غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 40 شہری مارے گئے ہیں: وزرات صحت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں، مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہے، امن کا حصول ڈائیلاگ اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کو کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

خلاصہ

  • کراچی کی ملیر جیل سے فرار ہونے والے 216 قیدیوں میں سے 78 کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دوران فائرنگ میں ایک قیدی ہلاک اور چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
  • پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیے تنازعے کے دوران 96 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر پاکستان نے خود اپنے طور پر کیا اور کہیں سے کوئی مدد نہیں حاصل کی گئی۔
  • حوثی جنگجوؤں نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کو کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر بریفنگ دی ہے۔
  • رفح میں امداد کے منتظر فلسطینی شہریوں کے ہجوم پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے ہیں۔
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اتوار کے روز غزہ میں امداد کی تقسیم کے مرکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ہونے والی فلسطینی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
  • حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ کے علاقے جبالیہ میں جھڑپوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس اور یوکرین میں غیرمشروط جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوسکا، زیلنسکی اور پوتن کی ملاقات کی تجویز

    Istanbul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس اور یوکرین کے درمیان استنبول کے چراغاں محل میں آج ہونے والے مذاکراتی اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ یوکرین کے نائب وزیر خارجہ سرہی کیسلیٹس کا کہنا ہے کہ روس غیرمشروط جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا ہے۔

    یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے میمورینڈم اب وصول ہوا ہے اور اب اس پر غور اور مزید اقدامات اٹھانے سے متعلق ایک ہفتے کا وقت درکار ہوگا۔

    انھوں نے یہ تصدیق کی ہے آج ہونے والے مذاکرات میں دونوں اطراف نے شدید زخمی یا بیمار اور 18 سے 25 برس تک کی عمر کے جنگجوؤں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں بھی واپس کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

    وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے زیلنسکی اور پوتن میں ممکنہ ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے جس میں ممکنہ طور اس مہینے آخر میں امریکی صدر ٹرمپ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم اس جنگ کے خاتمے کے لیے صحیح اقدامات اٹھانے کی بات کر رہے ہیں جس میں جنگ بندی، قیدیوں کی واپسی سمیت دیگر انسانی بنیادوں پر اقدامات اور رہنماؤں کی ملاقات شامل ہے۔‘

    یوکرینی وفد نے روس پر امریکہ کو ان مذاکرات کا حصہ نہ بنانے پر تنقید کی ہے۔

    اس وفد کے مطابق ان مذاکرات میں ایسا تو کوئی ہونا چاہیے کہ جو ان مذاکرات کی نگرانی کرے اور اس مقصد کے لیے امریکہ سے بہتر کوئی نہیں ہے۔

  2. حکومت کا عیدالاضحیٰ پر چار عام تعطیلات کا اعلان

    کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے عیدالاضحیٰ پر چار عام تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔

    سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے چھٹیوں کانوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جمعہ چھ جون سے پیر نو جون تک عید الاضحیٰ کی چھٹیاں ہوں گی۔

    خیال رہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق پاکستان میں عید الاضحیٰ 7 جون بروز سنیچر ہو گی۔

  3. گذشتہ شب حملوں کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان آج استنبول میں مذاکرات جاری

    Caragan Palace

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گذشتہ شب حملوں کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان آج استنبول میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ جنگ بندی سے متعلق یہ مذاکرات استنبول کے چراغاں محل میں ہو رہے ہیں، جہاں روسی اور یوکرینی وفود کا علاہ میزبان ترکی کا وفد بھی شامل ہے۔

    استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فدان نے اس اجلاس کا آغاز اپنے افتتاحی کلمات سے کیا۔ انھوں نے ان مذاکرات کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات سُودمند رہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اجلاس فریقین کے لیے فائدہ مند رہتے ہیں۔

    ترک وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان مذاکرات میں تعمیری پیشرفت ہوگی اور دونوں ممالک آج کے موقعے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    آج دوپہر کو میزبان ترک وفد پہلے اس محل میں پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد ولادیمیر میدنسکی کی قیادت میں وہاں روس کا وفد پہنچا اور اس کے سات منٹ بعد یوکرینی وفد مذاکرات کی جگہ پہنچا۔

    مقامی وقت کے مطابق یہ مذاکرات ایک بجے شروع ہوئے۔ اب یہ اجلاس کتنی دیر چلے گا اس بارے میں کوئی حتمی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے قبل دو گھنٹے سے بھی کم وقت مذاکراتی اجلاس چل سکا تھا۔ مذاکرات کی جگہ پر ترکی کی انٹیلیجنس سروس ایم آئی ٹی کے ڈائریکٹر ابراہیمم کالن بھی آ گئے ہیں۔

  4. کولوراڈو میں اسرائیل سے متعلق تقریب میں مولوٹوف کاک ٹیل حملے میں متعدد افراد زخمی، مشتبہ حملہ آور گرفتار

    Police

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اتوار کے روز امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر بولڈر میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متلعق منعقدہ ایک تقریب میں ایک دیسی بم حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایف بی آئی نے غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف اسے ایک ’دہشت گردی‘ کا حملہ قرار دیا ہے۔

    مقامی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ایک شخص نے اسرائیل کے حامی مظاہرین کے ایک گروپ پر گھریلو ساختہ مولوٹوف کاک ٹیل (دیسی بم) پھینکا۔ بولڈر پولیس نے ایک شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس حملے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں حملہ آور کو نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے کہ ’صیہونیوں کو مار دو، ’فلسطین کو آزاد کرو اور ’وہ قاتل ہیں‘۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جن کی عمریں 67 سے 88 سال کے درمیان ہیں۔ بی بی سی کے ایک پارٹنر ادارے سی بی ایس نے بھی خبر دی ہے کہ پولیس نے ایک شخص کو حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    سی بی ایس کی خبر کے مطابق غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے منعقدہ ایک تقریب کے دوران شرکا پر کاک ٹیل سے حملہ کیا گیا۔

    کولوراڈو کے دارالحکومت ڈینور میں ایف بی آئی نے کہا کہ زیر حراست 45 برس کے مشتبہ شحص کا نام محمد صابری سلیمان ہے جن کا تعلق مصر سے ہے۔

    متعدد ذرائع کے مطابق سی بی ایس نیوز نے خبر نشر کی کہ مشتبہ شخص 2022 میں غیر تارکین وطن کے ویزے پر کیلیفورنیا آیا تھا جس کے ویزے کی میعاد فروری 2023 میں ختم ہو گئی تھی۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے اس حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

  5. یوکرین امن کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے: صدر زیلنسکی

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    استنبول میں یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات پر بات کرتے ہوئے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امن کی خاطر ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی اور مغوی بچوں کی واپسی جیسے اقدامات سے اس کی شروعات ہونی چاہیں۔

    زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر استبول مذاکرات سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ روس پر یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے نئی سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ خاص طور پر اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے سخت پابندیوں کا وعدہ کر رکھا ہے۔ زیلنسکی نے تجویز دی ہے کہ روس کی توانائی اور سماجی شعبے پر پابندیاں عائد کی جانی چاہیں۔

  6. گلگت بلتستان میں سیاحت کے سیزن میں تاجر احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟, محمد زبیر خان، صحافی

    GB

    ،تصویر کا ذریعہMohammad Ismail

    پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ریگولٹری ٹیکس کے خلاف شاہراہ قراقرم پر احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    تاجروں کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کی حیثیت پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر والی یعنی یہ ایک متنازع خطے کی ہے اور ریاست پاکستان صرف اس کا انتظام سنبھال سکتی ہے مگر ٹیکس نہیں لگا سکتی ہے۔

    ان کے مطابق جو ٹیکس عائد کیے گئے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں۔ 24 گھنٹے دھرنے کی وجہ سے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ ہنزہ میں اس وقت ہوٹل خالی ہو چکے ہیں۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ تاجروں کا معاملہ براہ راست وفاقی حکومت سے ہے۔ اس پر گللگت بلتستان کی حکومت وفاق سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ جلد ہی اس پر مثبت پیش رفت ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے کہ ٹیکس کے نفاذ سے تاجر متاثر ہو رہے ہیں۔ مگر اس وقت سیاحت کا سیزن ہے اور شاہراہ قراقرم بند ہونے سے سیاحوں کو مشکلات کے علاوہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

    ان کے مطابق اس موقع پر ایسا احتجاج کسی بھی طورپر مناسب نہیں ہے۔

    تاجر کیوں احتجاج کررہے ہیں؟

    گلگت بلتستان چمبر آف کامرس کے صدر محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تقریبا 25 ہزار لوگوں کا روزگار بارڈر کی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ریاست پاکستان اس سے پہلے ہی کسٹم ڈیوٹی لے رہی ہے۔

    مگر تقریباً ہر سال ہی کوشش کی جاتی ہے کہ خنجراب پاس کے بارڈر سے ہونے والی تجارت پر مختلف قسم کے ٹیکس جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولڑی ٹیکس نافذ کیے جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بارڈر کی تجارت اور سیاحت کے علاوہ دوسرا کوئی روزگار نہیں ہے۔ جب اتنے زیادہ ٹیکس لگائے جائیں گے تو مقامی سطح پر مقامی تاجر نہ صرف متاثر ہوں گے بلکہ مقامی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک بڑا بوجھ ہوگا۔

    محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ہر سال ہی کوشش کی جاتی ہے کہ خنجراب بارڈر سے ہونے والی تجارت پر سست بارڈر پر ٹیکس نافذ کیا جائے جس پر گذشتہ سال اور اس سے بھی پہلے احتجاج ہوا تھا، جس کے بعد حکومت پاکستان ریونیو ڈپارٹمنٹ نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سے سیلز ٹیکس کے لیے گلگت بلتستان سے باہر صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے تھاکوٹ میں چیک پوسٹ قائم کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہ ہی مطالبہ ہے کہ آپ سست بارڈر اور گلگت بلتستان میں کوئی بھی ٹیکس ماسوائے کسٹم ٹیکس کے وصول نہ کیا جائے اور اس سب کو گلگت بلتستان سے باہر چیک پوسٹ اور اپنے دفاتر قائم کریں۔‘

    محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اپنے گذشتہ سال کے نوٹیکفیشن پر عمل نہ کیا تو یہ احتجاج جاری رہے گا۔

    Gilgit Baltisatn

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Ismail

    تاجروں کے مطالبات کیا ہیں؟

    تاجروں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت گلگت بلتستان کے مستقل رہائشیوں کو سرحدی پاس سسٹم کے ذریعے اشیا کے تبادلے (بارٹر ٹریڈ) کی اجازت ہے۔

    اس معاہدے کے تحت، گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈرز کو روایتی بارٹر طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے پاکستان، چین سرحد کے پار آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہے۔

    گلگت بلتستان، ایک متنازع علاقہ اور جموں و کشمیر کے بڑے خطے کا حصہ ہونے کے ناتے، ایک منفرد قانونی اور آئینی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حیثیت کے تحت، گلگت بلتستان کے رہائشی وفاقی ٹیکسوں، بشمول سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، اور دیگر تمام وفاقی محصولات سے مستثنیٰ ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹی کو اس اسے استثنیٰ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ٹیکس نافذ نہ کیا جائے۔

    قانونی استثنا کے باوجود، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹمز کلیکٹوریٹ گلگت بلتستان کے تاجروں سے غیر قانونی طور پر اور زبردستی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، اور دیگر ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔

    Silk Route

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Ismail

    یہ عمل علاقے کی قانونی حیثیت اور اس کے عوام کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم ہے۔

    گلگت بلتستان کے تاجر پاکستانی عدالتوں، بشمول پاکستان کی سپریم کورٹ اور بین الاقوامی فورمز جیسے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں تاکہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف انصاف اور ریلیف حاصل کیا جا سکے۔

    گلگت بلتستان کی بارٹر ٹریڈ کمیونٹی کو سنگین عملی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں شامل ہیں: چھوٹے ترسیلات کے لیے رسمی انوائسز یا پیکنگ لسٹس کا فقدان۔

    چین کے شہر کاشغر سے متعدد چھوٹے تاجروں کی طرف سے اشیا کی اجتماعی خریداری۔ غیر معیاری دستاویزات کی وجہ سے ہراسانی یا جرمانے، حالانکہ دونوں ممالک کے ذریعے تسلیم شدہ بارٹر سسٹم کی غیر رسمی نوعیت ہے۔

    خصوصی تجارت سہولیاتی پیکج کا مطالبہ علاقے کی منفرد مشکلات اور خصوصی حیثیت کے پیش نظر، گلگت بلتستان کے تاجر درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں: تمام غیر قانونی ٹیکس وصولی سوائے قانونی کسٹمز ڈیوٹی کے کا فوری خاتمہ۔

    گلگت بلتستان کے چھوٹے تاجروں کے لیے خصوصی سہولیاتی پیکج۔ پاکستان اور چین کے درمیان بارٹر ٹریڈ معاہدے کا مکمل نفاذ۔ قومی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تاجروں کے حقوق کا تحفظ۔ چھوٹے ترسیلات اور مشترکہ خریداریوں کے لیے الگ میکانزم کا قیام۔

  7. پاکستانی وفود آج سے نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، لندن اور برسلز کا دورہ کریں گے: دفترِ خارجہ

    @ForeignOfficePk

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    متعدد سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اعلی سطح کے نمائندہ وفود آج سے امریکہ اور برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ وفود نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، لندن اور برسلز جائیں گے۔

    خیال رہے کہ گذشہ ماہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع اور ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں نے اعلیٰ سطح کے وفود کو عالمی سفارتی مہم پر روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق پاکستانی وفد ’عالمی سطح پر انڈیا کے پراپیگنڈے اور مذموم سازشوں کو بے نقاب کرے گا۔‘

    دوسری جانب اںڈیا کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سفارتی مہم چلانے کے لیے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پارلیمانی ارکان پر مشتمل سات مختلف وفود بھیجے ہیں۔

    پاکستان کا نو رکنی وفد کی قیادت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کر رہے ہیں جو پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کے ساتھ سنیچر کو نیویارک پہنچے تھے جبکہ وفد کے دیگر سات اراکین حنا ربانی کھر، جلیل عباس جیلانی، مصدق ملک، خرم دستگیر خان، فیصل سبزواری، بشریٰ انجم بٹ اور تہمینہ جنجوعہ اتوار کو نیویارک پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی کی سربراہی میں آج ماسکو کا دورہ کریں گے۔

    پاکستانی کے دفتر خارجہ کے مطابق ان دوروں کا مقصد انڈیا کی طرف سے حالیہ جارحیت پر پاکستانی مؤقف سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔

    ترجمان کے مطابق یہ وفود بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈیا کے لاپرواہی اور جارحانہ اقدامات کے باوجود پاکستان کی طرف سے ذمہ دارانہ اور تحمل کے مظاہرے اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو اجاگر کریں گے۔

    یہ وفود اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیں گے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازعات اور تصادم پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

    وفود جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی برادری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔

    ترجمان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے معمول کے کام کو فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت بھی وفود کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    یہ وفود بین الاقوامی اداروں کے رہنماؤں، اعلی عہدیداران، حکام، ارکان پارلیمنٹ، تھنک ٹینکس، میڈیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

  8. انڈیا دھمکی، غلط بیانی یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا: پاکستانی دفترِ خارجہ

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کی پیش رفت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ انڈیا دھمکیوں، غلط بیانی یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کر پائے گا۔

    سوموار کے روز وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری انڈیا کے جارحانہ رویے سے بخوبی واقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین قیادت کے حالیہ بیانات خطرناک ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو امن پر دشمنی کو ترجیح دیتی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر کا تنازع ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کی وکالت جاری رکھے گا۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن وہ کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سنجیدگی، بردباری اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کے حل کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے نہ کہ وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کا سہارا لیا جائے۔

  9. روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور، یوکرینی وفد استنبول پہنچ گیا

    سیراگن محل

    آج ترکی کے شہر استنبول میں یوکرین اور روس کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے۔

    یوکرین کے وزارتِ خارجہ کے مطابق یوکرینی وفد مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے۔

    گذشتہ ماہ، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ تاہم اس مذاکرات کے نتیجے میں یوکرین اور روس کے مابین جنگی قیدیوں کا تبادلہ ضرور ممکن ہوا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کہتے ہیں کہ ماسکو ’اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اگلی ممکنہ ملاقات بے نتیجہ رہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ استنبول میں ملاقات سے قبل روس نے مذاکرات کے لیے تجاویز فراہم نہیں کی ہیں۔

    مذاکرات سے محض ایک روز قبل کئیو نے روس کے متعدد فضائی اڈوں پر حملہ کر کے روسی فوج کے 40 جہازوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی خفیہ ایجنسی ایس بی یو کے مطابق سپائڈر ویب (مکڑی کا جالہ) نامی اس آپریشن میں روس کے 34 فیصد سٹریٹجک بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے ایک رات قبل روس نے یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا تھا۔

  10. روسی بمبار طیاروں کو نشانہ بنانے والے یوکرینی ڈرون ٹرکوں میں چھپا کر روس میں سمگل کیے گئے تھے: ذرائع

    اتوار کے روز یوکرین نے روس کے متعدد کے فضائی اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں روسی فوج کے 40 جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق روس کے خلاف حملے میں 472 ڈرونز، سات بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

    یوکرین کی خفیہ ایجنسی ایس بی یو کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کو سپائڈر ویب (مکڑی کا جالہ) کا نام دیا گیا تھا اور اس کی نگرانی خود صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کی ہے۔

    ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ڈیڑھ سال کی منصوبہ بندی کے بعد کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو لکڑی کے موبائل کیبنز میں چھپا کر ٹرکوں پر لاد کر روس میں سمگل کیے گئے تھے۔ حملے سے قبل ان ٹرکوں کو فضائی اڈوں کے نزدیک لے جایا گیا جہاں انھیں ریموٹ کی مدد سے لانچ کیا گیا۔

    بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈمز نے کئیو سے لکھتے ہوئے کہ، ’یوکرین نے پہلے بھی روس پر جرات مندانہ حملے کیے ہیں - لیکن یہ [حملہ] ایک الگ سطح پر ہے۔‘

    روس کی وزارت دفاع کے مطابق، یوکرین نے پانچ علاقوں میں ’دہشت گردانہ حملہ‘ کیے جنھیں ’پسپا کر دیا گیا۔‘ روس کا مزید کہنا ہے کہ اس حملے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

  11. روس کا یوکرین کے 162 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے 162 ڈرون مار گرائے ہیں۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق، ان میں سے ایک تہائی سے زائد سرحدی علاقے کرسک جبکہ 31 بیلگوروڈ اور 27 لپیٹسک میں گرائے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ یوکرین نے روسی فوج کے 40 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین نے روس کے متعدد فضائی اڈوں پر 40 یوکرینی حکام کے مطابق روس کے خلاف حملے میں 472 ڈرونز، سات بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

    یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں جاری تھیں اور دونوں ممالک ایک بار پھر ترکی کے شہر استنبول میں ملنے جا رہے ہیں۔

  12. بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان کا نو رکنی پارلیمانی وفد نیویارک پہنچ گیا

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو۔

    پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں نو رکنی پارلیمانی وفد نیویارک پہنچ گیا۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق، پاکستانی وفد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر سمیت سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل اراکین کے سفیروں سے ملاقاتیں کرے گا۔

    اس کے علاوہ پاکستانی وفد اقوام متحدہ میں او آئی سی کے ارکان کو بریفنگ بھی دے گا۔ بلاول بھٹو دیگر ارکان کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گے۔

    پاکستانی وفد میں بلاول بھٹو کے علاوہ ڈاکٹر مصدق ملک، انجینیئر خرم دستگیر، سینیٹر شیری رحمان، حنا ربانی کھر، فیصل سبزواری، تحمینہ جنجوعہ اور جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشہ ماہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ تنازع اور ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں نے اعلیٰ سطح کے وفود کو عالمی سفارتی مہم پر روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق پاکستانی وفد ’عالمی سطح پر انڈیا کے پراپیگنڈے اور مذموم سازشوں کو بے نقاب کرے گا۔‘

    دوسری جانب اںڈیا کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر سفارتی مہم چلانے کے لیے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پارلیمانی ارکان پر مشتمل سات مختلف وفود بھیجے ہیں۔

  13. کوئٹہ میں قبائلی عمائدین کا گرینڈ جرگہ: بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    عاصم منیر، شہباز گرینڈ جرگہ

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    اتوار کے روز وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوئٹہ کے زہری آڈیٹوریم میں قبائلی عمائدین کے گرینڈ جرگے سے مشترکہ طور پر خطاب کیا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اس جرگے کا اہتمام قبائلی قیادت کے ساتھ بات چیت اور بلوچستان میں سکیورٹی کی تبدیل ہوتی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے کیا گیا تھا۔

    جرگے سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ امن کے دشمنوں کو پاکستان کے اندر کام کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی مذموم کوششوں کو قوم کے ساتھ مل کر ناکام بنائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور پاکستان کا مستقبل ایک مستحکم اور خوشحال بلوچستان سے وابستہ ہے۔

    وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انڈیا کے حمایت یافتہ شدت پسند گروہ مقامی لوگوں کی حمایت چاہتے ہیں جس سے انھیں انکار کیا جانا چاہیے۔

    عمائدین کی قیادت اور تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کو یقینی بنانے کی مسلسل ضرورت کا اعادہ کیا کہ شدت پسندوں کو معاشرے میں جگہ نہ ملے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن کے دشمنوں کو پاکستان کے اندر کام کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

  14. امریکہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے ہونے والی ریلی پر حملہ، آٹھ افراد زخمی

    کولوراڈو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کی ریاست کولوراڈو میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے منعقدہ ریلی پر ایک شخص نے پیٹرول بم سے حملہ کر دیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کولوراڈو کے شہر ہولڈر میں ایک تنظیم کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک واک منعقد کی گئی تھی جس کے دوران ایک شخص نے پیٹرول بموں سے حملہ کر دیا۔

    حملہ آور کی شناخت 45 سالہ محمد صابری سلیمان کے نام سے ہوئی ہے۔

    امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کو دہشت گردی کی مشتبہ کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

    ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ مارک مائیکلک کے مطابق مشتبہ شخص کو حملے کے دوران ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے بلند کرتے سنا گیا۔

    بولڈر کے پولیس چیف سٹیفن ریڈ فرن کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پیٹرول بم اور دیگر آلات سے لوگوں پر حملہ کیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ متاثرین کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں کی عمریں 67 سے 88 سال ہیں۔

    پولیس کے مطابق اس حملہ آور بھی زخمی ہے جسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • وکرین نے دعوی کیا ہے کہ اس نے روس پر ایک بڑا ڈرون حملہ کیا ہے جس میں اس کے فوجی اڈوں پر 40 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس حملے کو روس کے خلاف یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    • سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی جماعت کو ملک گیر عوامی احتجاج شروع کرنے کا حکم دیا ہے جس کی قیادت جیل سے وہ خود کریں گے۔
    • پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کرائسس مینجمنٹ کا نظام نہ ہونے کے باعث شاید مستقبل میں بین الاقوامی طاقتیں بروقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان محاذ آرائی نہ رکوا پائیں.
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔