امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فوجی اتحادی تنظیم اے یو کے یو ایس کے تحت زیرِ آب ڈرون ٹیکنالوجی تیار کریں گے، جس کا مقصد سمندر کی تہہ میں موجود کیبلز کا تحفظ اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔
یہ بغیر عملے کے چلنے والی زیرِ آب گاڑیاں (یویو ویز) اگلے سال تک تیار ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ برطانیہ اس میں تقریباً 201 ملین ڈالر کا حصہ ڈالے گا۔
یہ اعلان سنگاپور میں ہونے والے ایک سکیورٹی اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے کیا گیا، جو اے یو کے یو ایس منصوبوں کی سست پیش رفت کے دعووں کے بعد سامنے آیا ہے۔
تنقید کو تسلیم کرتے ہوئے جان ہیلی نے کہا کہ ’اے یو کے یو ایس میں ہم نے کافی عرصے تک صرف باتیں کیں اور بہت کم عمل کیا، لیکن اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔‘
یہ اے یو کے یو ایس معاہدہ 2021 میں شروع ہوا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نیوکلیئر آبدوزیں تیار کر رہے ہیں اور عسکری مہارت کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اس اتحاد کو بڑے پیمانے پر چین کی انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتی سمندری موجودگی اور جنوبی بحیرہ چین جیسے متنازع علاقوں میں کشیدگی کے مقابلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ نیا منصوبہ اے یو کے یو ایس کے پِلر ٹو کے تحت پہلا اہم اقدام ہے، جس میں جدید صلاحیتوں جیسے ہائپر سانک میزائل، زیرِ آب روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت پر کام کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق، اس منصوبے کے ذریعے جدید سینسرز اور ہتھیار تیار کیے جائیں گے، زیرِ آب ڈھانچے (کیبلز اور پائپ لائنز) کا تحفظ کیا جائے گا، نگرانی اور جاسوسی کے مشن انجام دیے جائیں گے اور حملے اور لاجسٹکس آپریشنز کیے جا سکیں گے۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف دفاع کو مضبوط کرے گی بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے اہم زیرِ آب کیبلز اور پائپ لائنز کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد دے گی۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے روس پر شمالی سمندری علاقوں میں کیبلز اور پائپ لائنز کے خلاف خفیہ کارروائیوں کا الزام لگایا تھا، جس کی روس نے تردید کی۔
اسی طرح برطانیہ اور ناروے نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی آبدوزوں کی نگرانی کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ برطانیہ تقریباً 60 زیرِ آب کیبلز سے منسلک ہے ۔حالیہ برسوں میں برطانوی پانیوں میں روسی جہازوں کی موجودگی میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب، چین پر بھی تائیوان اور سویڈن کے قریب زیرِ آب کیبلز کو نقصان پہنچانے کے شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔
تاہم تینوں ممالک نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا یہ منصوبہ روس اور چین کے خلاف ہے یا نہیں۔
اے یو کے یو ایس کے ’پِلر ون‘ کے تحت برطانیہ اور آسٹریلیا میں نیوکلیئر آبدوزیں تیار کی جائیں گی۔ آسٹریلیا کے لیے یہ اس کی دفاعی صلاحیت میں ایک بڑی بہتری سمجھی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہوگا جسے نیوکلیئر پروپلشن ٹیکنالوجی دی جائے گی۔
تاہم آسٹریلیا میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ مہنگا دفاعی منصوبہ وقت پر مکمل ہوسکے گا یا نہیں، کیونکہ نئی آبدوزیں 2040 کی دہائی میں متوقع ہیں۔
تب تک امریکہ اور برطانیہ اپنی آبدوزیں آسٹریلیا میں تعینات کریں گے۔ آسٹریلیا 2030 کی دہائی میں امریکہ سے پرانی نیوکلیئر آبدوزیں خریدے گا۔ آسٹریلوی وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ اس منصوبے کا کوئی متبادل نہیں ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ آبدوزوں کی تعیناتی کا منصوبہ درست راستے پر ہے۔
مارلس کے مطابق سنہ 2027 تک ایچ ایم اے ایس سٹرلنگ نیول بیس مکمل طور پر تیار ہو جائے گا۔ جنوبی آسٹریلیا میں آبدوزوں کی تعمیر کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ مشرقی اور مغربی دنیا میں بڑھتے ہوئے سمندری سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔