خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے سنٹرل کرم سے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کی جا رہی ہے اور اب تک دو ہزار سے زیادہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔
اس علاقے کے لوگ یہ نقل مکانی پہلی مرتبہ نہیں کر رہے بلکہ جولائی 2011 میں بھی اسی طرح مجبور ہو کر ان لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر بچوں خواتین اور بزرگوں سمیت دوسرے علاقوں میں پناہ لی تھی۔
اس سے پہلے 2008 اور 2010 کے دروان بھی نقل مکانی کی گئی تھی اور مختلف علاقوں کے لوگوں کو مختلف ادوار میں نقل مکانی کرائی گئی اور پھر 2016 میں انھیں واپس گھروں کو بھیجا گیا تھا۔
سنٹرل کرم سے لوئر کرم کی جانب نقل مکانی کرنے والے ایک متاثرہ شخص جمیل شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ چند روز پہلے نقل مکانی کر کے لوئر کرم آ گئے تھے لیکن مشکلات دیکھ کر والد صاحب واپس سنٹرل کرم چلے گئے اور اسی رات ساتھ والے گھر پر گولہ گرا تو دوسرے روز جا کر والد کو ادھر لوئر کرم لے آئے ہیں‘۔
جمیل شاہ بار بار کی نقل مکانی سے پریشان تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم کیا کر سکتے تھے پہلے ہمارے علاقے میں جھڑپیں ہوئیں اور اس کے بعد سرحد پر افغانستان کے ساتھ گولہ باری شروع ہو گئی تھی، مرتے کیا نہ کرتے بچے اور خواتین انتہائی خوفزدہ تھے اور بس جیسے کیسے ہوا سامان ٹریکٹر ٹرالیوں اور پک اپ گاڑیوں میں ڈال کر لے آئے، اب یہاں کرائے کا مکان لیا ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔‘
انھوں نے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ سٹرل کرم میں جینا مشکل ہو گیا ہے جبکہ یہاں سے بھاگنا مجبوری بن گئی ہے۔
سنٹرل کرم میں پہلے بھی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے انھوں نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا اور اب پھر ایک مرتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
مقامی صحافی نسیم خان اس علاقے میں موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ لوگ بڑی مشکل سے محفوظ مقامات کی جانب جا رہے ہیں۔
اکثر خاندان پیدل روانہ ہوئے ہیں اور وہ 20 سے 25 کلومیٹر کا فیصلہ طے کرکے اپنے جاننے والوں یا رشتہ داروں کی طرف جا رہے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والے سنٹرل کرم کے سمندر کلی کے نوجوان جمیل شاہ نے بتایا کہ ’ہمارے علاقے سے سنہ 2008 کے بعد سے بار بار نقل مکانی کرائی جا رہی ہے، کچے مکان بنانے میں ہمیں سالوں لگ جاتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ نقل مکانی کریں معلوم نہیں اس مرتبہ ہمارا مکان محفوظ رہے گا یا پھر اسے نقصان پہنچے گا۔‘
جمیل شاہ نے بتایا کہ ان کے والد بنیادی ضروریات نہ ہونے اور حالات دیکھ کر نقل مکانی کرنے کے باوجود واپس اپنے گھر سنٹرل کرم چلے گئے تھے جس سے ہم سارے اہل خانہ پریشان تھے۔
ان کے جانے کے بعد رات کو ہمارے گھر کے ساتھ والے مکان پر گولہ گرا تھا جہاں بڑا نقصان ہوا تو ہمیں فکر لاحق ہوئی اور واپس جا کر اپنے والد صاحب کو ادھر لوئر کرم لے آئے تھے۔
جمیل شاہ نے بتایا کہ ان کے ساتھ ایک دو اور خاندان بھی نقل مکانی کرکے لوئر کرم آئے تھے لیکن یہاں مشکلات کی وجہ سے وہ پشاور چلے گئے ہیں۔
گذشتہ پانچ روز سے جاری نقل مکانی میں اب تک مقامی انتظامیہ کے مطابق 2200 سے زیادہ خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں کو چلے گئے ہیں۔
سنٹرل کرم کے انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک 19 گاؤں ایسے ہیں جہاں سے نقل مکانی کی جا رہی ہے۔ ان میں تورنازون، جنگل، سمندر کلے، ڈار، منجن، ایسارک، جگی ماسوزئی، جار، گوازا، کٹاسری، پخے کلی، ڈنگر گوڈو، لکی کلی، نجاب کلی، کپردپ، لغار پخا اور ببرو پخہ شامل ہیں۔
بنیادی طور پر اس نقل مکانی کا اعلان اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد کیا گیا تھا اور مقامی لوگوں سے کہا گیا تھا کہ یہ علاقہ خالی کر دیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں عسکریت پسند زیادہ متحرک ہیں اور ان کی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
ضلع کرم اور ضلع اورکزئی کے سرحدی علاقوں سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ لگ بھگ 10 روز پہلے مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فروسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
اس واقعہ کے بعد فوج کے دو افسران سمیت سکیورٹی اہلکار اس علاقے میں سرچ آپریشن کے لیے گئے جہاں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں دونوں افسران سمیت 11 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ پانچ اہلکار لاپتہ ہو گئے اور پھر دو روز بعد ان کی لاشیں بھی اسی علاقے سے ملی تھیں۔
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سرچ آپریشن کے دوران جھڑپ میں 19 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ان علاقوں میں کارروائیاں کی گئی تھیں جن میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں مسلح عسکریت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔ اس علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے لیے آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا۔
سنٹرل کرم سے نقل مکانی کرنے والے افراد مختلف علاقوں کی جانب جا رہے ہیں۔
کرم کے قریب ضلع ہنگو میں ٹل کے مقام پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے انتظام کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹل میں ایک گرلز ڈگری کالج کے حصے میں ان متاثرین کے لیے انتظام کیا گیا ہے لیکن اب تک ان کی اطلاع کے مطابق اس کالج میں کوئی بھی نہیں آیا۔
انھوں نے بتایا کہ ان متاثرین کے لیے بنیادی ضروریات کا انتظام بھی کیا گیا ہے جن میں پانی، واش رومز، بجلی اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً یہ متاثرہ لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر اشفاق خان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ تفصیل معلوم کر کے بتا سکیں گے لیکن اس کے بعد سے ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکا۔
سنٹرل کرم کے ایک انتظامی افسر نے بتایا کہ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور ان کے لیے سنٹرل اور لوئر کرم کے کے درمیان ایک مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں انھیں بنیادی ضروریات کا سامان اور نقد رقم بھی دی جا رہی ہے۔
کیسے لوگ کیسا سفر مقامی صحافی نسیم خان نے بتایا کہ سنٹرل کرم سے لوئر کرم تک کا کوئی 25 کلومیٹر کا راستہ ہے اور اس میں لوگوں نے سامان تو ٹرکٹر ٹرالیوں اور پک اپ گاڑیوں میں رکھا تھا لیکن بڑی تعداد میں لوگ پیدل بھی روانہ تھے۔
ان میں ایسے لوگ تھے جس کے پاس مال مویشی تھے تو وہ گاڑیوں میں نہیں آ سکتے تھے اس لیے انھوں نے پیدل سفر اختیار کیا۔ اکثر لوگوں نے حکومت کی جانب سے بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کا شکوہ کیا اور کہا کہ ان کے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور لوئر کرم سے کوئی گاڑی سامان لینے کے لیے اپر کرم کی طرف نہیں آتی جبکہ سنٹرل کرم میں ٹریکٹر اور پک اپ گاڑیاں اتنی نہیں ہیں کہ اتنی بڑی آبادی نقل مکانی کر سکے۔
سنٹرل کرم میں غربت ہے، اکثر مکان کچے ہیں، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی کھیتی باڑی کا سلسلہ بھی محدود ہے۔ کچھ گھرانوں کے لوگ خلیجی ممالک میں کام کرکے کچھ رقوم بھیج دیتے ہیں ایسے میں ان کے لیے نقل مکانی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے، جہاں وسائل نہ ہوں اور دوسری جانب جان کو خطرہ لاحق ہو۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ ماضی میں اس علاقے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور یہاں فوجی آپریشنز کے بعد امن قائم ہو گیا تھا لیکن اب ایک مرتبہ پھر علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔