امریکی وکلا کے بقول بروکلین کا حراستی مرکز ’زمین پر جہنم‘ ہے۔ ماضی میں بعض جج بھی مجرموں کو وہاں بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں۔ یہ بروکلین کی وہ جیل ہے جہاں مادورو کو رکھا گیا ہے۔
کاراکس میں کارروائی کے بعد پہلے فوجی طیارے اور پھر ہیلی کاپٹر پر مادورو کو اس حراستی مرکز تک پہنچایا گیا۔
ایک ویڈیو میں نیویارک پہنچنے پر مادورو کو ’گُڈ نائٹ‘ اور ’نیا سال مبارک‘ کہتے سنا جا سکتا ہے۔
ہاتھوں پر ہتھکڑی کے ساتھ وہ دو ایجنٹس کے ساتھ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے سپورٹس جیکٹ، سر پر سیاہ ٹوپی اور موزوں کے ساتھ سینڈل پہنے ہوئے ہیں۔
بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں ایک سیل میں بند کیے جانے سے قبل انھیں ڈی ای اے ہیڈکوارٹر لے جایا گیا تھا۔ ان کی بیوی سیلیا فلوریس کو بھی اسی مرکز میں قید کیا گیا ہے۔
یہ بنیادی طور پر کنکریٹ اور اسٹیل کا عمودی ڈھانچہ ہے اور اس میں کئی منزلیں ہیں۔ یہ جیل نیویارک کی بندرگاہ اور سینٹرل پارک سمیت دیگر مشہور مقامات سے قریب ہے۔
یہ جیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں کھولی گئی تھی تاکہ شہر میں جیلوں کی بھیڑ کو کم کیا جا سکے۔
اگرچہ اس کا مقصد مین ہٹن اور بروکلین کی عدالتوں میں مقدمات کے منتظر مرد و خواتین قیدیوں کو رکھنا ہے تاہم فیڈرل بیورو آف پرزنس کے مطابق یہاں مختصر سزائیں کاٹنے والے مجرم بھی رکھے جاتے ہیں۔
یہ نیویارک میں فیڈرل بیورو آف پرزنس کی واحد جیل ہے کیونکہ ایجنسی نے 2021 میں مین ہٹن کی ایک جیل بند کر دی تھی جہاں 2019 میں جیفری ایپسٹین نے پراسرار حالات میں خودکشی کی تھی۔
یہ جیل پراسیکیوٹر کے دفتر اور دو وفاقی عدالتوں کے درمیان واقع ہے اور اندرونی راہداریوں کے ذریعے منسلک ہے تاکہ ملزمان کو عوامی نمائش کے بغیر منتقل کیا جا سکے۔
عمارت اسٹیل کی رکاوٹوں اور دور سے تصاویر لینے والے کیمروں سے گھری ہوئی ہے اور حالیہ گھنٹوں میں بیرونی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہاں کھیلوں کے لیے جگہیں، طبی یونٹس اور حتیٰ کہ ایک لائبریری بھی موجود ہے۔ جیل کے سیل چند میٹر کے ہیں جہاں قیدی زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
بروکلین کی اس جیل میں بھیڑ، غیر صحت مند حالات اور تشدد جیسے مسائل رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ جیل 1,000 قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی لیکن 2019 میں یہاں 1,600 قیدی موجود تھے۔ فی الحال یہاں 1,336 قیدی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران جیل صرف 55 فیصد عملے کے ساتھ چل رہی تھی۔
زیادہ بھیڑ اور عملے کی کمی لڑائیوں اور تشدد کی وجوہات میں شامل ہیں۔ عمارت کی حالت بھی ناقص ہے جیسا کہ 2019 میں ظاہر ہوا جب ایک برقی خرابی نے سردیوں کے وسط میں کئی دن تک قیدیوں کو حرارت سے محروم رکھا۔
اس وقت نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا تھا کہ جیل کی حالت ’ناقابل قبول اور غیر انسانی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’قید ہونا انسانی حقوق کی نفی نہیں ہونا چاہیے۔‘
ایڈون کورڈرو جیسے وکلا نے اس جیل کو ’زمین پر جہنم‘ قرار دیا تھا۔ سی این این کے مطابق ان کے موکل یوریل وائٹ جون 2024 میں دیگر قیدیوں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔
سابق ڈائریکٹر فیڈرل ڈیفینڈرز آف نیویارک ڈیوڈ پیٹن نے بھی یہ رائے دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ جیل کے مسائل ’طبی سہولت کی کمی سے لے کر صفائی کی سنگین ناکامیوں، کھانے میں کیڑوں کی موجودگی اور تشدد تک‘ ہیں۔
یہاں 2021 سے 2024 کے درمیان کم از کم چار قیدیوں کی خودکشی رپورٹ ہوئی ہے۔ کچھ جج بھی جیل کی حالت سے ناخوش ہیں اور انھوں نے وہاں مزید مجرم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک مثال ڈسٹرکٹ جج گیری براؤن ہیں جنھوں نے اگست 2024 میں کہا کہ اگر حکام نے ایک 75 سالہ شخص کو اس حراستی مرکز بھیجا تو وہ اس کی نو ماہ کی سزا ختم کر کے انھیں گھر پر نظر بند کر دیں گے۔
خراب حالات کے باوجود بروکلین کی یہ جیل نمایاں قیدیوں کو رکھنے کے لیے منتخب کی گئی ہے۔ مادورو پہلے لاطینی امریکی سیاستدان نہیں ہیں جو یہاں پہنچے ہیں۔ ہونڈوراس کے سابق صدر خوان اورلاندو ہرنانڈیز نے تین سال سے زیادہ یہاں گزارے۔ گزشتہ دسمبر ٹرمپ نے انھیں صدارتی معافی دی تھی۔
میکسیکو کے سابق سیکریٹری برائے عوامی سلامتی جینارو گارسیا لونا بھی یہاں رہے۔ مشہور منشیات فروش جوآکین ’ایل چاپو‘ بھی یہاں قید رہ چکے ہیں۔ دیگر نمایاں قیدیوں میں منظم جرائم کے تاریخی کردار جیسے جان گوٹی اور القاعدہ کے ارکان شامل ہیں جو نائن الیون حملوں کے بعد گرفتار ہوئے تھے۔