آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنوبی غزہ میں ’حملوں کی نئی لہر‘ کا آغاز، غزہ میں امداد کی ترسیل اگلے نوٹس تک معطل

اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے

خلاصہ

  • اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد سنیچر کی شب فریقین جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
  • قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فریقین نے جنگ بندی اور مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
  • امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، میامی اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا

لائیو کوریج

  1. حماس کی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی ’روکنے‘ کے اسرائیلی الزامات کی تردید

    قاہرہ میں جاری مذاکرات سے واقف مصری سفارتی ذرائع کے مطابق حماس نے اسرائیل کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے جانے کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے میں ’رکاوٹ‘ ڈال رہی ہے۔

    ذرائع نے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی، کہا کہ تحریک نے ثالثوں کو مطلع کیا کہ وہ لاپتہ لاشوں کو تلاش کرنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کر رہی ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی اور یرغمال بنائے گئے ان کے فیلڈ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کی وجہ سے اب یرغمالیوں کے مقامات کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

    ذرائع نے مزید کہا کہ حماس ’ابتدائی طور پر لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کے مطالبے کی حساسیت سے لاعلم تھی، جب تک کہ یہ واضح نہ ہو جائے کہ یہ مسئلہ جنگ بندی کے معاہدے کے استحکام کی ایک اہم شرط ہے۔‘

    گزشتہ فروری میں، قیدیوں کے تبادلے کے ایک سابقہ ​​معاہدے کے دوران، اسرائیل کو ایک لاش ملی تھی جو بعد میں غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون کی تھی، نہ کہ اسرائیلی اسیر شیری بیباس کی تھی۔

    اس واقعے کے بعد اسرائیل میں تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔

    نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ ’حماس نے ایک فلسطینی خاتون کی لاش شیری بیباس کی لاش کے بجائے ایک تابوت میں پیش کی‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کام کرے گی، ’چاہے زندہ ہوں یا مردہ‘ ہوں۔

    ایک لاش جس کا تعلق اسرائیلی سے نہیں ہے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت حماس کو جنگ بندی کے نفاذ کے 72 گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں، زندہ اور مردہ افراد کے حوالے کرنا تھا۔

    تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو بروقت رہا کرنے کے بعد اسرائیل کو منگل کی شام تک 28 ہلاک یرغمالیوں میں سے صرف آٹھ کی باقیات ملی تھیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ ان یرغمالیوں کی غزہ میں 20 دیگر لاشیں باقی ہیں۔

    تاہم، اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن‘ میں معائنے مکمل ہونے کے بعد، حماس کی طرف سے کل جو چوتھی لاش حوالے کی گئی تھی، وہ کسی بھی اسرائیلی یرغمال سے مماثل نہیں ہے۔‘

    ایک بیان میں فوج نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مغویوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

    اسرائیل کے چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ حماس کی طرف سے کل واپس کی جانے والی چوتھی لاش غزہ کے ایک شہری کی تھی نہ کہ کسی اسرائیلی حراست میں۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن کی طرف سے تصدیق کے بعد منگل کی شام غزہ میں حماس کے ہاتھوں واپس کیے گئے چار اسرائیلی یرغمالیوں میں سے تین کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    حماس اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

    حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تحریک ’غزہ کی پٹی پر جنگ بندی کے معاہدے کے عزم کے تحت، قسام بریگیڈز کے زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ پر عمل پیرا ہے۔‘

    ایک مختصر بیان میں حازم قاسم نے تصدیق کی کہ ’قبضے نے شجاعیہ اور رفح میں شہریوں کو قتل کرکے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ ’معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل جاری رکھیں۔‘

    ’انتہائی پیچیدہ‘ عمل

    دریں اثنا مصری اور فلسطینی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کو غزہ کی پٹی کے اندر یرغمال بنائے جانے کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات نکالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ذرائع نے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، وضاحت کی کہ لاشوں کو نکالنے اور واپس لانے کے عمل میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ جنگ کے دوران متعدد رہائشی ٹاورز کے گرنے کے نتیجے میں ان میں سے کچھ نامعلوم مقامات پر ہیں۔

    اس کے علاوہ، لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے ذمہ دار سپیشل فورسز یونٹ کے ارکان کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مواصلاتی ذرائع اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں رہی ہیں۔

    ایک مصری ذریعہ نے اشارہ کیا کہ تکنیکی ٹیمیں تلاش اور بحالی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے طریقوں کا جائزہ لی رہی ہیں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ مصری اور قطری ٹیمیں اور آلات غزہ کی پٹی کے اندر ملبہ ہٹانے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ترجمان کرسچن کارڈن نے کہا کہ جنگ میں مارے گئے یرغمالیوں اور حراست میں لیے گئے افراد کی لاشوں کی واپسی میں کافی وقت لگے گا اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

    انھوں نے یہ کہا کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی لاشوں کی تلاش کے عمل کو ’انتہائی پیچیدہ‘ بناتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ تمام لاشیں نہیں مل پائیں گی۔‘

    براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق جنگ کے دوران چھوڑنے والے غزہ کے رہائشیوں کو پہلی بار پٹی میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی، جب کہ دیگر کو اسرائیلی سکیورٹی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد رفح کراسنگ کے ذریعے جانے کی اجازت ہوگی۔

    بدھ کو رفح کراسنگ نہیں کھلے گی‘

    یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مہند ٹوٹنجی نے اطلاع دی کہ رفح کراسنگ آج بدھ کو نہیں کھلے گی، جب اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اعلان کیا کہ اسرائیل اسے دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ ’رفح کراسنگ آج نہیں کھلے گی، لیکن اس کے کھولنے کے لیے کام اور تیاریاں کسی ٹائم فریم کی وضاحت کیے بغیر جاری رہیں گی۔ اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا جواز یہ ہے کہ زمینی صورتحال کی وجہ سے اسے فوری طور پر کھولنا ممکن نہیں ہے۔‘

    اسرائیل کے چینل 12 نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ رفح کراسنگ کو کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں تاہم ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی ہیں۔

    اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے کہا کہ اسرائیل نے حماس پر عائد پابندیوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تحریک کی جانب سے گذشتہ رات غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے تحت چار اضافی لاشیں حوالے کیے جانے کے بعد جو جمعے سے نافذ العمل ہوا تھا۔

    منصوبہ بندی کے مطابق کراسنگ کو آج دوبارہ کھولنا تھا، جس سے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی اجازت ہوگی۔ براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق 600 امدادی ٹرک پٹی میں داخل ہونے کی توقع ہے۔

    اس سے پہلے اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ وہ پٹی کو مصر سے ملانے والی کراسنگ کو دوبارہ نہیں کھولے گا، اور غزہ میں انسانی امداد کے ٹرکوں کی تعداد کو آدھا کر دے گا، تاکہ حماس کو اس کی سزا دی جا سکے جسے اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

    اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ غزہ کو دو سالہ جنگ کے بعد شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    اگست کے آخر میں اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا۔

    اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی اسرائیل کو بدھ کے روز حماس کے مزید چار مغویوں کی باقیات واپس کرنے کے ارادے کے بارے میں مطلع کیے جانے کے بعد کیا گیا، تحریک نے ابھی تک اس اقدام کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    مروان برغوثی پر حملہ

    مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کے قیدیوں کے انفارمیشن آفس نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی رہنما مروان برغوثی کو ستمبر کے وسط میں ریمون جیل سے میگیدو جیل منتقل کرنے کے دوران اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا تھا۔

    دفتر نے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک بیان میں وضاحت کی کہ ’اسرائیلی ناچشون یونٹ کے آٹھ ارکان نے حملے میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں مروان برغوثی ہوش کھو بیٹھے اور ان کی چار پسلیاں ٹوٹ گئیں۔‘

    مغربی کنارے میں فتح تحریک کے سیکریٹری جنرل برغوثی کا شمار اسرائیلی جیلوں میں قید سب سے نمایاں فلسطینی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

    اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے والے حملوں کی ذمہ داری کے الزام میں سزا پانے کے بعد وہ پانچ عمر قید کی سزا کے علاوہ 40 سال کی اضافی سزا کاٹ رہے ہیں۔

    اسی تناظر میں اسرائیلی فورسز نے بُدھ کی صبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی ایک وسیع مہم چلائی، جس میں حالیہ تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیے گئے قیدیوں کے متعدد خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رام اللہ شہر میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی فوج نے قدورہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا اور جلاوطن قیدیوں عماد اور جہاد الروم، محمد السعیدی، رائد ابو الظاہر اور رمزی عبید کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ ان کے اہل خانہ کو کسی بھی استقبالیہ یا تقریبات کے انعقاد کی صورت میں خبردار کیا گیا تھا۔

    بھاری فوجی تعیناتی کے باوجود ان حملوں کا سلسلہ بیت لحم شہر، دہیشی پناہ گزین کیمپ، یروشلم کے شمال میں کفر عقب کے قصبے اور جنین کے جنوب میں واقع قصبہ قبطیہ تک بھی پھیل گیا ہے۔

  2. غزہ میں حکام اسرائیل کی جانب سے واپس بھیجے گئے 45 ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی شناخت کر رہے ہیں

    حماس کی جانب سے پیر کے روز تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس بھیجنے کے ایک روز بعد ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسرائیل میں قید 45 ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی باقیات غزہ واپس کر دی گئی ہیں۔

    غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ذقوت کا کہنا ہے کہ ان 45 لاشوں کی جانچ پڑتال اور شناخت کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کے لیے کام کرنے والے ایک مقامی فلسطینی صحافی کو بتایا کہ غزہ میں حکام توقع کر رہے تھے کہ انھیں ان لوگوں کے نام فراہم کیے جائیں گے جن کی باقیات حوالے کر دی گئی ہیں، لیکن وہ اب بھی تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔

    ڈاکٹر محمد ذقوت بتاتے ہیں کہ ’اگر ہمیں اسرائیلیوں کی طرف سے نام ملتے ہیں تو ہم انھیں شائع کر دیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ہم ایک لنک بنائیں گے اور پھر اس پر تمام تصاویر پوسٹ کریں گے تا کہ ان کے اہل خانہ ناصر میڈیکل کمپلیکس کے فیلڈ ہسپتال میں آ سکیں اور اپنے رشتہ داروں کی شناخت کر سکیں اور ان کی لاشیں لے جائیں اور پھر تکریم سے ان کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔

    انھوں نے مزید کہ کہ اسرائیل کی طرف سے ’یہ بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں ان میں سے مزید لاشیں موصول ہوں گی، بشرطیکہ یہ عمل آسانی سے اور بغیر کسی رکاوٹ یا پریشانی کے جاری رہے۔‘

    رسمیہ محمد خلیل قدیح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے ناصر ہسپتال کے باہر اپنے بیٹے کی خبر کا انتظار کر رہی ہیں جو ان کا کہنا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

    وہ اپنے بیٹے کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ وہ قیدی بنا یا مارا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں نے سب سے رابطہ کیا، کسی نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔‘

    رسمیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دو سال سے اب کچھ عرصہ زیادہ ہو گیا کہ میں ابھی تک انتظار کر رہی ہو، اور کسی نے مجھے میرے بیٹے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب بھی کسی قیدی کو رہا کیا جاتا ہے تو میں ان سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ نے فادی کو دیکھا ہے؟ کیا تم نے معتز کو دیکھا ہے؟ کیا وہ قیدی ہیں، شہید ہیں یا لاپتہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ نہیں۔ نیگیو جیل میں ہر ایک کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ نام نہیں سنا ہے۔ ہر ایک مجھے کچھ مختلف بتاتا ہے۔‘

  3. غزہ میں کتنے اسرائیلی یرغمالی باقی ہیں؟

    غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے غزہ میں 48 اسرائیلی یرغمالیوں کو قید کیا گیا تھا جن میں سے 28 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حماس نے پیر کے روز تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو واپس کر دیا ہے اور یہ تنظیم آہستہ آہستہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں حوالے کر رہی ہیں۔

    پیر کے روز چار لاشیں واپس کی گئیں۔ بعد میں ان کی شناخت گائے ایلوز ، بپن جوشی ، یوسی شرابی اور ڈینیئل پیریٹز کے طور پر کی گئی۔

    منگل کے روز مزید چار افراد حوالے کیے گئے۔ لیکن اسرائیل نے کہا ہے کہ چوتھی لاش ’کسی بھی یرغمالیوں سے مماثل نہیں ہے‘۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات حماس کی جانب سے حوالے کی گئی لاشوں میں سے ایک 'کسی بھی یرغمالی' سے مماثل نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارنسک میڈیسن میں معائنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ ہلاک ہونے والے یرغمالیوں میں سے سات کی لاشوں کو اسرائیل واپس بھیجنے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 21 غزہ میں موجود ہیں۔

  4. غزہ میں جنگ بندی کے پانچ دن بعد چھ اہم باتیں جن کے بارے میں آپ کا جاننا ضروری ہے

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی فلسطینی قیدی رہا کرنے شروع کر دیے۔

    اسرائیل میں

    منگل کو حماس کی طرف سے واپس آنے والے تین اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی شناخت یریل باروچ ، تمیر نمرودی اور ایتان لیوی کے طور پر کی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ رات حماس کی جانب سے حوالے کی گئی چوتھی لاش ’کسی بھی یرغمالیوں سے مماثل نہیں ہے‘

    اس سے قبل وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے میں امن کے لیے پرامید ہیں، لیکن اگر حماس نے ہتھیار ختم نہیں کیے تو ان پر قیامت ڈھا دی جائے گی۔

    غزہ میں

    اسرائیل نے کہا ہے کہ مصر اور جنوبی غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ سے انسانی امداد نہیں گزرے گی اور لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے کراسنگ کھولنے کی تاریخ کا اعلان ’بعد میں‘ کیا جائے گا۔

    فلسطینیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خوراک دستیاب ہے لیکن ابھی تک پانی یا بجلی نہیں ہے۔ ایک خاتون نے غزہ کے نامہ نگار کو بتایا کہ کچھ اشیا جیسے آٹا، تیل، چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، لوگ انھیں خرید رہے ہیں ’گویا انھیں یقین نہیں ہے کہ امن طویل عرصے تک برقرار رہے گا‘۔

    امریکہ میں

    صدر ٹرمپ، جن کے امن منصوبے نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں ثالثی میں مدد کی ہے، نے کہا ہے کہ اگر حماس نے غیر مسلح نہیں کیا تو امریکہ ’انھیں غیر مسلح کردے گا‘- لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ حماس ’غیر مسلح ہو جائے گی کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں‘

  5. ’آپریشن سندور 2.0 پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدید ہو گا‘:جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی فوجی قیادت سیاسی دباؤ میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، آئی ایس پی آر, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    ’اگر انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ کھیل سکتی ہے، اگر افغان وزیر یہاں آ کر مذاکرات کرسکتے ہیں، تو پھر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا حرج ہے۔ بات چیت جنگ کا بہتر متبادل ہے۔‘

    یہ بات انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے نائب وزیرِ اعلیٰ سُریندر سنگھ نے بارہمولہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

    انڈیا کے ڈائیریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائے اور مغربی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار کے بیانات پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سریندر سنگھ کا کہنا تھا: ’جو لوگ دُور بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں، اُنھیں سرحدی آبادیوں کا دورہ کر کے اصلیت کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگیں صرف افواج کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ان میں دونوں طرف کے عوام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    سریندر سنگھ نے کہا ’سرحدی گاوٴں کا باشندہ ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا میں جنگی جنون کو فروغ دیا جاتا ہے۔ لیکن ان غریبوں کا کیا جن کے گھر آپریشن سندور میں اُجڑ گئے، بیشتر کو ابھی معاوضہ تک نہیں ملا۔‘

    اس سے قبل جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انڈین فوج کی مغربی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار نے کہا تھا کہ ’آپریشن سِندُور 2.0 پہلے کے مقابلے زیادہ شدید ہوگا، اگر پڑوسی ملک نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے پہلگام والی حرکت دہرائی تو اس کا پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

    ’پاکستان پہلگام میں کی گئی واردات دوبارہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن فوج پوری قوّت کے ساتھ تیار ہے، ہمارا ردِعمل پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان چھوٹے حملے کرواتا ہے کیونکہ وہ انڈیا کے ساتھ براہ راست جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ انڈیا کو ہزار ضربوں سے لہولہان کرنا چاہتا ہے۔‘

    اسی دوران نئی دلّی میں ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائے نے دعویٰ کیا تھا کہ مئی میں ہوئی مختصر جنگ کے دوران انڈین فضائیہ نے پاکستانی ایئرفورس کے 11 ٹھکانوں پر ڈرون حملے کیے جن میں سے آٹھ کو تباہ کر دیا گیا اور ’دشمن فوج کے متعدد اثاثے بھی تباہ کیے گئے۔‘

    یاد رہے کہ رواں سال مئی کے مہینے میں دونوں پڑوسی جوہری طاقتوں کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے متعدد طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ’ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی فوجی قیادت سیاسی دباؤ میں آ کر غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر رہی ہے‘

    دوسری جانب، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال مئی میں ہونے والی لڑائی کے پانچ ماہ بعد بہار اور مغربی بنگال میں انتخابات کے دوران انڈین فوجی قیادت نے ایک بار پھر من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا ہے جو وہ انڈیا میں ہر ریاستی الیکشن سے قبل کرتے ہیں۔

    ’یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی عسکری قیادت کو سیاسی دباؤ میں آ کر غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر رہی ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پیشہ ور سپاہی جانتا ہے کہ ایسے غیر ضروری بیانات جنگی جنون کا ایک ایسا سلسہ شروع کر سکتے ہیں جس سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کے بیانات میں اتنا تضاد پایا جاتا ہے ان کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انڈین بھارتی فوج اور ان کی سیاسی قیادت اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہی ہے کہ انھیں شکست ہوئی ہے اور ان کا جھوٹ پوری طرح سے بے نقاب ہو چکا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ دنیا اب انڈیا کو ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے جو نہ صرف اپنے پڑوسیوں بلکہ اپنے ہی عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے مہم جوئی اور تسلط پسندی پر تلا ہوا ہے۔

    پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ انڈین افواج اور ان کے سیاسی آقاؤں کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج اپنی سرزمین کے دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

  6. کراچی میں افغان بستی مسمار کرنے کا آپریشن: ’یہ پرائم لوکیشن ہے، کچھ لوگ اس کی بندر بانٹ کرنا چاہتے ہیں‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں بلڈوزر اور ہیوی مشنری کی مدد سے افغان بستی کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس کے دوران پولیس کو مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ پرائم لوکیشن کی زمین ہے جس پر کچھ لوگ قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایم نائن موٹر وے کے ساتھ سہراب گوٹھ کے نزدیک یہ افغان بستی کئی دہائیوں قبل قائم کی گئی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ایک باقاعدہ آبادی کی شکل اختیار کر لی۔

    پاکستان اور افغانستان میں حالیہ کشیدگی کے بعد افغان شہریوں کو واپس بہیجنے کے عمل میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے ایڈیشنل آئی جی سندھ کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس بستی کی زمین پر کچھ لوگ قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذا ضلعی انتظامیہ اس کو اپنی تحویل میں لے کیونکہ یہ سرکاری اراضی ہے۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی کچھ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خآلی پڑے مکانات کی دیواروں پر سپرے سے کچھ لوگوں نے اپنے نام لکھے ہوئے ہیں جن میں اکثر ناموں کے ساتھ ایڈووکیٹ تحریر ہے۔

    بدھ کی صبح پولیس اور رینجرز کی ایک بڑی تعداد افغان بستی پہنچ اور اسے مسمار کرنے کی مہم کا آغاز کیا گیا۔

    انسدادِ تجاوزات سیل کے سربراہ شیان انجم کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ڈپٹی کمشنر ویسٹ کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب وقت تک 200 مکانات منہدم کر چکے ہیں جبکہ ان کے پاس پانچ سو مکانات کا ہدف ہے جو انھیں پانچ روز کے اندر مکمل کرنا ہے۔

    شیان انجم نے بتایا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق یہاں 14 ہزار لوگ مقیم تھے جن میں سے اب صرف 1300 یہاں رہ گئے ہیں۔

    ان کے مطابق کچھ مقامی افراد اور افغان پناہ گزین مزاحمت کر رہے ہیں جنھوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔

    ’یہ پرائم لوکیشن کی زمین ہے، کچھ لوگ اس کی بندر بانٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ زمین ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ملکیت ہے جو ان کے حوالے کی جائے گی۔‘

    یاد رہے کہ کئی افغان پناہ گزین اپنے مکانات سے کھڑکیاں اور دیگر سامان توڑ کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں جبکہ کئی مکانات ابھی صحیح حالت میں موجود ہیں۔

  7. سرحدی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے پانچ عام شہریوں کو ہسپتال لایا گیا ہے: ایم ایس چمن ہسپتال, محمد کاظم، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں چمن اور سپن بولدک میں پاکستان اور افغان طالبان کے بیچ ہونے والی سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ بدھ کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق سرحدی جھڑپوں کے بعد چمن شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ چمن اور اس سے متصل سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    چمن میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحدی جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے باعث شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں زوردار آوازیں سنائی دیں۔

    فون پر رابطہ کرنے پر سول ہسپتال چمن کے ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس نے بتایا کہ اِن جھڑپوں میں زخمی ہونے والے پانچ افراد کو اب تک سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جن زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا وہ سارے عام شہری ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دو زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    چمن اور سپن بولدک کہاں واقع ہیں؟

    چمن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں افغانستان کے سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ چمن شہر جو کہ ضلع چمن کا ہیڈکوارٹر بھی ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی پٹی سے تین، چار کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔

    چمن سے سرحد کی دوسری جانب افغانستان کے صوبہ قندھار کی تحصیل سپن بولدک ہے۔ سپین بولدک کا تحصیل ہیڈکوارٹر باب دوستی سے اندازاً پانچ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چمن اور سپن بولدک میں اچکزئی اور نورزئی قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، اُن میں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرحدی پٹی پر متعدد منقسم دیہاتوں میں آباد ہے۔

    اگرچہ افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے سات اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں، لیکن اُن سے سب سے بڑی گزرگاہ چمن اور سپین بولدک کے درمیان واقع ہے ’باب دوستی‘ ہے۔

    اس گزرگاہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سب سے زیادہ لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے بلکہ یہ طورخم کی طرح ایک بڑی تجارتی گزرگاہ بھی ہے۔

    چمن اور سپن بولدک کے درمیان شاہراہ نہ صرف قندھار اور افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان اہم تجارتی ذریعہ بھی ہے۔

    سپن بولدک کی جانب باب دوستی کے ساتھ ایک بڑی سرحدی تجارتی منڈی بھی ہے جس میں گاڑیوں کے علاوہ وہ غیر ملکی سامان آتا ہے جو کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستان کے راستے افغانستان آتا ہے۔

  8. افغان طالبان کا سپن بولدک میں چار مقامات پر حملہ، جوابی کارروائی میں کم از کم 15 حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بدھ روز افغانستان کی سرحد پر ہونے والی جھڑپون کے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 15 اکتوبر کی علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے سپن بولدک میں چار مقامات پر حملہ کیا جسے پاکستانی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

    آئی ایس پی آر نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ شہری آبادی کی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر علاقے کے منقسم دیہاتوں کے درمیان کیا گیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرحد کے اندر واقع پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں 15-20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے صورتحال ابھی واضح نہیں جبکہ سرحد کے نزدیک شدت پسندوں اور افغان طالبان کے دوبارہ جمع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے سپن بولدک کے علاوہ 14 اور 15 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان اور دیگر شدت پسندوں نے خیبر پختونخواہ کے کرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا گیا اور جوابی کارروائی میں افغان پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچا۔

    آئی ایس پی آر نے جوابی کارروائی چھ ٹینکوں سمیت آٹھ چوکیاں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں 25 سے 30 افغان طالبان اور شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کا بھی امکان ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ الزام کہ حملے کا آغاز پاکستان کی طرف سے کیا گیا اشتعال انگیزی اور کھلے جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں اور آلات پر قبضہ کرنے کے دعوؤں کی بھی تردید کی ہے۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سپن بولدک میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں افغان فورسز کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

    افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں متعدد پاکستانی فوج ہلاک ہوئے، پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔

  9. بریکنگ, سپن بولدک: پاکستانی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں 12 شہری ہلاک جبکہ 100 سے زیادہ زخمی ہوئے، افغان طالبان ترجمان

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ قندھار کے ضلع سپن بولدک میں پاکستانی فوج کی جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افغان شہری ہلاک جبکہ 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل، پی ٹی وی، نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں حالیہ سرحدی جھڑپوں کا آغاز منگل کی شام اُس وقت ہوا تھا جب افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے سرحد پار سے پاکستان کے ضلع کرم پر ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی جس کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے طالبان کی پوسٹوں اور ٹی ٹی پی کے ٹریننگ کیمپ کو نشانہ بنایا اور انھیں تباہ کر دیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سپن بولدک میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں افغان فورسز کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

    افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں متعدد پاکستانی فوج ہلاک ہوئے، پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔ پاکستان کی جانب سے تاحال سپن بولدک میں جاری کارروائی کی تفصیلات باقاعدہ طور پر فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    افغانستان میں ’طلوع نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے سپن بولدک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اس علاقے میں جھڑپوں کا آغاز صبح چار بجے کے لگ بھگ ہوا جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 90 فیصد عام شہری ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اُن کے ہسپتال میں 80 کے لگ بھگ زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی زخمی زیر علاج ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں دونوں اطراف شہری آبادی ہے جو ان جھڑپوں میں نشانہ بن رہی ہے۔

    ’طلوع نیوز‘ کے مطابق سپن بولدک میں محکمہ اطلاعات کے سربراہ علی محمد حقمل نے بتایا کہ ان جھڑپوں میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    أفغانستان میں مقامی میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں حقمل کا کہنا تھا لڑائی مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ شروع ہوئی۔ اس علاقے کے رہائشیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی آوازیں بھی سُنی جا سکتی ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے سرکاری نیوز چینل ’پی ٹی وی‘ ن ے اطلاع دی تھی کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کی جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کی اور افغان صوبے خوست میں انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔

  10. بنگلہ دیش میں کپڑے کی فیکٹری میں آتشزدگی، 16 افراد ہلاک

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں کپڑے کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    بنگلہ دیش کی فائر سروس نے بتایا کہ اب تک 16 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں لیکن لاشیں بالکل جل چکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

    منگل کو ڈھاکہ کے میرپور علاقے میں کپڑے کی ایک چار منزلہ فیکٹری میں دوپہر کے وقت آگ لگی تھی جس پر تین گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا۔ تاہم حکام کے مطابق، فیکٹری سے ملحقہ کیمیکل گودام جلتا رہا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، گودام میں بلیچنگ پاؤڈر، پلاسٹک اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ یہ تمام سامان آگ میں شدت کا سبب بنتا ہے جبکہ پلاسٹک جلنے پر زہریلا دھواں بھی چھوڑتا ہے۔

    فائر سروس کے ڈائریکٹر محمد تاج الاسلام چودھری نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ عین ممکن ہے کہ متاثرین ’انتہائی زہریلی گیس‘ کے باعث فوری طور پر ہلاک ہو گئے ہوں۔

    چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس اور فوجی افسران ابھی بھی فیکٹری اور گودام کے مالکان کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  11. حماس نے مزید چار یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے مزید چار یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں جس کے بعد اب تک واپس کی گئی لاشوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    حماس سے لاشیں ریڈ کراس نے وصول کی تھیں جسے انھوں نے منگل کی رات اسرائیلی فوج کے حوالے کیا۔

    اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ وہ غزہ کو بھیجے جانے والی امداد کو اس وقت تک روک کر رکھیں گے جب تک حماس تمام 28 یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کر دیتی۔ فلسطینی مسلح گروپ نے پیر کے روز 20 زندہ اور چار مقتول یرغمالیوں کو واپس کر دیا تھا۔

    ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے منگل کے روز 45 مقتول فلسطینیوں کی باقیات غزہ واپس بھجوا دی ہیں۔

    اسرائیل نے پیر کو حماس کی طرف سے واپس کی گئی چار لاشوں کی شناخت 22 سالہ ڈینیئل پیریٹز، 53 سالہ یوسی شرابی، 26 سال کے گائے الوز اور 23 سالہ نیپالی شہری بپن جوشی کے نام سے کی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کی روز واپس کی جانے والی لاشوں کی شناخت کا کام تاحال جاری ہے۔

  12. آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے، بورڈ کی منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر جاری ہونے کی امید

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ قرض پروگرام کی اگلی قسط کی اجرا کے لیے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس سسٹینبلٹی پروگرام (آر ایس ایف) کے تحت جاری قرض پروگراموں پر سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر بورڈ کی جانب سے معاہدے کی منظوری دے دی جاتی ہے تو پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالرز اور آر ایس ایف کی مد میں تقریباً 20 کروڑ ڈالرز تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ اس کے بعد ان دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک ملنے والے قرض کی مالیت تقریباً 3.3 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کی معاونت سے جاری توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کا اقتصادی پروگرام بتدریج استحکام اور مارکیٹ اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن ہے۔

    عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 میں 14 برس کے بعد پہلی بار پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے جبکہ مالی توازن پروگرام میں طے شدہ ہدف سے بہتر رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔

    تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب نے تقریباً 70 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے اور بنیادی انفراسٹرکچر اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچایا ہے-

    عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا خاص طور پر زرعی شعبے پر اثر پڑے گا اور رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح کم ہو کر 3.25 سے 3.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

  13. پاکستان اور افغانستان کے بیچ ایک بار پھر سرحدی جھڑپیں: ’پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان سرحدی پوسٹوں کو تباہ کر دیا،‘ سرکاری میڈیا

    پاکستان اور افغانستان کے بیچ ایک بار پھر سرحدی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل، پی ٹی وی، کے مطابق پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے منگل کی شام افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے سرحد پار سے پاکستان کے ضلع کرم پر ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی جس کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے طالبان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    پی ٹی وی کے مطابق پاکستانی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں افغان صوبے خوست میں انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اور افغانستان نے اگرچہ سرکاری سطح پر فی الحال ان جھڑپوں کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے تاہم ’طلوع نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے خوست کے گورنر مستغفر گرباز نے الزام عائد کیا ہے کہ منگل کی شام لگ بھگ سات بجے خوست کے علاقے ’پلوچہ‘ کو پاکستانی فوجیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    افغانستان میں شعبہ اطلاعات کے ایک سربراہ علی محمد نے ’طلوع نیوز‘ کو بتایا کہ جھڑپوں میں ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے اور تاحال جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں عام شہریوں کے مکانات کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد مقامی آبادی کا علاقے سے انخلا کیا گیا۔

    دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر ان کارروائیوں کے حوالے سے لوئر کرم کے گاؤں ’ولی چینہ‘ کی اہم شخصیت عنایت خان نے بتایا کہ منگل کو شام سات بجے کے لگ بھگ اچانگ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عنایت اللہ کے مطابق ’اس جھڑپ میں ہر قسم کے ہتھیار کے استعمال کی آوازیں آ رہی تھیں، جس کے بعد مقامی آباد گھروں میں محصور ہو گئی تاہم اب تک شہری آبادی کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔‘

    عنایت خان نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کا یہ سلسلہ دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد خاموشی ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ رات کو دیر گئے بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بھی مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ان جھڑپوں میں 200 سے زائد طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد چیک پوسٹس قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 پاکستانیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔

    دوسری جانب افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کارروائیوں میں 58 پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

  14. سعد رضوی پولیس کی تحویل میں نہیں لیکن ٹریس ہو گئے ہیں جلد گرفتار کر لیے جائیں گے: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی پولیس کی تحویل میں نہیں اور ابھی بھی مفرور ہیں۔

    منگل کی شب نشر ہونے والے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو میں سعد رضوی کو منہ پر کالا کپڑا ڈال کر احتجاج کی جگہ سے نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ’لوگوں کو اشتعال دلا کر اور فائرنگ اور تمام معاملات کر کے وہ وہاں سے کسی گلی سے باہر نکل گیا۔‘

    ڈی آئی جی فیصل کامران نے دعویٰ کیا کہ ٹیکنیکل شواہد کی مدد سے ٹی ایل پی سربراہ کو ٹریس کر لیا گیا ہے۔

    ’ہمارے پاس معلومات آنا شروع ہو گئی ہیں کہ [وہ] کس کس جگہ پر گئے، کس کے پاس ٹھہرے، کس کے پاس گئے اور وہاں سے کہاں آگے گئے، تمام جگہیں ٹریس ہو گئی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جنھوں نے ’یہ ساری خرابی کی، جتنی جانیں گئیں، پولیس والے زخمی ہوئے، سرکاری اور نجی املاک کا نقصان ہوا، بہت جلد وہ قانون کی گرفت میں ہوں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سعد رضوی پولیس یا قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کی تحویل میں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سعد رضوی پولیس کی تحویل میں نہیں اور ابھی بھی بھاگے ہوئے ہیں۔

    اس ہی پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک لبیک کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    ’ٹی ایل پی نے (ہمارے دور میں) دو بار احتجاج کی کوشش کی۔ ماضی میں ان کے ساتھ معاہدے ریاست کے لیے کوئی اچھی بات نہیں تھی۔

    ’یکم مئی کو بھی ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور اس بار بھی ان کا کوئی مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ یہ ریاست پاکستان کا فیصلہ ہے کہ جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے دھرنے ’ناقابل برداشت ہیں۔ اس پر کارروائی ویسے ہی ہوگی جیسے نو مئی پر ہوئی۔ مقدمات کے فیصلے ہوتے نظر آئیں گے۔‘

    دوسری جانب، تحریکِ لبیک نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ انھیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حکومت ایک مرتبہ پھر کوئی سنگین قدم اٹھانے جا رہی ہے اور سعد حسین رضوی کو نقصان پُہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

    ٹی ایل پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعد رضوی کو کچھ ہوا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد تحویل میں موجود ٹی ایل پی کے کارکنان کے نام بتائے۔

  15. ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں، ریاست جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی: طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ’جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹی ایل پی نے (ہمارے دور میں) دو بار احتجاج کی کوشش کی۔ ماضی میں ان کے ساتھ معاہدے ریاست کے لیے کوئی اچھی بات نہیں تھی۔

    ’یکم مئی کو بھی ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور اس بار بھی ان کا کوئی مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ یہ ریاست پاکستان کا فیصلہ ہے کہ جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے دھرنے ’ناقابل برداشت ہیں۔ اس پر کارروائی ویسے ہی ہوگی جیسے نو مئی پر ہوئی۔ مقدمات کے فیصلے ہوتے نظر آئیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے جن کارکنان نے پولیس پر حملے کیے اور جنھوں نے کروائے سبھی کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انھوں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے۔ ’ہر آپشن دی گئی تھی، بیک ڈور چینل سے رابطے کیے گئے تھے۔۔۔ دو دن تک جب وہ مریدکے رُکے رہے تو انھیں واپسی کا راستہ دیا گیا تھا۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ ٹی ایل پی کا ’فلسطین سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں تھا۔‘

    وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی نے مارچ کے دوران ہونے والے اخراجات مانگے تھے اور گھر سے ضبط سونا اور نقدی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد واپس کیے جائیں۔

    طلال چوہدری نے پنجاب پولیس کی جانب سے سعد رضوی کے گھر پر چھاپے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’انھوں نے ملک اور دین کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ ریاست سب سے پہلے ہے، اس نے فیصلہ کیا ہے کہ پچھلی غلطیوں کو درست کیا جائے۔‘

  16. پنجاب پولیس کا سعد رضوی کے گھر چھاپہ اور حکومت کا سوال: ’آخر اتنا مال اور پیسہ کہاں سے آیا؟‘

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں پولیس نے لاہور میں واقع تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر سے ایک چھاپے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی، پرائز بانڈز، سونا اور چاندی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سادہ کاغذ پر لکھی گئی تفصیلات شیئر کی گئی ہیں۔ اس کاغذ کے مطابق یہ برآمدگیاں پنجاب پولیس کے انسپیکٹر عمر ڈوگر نے گواہان این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے اہلکاروں کی موجودگی میں کی ہیں اور ان تینوں اہلکاروں کے دستخط موجود ہیں۔

    تاہم پولیس کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ضبط کی گئی اشیا کی قانونی حیثیت کیا ہے اور ان تفصیلات کو سوشل میڈیا پر کیوں شیئر کیا گیا ہے۔

    بی بی سی اردو نے اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ٹی ایل پی کی جانب سے بھی اب تک اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم دو روز قبل ٹی ایل پی کے متعدد اراکین کی جانب سے سعد حسین رضوی کے گھر پر چھاپے کی تصدیق کی گئی تھی۔ ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا سے منسلک کارکنوں نے ان کلپس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے کر یہ دعویٰ کیا تھا کہ پولیس چھاپے سے پہلے یہ اشیا ’خود اپنے ساتھ لائی تھی۔‘

    پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ کے گھر سے 1922 گرام سونا اور 898 گرام چاندی برآمد ہوئی ہے۔

    پولیس کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ کے گھر سے 50 ہزار انڈین روپے، 2885 یورو، 8592 سعودی ریال، 4250 پاؤنڈز، 2500 ہانگ کانگ ڈالر، 200 کینیڈین ڈالر، 1440 درہم، 5200 شامی کرنسی، 84 ملیشین رنگٹ، ایک امریکی ڈالر اور 25 عراقی دینار برآمد ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے مطابق سعد حسین رضوی کے گھر سے 11 کروڑ 41 لاکھ سے زیادہ پاکستانی روپے بھی ملے ہیں۔

    ’آخر یہ اتنا مال اور پیسہ آیا کہاں سے؟‘

    حکومت پنجاب نے سعد حسین رضوی کے گھر سے رقوم، سونا اور چاندی کی برآمدگی پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر بھی کیے گئے ہیں۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے پوچھا گیا ہے کہ: ’آخر سعد رضوی کا کاروبار کیا ہے؟ کیا یہ پیشہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا فراہم کردہ ہے؟‘

    پنجاب حکومت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اِن اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں اور آیا یہ ’صدقات اور خیرات کا پیسہ تھا؟‘۔ پنجاب حکومت نے کہا کہ ’ایک مدرسے کے مولوی کے گھر سونے کی اینٹیں کہاں سے آئیں؟‘

    تاحال سعد رضوی یا ٹی ایل پی کی جانب سے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس نے تمام 20 یرغمالی اسرائیل کو واپس کر دیے ہیں تاہم وعدے کے مطابق تمام لاشیں واپس نہیں کی گئی ہیں۔
    • پاکستان میں منگل کے روز سونے کی قیمت 6,900 روپے فی تولہ اضافے کے بعد نئی بلند ترین سطح یعنی 4 لاکھ 35 ہزار 100 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
    • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد ہے اور رہے گا۔
    • افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان کے تحریکِ لبیک سے متعلق بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان ترجمان افغانستان سے متعلق مسائل پر توجہ دیں اور پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات پر بیرونی مشوروں کی ضرورت نہیں۔
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔