وینزویلا اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 17 سال بعد قونصلر تعلقات بحال
وینزویلا اور اسرائیل نے تقریباً 17 سال بعد قونصلر تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیل کے متعلق وینزویلا کے مؤقف میں یہ نمایاں تبدیلی امریکہ کی جانب سے جنوری میں ملک کے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
نکولس مادورو کی گرفتارے کے بعد سے ڈیلسی روڈریگیز ملک کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کاراکاس کی حکومت پر اپنی پالیسیوں کو واشنگٹن کے مؤقف کے زیادہ قریب لانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
جون میں وینزویلا میں آنے والے زلزلوں کے بعد اسرائیل نے وینزویلا کو انسانی امداد بھی فراہم کی تھی۔ ان زلزلوں میں 6,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وینزویلا کی یہودی برادری نے دونوں ملکوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور پل کا کردار ادا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق کاراکاس نے 17 برس قبل غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے۔
نکولس مادورو کے دورِ حکومت میں وینزویلا اسرائیل کا سخت مخالف رہا، جبکہ اس نے خطے میں اسرائیل کے حریف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے تھے۔