوئی: انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر

    انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک بار پھر اس کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی فریقوں کے مابین باہمی رضامندی سے ختم ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق اس بین الاقوامی ثالثی پر کسی کا اثر نہیں تھا، خاص طور پر امریکہ کا۔ انھوں نے یہ بات نیدرلینڈز کے دورے کے دوران وہاں کے نشریاتی ادارے این او ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ’جب دو ملک تنازع میں ملوث ہوتے ہیں، تو یہ فطری بات ہے کہ دنیا کے ممالک فون کرکے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان فائرنگ اور فوجی کارروائی کو روکنے کے بارے میں براہ راست دونوں مُمالک کے درمیان بات چیت ہوئی۔‘

    انڈیا کے وزیر خارجہ کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کی پہل پاکستانی فوج کی جانب سے 10 مئی کو کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے فریقین کے درمیان ’جنگ بندی‘ میں اہم کردار ادا کیا۔

    اس کے ساتھ ہی ایس جے شنکر نے کہا کہ ’ہم نے نہ صرف امریکہ کو بلکہ ہر اس شخص پر جس نے ہم سے بات کی تھی، ایک بات بالکل واضح کر دی تھی کہ اگر پاکستان لڑائی روکنا چاہتا ہے، تو انھیں (پاکستان) ہمیں بتانا پڑے گا۔ ان کے فوجی جنرل کو ہمارے فوجی جنرل کو فون کرکے یہ بتانا ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستانی فوج ہی تھی جس نے یہ پیغام بھیجا کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے اس کے مطابق جواب دیا۔‘

  16. مخصوص نشستوں کا کیس: سنی اتحاد کونسل کی بینچ کی تشکیل پر اعتراضات کی درخواستیں مسترد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں سنی اتحاد کونسل کی بینچ پر اعتراض اور ویں26 آئینی ترمیم کے فیصلے تک سماعت مؤخر کرنے کی متفرق درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ عدالت نے کیس کی لائیو سٹریمنگ کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت بارہ جولائی کے فیصلے سے متاثرہ خواتین کے وکیل مخدوم علی خان نے سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل ایک سو اکانوے اے اور پریکٹس پروسیجر ایکٹ کے ہوتے ہوئے اس بینچ پر انیس سو اسی کے رولز کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے آپ بتائیں سپریم کورٹ کے انیس سو اسی کے کونسے رولز نئی آئینی ترمیم سے مطابقت نہیں رکھتے؟

    مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی حد تک انیس سو اسی کے رولز مطابقت نہیں رکھتے، نئی آئینی ترمیم میں آئینی بینچ کے دائرہ اختیار کا تعین کیا گیا ہے، انیس سو اسی کے رولز کے تحت نظرثانی پر سماعت پرانا بینچ کیا کرتا تھا، اب 26ویں ترمیم کے بعد آئینی تشریح کے مقدمات کی نظرثانی آئینی بینچ کرے گا، اس بینچ میں ججز کی تعداد کے حوالے سے اعتراض کیا گیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میری نظر میں یہ گیارہ نہیں تیرہ رکنی بینچ ہے، اس تیرہ رکنی بینچ میں سے سات ججز کی اکثریت نظرثانی پر فیصلہ کرے گی۔‘ مخدوم علی خان نے کہا کہ ’اس کیس کی براہ راست نشریات کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی، میری رائے میں یہ اس عدالت کا فیصلہ ہوگا کہ براہ راست نشریات ہونگی یا نہیں، اگر عدالت براہ راست نشریات کا فیصلہ کرے بھی تو کوئی اعتراض نہیں۔‘

    ’تیسری درخواست تھی کہ 26ویں ترمیم کے فیصلے تک اس کیس کو ملتوی کیا جائے، کونسا کیس کب لگنا ہے یہ طے کرنا اس عدالت کا اختیار ہے، کسی کی خواہش نہیں، فرض کریں اگر عدالت یہ درخواست منظور کرکے کیس کی سماعت ملتوی کرتی ہے، تو پھر یہ آئینی بینچ 26ویں ترمیم کے فیصلے تک دیگر کوئی درخواستیں بھی نہیں سن سکے گا، کل کو دیگر کیسز کی درخواست گزار بھی اسی خواہش کا اظہار کریں گے۔‘

    وکیل مخدوم علی خان کے سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے ہم دس منٹ کی مشاورت کے بعد دوبارہ آتے ہیں۔

    آئینی بینچ اٹھنے لگا تو سنی اتحاف کونسل کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے اور موقف اختیار کیا کہ کیا 26ویں آئینی ترمیم میں جواب جواب الجواب کا حق ختم کردیا گیا ہے؟

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے آپ نے درخواست دی اس پر مخدوم علی خان نے دلائل دیے، آپ کیا جواب الجواب کرنا چاہتے ہیں؟

    فیصل صدیقی نے کہا اگر 26ویں ترمیم کے بعد جواب الجواب ختم ہوگیا ہے تو ہمیں بتا دیا جائے، میں خواجہ حارث جتنا وقت تو نہیں لوں گا جواب الجواب میں مگر مناسب وقت چاہیے۔

    مخدوم علی خان نے کہا سنی اتحاد کونسل کا اس کیس میں حق دعویٰ نہیں بنتا، چلتے ہوئے کیس میں اعتراضات کی درخواستیں دائر کی گئیں۔

    فیصل صدیقی نے اونچی آواز میں کہا پھر ہمیں کیوں اس کیس میں فریق بنایا گیا؟ جس پر جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے آپ ایک سینئر وکیل ہیں آپ کا رویہ ناقابل قبول ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فیصل صدیقی صاحب آپ مخدوم علی خان سے نہیں ہم سے مخاطب ہوں، چلیں ہم آپ کو فئیر ٹرائل کا موقع دیتے ہیں۔

    کچھ دیر بعد عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی ایک متفرق درخواست منظور جبکہ دو درخواستیں مسترد کردیں۔

    عدالت نے سنی اتحاد کونسل کی بینچ پر اعتراض اور 26ویں آئینی ترمیم کو پہلے سننے کی درخواستیں مسترد جبکہ کیس کی کارروائی کو براہ راست نشتر کرنے سے متعلق درخواست منظور کرلی۔

    عدالت نے نظر ثانی کیس کی کارروائی کی لائیو سٹریمنگ کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو لائیو سٹریمنگ کے انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت چھبیس مئی تک ملتوی کردی گئی۔

  17. تین دن کی تاخیر کے بعد غزہ میں امدادی سامان سے بھرے 90 ٹرک داخل: اقوامِ متحدہ

    اسرائیل کی جانب سے 11 ہفتوں سے جاری ناکہ بندی میں نرمی کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی ٹیموں نے غزہ کی پٹی میں اشیائے ضروریہ سے لدے 90 ٹرک پہنچا دیے ہیں۔

    غزہ پہنچنے والے ان امدادی ٹرکوں پر آٹا، بچوں کی خوراک، طبی سازوسامان و دیگر اشیا لدی ہوئی ہیں۔ یہ سامان بدھ کی رات کریم شالوم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں تقسیم کرنے کی غرض سے اقوام متحدہ کے گوداموں تک لے پہنچایا گیا۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز کریم شالوم کے ذریعے 100 ٹرکوں پر امدادی سامان لادنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کی یہ تعداد غزہ میں لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘

    انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ 21 لاکھ کی آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس سب صورتحال میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔

    اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) کے ایک جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پانچ لاکھ افراد کو بھوک اور غزائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ کو امداد اور تجارتی سامان کی تمام فراہمی روک دی تھی اور دو ہفتے بعد اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی تھی جس سے حماس کے ساتھ دو ماہ کی جنگ بندی ختم ہوگئی تھی۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ان اقدامات کا مقصد غزہ میں قید 58 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مسلح گروہ پر دباؤ ڈالنا ہے جن میں سے 23 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔‘

    اسرائیل کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ ’غزہ میں امداد کی کوئی کمی نہیں ہے اور حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے جنگجوؤں کو دینے کے لئے سامان چوری کرتی ہے یا رقم جمع کرنے کے لئے امدادی سامان کو فروخت کرتی ہے۔‘

    تاہم اقوام متحدہ نے اس اسرائیلی موقف پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسرائیل بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت غزہ کی آبادی تک خوراک اور ادویات کی رسائی کو یقینی بنانے کا پابند ہے اور ایسا نہ کر کے وہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

  18. وزیر اعظم پاکستان کا انڈیا پاکستان کشیدگی میں ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کے ورثا کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے تک کا مالی پیکج دینے کا اعلان

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈیا پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے افراد اور فوجی اہلکاروں کے متاثرین کے لیے مالی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے چیک دیے۔

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بہت جلد باقی تمام کو بھی امدادی چیک دے دیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے ساتھ جھڑپوں میں ایل او سی پر ہلاک ہونے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو رینک کے حساب سے ایک کروڑ سے لے کر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی فوج کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے عہدے کے لحاظ سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے سے لے کر چار کروڑ 20 لاکھ روپے تک دیے جائیں گے، اور ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی تنخواہ بمع الاؤنسز جاری رہے گی۔ اُن کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی، اور ہلاک ہو جانے والے اہلکاروں کی بیٹیوں کی شادی کے لیے دس لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’افواج پاکستان کے زخمیوں کو بیس لاکھ روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک ادا کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ جنگ میں فتح کی صورت میں اللہ نے ہمیں عزت دی مگر یہ عزت ان شہدا ، ان غازیوں کی مرہون منت ہے جنھوں نے ملک کو انڈیا کے حملے سے نہ صرف بچایا بلکہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔

    تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پہلگام کا واقعہ افسوسناک تھا لیکن دونوں مُمالک کے درمیان جنگی صورتحال کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان پہلگام واقعے کی عالمی تحقیقات کے لیے تیار تھا، مگر انڈیا نے اس پر راضی ہونے کے بجائے پاکستان پر حملہ کردیا جس کا جواب انڈیا کو بھرپور انداز میں دیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد تھی، یہ اتحاد وہ دولت ہے جو کسی بھی قوم کو نصیب ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے، ہم نے اسی اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی میں آگے بڑھنا ہے۔

  19. اسرائیل حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے مگر غزہ کے لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے: اقوامِ متحدہ

    غزہ میں پانی کی قلت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ غزہ کے لوگوں کو پانی کی قلت کی دو وجوہات ہیں جن میں اسرائیلی افواج کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں، حملوں کے خوف سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ شامل ہیں۔ اس بحرانی کیفیت میں پینے کا پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن بھی اب ختم ہو رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے شراکت دار خبردار کر رہے ہیں کہ ایندھن کی فوری ترسیل کے بغیر اس ہفتے کے آخر تک پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات مکمل طور پر بند ہو جائیں گی۔

    مارچ کے اوائل میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد پر پابندی عائد کیے جانے کے چند روز بعد ہی انھوں نے غزہ کے شہریوں کے لیے پانی کو صاف کرنے والے ایک اہم پلانٹ کی بجلی کی لائنیں بھی منقطع کر دی تھیں۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اقدامات حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں کہ وہ باقی یرغمالیوں کو رہا کرے۔‘

    اگرچہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اب غزہ میں بنیادی سامان کے داخلے کی اجازت دے گا، لیکن اب تک اس میں ایندھن شامل نہیں ہے۔ تاہم پینے کا پانی اقوام متحدہ کی ان درجنوں ٹرکوں پر لاد دیا گیا ہے جو اس پٹی میں داخل ہو چکی ہیں تاہم ابھی تک سامان کی تقسیم کا عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔

    چند فلسطینی بچوں کے والدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’19 ماہ کی جنگ کے دوران ان کے بچے اب نا چاہتے ہوئے بھی نمکین پانی پینے کے عادی ہو گئے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے گردوں میں سنگین اور تکلیف دہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔‘

    خان یونس میں چار بچوں کے والد رائد الزہرنہ نے کہا کہ ’اکثر پانی آدھا میٹھا اور آدھا نمکین ہو جاتا ہے۔‘

    ’ہم جانتے ہیں کہ یہ پینے کے قابل نہیں ہے، مگر ہمارے پاس اسے پینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہںی ہے۔ ہمیں پیٹ میں درد اور ڈائریا ہوا، لیکن ہم نے اسے برداشت کیا۔ ہم اس کے علاوہ اور کیا کریں؟ ہم نے پانی تو پینا ہے زندہ جو رہنا ہے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔‘

    غزہ شہر کے الشفا ہسپتال میں گردوں کے ماہر ڈاکٹر غازی الیزجی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے نئے انفیکشن اور بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس درست اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن بچوں میں گندہ پانی پینے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    جنگ سے پہلے بھی غزہ میں پانی کی قلت اور رسد کے ناقص معیار کی وجہ سے گردوں کی سنگین شکایات کے شکار مریضوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔

    ڈاکٹر یزجی کا کہنا ہے کہ ’220 مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہے اور وہ پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘

    ڈاکٹر غازی الیزجی کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس آنے والے کئی مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔

  20. دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان، چین اور افغانستان مل کر کام کریں گے، چین سی پیک ٹو شروع کرنے کے لیے تیار ہے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ’دورہ چین انتہائی کامیاب رہا، چین نے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کی، پاکستان، چین اور افغانستان کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ خطے سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔‘

    اُن کا اسلام آباد میں دورہ چین کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’چین کے ساتھ سی پیک ٹو شروع کرنے کی بھی بات ہوئی ہے، چین اس حکومت کے ساتھ سی پیک ٹو کو شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    اسلام آباد میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کا خصوصی دورہ کیا، منگل کو چینی وفود سے اہم ملاقاتیں کیں، بدھ کے روز پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی، سہ فریقی اجلاس میں افغان پناہ گزین، علاقائی صورتحال اور تجارت پر بات کی،19 اپریل کو دورہ کابل کے دوران کیے گئے معاہدوں پر پاکستان میں عملدرآمد ہوچکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سہ فریقی اجلاس میں اتفاق کیا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، چین اس حکومت کے ساتھ سی پیک ٹو کو شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر چین پشاور سے کابل تک ہائی وے پروجیکٹ کو بناتا ہے تو سینٹرل ایشیا کو رسائی آسان ہوگی، اس صورت میں گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم اپنے پڑوسیوں کو نہیں بدل سکتے، چین میں سفارتی تعلقات سمیت تجارت اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی، ہم نے کہہ دیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغان پناہ گزین کو ہم ون ڈاکیومنٹ پر لیکر آرہے ہیں، افغان پناہ گزین کو پاکستان آنے کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا دیا جائے گا، جس کی فیس 100 ڈالر ہوگی۔‘