یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ یوکرین نے روسی صدر پوتن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی شب یوکرین نے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز پوتن کی ریاستی رہائش گاہ، شمال مغربی نووگورود خطے میں، لانچ کیے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔ یہ واضح نہیں کہ مبینہ حملے کے وقت پوتن کہاں موجود تھے۔
زیلنسکی نے اس الزام کو ’روسی جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کریملن کو یوکرین پر مزید حملوں کا بہانہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ روس کا یہ دعویٰ یوکرین پر مزید حملوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
زیلنسکی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’سب کو اب چوکس رہنا ہوگا۔ بالکل سب کو۔ دارالحکومت (کئیو) پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ روس امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکامی سمجھتا ہے اور حملے جاری رکھنے کے لیے ’وجوہات تلاش کر رہا ہے‘۔ زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’دنیا کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں روس کو پائیدار امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کو ٹیلیگرام پر کہا کہ تمام 91 ڈرونز روسی فضائی دفاع نے تباہ کر دیے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’کئیو کے مجرمانہ نظام کی مکمل تنزلی کے بعد، جو ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر اتر آیا ہے، روس اپنی مذاکراتی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ روس امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
منگل کو کریملن نے کہا کہ وہ مبینہ حملے کے ثبوت فراہم نہیں کرے گا، لیکن ترجمان نے کہا کہ روس اب مذاکرات کے دروان اپنے مؤقف میں ’سختی‘ لائے گا۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ روس کے ’جھوٹے دعوؤں‘ پر ردِعمل نہ دیں۔
یوکرینی نائب وزیر خارجہ آندری سبیہا نے ایک بیان میں کہا کہ ’تقریباً ایک دن گزر گیا ہے اور روس نے اب تک کوئی قابلِ اعتبار ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اور وہ نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔‘
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کو فلوریڈا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات ہوئے، جہاں صدر ٹرمپ اور زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نظرِ ثانی شدہ امن منصوبے پر بات کی۔
زیلنسکی نے پیر کو فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ممکن ہے یہ جنگ 2026 میں ختم ہو جائے‘، لیکن انھوں نے کہا کہ یوکرین امریکہ کی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ’انتہائی سخت اقدامات‘ کے لیے تیار ہیں اور اس صورتحال میں امریکہ امن کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ انھیں پوتن پر اعتماد نہیں اور پوتن یوکرین کے لیے امن نہیں چاہتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یوکرین کو 15 سال کے لیے سکیورٹی ضمانتیں دینے کی پیشکش کی ہے اور ٹرمپ نے کہا کہ اس پر معاہدہ ’95 فیصد طے پا گیا‘ ہے۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ علاقائی مسائل اور روس کے زیرِ قبضہ زاپرویژیا جوہری پلانٹ ابھی تک حل طلب ہیں، جبکہ دونباس خطے کے مستقبل پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ روس اس خطے پر مکمل قبضہ چاہتا ہے اور فی الحال دونتسک کے تقریباً 75 فیصد اور لوہانسک کے 99 فیصد حصے پر قابض ہے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انھوں نے پوتن کے ساتھ ایک ’مثبت کال‘ مکمل کی ہے۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ پوتن نے اس کال میں مبینہ حملے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ’امریکہ اور یوکرین کے کامیاب مذاکرات کے فوراً بعد‘ ہوا۔ اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ اس خبر پر ’غصے میں‘ تھے اور کہا کہ وہ یقین نہیں کر سکتے کہ ایسا اقدام کیا گیا ہے۔
بعد میں ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے پہلے کہا کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں علم نہیں، لیکن بعد میں بتایا کہ پوتن نے انھیں اس بارے میں آگاہ کیا اور وہ ’بہت ناراض‘ ہوئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے روسی دعوے کے ثبوت دیکھے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ لیں گے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ شاید حملہ ہوا ہی نہیں — یہ بھی ممکن ہے۔ لیکن صدر پوتن نے مجھے آج صبح بتایا کہ یہ ہوا ہے۔‘