آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے، ان کی گرفتاری کی بات کرنا کم ظرفی ہے: علی امین گنڈاپور

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بچے صرف اپنے والد سے ملنے آ رہے ہیں، ان کی گرفتاری کی بات شرمناک ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 36 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
  • روس سے ناخوش ٹرمپ عسکری سامان یوکرین بھیجیں گے: ’پوتن اچھی باتیں کرتے ہیں اور پھر بم برسا دیتے ہیں،‘ ٹرمپ
  • پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پانچ اراکینِ قومی اسمبلی کو جماعت سے نکال دیا
  • پشاور میں جے یو آئی ف کے زیر اہتمام جرگہ، قبائل میں دہشت گردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار

لائیو کوریج

  1. احتجاجی تحریک سے متعلق اعلان عمران خان خود کریں گے: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک سے متعلق اعلان عمران خان خود کریں گے۔

    انھوں نے یہ بات لاہور روانگی کے موقع پر کہی۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں ممکن نہیں ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے پنجاب حکومت کو خط لکھ کر بتا دیا ہے کہ ہم آج لاہور میں پارٹی اراکین سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں جہاں ہماری میٹنگ ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہمارے ایم پی ایز معطل کیے گئے ہیں، ان سے یکجہتی کے لیے لاہور جا رہے ہیں۔

    خیال رہے 27 جون کو پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے صوبائی اراکین نے احتجاج کیا تھا جس پر سپیکر نے پی ٹی آئی کے 26 صوبائی اراکین کو 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا تھا۔

    جس کے بعد آج پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت لاہور کی جانب رواں دواں ہے جس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور بھی شامل ہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے جہلم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں پارلیمینٹیرینز کی میٹنگ ہے جس میں احتجاجی تحریک کے متعلق لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ حالات کے مطابق لائحہ عمل بنائیں گے۔

    ادھر اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ لاہور میں قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا اسمبلی، پنجاب کی پارلیمنٹری پارٹی کا اجلاس منعقد ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج ہماری تحریک کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہمارے 26 ارکان کو معطل کیا گیا اور ہزاروں کارکنان گرفتار ہیں جبکہ ہزاروں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

  2. دس مئی کو ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دیا: وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دس مئی کو ہم نے دشمن کو بھرپور جواب دیا اور ہمارا بھرپور جواب قوم کے وسیع اتحاد کا نتیجہ تھا۔

    وزیراعظم انٹرن شپ پروگرام اڑان پاکستان سمر سکالرز کے لیے منتخب طلبا سے خطاب کر رہے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا مگر اس واقعے کے بعد پاکستان پر جارحیت کی گئی جس میں 55 شہری ہلاک ہوئے۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی تھی۔ 2023 میں اکثریت کا خیال تھا کہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا لیکن مجھے یقین تھا کہ ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت مہنگائی کی شرح 38 فیصد اور پالیسی ریٹ 22 فیصد تک تھا اور ہمارا پالیسی ریٹ کم ہو کر 11 فیصد تک آ گیا۔ آئی ایم ایف سے معاملات طے پائے اور ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے۔

  3. پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 19 شکایات خارج کر دیں

    سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ججز کے خلاف 24 شکایات کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 19 خارج کر دی گئیں۔

    یہ اجلاس پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس جنید غفار نے بھی شرکت کی جبکہ جسٹس منصور علی شاہ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

    اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل سیکرٹریٹ سروس رولز 2025 کا مسودہ منظور کر لیا گیا۔ ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر مزید قانونی غور کی ضرورت کا اظہار کیا گیا جبکہ انکوائری کے طریقہ کار پر بھی مزید مشاورت پر اتفاق کیا گیا۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ کونسل نے آرٹیکل 209 کے تحت دائر 24 شکایات کا جائزہ لیا اور 19 شکایات کو متفقہ طور پر خارج کر دیا گیا جبکہ 5 شکایات کو موخر کیا گیا۔

  4. مظفرآباد کے نواحی علاقے میں مردہ تیندوا برآمد، محکمہ وائلڈ لائف کی تحقیقات شروع, نصیر چوہدری/ صحافی، مظفرآباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مرکزی شہر مظفرآباد کے نواحی علاقے میں ایک تیندوا مردہ حالت میں برآمد ہوا ہے۔ مردہ تیندوا روڈ کے قریب موجود تھا اور مقامی افراد کی اطلاع پر محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔

    محکمۂ وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے مردہ تیندوے کو مزید تحقیقات کے لیے پہٹکہ سینٹر منتقل کیا ہے۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالشکور نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج صبح ایک مقامی شخص کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بہٹکہ کے گاؤں بٹنگی کے مقام پر سڑک کے قریب ایک تیندوا مردہ حالت میں پڑا ہے۔

    ’اس اطلاع کے بعد محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔‘

    عبدالشکور نے مزید بتایا کہ ’تیندوے کو پہٹکہ سینٹر منتقل کرنے کے بعد اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر اس کی موت کے حقیقی سبب کا پتہ چل سکے گا۔‘

  5. کیا چین ایران کو میزائل اور لڑاکا طیارے فروخت کر رہا ہے؟

    اسرائیل میں چینی سفارت خانے نے 8 جولائی کو غیر ملکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تردید کی کہ ایران نے حال ہی میں چین سے ایچ کیو۔9B طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹم خریدا ہے۔

    لندن سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کی خبروں اور معلوماتی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے 7 جولائی کو ایک نامعلوم اور ’باخبر‘ عرب اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ 24 جون کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد چینی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم ایران کو فراہم کیے گئے تھے، اور یہ کہ امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کو ’فضائی دفاع کی کوششوں سے آگاہ‘ کیا گیا تھا۔

    رپورٹ کے جواب میں تل ابیب میں چینی سفارت خانے نے اسرائیل ہیوم اخبار کو بتایا کہ رپورٹ کا مواد ’غلط‘ ہے۔

    سفارت خانے نے اس بات پر زور دیا کہ ’چین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کی ترسیل کے نظام کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

    اسرائیل ہیوم نے چینی سفارتخانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’چین کبھی بھی جنگ میں مصروف ممالک کو ہتھیار برآمد نہیں کرتا اور دوہری استعمال کی اشیا کی برآمد پر سخت کنٹرول کا استعمال کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر چین فوجی سامان کی برآمد میں محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپناتا ہے۔‘

    تاہم، نہ تو چینی سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ اور نہ ہی چینی سرکاری میڈیا نے یہ بیان شائع کیا ہے۔

    ایران کو J-10C لڑاکا طیاروں کی فروخت کا امکان؟

    میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں زیادہ توجہ اس پہلو پر دی گئی کہ ایران نے چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ یہ وہی طیارے ہیں جنھوں نے پاکستان اور انڈیا کی مئی میں ہونے والی لڑائی میں عالمی توجہ حاصل کی۔

    ہانگ کانگ کے اخبار سنگ تاؤ ڈیلی نے 27 جون کو اپنی ایک رپورٹ میں اس معاملے پر تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ چین اور ایران گذشتہ دو دہائیوں میں متعدد مواقع پر اس معاہدے پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    رپورٹ میں روسی اخبار کومرسنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تہران 2015 میں 150 جے 10C لڑاکا طیاروں کی خریداری کے قریب پہنچ گیا تھا، لیکن یہ معاہدہ اس لیے ناکام ہو گیا کیونکہ چین نے تیل یا قدرتی گیس کی ادائیگی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور ایران کو بھی غیر ملکی کرنسی کی کمی اور اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کی پابندی کا سامنا تھا۔

    اگرچہ پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد 2020 میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے، لیکن انھی وجوہات کی بنا پر وہ کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

    تائیوان کے میڈیا آؤٹ لیٹ نیو ٹاک نے 5 جولائی کو یہ بھی خبر دی کہ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے 26 جون کو چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر J-10C لڑاکا طیاروں کی خریداری کا مطالبہ کیا۔

    8 جولائی کو، چین کی وزارت دفاع نے ’کچھ ممالک‘ کے چین کے ساتھ J-10 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کے بارے میں سوالات کا عمومی جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ’فوجی مصنوعات کی برآمد میں محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپناتا ہے اور دوست ممالک کے ساتھ چینی سازوسامان کی تیاری میں اپنی کامیابیوں کا اشتراک کرنے اور علاقائی اور عالمی امن و استحکام میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    ایران کی طرف سے J-10 لڑاکا طیاروں کی درآمد کی خواہش کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات کے علاوہ، انڈونیشیا ان جنگجوؤں کی خریداری کے لیے چین کے ساتھ بات چیت بھی کر رہا ہے۔

  6. غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ناکامی کے قریب، اسرائیل سنجیدہ ہی نہیں: فلسطینی حکام, رشدی ابوالعوف، بی بی سی نیوز، غزہ

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان نئی جنگ بنددی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی سے متعلق ہونے والے مذاکرات کی کامیابی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔

    ایک سینیئر فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دورہ امریکہ کے لیے وقت لیا اور یوں جان بوجھ کر اس سلسلے کو روک دیا اور دوحہ میں جو اسرائیلی وفد بھیجا گیا ہے اس کے پاس متنازع امور پر فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔

    ان نکات میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور انسانی امداد تقسیم کرنے جیسے امور شامل ہیں۔

    جمعرات کو امریکہ سے واپسی پر نتن یاہو نے مثبت لہجے میں بات کی اور کہا تھا کہ وہ ’چند دنوں میں‘ معاہدے کی امید رکھتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مجوزہ ڈیل کے تحت حماس 20 زندہ یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کردے گا اور 60 دنوں تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران 30 مردہ یرغمالیوں میں سے نصف سے زائد کی لاشیں واپس کرے گا۔

    گذشتہ اتوار سے اسرائیل اور حماس کے وفود نے دوحہ میں الگ الگ مقامات پر بالواسطہ مذاکرات کے آٹھ ادوار میں شرکت کی۔

    انھیں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور مصری انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے معاونت فراہم کی اور امریکی ایلچی بریٹ میک گرک بھی ان مذاکرات کا حصہ بنے۔

    ان مذاکرات کے ثالثوں نے حماس کے وفد اور اسرائیلی وفد کے درمیان درجنوں زبانی اور تحریری پیغامات بھیجے ہیں، جن میں فوجی، سکیورٹی اور سیاسی حکام شامل ہیں۔

    لیکن جمعے کی رات کو مذاکرات سے متعلق تفصیلات جاننے والے فلسطینی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مذاکرات اب ناکامی کے قریب پہنچ چکے ہیں کیونکہ فریقین کی کئی متنازع امور پر اختلافات برقرار ہیں۔

    ان حکام نے بتایا کہ ان مذاکرات میں دو مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی: غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کا طریقہ کار اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی حد یعنی کتنی تعداد میں انخلا ہوگا۔

    حماس کا اصرار ہے کہ انسانی امداد غزہ میں داخل ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ کی ایجنسیز اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جانی چاہیے۔

    اسرائیل متنازع اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ میکنزم۔۔غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے امداد کی تقسیم پر زور دے رہا ہے۔

    اس عمل میں شامل ثالثوں کے مطابق اس مسئلے پر تقسیم کو ختم کرنے کے لیے کچھ محدود پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

    دوسرا بڑا اہم نکتہ اسرائیلی انخلا کی حد کا تعین کرنا ہے۔

    بات چیت کے پانچویں دور کے دوران اسرائیلی مذاکرات کاروں نے مبینہ طور پر ثالثوں کو ایک تحریری پیغام دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ کے اندر ایک محدود ’بفر زون‘ برقرار رکھے گا جو ایک کلومیٹر سے 1.5 کلومیٹر تک کے درمیان کا علاقہ ہوگا۔

    ایک فلسطینی عہدیدار جنھوں نے مذاکرات کے کم از کم دو ادوار میں شرکت کی ہے کا کہنا ہے کہ حماس اس تجویز کو معاہدے کے لیے ممکنہ نقطہ آغاز کے طور پر دیکھا۔ تاہم، جب حماس نے درخواست کر کے نقشہ لیا تو دیکھا کہ اس میں اسرائیل کے پہلے پیغام سے کہیں زیادہ علاقہ تھا یعنی مجوزہ انخلا کے بعد بفر زون تین کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اسرائیلی فوج کی موجودگی بھی زیادہ علاقوں میں دکھائی گئی ہے۔

    حماس نے اس نقشے کو بدنیتی پر مبنی چال قرار دیا، جس سے فریقین کے درمیان اعتماد کو مزید نقصان پہنچا۔ فلسطینی حکام نے یہ کہا کہ اسرائیل سرے سے مذاکرات میں سنجیدہ ہی نہیں تھا۔

  7. امریکی عدالت نے حکومت کو نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز سے اعتراف جرم کا معاہدہ کرنے سے روک دیا

    واشنگٹن کی ایک عدالت نے حکومت کو نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز سے اعتراف جرم کا معاہدہ کرنے سے روک دیا۔

    گذشتہ برس موسم گرما میں خالد شیخ محمد اور دو دیگر ملزمان نے امریکی حکومت سے ایک معاہدے کے تحت اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کا اعتراف کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے باعث شاید یہ مبینہ ماسٹر مائنڈ سزائے موت سے بچ جاتے اور اس کے بجائے انھیں عمرقید کی سزا سُنا دی جاتی۔

    تاہم اس کے بعد عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں امریکی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان ملزمان کی درخواستیں (پری ٹرائل معاہدے کے تحت دائر کردہ درخواستیں) منظور کر لی گئیں تو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

    تین ججز پر مشتمل پینل نے کہا کہ انھیں اس کیس پر غور کرنے اور کارروائی کو روکنے کے لیے مزید وقت درکار ہے، تاہم انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تاخیر کو ’کسی بھی صورت مقدمے کی اہلیت کے حوالے سے فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔‘

    جمعے کے روز عدالت نے اس معاہدے کو دو ایک ووٹ سے مسترد کر دیا۔

    بینچ میں شامل تیسرے جج نے رابرٹ ولکنز نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ خالد شیخ محمد 2003 سے گوانتاناموبے میں قید ہیں۔

    وہ 11 ستمبر 2001 کی تاریخ اور منگل کا دن تھا جب خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے انھیں نیویارک اور واشنگٹن میں اہم مقامات سے ٹکرانے کے منصوبے پر عمل کیا۔

    ان میں سے تین طیارے تو اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے جبکہ ایک ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گر کر تباہ ہو گیا۔

    ان حملوں کو نائن الیون حملوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان میں تین ہزار کے قریب افراد مارے گئے اور یہ حملے نہ صرف امریکیوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے 21ویں صدی کے اذیت ناک ترین واقعات میں ایک قرار دیے جاتے ہیں۔

    امریکی عدالت نے جس معاہدے کو کالعدم قرار دیا ہے اس کے تحت متاثرین کے اہل خانہ کو خالد شیخ محدم سے سوالات کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور پھر وہ ایمانداری سے ان جواب دینے کا پابند تھا۔

    9/11 کے متاثرین کے اہل خانہ کے اس معاہدے پر منقسم تھے۔ کچھ لوگوں نے اس مقدمے کو انصاف اور سچائی کے راستے کی جانب ایک قدم قرار دیا جب کہ دوسروں نے اسے ایک تکلیف دہ مقدمے کے خاتمے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

    خالد شیخ محمد گرفتاری کے بعد سے اس متنازع کیس میں مرکزی شخصیت رہے ہیں۔

    پری ٹرائل معاہدے میں کیا شرائط طے پائی تھیں؟

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ملزمان کے ساتھ معاہدے کا پہلی دفعہ ذکر پراسیکیوٹرز یعنی استغاثہ کی جانب سے نائن الیون حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے خط میں کیا گیا تھا۔

    چیف پراسیکیوٹر ایرون رَگ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’سزائے موت کو ممکنہ سزا کے طور پر ہٹانے کے بدلے میں تینوں ملزمان نے چارج شیٹ میں درج 2,976 افراد کے قتل سمیت تمام الزامات کا اعتراف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

    خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ اس معاہدے کی شرائط کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تھیں لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس ڈیل کے نتیجے میں وہ سزائے موت کے مقدمے سے بچ سکتے تھے۔

    خالد شیخ محمد کی قانونی ٹیم نے تصدیق کی کہ انھوں نے اپنے اوپر عائد کردہ تمام الزامات کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    خالد شیخ محمد کون ہیں؟

    خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا۔

    خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی۔

    سنہ 1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے ’نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ میں داخلہ لیا اور وہاں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کا ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔

    اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انھیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ’ملاز‘ کہتے تھے۔ دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جا چکے تھے۔

    سنہ 1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف ’جنگِ جاجی‘ میں شریک ہوئے۔

    نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے۔ رمزی یوسف نے سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا، لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔

    ٹام میک ملن اپنی کتاب ’فلائٹ 93: دی سٹوری آف دی آفٹرمیتھ اینڈ دی لیگیسی آف امریکن کریج آن 9/11‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔‘

    افغانستان میں تربیتی کیمپ میں اپنے تجربے اور رابطوں کی بدولت رمزی یوسف جعلی پاسپورٹ کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کی ایک ٹیم بنائی تھی اور بموں سے لدی کرائے کی وین ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نارتھ ٹاور کے گیراج میں بھجوا دی۔ اس دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے۔ عمارت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا یوسف نے سوچا تھا لیکن وہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر دہشت پھیلانے میں کامیاب رہے تھے۔

    یہیں سے دنیا میں انتہا پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران رمزی یوسف امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

  8. امریکہ نے ایرانی میزائل حملے میں قطر میں واقع العدید ایئربیس پر ’معمولی نقصان‘ کی تصدیق کر دی, بی بی سی ویریفائی فارسی

    امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ مہینے ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے قطر میں امریکی العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا لیکن اس سے صرف ’معمولی نقصان‘ ہی ہوا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے بی بی سی فارسی کی ویریفائی سروس کو بتایا کہ ’23 جون کو امریکی اور قطری دفاعی فضائی نظام نے باقی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا تھا لیکن ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس حملے سے بیس کے ساز و سامان اور سٹرکچر کو معمولی نقصان پہنچا تھا اور اس میں کوئی زخمی بھی نہیں ہوا تھا۔‘

    ’العدید ایئربیس مکمل طور پر کام کر رہی ہے اور قطری پارٹنرز کے ساتھ مل کر خطے میں سکیورٹی اور استحکام فراہم کرنے کا مشن جاری رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے فیکٹ چیکنگ ڈپارٹمنٹ نے حملے سے پہلے اور بعد میں لی گئی العدید ایئربیس کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔ ان تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایئربیس پر ایرانی میزائل حملے میں ایک اینٹینے کا کور تباہ ہو گیا ہے اور اس کے برابر میں واقع عمارتوں کو نقصان ہوا ہے۔

    انٹینے کو ڈھانپنے کے لیے ایک گنبد نما کور بنایا جاتا ہے تاکہ اسے خراب موسم میں محفوظ رکھا جا سکے۔

    عسکری امور کے امریکی ماہر ٹریور بیل کہتے ہیں کہ ’انٹینے کے کور پر نظر آنے والا نقصان ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کے سبب ہوا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ سٹرکچر (انٹینے کا کور) پوری طرح تباہ نہیں ہوا تب بھی اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے دائیں طرف واقع عمارت کو بھی نقصان ہوا ہے، تاہم یہ انٹینے کے کور سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہے۔‘

    ’انٹینے کے کور کے نیچے حساس ساز و سامان بھی ہوتا ہے۔‘

    ایرانی حملے سے قبل لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں العدید ایئربیس میں کوئی نقصان نظر نہیں آیا تھا۔ جبکہ 26 جنوری کو پلینٹ لیب کی جانب سے جاری کی گئی پہلی تصویر میں انٹینے کے کور کو مکمل طور پر تباہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ مہینے ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ایرانی حملوں کو ’کمزور‘ قرار دیتے ہوئے حملے کی پیشگی اطلاع دینے ہر ایران کا ’شکریہ‘ ادا کیا تھا۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی ایئربیس پر حملے کو آپریشن ’بشارت الفتح‘ کا نام دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک ’طاقتور میزائل حملہ تھا۔‘

    23 جون کو ایرانی حملے کی رات قطر کے دارالحکومت دوحہ اور اس کے نواحی علاقے لوسیل میں نہ صرف دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں بلکہ آسمانوں پر میزائلوں کو بھی دیکھا گیا تھا۔

  9. ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین ’شدید علالت‘ کے باعث لندن کے ہسپتال منتقل

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو ’شدید علالت‘ کی حالت میں لندن کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایم کیوایم کے لندن میں مقیم الطاف حسین کے ساتھی قاسم علی رضا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ملکی و بین الاقوامی صورتحال، لندن میں متعدد مقدمات، شدید مالی مشکلات کی وجہ سے طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔‘

    خیال رہے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ کے عرصے سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں۔ سنہ 2016 میں کراچی میں ان کی ایک متنازع تقریر کے بعد پاکستان میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اپنی جماعت کو الطاف حسین سے علیحدہ کر لیا تھا۔

    قاسم علی رضا نے ایم کیو ایم کے بانی کی صحت کی بارے میں تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’آج لندن کے مقامی ہسپتال میں ڈاکٹروں نے الطاف حسین کا چیک اپ کیا اور ٹیسٹ تجویز کیے جن میں ای سی جی، بلڈ ٹیسٹ، سی ٹی سکیں، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ شامل ہیں۔‘

    ان کے مطابق ڈاکٹروں نے انھیں خون بھی چڑھایا ہے۔

    ایم کیو ایم پر مخالفین پر تشدد کے الزامات لگتے رہے ہیں اور سنہ 1992، سنہ 1994 اور پھر سنہ 2016 کے بعد میں پارٹی کے خلاف سکیورٹی اداروں نے آپریشن بھی کیے۔

    الطاف حسین پر اگست 2016 میں ایک تقریر کے دوران اپنے کارکنان کو دہشتگردی پر اُکسانے کے الزام میں برطانوی عدالت میں مقدمے کا سامنے بھی کرنا پڑا تھا۔

    تاہم لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ کی 12 رُکنی جیوری نے فروری 2022 میں انھِیں ان الزامات سے بری کر دیا تھا۔

    اس سے قبل لندن میں برطانوی پولیس ایم کیو ایم کے بانی کو دو مرتبہ مختلف الزامات پر حراست میں بھی رکھ چکی ہے۔

  10. ایران ممکنہ طور پر کچھ افزودہ یورینیئم دوبارہ حاصل کر لے گا تاہم ایسی کسی کوشش کا پتہ بھی لگ جائے گا: سینیئر اسرائیلی اہلکار

    اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران ممکنہ طور پر کچھ افزودہ یورینیئم دوبارہ حاصل کر لے گا تاہم ایسی کسی کوشش کا پتہ لگا لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے جون میں ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر انھیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یورینیئم افزودگی پر امن مقاصد کے لیے کر رہا ہے۔

    واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار (جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) نے کہا کہ انٹیلیجنس معلومات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ایران کی افزودہ یورینیئم کا زیادہ تر حصہ اصفہان میں زیر زمین موجود ہے، جس کو 22 جون کو ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کے دوران آبدوز سے لانچ کیے جانے والے کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    تاہم اہلکار نے ان جائزوں پر کوئی تشویش ظاہر نہیں کی اور ان کا خیال ہے کہ اگر ایران افزودہ یورینیئم دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا پتہ چل جائے گا۔

  11. ’جب پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تو کیا کسی ایک ملک نے بھی مدد کی‘: انڈین پنجاب کے وزیراعلی کی مودی پر تنقید

    انڈین وزارت داخلہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت من کے وزیراعظم مودی کے حوالے سے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت من نے مودی کے بیرون ممالک دوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس دوسرے ممالک کے دورے کرنے کا وقت تو ہے لیکن وہ ایک ارب 40 کروڑ انڈین عوام کے خدشات کو دور کرنے میں ’ناکام‘ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انڈین وزیر اعظم حال ہی ہیں گھانا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، ارجنٹائن، برازیل اور نمیبیا کے دورے سے واپس آئے ہیں۔

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ریمارکس پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ ’بھگونت منت وزیر اعلیٰ بن جانے کے باوجود کامیڈین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘ بی جے پی نے بھگونت من سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

    انڈین وزارت داخلہ اور بی جے پی کے ردعمل کے بعد بھگونت من نے اسمبلی میں کہا کہ ’کیا میں وزیراعظم سے ان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں پوچھنے کا حق نہیں رکھتا۔ وہ کن ممالک کا دورہ کرتے ہیں اور کیا یہ ممالک بعد میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تو کیا کسی ایک ملک نے بھی آپ کی مدد کی۔ تو پھر آپ دنیا بھر کے چکر کیوں لگا رہے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے پہلے کانگریس نے بھی وزیر اعظم مودی کے غیر ملکی دوروں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

  12. ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈیا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا: انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول

    انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈیا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    جمعے کو ڈوول نے کہا ، ’مجھے ایک تصویر بھی دکھائیں جس میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈیا کو ہونے والے کسی نقصان کو دکھایا گیا ہو۔‘

    آئی آئی ٹی مدراس کے 62 ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے اجیت ڈوول نے آپریشن سندور کے حوالے سے کوریج کے معاملے میں غیر ملکی میڈیا کی ’تعصب‘ کی بات کی۔

    اس آپریشن میں استعمال ہونے والے ملکی سطح پر تیار ہتھیاروں کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’ہمیں ملکی ہتھیاروں کے استعمال پر فخر ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ اس آپریشن میں کچھ بہترین نظاموں نے کام کیا۔ براہموس ہو، انٹیگریٹڈ ایئر کنٹرول اور کمانڈ سسٹمز ہوں یا ریڈارز۔‘

    ڈوول نے یہ بھی کہا، ’ہم نے پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔‘

    آپریشن سندورکے حوالے سے غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’غیر ملکی میڈیا کہتا ہے کہ پاکستان نے یہ کیا، وہ کیا، مجھے ایک ایسی تصویر بھی دکھائیں جس میں انڈیا کو ہونے والے نقصان کو دکھایا گیا ہو، چاہے شیشہ بھی ٹوٹا ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا یہ آپریشن پاکستان میں ’صرف سرحدی علاقوں میں ہی نہیں تھا۔ ہمارا کوئی حملہ نہیں چُوکا‘۔ یہ اس حد تک درست تھا کہ ہم جانتے تھے کہ کون کہاں ہے۔ پورا آپریشن پانچ منٹ کم ایک پر شروع ہوا اور ایک بج کر اٹھائیس منٹ پر ختم ہوا۔‘

  13. ژوب: بلوچستان میں اغوا اور قتل ہونے والے مسافروں کی لاشیں پنجاب حکام کے حوالے

    بلوچستان کے ضلع ژوب میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پنجاب کے 9 مسافروں کی لاشیں پنجاب کے حکام کے حوالے کردی گئی ہیں۔

    حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے ان میں دو بھائی بھی شامل تھے جو کہ اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے کوئٹہ سے دنیا پور جارہے تھے۔

    اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مارے جانے والے ان افراد کو صبح ڈیرہ غازی خان کے سرحدی علاقے میں پنجاب کے حکام کے حوالے کردیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ گزشتہ روز شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب کوئٹہ سے پنجاب جانے والے دو مسافر بسوں کو ضلع ژوب کے علاقے سرہ ڈاکئی میں نامعلوم مسلح افراد نے روکا تھا جن میں سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو اتارا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ 9 افراد کو بسوں سے اتارنے کے بعد ان کو ایک نالے میں لے جایا گیا تھا جہاں سب کو گولیاں ماری گئی تھیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ گولیاں ان کے جسم کے مختلف حصوں میں لگی تھیں۔ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان میں دو سگے بھائی عثمان نذیر اور جابر نذیر بھی شامل تھے۔

    ان کے تیسرے بھائی صابر نذیر کی سماجی رابطوں کی میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک وڈیو کے مطابق ان کا والد فوت ہوگئے تھے دونوں بھائیوں نے صبح ان کے جنازے میں شرکت کے لیے پہنچنا تھا۔

    اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دو ویڈیوز کے مطابق ان بسوں میں سے ایک کا ڈرائیور یہ بتا رہا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے شاہراہ کو بند کر رکھا تھا۔

    ڈرائیور کے مطابق مسلح افراد نے ایک بس سے دو مسافروں کو جبکہ دوسرے بس سے 7 مسافروں کو اتارکر لے گئے۔

    ایک اور ویڈیو میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر بتا رہا ہے کہ مسلح افراد نے بس میں مسافروں کی شناختی کارڈ باری باری دیکھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بس کی فرنٹ کی سیٹوں پر بیٹھے تھے۔ مسلح افراد نے میرا شناختی کارڈ کو دیکھا لیکن مجھے چھوڑ دیا۔‘

    اس مسافر نے بتایا کہ مسافروں کو اتارنے کے بعد انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی لیکن انھیں معلوم نہیں کہ کیا ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’روڈ کے کھلنے کے بعد جب ہماری بس روانہ ہوئی تو وہ لوگ بس میں نہیں تھے جن کو مسلح افراد نے اتارا تھا۔‘

    اسسٹنٹ کمشنر ژوب نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ دونوں ویڈیوز انہی بسوں کی ہیں جن سے مسافروں کو اتارا گیا تھا۔

    درایں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سرڈھاکئی میں نہتے مسافروں کا قتل کھلی دہشتگردی ہے اور پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے، جواب سخت ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے لوگ انسان نہیں بلکہ انھوں نے بزدل درندے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ بلوچستان کی مٹی میں بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست ان قاتلوں کو زمین کے اندر بھی چھپنے نہیں دے گی۔ دہشتگردی کے ہر منصوبے کو طاقت، عزم اور اتحاد سے کچلیں گے

  14. بریکنگ, امریکی صدر کا یکم اگست سے کینیڈین مصنوعات پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یکم اگست سے کینیڈین مصنوعات پر 35 فیصد محصولات عائد کریں گے۔

    یہ بات ایسے وقت کہی گئی ہے جب دونوں ممالک کے لیے نئے تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خود ساختہ ڈیڈ لائن میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔

    یہ اعلان ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شائع ہونے والے ایک خط کی شکل میں سامنے آیا ہے، جس میں زیادہ تر تجارتی شراکت داروں پر 15 فیصد یا 20 فیصد کے اضافی محصولات کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کا تحفظ جاری رکھے گی۔

    ٹرمپ کا یہ خط ان 20 خطوں میں شامل ہے جو امریکی صدر نے رواں ہفتے جاپان، جنوبی کوریا اور سری لنکا سمیت امریکی تجارتی شراکت داروں کو ارسال کیے ہیں۔

    کینیڈا کے خط کی طرح ٹرمپ نے یکم اگست تک تجارتی شراکت داروں پر ان محصولات کو نافذ کرنے کا عہد کیا ہے۔

    کینیڈا کی کچھ مصنوعات پر پہلے ہی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جا چکا ہے اور ٹرمپ کی جانب سے سٹیل، ایلومینیم اور آٹو ٹیرف سے بھی ملک کو شدید دھچکا لگا ہے، حالانکہ شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت کچھ اشیا کے لیے استثنیٰ موجود ہے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا محصولات کی تازہ ترین دھمکی کا اطلاق کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو معاہدے (سی یو ایس ایم اے) کے تحت آنے والی اشیا پر بھی ہوگا یا نہیں۔

    ٹرمپ نے ایلومینیم اور سٹیل کی درآمدات پر عالمی سطح پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جبکہ امریکہ میں نہ بننے والی تمام کاروں اور ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔

    انھوں نے حال ہی میں تانبے کی درآمد پر 50 فیصد ٹیرف کا بھی اعلان کیا ہے جس کا اطلاق اگلے ماہ سے ہوگا۔

    کینیڈا اپنی تقریبا تین چوتھائی مصنوعات امریکہ کو فروخت کرتا ہے، اور ایک آٹو مینوفیکچرنگ مرکز اور دھاتوں کا ایک بڑا سپلائر ہے، جس کی وجہ سے امریکی محصولات خاص طور پر ان شعبوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    رمپ کے خط میں کہا گیا ہے کہ 35 فیصد محصولات ان شعبوں سے متعلق محصولات سے الگ ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اگر کینیڈا یا آپ کے ملک کے اندر کمپنیاں امریکہ کے اندر مصنوعات بنانے یا تیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اس پر کوئی ٹیرف نہیں ہوگا۔‘ انھوں نے محصولات کو امریکہ میں فینٹانل کے بہاؤ کو روکنے میں ’کینیڈا کی ناکامی‘ کے ساتھ ساتھ امریکی ڈیری فارمرز پر کینیڈا کے موجودہ محصولات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارے سے بھی منسلک کیا۔

    ’اگر کینیڈا فینٹانل کے بہاؤ کو روکنے کے لیے میرے ساتھ کام کرتا ہے تو ہم شاید اس خط میں ایڈجسٹمنٹ پر غور کریں گے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ محصولات آپ کے ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات پر منحصر ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ اس سے قبل میکسیکو کے ساتھ کینیڈا پر بھی الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ’بڑی تعداد میں لوگوں کو امریکہ آنے اور فینٹانل کی ترسیل کی اجازت دے رہا ہے۔‘

  15. کینیڈا میں کامیڈین کپل شرما کے کیفے پر فائرنگ

    کینیڈا کے شہر سرے میں کامیڈین کپل شرما کے کیفے میں فائرنگ کی گئی ہے تاہم واقعے میں کوئی جانی قنصان نہیں ہوا۔

    سی بی سی نیوز نے سرے پولیس سروس (ایس پی ایس) کے حوالے سے بتایا کہ ’جمعرات کی صبح نیوٹن کے علاقے میں 120 ویں سٹریٹ پر واقع ایک کیفے میں گولیاں چلائی گئیں۔ اس وقت عملہ کیفے کے اندر موجود تھا۔‘

    پولیس نے کہا کہ حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ تاہم کیفے کو نقصان پہنچا۔

    حملے کے بعد کھڑکیوں میں گولیوں کے نشانات دیکھے جا سکتے تھے۔

    سرے پولیس سروس نے کہا کہ پولیس دیگر واقعات اور ممکنہ محرکات سے تعلق کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    اس معاملے میں کپل شرما کے کیفے نے کہا ہے کہ ’حملہ دل دہلا دینے والا ہے، لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے۔‘

    ’ہم نے امید کر رہے تھے کہ اس کیفے میں دوستانہ گپ شپ سے گرمجوشی اور خوشی لائیں گے۔ تشدد کو اس خواب کے ساتھ جڑنا دل دہلا دینے والا ہے۔ ہم یہ صدمہ برداشت کر رہے ہیں لیکن ہم ہار نہیں مان رہے ہیں۔‘

    ’آپ کی حمایت کے لیے شکریہ۔ آئیے تشدد کے خلاف ثابت قدم رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاپس کیفے گرمجوشی اور کمیونٹی کی جگہ رہے۔‘

    سی بی ایس نیوز نے کیفے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے حوالے سے بتایا کہ کیفے صرف ایک ہفتہ قبل کھلا تھا۔

  16. فلسطینی نژاد نوجوان کا امریکی حکومت سے دو کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ

    کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل نے کیمپس میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے پر امیگریشن حراست میں 100 سے زائد دن گزارنے کے چند ہفتوں بعد امریکی حکومت سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جمعرات کے روز ان کے وکلا نے دو کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا جس میں جھوٹی قید، بدنیتی پر مبنی قانونی چارہ جوئی اور یہود مخالف کے طور پر بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    خلیل کو امیگریشن ایجنٹوں نے 8 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ امریکی حکومت انہیں ملک بدر کرنا چاہتی ہے کیونکہ ان پر الزام ہے کہ ان کی سرگرمیاں ملک کی خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    جون کے اواخر میں ایک وفاقی جج نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ خلیل کمیونٹی کے لیے خطرہ نہیں ہیں اس لیے انھیں رہا کیا جائے اور ان کی امیگریشن کی کارروائی جاری رکھی جائے۔

    اپنے دعوے میں خلیل کے وکلا کا کہنا ہے کہ خلیل کو جھوٹی گرفتاری، جھوٹی قید، بدنیتی پر مبنی قانونی چارہ جوئی، عمل کا غلط استعمال، جان بوجھ کر جذباتی اذیت دینے اور لاپرواہی کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے انھیں جذباتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ’نقصانات‘ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کا نتیجہ ہیں جس مںی انھوں نے خلیل کو خارجہ پالیسی کے لیے منفی نتائج اور نقاصن دہ قرار دیا تھا۔

    انھوں نے دلیل دی کہ روبیو کے بیان کو ان غیر شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جنہوں نے ’غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی اور اس کے لیے امریکہ کی حمایت کے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔‘

    اسرائیل فلسطینی علاقے میں نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریسیا میک لاگلن نے کہا کہ خلیل کا دعویٰ ’مضحکہ خیز‘ ہے اور ان پر ’نفرت انگیز رویے اور بیان بازی‘ کا الزام عائد کیا گیا جس سے یہودی طالب علموں کو خطرہ لاحق تھا۔

    بی بی سی نے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ سے اس معاملہ پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کر رکھا ہے۔

    امریکہ کے مستقل رہائشی خلیل کو مارچ کے اوائل میں نیویارک میں ان کے گھر سے ان کی حاملہ بیوی کے سامنے گرفتار کیا گیا تھا۔

    شام میں پرورش پانے والے فلسطینی پناہ گزین خلیل گزشتہ سال نیو یارک سٹی میں کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران طالب علموں کے مذاکرات کار تھے۔

    غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر تنقید کرنے والے متعدد دیگر افراد بشمول ترک طالب علم رمیسا اوزترک اور انڈین سکالر بدر خان سوری کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔

  17. شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

    بلوچستان کے علاقے سرڈھاکہ میں نو مسافروں کو بسوں سے اُتار کر قتل کرنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کہا ہے کہ ’شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دہشتگردوں نے انسان نہیں، بزدل درندے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ بلوچستان کی مٹی میں بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ریاست ان قاتلوں کو زمین کے اندر بھی چھپنے نہیں دے گی۔‘

    یاد رہے کہ بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد نے ضلع ژوب کے علاقے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔

    بسوں سے مسافروں کو اتارنے اور قتل کا واقعہ جمعرات کی شام اس علاقے میں پیش آیا جہاں سرکاری حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

    فون پر رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ نو مسافروں کی لاشوں کو برآمد کرلیا گیا ہے جن کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سرہ ڈھاکئی میں ناکہ بندی کی تھی جہاں مجموعی طور پردو بسوں سے نو مسافروں کو اتارا گیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’دہشتگردی کے ہر منصوبے کو طاقت، عزم اور اتحاد سے کچلیں گے۔ بلوچستان دشمنوں کے لیے قبرستان بنے گا۔ دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورک تباہ کریں گے۔ پاکستانی عوام کے زخموں کا بدلہ لیں گے، دہشت گردی کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔‘

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے پر کہا ہے کہ ’دہشتگردوں نے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا کر بدترین بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’معصوم مسافروں کو نشانہ بنانے والے انڈین سپانسرڈ دہشتگردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے اور خاتمہ کریں گے اور آلہ کاروں کی ہر سازش قوم کی حمایت سے ناکام بنائیں گے۔‘

  18. آج سے پنجاب میں مون سون بارشوں کے تیسرا سپیل شروع، الرٹ جاری

    پنجاب کے حکام نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے تیسرے سپیل کا الرٹ جاری کیا ہے جس کے تحت آج 11 سے 17 جولائی کے دوران بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور بارش کی پیشگوئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی میں اضافے کے خدشات ہیں۔

    ’برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کے پیش نظر انتظامیہ پیشگی الرٹ رہے۔ ’محکمہ صحت آبپاشی تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو سٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  19. اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر کے یورپ اپنی غیر جانبدای کا مظاہرہ کرے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر ِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر یورپ واقعی ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی آزادی اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    جوہری مذاکرات میں ایران کی واپسی میں مدد کرنے کے لیے یورپ کی آمادگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی اخبار لی موڈے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس غیر جانبداری کی ایک علامت اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنا ہے- ‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے جاری رہنے کے بارے میں امریکی حکام کی خبروں اور بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لی مونڈے کو بتایا کہ ’فی الحال کچھ دوست یا ثالثی ممالک کے ذریعے سفارتی تبادلے جاری ہیں۔ ان مذاکرات کی شکل پہلے بیان کی گئی شرائط کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہے۔‘

    جمعرات کو اس فرانسیسی اشاعت کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

    تاہم، ایرانی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کی حالیہ قرارداد نے این پی ٹی کے خصوصی ونگ کے طور پر اقوام متحدہ کے اس ادارے کی نگرانی کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔

    12 روزہ جنگ کے دوران، امریکہ اور اسرائیل نے نتنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی یورینیم افزودگی کی تین بڑی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ ایران یا بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے ابھی تک ان مراکز کو پہنچنے والے نقصان کی کوئی رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔ دریں اثنا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایران کے تقریباً 9 ٹن افزودہ یورینیم کی کیا حیثیت ہے، خاص طور پر 400 کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد نے ضلع ژوب کے علاقے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا ہے۔ ان مسافروں کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا تھا۔
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران ایک ارب 77 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زر مبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر ہیں جن میں سٹیٹ بینک کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر کی مالیت 14.5 ارب ہے۔
    • پنجاب کے حکام نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے تیسرے سپیل کا الرٹ جاری کیا ہے جس کے تحت 11 سے 17 جولائی کے دوران بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور بارش کی پیشگوئی ہے۔
    • وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر ایجنڈا این آر او یا کسی کی سزائیں معافی نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو اڈیالہ سے نکالنے اور عدالتوں سے متعلق بات نہیں ہو سکتی۔
    • بلوچستان کے علاقے دُکی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملنے والی تشدد زدہ لاشوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک لاش جمعرات کو برآمد ہوئی جس کو شناخت کے لیے ہسپتال متقل کیا گیا۔
    • برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایک نئی پائلٹ سکیم کے تحت چھوٹی کشتیوں میں فرانس پہنچنے والے تارکین وطن کو چند ہفتوں کے اندر واپس کرنا شروع کر دے گا۔