لائیو, اسرائیل اور حزب الله میں جنگ بندی پر اتفاق مگر جنوبی لبنان پر فضائی حملے جاری

اسرائیل اور حزب الله میں جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران سے مجبوری میں نہیں ملے، ایران ملا‘ اور انھیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔

خلاصہ

  • اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے 'سیکیورٹی بفر زون' سے پیچھے نہیں ہٹے گی: نیتن یاہو
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی
  • سینٹکام کا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
  • امریکہ چھ ماہ میں یورپ میں اپنی افواج کی موجودگی کے متعلق جائزہ لے گا: پیٹ ہیگستھ
  • مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے 12.5 ملین بیرل تیل گزرا: امریکی نائب صدر
  • ایران نے اپنی عزت اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا: پزشکیان
  • وزیر اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزر لینڈ ملتوی، اسحاق ڈار کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے درمیان اچھے تعلقات ہیں: ٹرمپ

    ٹرمپ، شہباز، عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔

    یہ بات ٹرمپ نے ایگزیوس کو دیے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

    دراصل انٹرویو کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ عالمی سطح پر ان کے دو پسندیدہ رہنما کون ہیں تو انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لیے۔

    مودی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ جنگوں سے دور رہتے ہیں جو کہ دانشمندانہ ہے۔ ان کے پاس 1.5 ارب لوگوں کی آبادی ہے۔۔۔ مودی عظیم رہنما ہیں اور ہم ان کے ساتھ بہت کاروبار کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ اب امریکہ انڈیا کے ساتھ ’منصفانہ کاروبار کرتا ہے۔ وہ ہمارا فائدہ اٹھاتے تھے۔ میں انھیں قصوروار نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے سیاستدان احمق تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نئے نظام سے خوش نہیں لیکن ’مودی عظیم ہیں۔ صدر شی عظیم ہیں۔ اگر آپ دونوں پر فلم بنانا چاہیں تو آپ کو ہالی وڈ میں کوئی مرد نہیں ملے گا۔‘

    مودی کی تعریف کرنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کیا اور کہا کہ ’فیلڈ مارشل (عاصم منیر) عظیم ہیں اور ان کے وزیر اعظم بھی۔ دونوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ یہ منظر ’خوبصورت‘ ہے کہ ’فوجی آدمی پوری طرح وزیر اعظم کا احترام کرتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستانی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں امریکہ کی مدد کی تھی کیونکہ وہ ’ایرانیوں کو جانتے تھے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انھیں (ایران کو) فوجی سطح پر پوری طرح شکست دی۔ پاکستان، جو ہمارے قریب ہے، نے مجھ سے درخواست کی کہ مزید حملے نہ کیے جائیں۔‘

  2. برطانیہ میں دو ٹرینوں کے بیچ تصادم، امدادی کارروائیاں جاری

    برطانیہ میں دو ٹرینوں کے بیچ تصادم، امدادی کارروائیاں جاری

    ،تصویر کا ذریعہDr Peter Knapp

    برطانیہ میں دو ٹرینوں کے بیچ تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ریل، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں بیڈفورڈ اور لوٹن کے درمیان ٹرینوں کے تصادم اور ٹرین کے عملے اور مسافروں کو لگنے والی شدید چوٹوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔‘

    ریل آپریٹر تھیمز لنک کے مطابق مقامی وقت ساڑھے پانچ بجے سے لوٹن اور بیڈفورڈ کے درمیان تمام لائنز بلاک ہیں۔

    شام سے کئی سروسز تاخیر کا شکار ہیں اور امکان ہے انھیں منسوخ کر دیا جائے گا۔

    ریل آپریٹر نے ٹرینوں پر سوار مسافروں کو آن بورڈ رہنے اور مزید معلومات کا انتظار کرنے کو کہا ہے۔

    تھیمز لنک کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے امدادی کارروائی کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید سوالات کے لیے برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

    ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر ’گہری تشویش‘ رکھتی ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود امدادی اہلکاروں کی شکر گزار ہیں۔

  3. نیتن یاہو کو اسرائیلی عوام اور ٹرمپ دونوں کے دباؤ میں سامنا, شالیٹ گالیگر، بی بی سی نیوز/یروشلم

    نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس وقت دو الگ گروہوں کی طرف سے شدید دباؤ میں ہیں۔

    صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ لبنان میں لڑائی رُک جائے، اس سے پہلے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہو۔ لیکن اسرائیلی عوام کے بعض حلقے اور کئی اسرائیلی رہنما چاہتے ہیں کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں کیونکہ وہ حزب اللہ کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سکیورٹی امور کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ ’پورے لبنان کو جلنا ہو گا۔‘

    نیتن یاہو کے لیے اپنے سب سے طاقتور عالمی اتحادی اور اپنے عوام کے درمیان توازن پیدا کرنا مشکل ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے فعال رہنے تک لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں گے۔ ان کے بقول سرحدی علاقے میں رہنے والے اسرائیلیوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق جب تک اسرائیلی فوج لبنان میں موجود ہے تب تک ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے۔

    یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ جنگ بندی چند ہی گھنٹوں میں کمزور کیوں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سے مبصرین تو یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ یہ جنگ بندی درحقیقت کبھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔

  4. لبنان میں جنگ بندی مگر اسرائیلی حملے جاری، ہم اس بارے میں ہم تک کیا جانتے ہیں؟

    لبنان کے جنوبی علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

    یہ بمباری جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے ٹھکانوں‘ پر 150 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

    لبنان میں امن کے حالیہ وعدے اکثر مزید جنگ پر منتج ہوئے ہیں۔

    اب ایک نئی جنگ بندی نافذ ہے لیکن کوئی پائیدار امن معاہدہ تاحال دور دکھائی دیتا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ سرحد کے ساتھ ایک ایسا سکیورٹی زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں حزب اللہ کی موجودگی نہ ہو۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اس معاہدے کا احترام کرے گا تو وہ بھی اس پر عمل کرے گی۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  5. مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہو گا، چاہے وہ لبنان میں ہو: عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری ’امریکہ پر عائد ہو گی۔‘

    عراقچی نے آج دوپہر اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ طے پانے والے معاہدے کا مقصد ’تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ‘ ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے اور اس معاہدے کی کسی بھی ’خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔‘

  6. بریکنگ, تشدد کے خاتمے کے لیے لبنان، اسرائیل مذاکرات واحد حل ہیں: روبیو

    لبنانی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ تعمیر نو کی منصوبہ بندی، معاشی بحالی اور تشدد کے ’متواتر ادوار‘ کے خامتے کے لیے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات واحد حل ہیں۔

    محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق روبیو نے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکہ لبنانی ریاست کی مکمل حمایت کرے گا۔

  7. جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری، جنوبی لبنان میں دھماکوں کا سلسلہ نہ تھم سکا, سامنتھا گرین وِل - جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ سے رپورٹنگ کر رہی ہیں

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شام 16:00 بجے کی جنگ بندی بظاہر صرف نام کی جنگ بندی دکھائی دیتی ہے۔

    ہم نے دن جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے ایک ہسپتال میں گزارا، جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے جہاں سے شہر اور اردگرد کے دیہات کا 360 درجے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

    ہماری ٹیم نے وہاں موجودگی کے دوران ایک درجن سے زیادہ اسرائیلی فضائی حملے گنے۔

    جب ہم وہاں سے روانہ ہو رہے تھے تو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ہسپتال میں ہمارے مقامی رابطوں نے بتایا کہ دھماکے جاری رہے۔

    نبطیہ ایمبولینس سروس کے مطابق جنگ بندی کے مقررہ وقت کے بعد بھی کم از کم 12 حملے ہو چکے ہیں۔

    شہر کے لوگوں کو اس بات کی بہت کم امید ہے کہ اس جنگ بندی کا احترام کیا جائے گا۔

  8. پاکستان میں سونے کی قیمت میں فی تولہ 14 ہزار 900 روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار 900 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (اے پی ایس جی جے اے) کے مطابق اس کمی کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر چار لاکھ 38 ہزار 36 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 70 روپے کمی کے بعد تین لاکھ 87 ہزار 615 روپے تک آ گئی۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 149 ڈالر کمی کے بعد چار ہزار 305 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔ پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی نرخوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس میں فی اونس 20 ڈالر کا پریمیم شامل کیا جاتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کار احسن الیاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سونے کی قیمت پاکستان میں پہلے ہی اوور کاسٹ چل رہی تھی، اور آج بین الاقوامی سطح پر کمی کے بعد اس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ آج چین کی مارکیٹ بند تھی، اس کے ساتھ امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک کی جانب سے شرح سود میں استحکام کی وجہ سے سونے کی طلب میں کمی دیکھی گئی، جس کے باعث قیمت کم ہوئی اور اس کا اثر پاکستان میں قیمت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی 413 روپے سستی ہو کر چھ ہزار 946 روپے کی سطح پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 373 روپے کمی کے بعد پانچ ہزار 895 روپے ہو گئی۔

  9. بریکنگ, مجبوری میں ہم نہیں، ایران ملا، انھیں ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا: ٹرمپ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران سے مجبوری میں نہیں ملے، ایران ملا۔ وہ ختم ہو چکے ہیں! ہم 60 دن پورے کریں گے۔‘

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنی مختصر پوسٹ میں لکھا کہ ’انھیں (ایران کو) کوئی رقم نہیں ملے گی، ایک پیسہ بھی نہیں۔‘

  10. ایران کی آبنائے ہرمز بندش کی خبروں کی تردید، چاروں ممالک چاہیں تو مذاکرات کے لیے انتظامات میسر ہیں: سوئٹزرلینڈ

    اپنی پریس کانفرنس میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’آبنائے ہرمز کی بندش‘ سے متعلق میڈیا کی بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔

    بقائی نے کہا: ’18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور اس راستے پر جہاز رانی کا عمل جاری ہے۔‘

    پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ اور ایران کے سکیورٹی ذرائع نے اپنی رپورٹوں میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی خبریں نشر کیں تھیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو اعلان کیے گئے مفاہمتی معاہدے کا مطلب عملی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور تقریباً تمام دیگر معاملات پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ادھر سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ چاروں ممالک چاہیں تو مذاکرات کے لیے انتظامات میسر ہیں۔

    سوئس وفاقی محکمہ خارجہ (ای ڈی اے) کے میڈیا ترجمان یوناس مونٹانی نے کہا کہ اس حوالے سے فی الحال مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

  11. لبنان کی صورتحال ایک اشارہ ہے کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ انتہائی اہم معاہدے کے مستقبل پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے, ٹام بیٹ مین، بی بی سی کے نمائندہ برائے امریکی محکمہ خارجہ

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنوبی لبنان میں گذشتہ رات ہونے والی مہلک کشیدگی ایک اور اشارہ ہے کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ انتہائی اہم سمجھے جانے والے معاہدے کے مستقبل پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے۔ یہ حقیقت اس ہفتے انھیں مزید غصے اور مایوسی کا شکار بنا رہی ہے۔

    اس معاہدے، جسے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی کہا گیا، میں لبنان میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان بھی ایک سمجھوتے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے، جہاں تہران کا الزام ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے خود بھی اس مؤقف کو تقویت دی جب انھوں نے اپنے اتحادی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف غیر معمولی سخت الزامات عائد کیے اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی میں بلاوجہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    جنوبی لبنان میں گذشتہ رات کی جھڑپیں ٹرمپ کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن گئی ہیں۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز ایک علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، جس کے جواب میں گروپ نے اسرائیلی فوجیوں کو اینٹی ٹینک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ کے حملے میں اسرائیل کے چار فوجی مارے گئے، جن میں ایک بٹالین کمانڈر بھی شامل تھا۔

    وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ اب جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست عناصر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’پورا لبنان جل جانا چاہیے‘، جبکہ تہران نے ان وزرا کو ’نسل کشی پر یقین رکھنے والا موت کا فرقہ‘ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ کے لیے اس معاہدے کا برقرار رہنا اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت گیر عناصر کو قابو کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں، لیکن فی الحال اس بات کے آثار بہت کم نظر آ رہے ہیں۔

  12. تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو علاج کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا: حکومتِ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو - کوئٹہ

    Farhat Ullah Nasir

    ،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah Nasir

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو خصوصی علاج کے لیے امریکہ بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق چیف منسٹر سیکرٹریٹ نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے بیرونِ ملک علاج کے لیے متعلقہ حکام کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا علاج کراچی کے آغا خان اسپتال میں جاری ہے، جہاں ان کا علاج مزید ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد انھیں خصوصی علاج کے لیے امریکہ منتقل کیا جائے گا۔

    شاہد رند کے مطابق حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں ضروری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

  13. اسرائیل کے لبنان پر حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک، 97 زخمی

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہو گئے ہیں۔

    وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں آدھی رات سے آج دوپہر تک کے دوران ہوئی ہیں۔ اس کے بعد اسرائیل اور حزب الله کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔

    اسرائیل نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ اس نے جنگ بندی کی تصدیق سے پہلے مشرقی لبنان کی وادی بقاع میں حزب الله کے دو کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔

  14. بریکنگ, آئی ڈی ایف نے اسرائیل لبنان جنگ بندی کی تصدیق کر دی

    آئی ڈی ایف نے لبنان کی حزب الله اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایک بیان میں کہا: ’ہم جنگ بندی میں ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو آئی ڈی ایف لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔‘

  15. جنگ بندی کی خبر لبنان میں 18 ہلاکتوں اور چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    جنگ بندی کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں گذشتہ شب اسرائیلی فضائی حملوں کے ایک سلسلے کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب الله سے منسلک 80 اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کے ’درجنوں‘ ارکان کو ہلاک کیا۔

    یہ پیش رفت اس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں لبنان میں مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔

  16. بریکنگ, اسرائیل اور حزب الله نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، امریکی عہدیدار کی تصدیق

    اسرائیل اور حزب الله نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، امریکی عہدیدار کی تصدیق

    ایک امریکی عہدیدار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حزب الله نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق 16:00 بجے نافذ العمل ہو گئی۔

  17. اسرائیل نے جنگ بندی کے کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کی: حزب اللہ کا الزام

    bbc

    لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کے خلاف لبنان کی سرزمین اور عوام کا دفاع کرے گی۔

    گروپ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    حزب اللہ نے جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’اسلامی مزاحمت کسی بھی جارحیت کے خلاف چوکس رہے گی۔ اس کے جنگجو اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کا دفاع کریں گے۔‘

    اعلان میں کہا گیا کہ ’دشمن نے کبھی بھی جنگ بندی کے کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔‘

    اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گروپ کی طرف سے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کے جواب میں لبنان میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ’80 سے زائد اہداف‘ کو نشانہ بنایا، جس میں اس کے درجنوں ارکان ہلاک ہو گئے۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے ’خلاف ورزی‘ کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔

  18. بریکنگ, حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں 74 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔

    وزیراعظم کے مطابق خطے میں کشیدگی کے خاتمے، معاشی صورتحال میں بہتری اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے قوم سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کرنے جا رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام نے مشکل حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومت ان کے تعاون پر تہہ دل سے شکر گزار ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بحران کے آغاز سے ہی حکومت نے اپنے وسائل بروئے کار لا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے ذریعے حاصل ہونے والی 129 ارب روپے کی بچت استعمال کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان میں توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، نہ ایندھن کی قلت ہوئی، نہ لمبی قطاریں لگیں اور نہ ہی عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے معیشت کو مستحکم رکھا گیا اور عالمی مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا۔ وزیراعظم کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جتنی کمی آئے گی، وہ مکمل طور پر عوام کو منتقل کی جائے گی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے، مہنگائی میں مزید کمی لانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔ انھوں نے بتایا کہ بحران کے دوران حکومتی سطح پر کفایت شعاری اپنائی گئی جبکہ کم آمدنی والے طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔

  19. حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد میں نے فوج کو تمام تر طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا: نیتن یاہو

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہreuters

    52ویں آرمرڈ بٹالین کے کمانڈر اور ملکی فوج کے تین سپاہیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر امید ظاہر کی کہ ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

    نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملے کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کہا اور لکھا: ’پچھلی رات میں نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ حزب اللہ پر حملہ کرے۔‘

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے 80 سے زیادہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے تنظیم کے درجنوں ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔

    انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور ان حملوں کی قیمت حزب اللہ کو بہت بھاری پڑے گی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ آج صبح انھوں نے اپنے ملک کے وزیر دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف کے ساتھ جنوبی لبنان میں کارروائیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ’جب تک شمالی بستیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو، اسرائیل جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون میں رہے گا۔‘

  20. مصر کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اتوار کو ہو گا

    foreignofficepk

    ،تصویر کا ذریعہforeignofficepk

    مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے وزیر خارجہ بدر عبدالعطی اتوار کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اپنے ہم منصبوں کی میزبانی کریں گے۔

    مصری وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، ’عبدالبتی اتوار کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ فیصل بن فرحان، ہاکان فیدان، اور اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی جائے گی۔‘

    بیان میں بات چیت کے موضوع کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم چاروں ممالک مشرق وسطیٰ کی جنگ سے متعلق ثالثی کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔

    ان چار ممالک کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات اپریل میں (تین ماہ قبل) ترکی کے شہر انتالیہ میں ایک سفارتی میٹنگ کے موقع پر ہوئی تھی۔

    سوئس وزارت خارجہ کے مطابق، کل کی ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ مذاکرات کے بعد ہوئی ہے، جو جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے آج ہونے والے تھے، ملتوی کر دیے گئے تھے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے صدور کی جانب سے آن لائن دستخط کیے گئے ہیں۔ امریکہ ایران معاہدے کا مقصد تنازع کو ختم کرنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر مسائل پر 60 دن کی بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔

    اس معاہدے کے تحت لبنان میں لڑائی کا خاتمہ بھی ہونا تھا تاہم اسرائیلی افواج اور حزب اللہ گروپ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔