حماس کی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی ’روکنے‘ کے اسرائیلی الزامات کی تردید
قاہرہ میں جاری مذاکرات سے واقف مصری سفارتی ذرائع کے مطابق حماس نے اسرائیل کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے جانے کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے میں ’رکاوٹ‘ ڈال رہی ہے۔
ذرائع نے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی، کہا کہ تحریک نے ثالثوں کو مطلع کیا کہ وہ لاپتہ لاشوں کو تلاش کرنے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کر رہی ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی اور یرغمال بنائے گئے ان کے فیلڈ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کی وجہ سے اب یرغمالیوں کے مقامات کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ حماس ’ابتدائی طور پر لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کے مطالبے کی حساسیت سے لاعلم تھی، جب تک کہ یہ واضح نہ ہو جائے کہ یہ مسئلہ جنگ بندی کے معاہدے کے استحکام کی ایک اہم شرط ہے۔‘
گزشتہ فروری میں، قیدیوں کے تبادلے کے ایک سابقہ معاہدے کے دوران، اسرائیل کو ایک لاش ملی تھی جو بعد میں غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون کی تھی، نہ کہ اسرائیلی اسیر شیری بیباس کی تھی۔
اس واقعے کے بعد اسرائیل میں تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔
نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ ’حماس نے ایک فلسطینی خاتون کی لاش شیری بیباس کی لاش کے بجائے ایک تابوت میں پیش کی‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کام کرے گی، ’چاہے زندہ ہوں یا مردہ‘ ہوں۔
ایک لاش جس کا تعلق اسرائیلی سے نہیں ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت حماس کو جنگ بندی کے نفاذ کے 72 گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں، زندہ اور مردہ افراد کے حوالے کرنا تھا۔
تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو بروقت رہا کرنے کے بعد اسرائیل کو منگل کی شام تک 28 ہلاک یرغمالیوں میں سے صرف آٹھ کی باقیات ملی تھیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان یرغمالیوں کی غزہ میں 20 دیگر لاشیں باقی ہیں۔
تاہم، اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن‘ میں معائنے مکمل ہونے کے بعد، حماس کی طرف سے کل جو چوتھی لاش حوالے کی گئی تھی، وہ کسی بھی اسرائیلی یرغمال سے مماثل نہیں ہے۔‘
ایک بیان میں فوج نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مغویوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
اسرائیل کے چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ حماس کی طرف سے کل واپس کی جانے والی چوتھی لاش غزہ کے ایک شہری کی تھی نہ کہ کسی اسرائیلی حراست میں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن کی طرف سے تصدیق کے بعد منگل کی شام غزہ میں حماس کے ہاتھوں واپس کیے گئے چار اسرائیلی یرغمالیوں میں سے تین کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
حماس اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تحریک ’غزہ کی پٹی پر جنگ بندی کے معاہدے کے عزم کے تحت، قسام بریگیڈز کے زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ پر عمل پیرا ہے۔‘
ایک مختصر بیان میں حازم قاسم نے تصدیق کی کہ ’قبضے نے شجاعیہ اور رفح میں شہریوں کو قتل کرکے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ ’معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل جاری رکھیں۔‘
’انتہائی پیچیدہ‘ عمل
دریں اثنا مصری اور فلسطینی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کو غزہ کی پٹی کے اندر یرغمال بنائے جانے کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات نکالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع نے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، وضاحت کی کہ لاشوں کو نکالنے اور واپس لانے کے عمل میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ جنگ کے دوران متعدد رہائشی ٹاورز کے گرنے کے نتیجے میں ان میں سے کچھ نامعلوم مقامات پر ہیں۔
اس کے علاوہ، لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے ذمہ دار سپیشل فورسز یونٹ کے ارکان کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مواصلاتی ذرائع اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں رہی ہیں۔
ایک مصری ذریعہ نے اشارہ کیا کہ تکنیکی ٹیمیں تلاش اور بحالی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے طریقوں کا جائزہ لی رہی ہیں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ مصری اور قطری ٹیمیں اور آلات غزہ کی پٹی کے اندر ملبہ ہٹانے اور تلاشی کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ترجمان کرسچن کارڈن نے کہا کہ جنگ میں مارے گئے یرغمالیوں اور حراست میں لیے گئے افراد کی لاشوں کی واپسی میں کافی وقت لگے گا اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
انھوں نے یہ کہا کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی لاشوں کی تلاش کے عمل کو ’انتہائی پیچیدہ‘ بناتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ تمام لاشیں نہیں مل پائیں گی۔‘
براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق جنگ کے دوران چھوڑنے والے غزہ کے رہائشیوں کو پہلی بار پٹی میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی، جب کہ دیگر کو اسرائیلی سکیورٹی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد رفح کراسنگ کے ذریعے جانے کی اجازت ہوگی۔
بدھ کو رفح کراسنگ نہیں کھلے گی‘
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مہند ٹوٹنجی نے اطلاع دی کہ رفح کراسنگ آج بدھ کو نہیں کھلے گی، جب اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اعلان کیا کہ اسرائیل اسے دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ ’رفح کراسنگ آج نہیں کھلے گی، لیکن اس کے کھولنے کے لیے کام اور تیاریاں کسی ٹائم فریم کی وضاحت کیے بغیر جاری رہیں گی۔ اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا جواز یہ ہے کہ زمینی صورتحال کی وجہ سے اسے فوری طور پر کھولنا ممکن نہیں ہے۔‘
اسرائیل کے چینل 12 نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ رفح کراسنگ کو کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں تاہم ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی ہیں۔
اسرائیل براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے کہا کہ اسرائیل نے حماس پر عائد پابندیوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تحریک کی جانب سے گذشتہ رات غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے تحت چار اضافی لاشیں حوالے کیے جانے کے بعد جو جمعے سے نافذ العمل ہوا تھا۔
منصوبہ بندی کے مطابق کراسنگ کو آج دوبارہ کھولنا تھا، جس سے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی اجازت ہوگی۔ براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق 600 امدادی ٹرک پٹی میں داخل ہونے کی توقع ہے۔
اس سے پہلے اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ وہ پٹی کو مصر سے ملانے والی کراسنگ کو دوبارہ نہیں کھولے گا، اور غزہ میں انسانی امداد کے ٹرکوں کی تعداد کو آدھا کر دے گا، تاکہ حماس کو اس کی سزا دی جا سکے جسے اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ غزہ کو دو سالہ جنگ کے بعد شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔
اگست کے آخر میں اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی اسرائیل کو بدھ کے روز حماس کے مزید چار مغویوں کی باقیات واپس کرنے کے ارادے کے بارے میں مطلع کیے جانے کے بعد کیا گیا، تحریک نے ابھی تک اس اقدام کی تصدیق نہیں کی ہے۔
مروان برغوثی پر حملہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کے قیدیوں کے انفارمیشن آفس نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی رہنما مروان برغوثی کو ستمبر کے وسط میں ریمون جیل سے میگیدو جیل منتقل کرنے کے دوران اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا تھا۔
دفتر نے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک بیان میں وضاحت کی کہ ’اسرائیلی ناچشون یونٹ کے آٹھ ارکان نے حملے میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں مروان برغوثی ہوش کھو بیٹھے اور ان کی چار پسلیاں ٹوٹ گئیں۔‘
مغربی کنارے میں فتح تحریک کے سیکریٹری جنرل برغوثی کا شمار اسرائیلی جیلوں میں قید سب سے نمایاں فلسطینی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے والے حملوں کی ذمہ داری کے الزام میں سزا پانے کے بعد وہ پانچ عمر قید کی سزا کے علاوہ 40 سال کی اضافی سزا کاٹ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی فورسز نے بُدھ کی صبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی ایک وسیع مہم چلائی، جس میں حالیہ تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیے گئے قیدیوں کے متعدد خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
رام اللہ شہر میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی فوج نے قدورہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بولا اور جلاوطن قیدیوں عماد اور جہاد الروم، محمد السعیدی، رائد ابو الظاہر اور رمزی عبید کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ ان کے اہل خانہ کو کسی بھی استقبالیہ یا تقریبات کے انعقاد کی صورت میں خبردار کیا گیا تھا۔
بھاری فوجی تعیناتی کے باوجود ان حملوں کا سلسلہ بیت لحم شہر، دہیشی پناہ گزین کیمپ، یروشلم کے شمال میں کفر عقب کے قصبے اور جنین کے جنوب میں واقع قصبہ قبطیہ تک بھی پھیل گیا ہے۔