آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سوئٹزر لینڈ کے شراب خانے میں آتشزدگی سے قریب 40 افراد ہلاک، 115 زخمی: پولیس

سوئٹزر لینڈ کے صدر گائے پرملن کا کہنا ہے کہ نئے سال کے موقع پر سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی کا واقعہ ملکی تاریخ کے ’بدترین سانحوں میں سے ایک ہے۔‘ جبکہ کینٹن والے میں پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں قریب 40 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • سوئٹزر لینڈ میں حکام کے مطابق نئے سال کے موقع پر سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی سے قریب 40 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے صدر گائے پرملن کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ملکی تاریخ کے ’بدترین سانحوں میں سے ایک ہے‘
  • ایران میں چار روز سے مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران تصادم میں پاسدران انقلاب کے ایک اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے
  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
  • مغربی افریقہ کے ممالک مالی اور برکینا فاسو نے امریکی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے
  • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے دفاعی اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے بڑھ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. یمن تنازع: پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور مملکت کی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

    پاکستان نے یمن میں دوبارہ تشدد بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایسے کسی بھی اقدام کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو مزید سنگین بنائیں، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں اور یمن سمیت پورے خطے کے امن کو استحکام کو خطرے میں ڈالیں۔‘

    بیان میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سکیورٹی کے بارے میں اپنی غیر متزلزل وابستگی بھی دہرائی گئی۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یمن کے مسئلے کا حل مکالمے اور سفارت کاری ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور پائیدار تصفیے کی جانب بڑھیں گی، جو خطے کے استحکام کو یقینی بنائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے آج شام سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو بھی کی۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    بیان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا تھا کہ یو اے ای یمنی حکومت کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں اپنی افواج یمن سے واپس بُلائے۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے اگرچہ یو اے ای نے تمام الزامات کی تردید کی تھی تاہم اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

  2. ’افغان عوام کو جاننے کا حق ہے کہ زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ کس حیثیت میں رابطہ کر رہے ہیں‘, بی بی سی مانیٹرنگ

    28 دسمبر کو کابل میں افغانستان کے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی تھی اور اُسی روم أفغان وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس ملاقات کی تصدیق کی تھی۔

    افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے فروغ کے امکانات، مواقع اور مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ خارجہ متقی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ایک ’نئے دور‘ کے آغاز اور مسلسل مکالمے کے ذریعے روابط کو بڑھانے پر زور دیا۔

    مولوی امیر خان متقی نے خلیل زاد کو بتایا کہ ’افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور تقریباً چار سال قبل جنگ کے خاتمے کے بعد اسلامی امارتِ افغانستان اور امریکہ کے تعلقات عملی طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔‘

    افغانستان کے بیان کے مطابق خلیل زاد نے طالبان انتظامیہ کے سکیورٹی اقدامات اور تعمیرِ نو کی کوششوں کو سراہا اور أفغان، امریکی ملاقاتوں کے تسلسل پر زور دیا۔

    افغان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں قابلِ اعتماد سکیورٹی اور تعمیرِ نو کے شعبے میں پیشرفت کو قابلِ تعریف قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو اہم قرار دیتے ہوئے دو طرفہ ملاقاتوں کے تسلسل پر زور دیا۔‘

    خلیل زاد نے اس ملاقات پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ خلیل زاد اِس سے قبل 22 اکتوبر کو بھی کابل آئے تھے جبکہ اس سے قبل 13 ستمبر کو وہ ایک امریکی وفد کے ہمراہ بھی کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔

    طالبان عہدیداروں کا ردِعمل

    طالبان وزارتِ خارجہ کے سیاسی شعبے کے سربراہ ذاکر جلالی نے بھی اس ملاقات کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

    انھوں نے افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کو ایکس پر دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’20 سالہ قبضہ افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کا ایک غیر معمولی مرحلہ تھا۔ اس مرحلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نہ صرف کوئی پیچیدگی باقی نہیں رہی بلکہ امریکہ کے بڑے ترقیاتی منصوبوں جیسے قندھار ایئرپورٹ اور ہلمند کے کجکی ڈیم میں مثبت کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں روابط کی بحالی اور ترقی میں کوئی بڑی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ تاریخی دوحہ معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں فریقین ماضی کے قیدی بننے سے بچنے اور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تعلقات کے نئے مرحلے اور مواقع پر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔‘

    غیر واضح کردار

    زلمے خلیل زاد کے پاس کسی سرکاری عہدے کی عدم موجودگی نے افغان میڈیا اور تجزیہ کاروں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ وہ کس حیثیت میں طالبان وزیر خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    افغان صحافی لینا روزبیہ نے ایکس پر لکھا کہ ’زلمے خلیل زاد 2025 میں بار بار افغانستان کے دورے کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے مارچ میں، پھر ستمبر/اکتوبر میں اور اب دسمبر میں؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ اب نہ تو ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی امریکی حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہیں، ان کا آخری سرکاری منصب 2021 میں ختم ہو گیا تھا۔ آخر وہ کس کے لیے کام کر رہے ہیں؟‘

    اسی طرح سابق رکنِ پارلیمان فوزیہ کوفی نے کہا کہ امریکی محکمۂ خارجہ کو وضاحت کرنی چاہیے کہ خلیل زاد کس حیثیت میں دو طرفہ تعلقات پر بات کر رہے ہیں۔

    سابق أفغان وزیرِ معدنیات و پٹرولیم نرگس نہان نے بھی ایکس پر کہا کہ ’افغان عوام کو جاننے کا حق ہے کہ زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ کس حیثیت میں رابطہ کر رہے ہیں۔‘

  3. بلوچستان میں بارش اور برفباری کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، نصیر آباد میں کم از کم تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔

    بارشوں کی وجہ سے ضلع نصیر آباد میں کم از کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے جبکہ سرحدی شہر چمن میں گھروں کو نقصان پہنچا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے باعث ضلع نصیر آباد کے ہیڈ کوارٹر ڈیرہ مراد جمالی میں ایک مکان کی چھت گر گئی۔

    ایس ایچ او پولیس ڈیرہ مراد جمالی غلام علی کنرانی نے بتایا کہ چھت گرنے سے محنت مزدوری کرنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے جن میں والدہ اور دو کمسن بچے شامل ہیں جبکہ گھر کے سربراہ سمیت خاندان کے تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بارشیں مکران ڈویژن رخشاں ڈویژن، قلات ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن، لورالائی ڈویژن اور نصیرآباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں ہوئیں۔

    بارشوں کے باعث افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے نواحی علاقوں میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔

    بارشوں کے ساتھ ساتھ ضلع چمن میں کوژک اور ضلع زیارت کے علاوہ، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی، کنچوغی، کان مہترزئی اور خانوزئی کے علاقوں میں موسم کی پہلی برفباری ہوئی۔

    کوئٹہ چمن اور کوئٹہ ژوب شاہراہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار برف کو ہٹانے میں مصروف رہے۔ اس مقصد کے لیے شاہراہ پر نمک چھڑکنے کے علاوہ مشینری کو استعمال کیا جاتا رہا۔

    توبہ اچکزئی اور بعض دیگر علاقوں میں برفباری سے لوگوں کی آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں ۔

    طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے سے بلوچستان کے متعدد علاقے خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں جہاں بارشوں سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے میں مدد ملے گی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق یکم جنوری کو بھی بارش اور برفباری متوقع ہے۔

  4. جھنگ میں مسافر وین اور یونیورسٹی بس میں تصادم سے نو افراد ہلاک، متعدد زخمی ہو گئے, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں ایک مسافر وین اور طلبا سے بھری یونیورسٹی کی بس میں تصادم سے نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حادثہ کلی فقیر کے قریب فیصل آباد روڈ پر پیش آیا جہاں ویٹرنری یونیورسٹی جھنگ کی بس لاہور جا رہی تھی اور مخالف سمت سے آنے والی وین سے ٹکرا گئی۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق یہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا اور ریسکیو کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی پانچ گاڑیاں جائے حادثہ کی طرف روانہ کی گئیں اور ہنگامی بنیادوں پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈی ایچ کیو جھنگ منتقل کر دیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

  5. انڈیا کا ’مختلف اہداف کیخلاف متعدد وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت‘ رکھنے والے ’پرالے‘ میزائلوں کا تجربہ

    انڈیا کی ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے آج دو پرالے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

    انڈین وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’31 دسمبر 2025 کو تقریباً 10:30 بجے اڈیشہ کے ساحل سے ایک ہی لانچر سے یکے بعد دیگرے دو پرالے میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق دونوں میزائلوں نے پرواز کے تمام اہداف کو پورا کیا اور اس کی تصدیق جہاز پر نصب ٹیلی میٹری سسٹمز کے ذریعے کی گئی۔

    وزارت دفاع کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پرالے انڈیا کا مقامی طور پر تیار کردہ بیلسٹک میزائل ہے جو درستگی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین رہنمائی اور نیویگیشن استعمال کرتا ہے۔

    ’یہ میزائل مختلف اہداف کے خلاف متعدد قسم کے وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

  6. حزب المجاہدین سازش کیس: مرکزی ملزم قمر الزمان کو عمر قید کی سزا

    انڈیا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے آسام میں حزب المجاہدین سازش کیس کے مرکزی ملزم قمر الزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

    (این آئی اے) کی عدالت نے قمر الزمان کو مختلف دورانیے کی قید کی تین سزائیں سنائی ہیں جن میں سے سب سے طویل سزا عمر قید کی ہے تاہم یہ تمام سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔

    اس کے علاوہ عدالت نے ہر جرم میں قمر الزمان پر پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تاہم جرمانہ ادا نہ کرنے پر انھیں تین ماہ مزید قید کاٹنی ہو گی۔

    یہ کیس وجائی ضلع کے جمنامخ علاقے میں سنہ 2017 اور 2018 کی ایک سازش سے متعلق تھا، جہاں قمر الزمان نے کالعدم حزب المجاہدین کا مقامی ماڈیول قائم کرنے کی کوشش کی۔

    تفتیش کاروں نے بتایا کہ یہ منصوبہ مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور آسام میں دہشت گرد سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

  7. ’گاہکوں کو داڑھی منڈوانے کی خدمات پیشکش کرنا بند کریں‘: طالبان کی حجام کو ہدایت

    افغانستان کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی صوبہ بلخ میں حجاموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو داڑھی منڈوانے کی خدمات پیش کرنا بند کر دیں۔

    اخبار اطلاعات روز کی ویب سائٹ نے 30 دسمبر کو خبر دی کہ طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنكر (نیکیوں کا حکم دینا اور برائی کو روکنا) نے حجام کو یہ ہدایات دی ہیں۔

    حجاموں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے انھیں متنبہ کیا کہ وہ مردوں کے بالوں کو اس انداز میں نہ بنائیں جسے وہ ’مغربی‘ فیشن قرار دیتے ہیں۔

    21 اگست 2024 کو ملک کے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے طالبان کے اخلاقی قوانین میں ’داڑھی منڈوانے اور اسے ایک مٹھی سے کم کرنے‘ اور ’اسلامی شریعت کے خلاف بالوں کو سٹائل کرنے‘ سے منع کیا گیا۔

    اخبار اطلاعات روز کی ویب سائٹ کے مطابق ’جب سے اس قانون کی منظوری دی گئی ہے، طالبان نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں کئی بار نوجوانوں کو داڑھی منڈوانے یا تراشنے کے الزام میں گرفتار کیا۔‘

  8. ’عظمیٰ بخاری کا پختونوں کے لیے لفظ ’جنگلی‘ کا استعمال قابلِ افسوس ہے مگر شفیع جان کا ردِعمل اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے‘

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور سے شروع ہونے والی سیاسی تلخی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان کے عظمی بخاری کے حوالے سے حالیہ بیان پر شدید تنقید کی ہے۔

    خود عظمی بخاری نے بھی اس پر شدید ردعمل دیا ہے۔

    دراصل خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’عظمی بخاری سیاسی خانہ بدوش ہیں جبکہ وہ پختونوں کے بارے میں جنگلی جیسے القابات استعمال کرتی ہیں۔‘

    اس کے علاوہ بھی شفیع اللہ جان نے عظمی بخاری کے حوالے سے کچھ معیوب باتیں کیں جنھیں یہاں تحریر نہیں کیا جا سکتا۔

    یاد رہے کہ گشتہ ہفتے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور کے تین روز کے دورے پر تھے۔ اس دوران اُن کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران دھکم پیل اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سخت زبان کے استعمال اور جواب میں پنجاب حکومت کے بھی سخت ردعمل کی وجہ سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

    اس دوران خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی اور صحافیوں کے مابین ہونے والے مکالمے پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید ہوئی اور اب معاون خصوصی شفیع اللہ جان کا بیان زیر بحث ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’مشیر اطلاعات کے عہدے پر بیٹھے شخص کی یہ گفتگو کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔‘

    دوسری جانب مریم اورنگزیب نے لکھا کہ یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے جسے عمران خان نے معمول بنایا۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ یہ طریقہ ’خواتین کے ساتھ بدسلوکی کو جائز قرار دیتا ہے اور اسے سیاسی طرز عمل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ حادثاتی نہیں بلکہ یہ سیکھا گیا ہے۔‘

    خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان کے بیان کی صرف نون لیگ والے ہی مذمت نہیں کر رہے بلکہ سوشل میڈیا پر کئی صارفین اسے معیوب تبصرہ قرار دے رہے ہیں۔

    طیب نامی صارف نے لکھا کہ ’بہت سخت الفاظ بول دیے ہیں، لحاظ کر دیتے۔‘

    مشال نامی صارف نے لکھا کہ ’تضحیک کے جواب میں تضحیک مسئلے کا حل نہیں۔ عظمیٰ بخاری کا پختونوں کے لیے ’جنگلی‘ کا لفظ استعمال کرنا قابلِ افسوس ہے مگر شفیع جان کا ردِعمل اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔‘

  9. متحدہ عرب امارات کی افواج نے یمن سے انخلا شروع کر دیا، یمنی میڈیا

    یمنی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی افواج نے یمن سے انخلا شروع کر دیا ہے۔

    المشہد ویب سائٹ نے رات کو اطلاع دی کہ اماراتی فورسز نے ’بڑے پیمانے پر‘ انخلا کے ایک حصے کے طور پر مشرقی شبوہ صوبے میں فوجی اڈوں کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا تھا کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلائے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے گذشتہ روز ہی یمن میں موجود اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اماراتی وزارت دفاع کی جانب سے یہ فیصلہ آنے سے قبل سعودی عرب نے یو اے ای پر یمن کے معاملے پر الزامات عائد کیے تھے تاہم امارات نے ان الزامات کی پُرزور تردید کی تھی۔

    حالیہ پیشرفت کے بعد آج صبح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذرائع ابلاغ میں یمن میں ہونے والے واقعات پر متضاد بیانیے کا سہارا لیا، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی دشمنی کی عکاسی ہوتی ہے۔

    سعودی اخبار الشرق الاوسط نے آج ہیڈ لائن لگائی کہ ’سعودی عرب نے اپنی سلامتی اور یمن کے استحکام کے لیے سرخ لکیر کھینچ دی۔‘

    سعودی میڈیا نے کل کابینہ کے اجلاس میں شاہ سلیمان کے بیانات کو بھی نمایاں کر کے پیش کیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مملکت ’قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی چیز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    دوسری جانب سکائی نیوز عربیہ نے بتایا کہ اماراتی حکومت یمن کے حوالے سے سعودی بیان میں ’جھوٹے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔‘

    اس کے علاوہ العین ویب سائٹ نے اماراتی کوششوں کے بارے میں بھی رپورٹ کیا جن کا مقصد یمنی عوام کو ’سپورٹ‘ کرنا اور ملک میں ’دہشت گرد اور انتہا پسند‘ گروہوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

  10. بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں اور انھیں ڈھاکہ کے ضیا الدین باغ میں ان کے شوہر ضیا الرحمان کی قبر کے پاس دفن کر دیا گیا ہے۔

    خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ادا کی گئی جس میں ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنماؤں اور سپورٹرز نے ملک بھر سے شرکت کی۔

    بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس اور ملک کی مسلح افواج کے سربراہان بھی خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

    واضح رہے کہ 25 دسمبر کو خالدہ ضیا کے بیٹے طارق الرحمان 17 سال کے بعد لندن سے واپس ڈھاکہ آئے تھے اور اُن کے آنے کے پانچ دن کے بعد اُن کی علیل والدہ انتقال کر گئیں۔

    خالدہ ضیا سنہ 1991 میں بنگلہ دیش میں 20 سال کے بعد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کی پہلی وزیراعظم بنی تھیں۔

    1991 میں اپنے پہلے دورِ حکومت میں خالدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش میں پارلیمانی نظامِ حکومت متعارف کروایا گیا تھا۔

  11. کراچی کی سڑکوں پر تقریبا نصف صدی کے بعد ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حکومت سندھ نے ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز کردیا ہے۔ موجودہ ڈبل ڈیکر بسیں ملیر سے شاہراہِ فیصل تک چلائی جائیں گی تاہم حکومت سندھ کے مطابق اس کے روٹس میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ابتدائی طور پر پانچ ڈبل ڈیکر بسیں شامل کئی گئی ہیں۔ ڈیزل پر چلنے والی ان بسوں میں سے فی بس کی گنجائش 120 مسافر ہے، یہ بسیں مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہیں، ملیر ماڈل کالونی سے یہ بسیں زینب مارکیٹ تک چلائی جائیں گی جس کا کم از کم کرایہ 80 رپے اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 120 روپے ہوگا۔

    یاد رہے کہ تقریبا نصف صدی کے بعد کراچی کی سڑکوں پر یہ بسیں واپس آئی ہیں، اس سے قبل کے ٹی سی کے زیر انتظام یہ بسیں چلائی جاتی تھیں جو بعد میں بند کردی گئیں۔

    ڈبل ڈیکر بسوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی کی ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ کراچی میں یومیہ سوا لاکھ سے زائد افراد پیپلز بس سروس کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اورنج لائن اور گرین لائن کے ذریعے مزید ایک لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

    صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کے لیے 150 بسوں کا اعلان کیا تھا جس پر ابھی عمل نہیں ہوا، وہ وزیراعظم کو درخواست کرتے ہیں وعدہ کی گئی بسیں فراہم کی جائیں۔

    کراچی کی سڑکوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی مرمت کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ صوبائی کابینہ نے انڈسٹریل ایریا کے کے لیے 9 ارب مختص کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ حکومت سندھ نے اورنج لائن کو گرین لائن سے منسلک کردیا ہے جس کے بعد اورنج لائن لائن کا روٹ اورنگی سے نمائش تک بن گیا ہے۔

    صوبائی وزیر شرجیل انعام کا کہنا تھا کہ اس سے قبل شکایت تھی کہ گرین لائن تک رسائی کے بعد مسائل پیش آتے ہیں اور دو کرائے ادا کرنا پڑتے ہیں، اب ایسا نہیں ہوگا اور ایک ہی ٹکٹ پر پورا سفر ممکن ہو سکے گا، اب ایک ہی کرایہ پر اورنج لائن اور گرین لائن پر سفر کر سکیں گے۔

  12. پاکستان انڈیا تنازع، ٹرمپ کے بعد چین کا بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی ختم کرنے میں ثالثی کا دعویٰ

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ چین نے اس سال جن ’ہاٹ سپاٹ‘ مسائل کی ثالثی کی، ان میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ بھی شامل ہے۔

    بیجنگ میں ’بین الاقوامی صورتحال اور چین کے خارجہ تعلقات‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ’ہاٹ سپاٹ مسائل کو حل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کے تحت ہم نے شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، انڈیا پاکستان کشیدگی، فلسطین اسرائیل تنازع اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان حالیہ تنازع میں ثالثی کی۔‘

    واضح رہے کہ انڈیا نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ سات اور 10 مئی کے درمیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع دونوں ممالک کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا۔

    13 مئی کو ایک پریس بریفنگ میں انڈین وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’جہاں تک جنگ بندی اور اس میں دیگر ممالک کے کردار کا تعلق ہے اس میں جنگ بنندی کی تاریخ، وقت اور اصطلاحات کا فیصلہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 10 مئی 2025 کو سہ پہر 3:35 پر ٹیلی فونک بات چیت میں کیا گیا تھا۔‘

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ اس سال، مقامی جنگیں اور سرحد پار تنازعات دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی وقت سے زیادہ بھڑک اٹھے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جغرافیائی سیاسی عدم استحکام مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ پائیدار امن قائم کرنے کے لیے، ہم نے منصفانہ اور متوازن انداز اپنایا اور مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کیا۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال 7 اور 10 مئی کے درمیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع میں چین کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ سات مئی کو چین نے انڈیا اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی۔

    دوسری جانب انڈیا نے ابھی تک وانگ یی کے ریمارکس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا لیکن انڈیا کے کئی میڈیا اداروں نے نامعلوم سرکاری عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا مئی میں پاکستان کے فوجی تنازع کو ختم کرنے میں ثالثی کے چینی دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

    روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے نامعلوم عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’چین نے اس تنازع کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔‘

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق سرکاری عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسائل میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں۔

    انڈیا ٹوڈے نے ایک سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم پہلے ہی ایسے دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسائل پر، تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں۔‘

  13. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے کئی اضلاع میں وی پی این پر پابندی، 10 افراد گرفتار, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت نے انٹرنیٹ کو متوازی نیٹ ورک سے استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی ’وی پی این‘ کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

    کولگام، شوپیان، کپوارہ، ڈوڈہ اور دیگر اضلاع کی مقامی انتظامیہ نے الگ الگ احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ’امن و قانون کو برقرار رکھنے اور ہند مخالف عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے‘ کے لیے کیا گیا ہے۔

    منگل کے روز ضلع کپوارہ کے مجسٹریٹ سری کانت بالا صاحب سُوسے نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس پولیس کی طرف سے موصول اطلاعات کا حوالہ دیا گیا جن میں ’ورچُوَل پروائیویٹ نیٹ ورک‘ یا وی پی این کے بڑھتے استعمال پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

    حکمنامے کے مطابق ’وی پی این سروسز سے خدشہ یہ ہے کہ اسے غیرقانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عناصر متوازی نیٹ ورک استعمال کرکے لوگوں میں حکومت کے تئیں نفرت پھیلاتے ہیں جس سے امن اور قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔‘

    کپوارہ کے علاوہ شوپیان، کولگام، ڈوڈہ اور کئی دوسرے اضلاع کی انتظامیہ نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ کوئی بھی شہری اس حکمن نامے کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران وی پی این استعمال کرنے والے 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں پولیس لوگوں کے فونز کا معائینہ کررہی ہے اور کسی کے فون میں وی پی این کی کوئی ایپ پائی جائے تو اسے حراست میں لیا جاتا ہے.

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی سے متعلق سری نگر کی ایک عدالت نے معروف تاجر اور چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مبین شاہ ، قالین کے تاجر عزیزالحسن عشائی عرف ٹونی عشائی اور کپوارہ کی رہنے والی خاتون رفعت وانی کو ’روپوش‘ قرار دے کر انھیں اگلے سال جنوری کے آخر تک عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

    ان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کی زمینیں اور مکانات قرق کیے جائیں گے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انڈیا مخالف بیانیہ پرموٹ کیا اور لوگوں کو تشدد اور حکومت مخالف احتجاج پر اُکسایا۔

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کونٹر انٹیلجنس محکمے نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ تینوں شہری سوشل میڈیا پر مختلف نیوز پورٹل چلاتے تھے اور جعلی خبروں کی ترسیل کرتے تھے۔

  14. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی مرتبہ 175000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز انڈیکس میں کاروبار کے دوران 700 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس175181 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا جو اس کی بلند ترین سطح ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا۔

    واضح رہے کہ اس ہفتے کے پہلے دو روز بھی کاروبار میں تیزی کی گئی ہے اور گزشتہ روز انڈیکس نے 174000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی وجہ مجموعی طور پر مثبت رجحانات ہیں جو معیشت میں بہتری کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ تیزی کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سے ایک تو بہتر ہوتا معاشی منظر نامہ ہے جس میں ایک موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہے۔

    اس کے ساتھ ہی آئی اے کی نج کاری سے پیدا ہونے والا مثبت اثر ابھی تک مارکیٹ میں موجود ہے اس کے ساتھ مارکیٹ میں نئی لسٹنگ بھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی ہے۔

  15. شہباز شریف کی شیخ محمد بن زاید النہیان سے رحیم یار خان میں ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے کا اعادہ

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد میں 26 دسمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات کا تسلسل ہے۔

    یاد رہے 26 دسمبر کو صدرِ امارات نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو ایک سٹریٹجک اور باہمی فائدے پر مبنی معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا ان کی پختہ خواہش ہے۔

    شہباز شریف کے مطابق ’دونوں ممالک کو تجارتی تعلقات میں نمایاں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ اسے مطلوبہ سطح تک لے جایا جا سکے۔‘

    دونوں رہنماؤں نے آئی ٹی، توانائی، معدنیات و کان کنی، اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی۔

    پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ’وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 21 لاکھ پاکستانیوں کی میزبانی کو بھی سراہا جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعاون کے علاوہ مختلف علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک سال کے دوران قیادت کی سطح پر ہونے والے بھرپور روابط کا تسلسل ہے۔

  16. خالدہ ضیا کی آخری رسومات آج، سکیورٹی کے سخت انتظامات

    بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات آج ادا کی جائیں گی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ خالدہ ضیا کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ابوالکلام آزاد نے بتایا کہ گارڈ آف آنر کے لیے پھولوں کی چادریں پہلے ہی لائی جا چکی ہیں۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق بدھ کی صبح ان کی لاش ڈھاکہ کے ایور کیئر ہسپتال سے بنگلہ دیش کے پرچم میں لپیٹ کر ان کے گھر لے جائی گئی جہاں آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد انھیں ان کے شوہر سابق صدر ضیاء الرحمان کی قبر کے پاس سپرد خاک کیا جائے گا۔

    خالدہ ضیا کی نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے باعث خالدہ ضیا کے شوہر ضیاء الرحمان کی قبر کے اردگرد کسی بھی عام فرد کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

    80 سال کی عمر میں وفات پانے والی خالدہ ضیا گذشتہ کئی عرصے سے علیل تھیں۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق ان کی جنازہ آج بدھ کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاؤس میں ادا کی جائے گی۔ خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں۔

    موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ لوگ فینی، برہمن باریا، میمن سنگھ سمیت کئی اضلاع سے آرہے تھے جبکہ بہت سے لوگ اس صبح چار بجے پہنچے جن میں سے بیشتر نے سوگ کی علامت کے طور پر کالے بیجز پہنے آئے تھے۔

    خالدہ ضیا کی وفات پر تین روزہ سرکاری سوگ کے علاوہ آج عام تعطیل ہے۔ پاکستان کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی یااز صادق ان کی تدفین میں شرکت کریں گے جبکہ انڈیا، بھوٹان کے وزرائے خارجہ سمیت مختلف ممالک کے نمائندے ان کے آخری دیدار کے لیے ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں۔

  17. سکولوں میں اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین چھ ماہ تک کسی قسم کی ہڑتال نہیں کر سکیں گے: حکومتِ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں چھ ماہ کے لیے اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی ہر قسم کی ہڑتال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اس پابندی کا اعلان بلوچستان لازمی تعلیمی سروس ایکٹ 2019 کی چھ کے تحت کیا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب بلوچستان میں سرکاری ملازمین ڈی آر اے یعنی ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس کے حصول کے لیے احتجاج پر ہیں اور انھوں نے تمام سرکاری محکموں میں لاک ڈاون شروع کیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق تعلیمی خدمات کو لازمی سروس قرار دے دیا گیا جس کے تحت بلوچستان لازمی تعلیمی ایکٹ 2019 کے تحت تعلیمی شعبے میں ہڑتال اور تالہ بندی پر پابندی ہے جس کے پیش نظر اساتذہ و تعلیمی عملے کی ہڑتال غیر قانونی ہوگی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے عوامی مفاد کے پیشِ نظر تعلیمی سرگرمیوں کا بلا تعطل تسلسل یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورقانون کی خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کاروائی ہوگی۔

  18. قطر کا سعودی عرب اور یو اے ای کے بیانات کا خیر مقدم، یمن کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں: قطر کی وزارت خارجہ

    قطر کی وزارت خارجہ نے یمن میں ہونے والے حالیہ واقعات کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ یمن کی اس تازہ ترین صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ بیان کے مطابق قطر یمن کی جائز حکومت کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یمن متحد اور محفوظ رہے۔‘

    قطر کی جانب سے جاری بیان میں یو اے ای اور سعودی عرب کی جانب سے جاری بیانات پر کہا گیا کہ ’وزارت برادر ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات کا خیر مقدم کرتی ہے جو خطے کے مفادات کو ترجیح دینے، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کو مضبوط کرنے، اور جی سی سی ممالک کے منشور کی بنیادوں اور اصولوں کی پاسداری کے عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا تھا کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلائے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے لگائے گئے الزامات کی پُرزور تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی بندرگاہ پر بھیجے گئے سامان میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا اور جو گاڑیاں وہاں اُتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں بلکہ یمن میں موجود اماراتی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔

    اس صورتحال کے تناظر میں قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ قطر یمن کی جائز حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، برادر یمنی عوام کے مفادات کی نگہداشت، اور ان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کی امنگوں کی تکمیل پر زور دیتا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ نے بیان میں تصدیق کی کہ ’برادر ملک سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی سلامتی، ریاستِ قطر کی سلامتی سے جدا نہیں کی جا سکتی، جو جی سی سی ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’وزارتِ خارجہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ریاستِ قطر خطے اور اس کے عوام کی خوشحالی، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو سب سے مؤثر ذریعہ سمجھنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔‘

  19. یوکرین کی پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی تردید، ’یہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے‘, ایمی واکر، بی بی سی نیوز

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ یوکرین نے روسی صدر پوتن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی شب یوکرین نے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز پوتن کی ریاستی رہائش گاہ، شمال مغربی نووگورود خطے میں، لانچ کیے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔ یہ واضح نہیں کہ مبینہ حملے کے وقت پوتن کہاں موجود تھے۔

    زیلنسکی نے اس الزام کو ’روسی جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کریملن کو یوکرین پر مزید حملوں کا بہانہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ روس کا یہ دعویٰ یوکرین پر مزید حملوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    زیلنسکی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’سب کو اب چوکس رہنا ہوگا۔ بالکل سب کو۔ دارالحکومت (کئیو) پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ روس امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکامی سمجھتا ہے اور حملے جاری رکھنے کے لیے ’وجوہات تلاش کر رہا ہے‘۔ زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’دنیا کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں روس کو پائیدار امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کو ٹیلیگرام پر کہا کہ تمام 91 ڈرونز روسی فضائی دفاع نے تباہ کر دیے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’کئیو کے مجرمانہ نظام کی مکمل تنزلی کے بعد، جو ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر اتر آیا ہے، روس اپنی مذاکراتی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ روس امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    منگل کو کریملن نے کہا کہ وہ مبینہ حملے کے ثبوت فراہم نہیں کرے گا، لیکن ترجمان نے کہا کہ روس اب مذاکرات کے دروان اپنے مؤقف میں ’سختی‘ لائے گا۔

    یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ روس کے ’جھوٹے دعوؤں‘ پر ردِعمل نہ دیں۔

    یوکرینی نائب وزیر خارجہ آندری سبیہا نے ایک بیان میں کہا کہ ’تقریباً ایک دن گزر گیا ہے اور روس نے اب تک کوئی قابلِ اعتبار ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اور وہ نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔‘

    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کو فلوریڈا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات ہوئے، جہاں صدر ٹرمپ اور زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نظرِ ثانی شدہ امن منصوبے پر بات کی۔

    زیلنسکی نے پیر کو فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ممکن ہے یہ جنگ 2026 میں ختم ہو جائے‘، لیکن انھوں نے کہا کہ یوکرین امریکہ کی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ’انتہائی سخت اقدامات‘ کے لیے تیار ہیں اور اس صورتحال میں امریکہ امن کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔

    زیلنسکی نے کہا کہ انھیں پوتن پر اعتماد نہیں اور پوتن یوکرین کے لیے امن نہیں چاہتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یوکرین کو 15 سال کے لیے سکیورٹی ضمانتیں دینے کی پیشکش کی ہے اور ٹرمپ نے کہا کہ اس پر معاہدہ ’95 فیصد طے پا گیا‘ ہے۔

    یوکرین کے صدر نے کہا کہ علاقائی مسائل اور روس کے زیرِ قبضہ زاپرویژیا جوہری پلانٹ ابھی تک حل طلب ہیں، جبکہ دونباس خطے کے مستقبل پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ روس اس خطے پر مکمل قبضہ چاہتا ہے اور فی الحال دونتسک کے تقریباً 75 فیصد اور لوہانسک کے 99 فیصد حصے پر قابض ہے۔

    امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انھوں نے پوتن کے ساتھ ایک ’مثبت کال‘ مکمل کی ہے۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ پوتن نے اس کال میں مبینہ حملے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ’امریکہ اور یوکرین کے کامیاب مذاکرات کے فوراً بعد‘ ہوا۔ اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ اس خبر پر ’غصے میں‘ تھے اور کہا کہ وہ یقین نہیں کر سکتے کہ ایسا اقدام کیا گیا ہے۔

    بعد میں ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے پہلے کہا کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں علم نہیں، لیکن بعد میں بتایا کہ پوتن نے انھیں اس بارے میں آگاہ کیا اور وہ ’بہت ناراض‘ ہوئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے روسی دعوے کے ثبوت دیکھے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ لیں گے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ شاید حملہ ہوا ہی نہیں — یہ بھی ممکن ہے۔ لیکن صدر پوتن نے مجھے آج صبح بتایا کہ یہ ہوا ہے۔‘

  20. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آج کے دن کے آغاز سے پہلے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    • انڈیا کی وفاقی حکومت نے 29 دسمبر کو دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے 8.8 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلے ڈیفنس ایکوزیشن کونسل (ڈی اے سی) نے کیے، جو وزارت دفاع کا سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
    • لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کے خلاف دائر انتخابی عذرداری مسترد کر دی ہے۔
    • آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ بونڈائی ساحل پر حملے میں ملوث دونوں مسلح افراد شدت پسندوں کے کسی وسیع سیل کا حصہ نہیں تھے اور انھوں نے انفرادی طور پر یہ حملہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ رواں ماہ یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب پر اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    • ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے پیر کو بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کے دوران یہ امید ظاہر کی ہے کہ ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔محمد یونس نے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ اس ملاقات کے دوران ’پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ڈھاکہ-کراچی براہ راست پروازیں جنوری سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
    • ایران میں کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تاجروں اور دکانداروں کے احتجاج کے دوران تہران نے تاجروں کے لیے ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے
    • سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں ایک فضائی حملے میں ایسے ہتھیاروں اور کامبیٹ گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔اس بیان میں سعودی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا کہ یمن میں موجود بندرگاہ مكلا کو بیرونی فوجی امداد حاصل ہے جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی ہے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے درمیان یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے کہا ہے کہ شمالی افغان صوبوں بدخشاں، بلخ اور قندوز میں سروے کیے گئے 85 فیصد گھرانے یا تو افیون کی آمدنی کا کوئی متبادل نہیں تلاش کر سکے یا صرف جزوی متبادل تلاش کر پائے۔