یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان اور انڈیا کے کھلاڑی نیویارک میں کرکٹ میچ کھیل رہے ہوں۔ دونوں ٹیمیں اس شہر میں اس سے قبل 1989 میں بھی مدِمقابل آ چکی ہیں۔
درحقیقت یہ تین نمائشی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ تھا۔ تقریباً 15 ہزار شائقین دن بھر کے کام کاج کے بعد 40 اوور کا ڈے نائٹر دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
پاکستان کی قیادت عمران خان کر رہے تھے اور ان کے ساتھ بہت سے ’کارنر ٹائیگرز‘ تھے جو آگے چل کر 1992 کا ورلڈ کپ جیتیں گے۔ ان میں جاوید میانداد، سلیم ملک اور مشتاق احمد شامل تھے۔
انڈین ٹیم کی قیادت دلیپ وینگسرکر نے کی اور ٹیم میں محمد اظہر الدین، کپل دیو، اور سنجے منجریکر شامل تھے۔
انڈیا کے آل راؤنڈر روی شاستری نے پاکستان کے خلاف میچوں کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ کے انعقاد میں بھی مدد کی۔
پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ یہ ایک نمائشی کھیل تھا ہم پھر بھی انھیں ہرانا چاہتے تھے۔
سلیم کے 53 رنز کی بدولت پاکستان نے 162 رنز بنائے لیکن انڈیا فاتح رہا۔
انڈیا کے رابن سنگھ نے سب سے زیادہ 47 رنز بنائے اور جب تین گیندیں رہ گئیں تو وینگسرکر نے فاتحانہ رنز بنائے جس سے مشتاق کو ایک زبردست چھکا لگا۔
تاہم پاکستان نے ٹورنٹو میں سیریز برابر کر دی، عمران خان کے شاندار 91 ناٹ آؤٹ کے بعد انھیں 222 رنز کا تعاقب کرنے میں مدد ملی۔
اس کے بعد پاکستان نے لاس اینجلس میں رمیز کے 47 رنز کی بدولت چار وکٹوں سے میچ جیت کر نارتھ امریکن کپ جیت لیا۔
امریکہ میں انڈیا بمقابلہ پاکستان فکسچرز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے حصے میں دو دو ہزار ڈالر فی کھلاڑی آئے۔ یہ وہ دور تھا جب کھلاڑی اس کھیل سے پیسہ کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے امریکہ جانے والے کھلاڑیوں سے ’چھٹی‘ پر جانے کا معاہدہ کیا تھا لیکن انھیں کرکٹ کھیلنے سے منع کیا تھا۔
انڈین کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے دورے میں بدترین شکست کے بعد امریکہ اور کینیڈا گئے جس سے بظاہر بی سی سی آئی ناراض ہوا۔
انڈیا واپسی پر بورڈ نے وینگسارکر، دیو، شاستری، اظہرالدین، کرن مورے اور ارون لال پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کردی جبکہ باقی کھلاڑیوں کو جرمانہ کیا گیا۔
انڈیا میں کرکٹ پر لکھنے والے مصنف آر موہن نے اسے ’کرکٹ کا سنگین ترین بحران‘ قرار دیا تھا۔
تاہم احتجاج، اخباری مہمات اور تین ماہ کی عدالتی لڑائی کے بعد فیصلے کو پلٹ دیا گیا۔اس کے برعکس پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ’عمران ان دنوں کرکٹ کے کرتا دھرتا تھے، وہی بورڈ تھے، وہی سلیکٹرز کے چیئرمین تھے، وہ کپتان تھے اس لیے ہمیں امریکہ میں انڈین ٹیم سے کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔‘