رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق
ایک روسی ڈرون مشرقی شہر گالاتسی میں ایک رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے
میں آگ بھڑک اٹھی اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ جمعے کے روز رومانیہ کے
مشرقی شہر گالاتسی میں پیش آیا، جو یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رومانیہ کی
وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی جانب سے ’سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال
انگیزی‘ قرار دیا ہے۔
رومانیہ کے ریسکیو حکام کے مطابق
دو افراد کو معمولی زخم آنے کے بعد طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ تقریباً 70 افراد
کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پا
لیا۔
یوکرین کے ساتھ چار سال سے جاری
جنگ کے دوران یہ پہلا موقع نہیں کہ جب روسی ڈرون نیٹو رکن ملک رومانیہ کی حدود میں
داخل ہوئے ہوں، تاہم یہ پہلا واقعہ ہے جس میں رومانیہ کے شہری زخمی ہوئے ہیں۔
روس کی جانب سے تاحال اس واقعے پر
کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد رومانیہ کی سرزمین کو متاثر کرنے
والے ’اب تک کے انتہائی سنگین اور خطرناک‘ واقعے کے بعد ملک کی سپریم کونسل برائے
قومی دفاع کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
صدر نیکوشور دان کے مطابق یہ
اجلاس جمعے کے روز یعنی آج منعقد ہوگا، جس میں روسی فیڈریشن سے متعلق ’متناسب
اقدامات‘ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں
کہا کہ ’میں نہایت سخت الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس واقعے کی مکمل ذمہ داری
روسی فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔‘
رومانیہ کی فضائی حدود میں ڈرونز
کی موجودگی کا پتا چلنے کے بعد دو ایف-16 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تھے۔ صدر کے
مطابق حالات ایسے نہیں تھے کہ شہریوں کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالے بغیر ہدف کو
تباہ کیا جا سکے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے
اتحادی ممالک سے اضافی اینٹی ڈرون دفاعی صلاحیتوں کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔
دوسری جانب یورپی کمیشن کی سربراہ
ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ روس کی ’جارحیت پر مبنی جنگ نے ایک اور خطرناک حد
عبور کر لی ہے‘ اور یورپی یونین رومانیہ اور اس کے عوام کے ساتھ ’مکمل یکجہتی‘ کا
اظہار کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ
رومانیہ کے گنجان آباد علاقے میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے۔‘
ایکس پر جاری اپنے بیان میں ارسلا
وان ڈر لیئن نے کہا کہ ’ہم اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے
ساتھ، خاص طور پر اپنی مشرقی سرحد پر، روس پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے رہیں گے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ یورپی
یونین روس کے خلاف پابندیوں کے 21ویں پیکج کی تیاری کر رہی ہے۔