باجوڑ دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت پانچ افراد ہلاک، 11 زخمی

باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ باجوڑ کے پولیس افسر وقاص رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے میں گاڑی پر بم دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے 'ضروری شرائط' پر اتفاق کر لیا: صدر ٹرمپ
  • ٹرمپ اور نتن یاہو کی ملاقات اگلے ہفتے: 'ایران، غزہ، شام اور خطے کے دیگر چیلنجز' پر بات چیت متوقع
  • پاکستان میں پروف آف رجسٹریشن کارڈز کے حامل افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری

لائیو کوریج

  1. مستونگ میں مسلح افراد کا سرکاری دفتر اور بینکوں پر حملہ: ’پولیس اہلکاروں کے پہنچنے پر راکٹ فائر کیے گئے‘

    BBC

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل کے دفتر اور بینکوں پر حملہ کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم ایک بچہ ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈی ایس پی مستونگ محمد یونس مگسی نے بتایا کہ ’مسلح حملہ آوروں نے پہلے مستونگ شہر میں تحصیل آفس پر حملہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس حملے کے بعد پولیس اہلکار پہنچے اور حملہ آوروں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس مقابلے کے بعد حملہ آور تحصیل آفس سے نکل کر ایک بینک میں داخل ہوئے جہاں پولیس اہلکاروں کے پہنچنے کے بعد انھوں نے راکٹ فائر کیے۔‘

    ڈی ایس پی کا کہنا تھاُ کہ ’ایف سی کی نفری بھی شہر میں پہنچ گئی ہے اور سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کا مسلح افراد کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت جانی اور مالی نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم اب تک ایک بچے کی ہلاکت کے علاوہ پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سرکاری حکام کے مطابق مستونگ کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ہے۔

    مسلح افراد کے حملے کے بعد شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہر کے مرکزی علاقے خالی ہوگئے ہیں۔

    BBC

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے متصل جنوب میں واقع ایک ضلع ہے جو کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ضلع مستونگ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع مستونگ میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    مستونگ میں ماضی میں پیش آنے والے بڑے واقعات میں سے بعض کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں جبکہ بعض کہ ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

    حالیہ واقعے کی ذمہ داری فی الحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

  2. ٹرمپ کی عالمی امداد میں کٹوتی سے پانچ سال میں ایک کروڑ 40 لاکھ اموات کا خطرہ, سٹورٹ لاو، بی بی سی نیوز

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دی لانسیٹ نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی انسانی امداد کے لیے امریکی فنڈنگ میں کٹوتی کے اقدام سے سنہ 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اضافی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

    طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ قبل از وقت موت کا خطرہ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مارچ میں کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے 80 فیصد سے زیادہ پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔

    لانسیٹ کی رپورٹ کے شریک مصنف ڈیوڈ رسیلا نے ایک بیان میں کہا کہ ’بہت سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے اثرات کسی بھی عالمی وبا کی طرح ہو سکتے ہیں یعنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا امکان ہے۔‘

    بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ سے وابستہ محقق رسیلا کا کہنا ہے کہ ’فنڈز میں کٹوتی سے خطرے سے دوچار آبادیوں میں صحت کے شعبے میں دو دہائیوں سے جاری پیش رفت کو اچانک روکنے کا خطرہ ہے۔‘

    133 ممالک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہوئے محققین کا کہنا ہے کہ یو ایس ایڈ کی مالی اعانت کی وجہ سے سنہ 2001 سے سنہ 2021 کے درمیان ترقی پذیر ممالک میں تقریباً نو کروڑ افراد کو موت میں منہ میں جانے سے بچایا گیا۔

    تخمینے کے مطابق یہ کٹوتی سنہ 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس تعداد میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 45 لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے، یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر سال تقریباً سات لاکھ بچوں کی موت ہو سکتی ہے۔

  3. ترکی میں مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ بنانے کے الزام میں چار صحافی گرفتار, یانگ تیان، بی بی سی نیوز

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی میں حکام نے ایک میگزین سے منسلک چار ملازمین کو مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے ’لیمن‘ نامی میگزین میں شائع ہونے والے خاکے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ میگزین کے ایڈیٹر اِن چیف، گرافک ڈیزائنر، ادارہ جاتی ڈائریکٹر اور کارٹونسٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ’لیمن‘ میگزین نے اس بات کی تردید کی کہ اُن کی جانب سے شائع کردہ خاکے میں پیغمبرِ اسلام کو دکھایا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ’(شائع شدہ) کام میں کسی بھی طرح سے پیغمبرِ اسلام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔‘

    استنبول میں پیر کے روز پولیس تعینات کی گئی تھی کیونکہ سینکڑوں افراد نے اس اشاعت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

    مظاہرین میگزین کے دفاتر کے باہر جمع ہوئے اور ’دانت کے بدلے دانت، خون کے بدلے خون‘ جیسے نعرے لگائے۔

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

    ترکی کے وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے ’مذہبی اقدار کی کھلے عام توہین‘ کرنے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    وزیر انصاف کے مطابق ’پیغمبرِ اسلام کا کارٹون یا اُن کی کسی بھی قسم کی تشبیح نہ صرف ہماری مذہبی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی امن کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ میگزین کے صحافیوں کے خلاف بغیر کسی تاخیر کے فوری اور ضروری قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    میگزین کی سیینئر انتظامیہ کے دیگر ارکان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔

    میگزین نے اپنے ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے قارئین سے معافی مانگی ہے تاہم ادارے کی جانب سے اپنے کام کا دفاع کیا گیا ہے اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارٹون میں کسی بھی طرح پیغمبرِ اسلام کی عکاسی نہیں کی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کے کارٹونسٹ (خاکے بنانے والے) اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایک مسلمان کی تصویر کشی کرکے مظلوم مسلمانوں کی راستبازی کو پیش کرنا چاہتے تھے اور ان کا ارادہ کبھی بھی مذہبی اقدار کی توہین کرنے کا نہیں تھا۔

  4. انڈین وزیر اعظم نریندر مودی 2 جولائی سے پانچ ممالک کا دورہ کریں گے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی 2 جولائی سے پانچ ممالک کا دورہ کریں گے۔ اس آٹھ روزہ دورے میں وہ گھانا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، ارجنٹینا، برازیل اور نمیبیا جائیں گے۔

    اس دورے کے دوران وہ برازیل میں منعقد ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم مودی اپنے دور اقتدار میں چوتھی بار برازیل کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔

    2 جولائی سے شروع ہونے والے اس دورے میں وہ سب سے پہلے گھانا پہنچیں گے۔ انڈیا کے وزیر اعظم 30 سال بعد گھانا کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اس دورے کے دوران گھانا کے صدر سے ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    اپنے دورے کے آخری مرحلے میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نمیبیا پہنچیں گے۔ یہ پی ایم مودی کا نمیبیا کا پہلا دورہ ہوگا اور نمیبیا کے صدر نیتمبو نندی کی انڈیا کے ساتھ پہلی دو طرفہ بات چیت ہوگی۔

  5. شدید بارشوں کے باعث پنجاب میں پیش آئے مختلف واقعات میں مزید پانچ ہلاکتیں، 13 زخمی

    BBC/ NDMA

    ،تصویر کا ذریعہBBC/NDMA

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے متعدد شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید آندھی اور بارشوں کی وجہ سے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں لاہور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں بارشوں اور تیز آندھی کی وجہ سے پنجاب بھر میں مختلف واقعات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ سات مقامات پر چھتوں کے گرنے اور ایک جگہ پر دیوار کے گرنے کی اطلاعات ہیں۔

    واضح رہے کہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق 29 جون سے پانچ جولائی تک ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پوٹھوہار، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بالاکوٹ، مری اور گلیات میں موسلادھار بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ممکنہ خطرات کے حوالے سے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’کمزور تعمیرات، کچی دیواریں، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز گرنے کا خطرہ ہے۔ آندھی اور طوفان سے حد نگاہ کم ہونے سے حادثات کا امکان۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک مسائل۔ بجلی کی بندش شامل ہے۔‘ تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر کہا گیا ہے کہ ’ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔ سیاح موسمی حالات سے واقف رہیں۔ کمزور انفراسٹرکچر، درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔‘

  6. برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو ایف 35 طیاروں کے سپئیر پارٹس کی برآمد قانونی ہے، برطانوی ہائیکورٹ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی ہائیکورٹ نے امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کے تمام برطانوی ساختہ سپیئر پارٹس کی اسرائیل کو منتقلی روکنے کی کوشش کرنے والوں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے پاس اس معاملے میں مداخلت کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں برطانوی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کے پیش نظر حکومت نے گذشتہ ستمبر میں اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کے تقریباً 30 لائسنس معطل کر دیے تھے۔

    لیکن برطانیہ ایف 35 کے گلوبل پول کو پارٹس فراہم کرتا ہے جس تک اسرائیل رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ حکومت نے دلیل دی تھی کہ وہ بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈالے بغیر دفاعی پروگرام سے دستبردار نہیں ہوسکتی ہے۔

    تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں گروپوں نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ کی چیف ایگزیکٹیو ساچا دیش مکھ نے کہا کہ ’غزہ کی ہولناک حقیقت پوری دنیا کے سامنے آ رہی ہے، خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے، نام نہاد محفوظ علاقوں میں شہری ہلاک ہو گئے، ہسپتال ملبے میں تبدیل ہو گئے اور ظالمانہ ناکہ بندی اور جبری نقل مکانی کی وجہ سے لوگ بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔‘

    یہ فیصلہ زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی یہ برطانوی حکومت کو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دیتا ہے۔

    دونوں ججوں نے کہا کہ معاملہ اس بارے میں نہیں ہے کہ آیا برطانیہ کو اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرنا چاہئے یا نہیں، کیونکہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

    ان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ایک خاص مسئلے پر فیصلہ کریں اور وہ یہ کہ ’کیا برطانیہ کو ’ایک مخصوص کثیر الجہتی دفاعی تعاون سے دستبردار ہونا چاہئے‘ کیونکہ اس امکان کی وجہ سے کہ برطانیہ کے تیار کردہ کچھ پرزے اسرائیل کو فراہم کیے جاسکتے ہیں اور غزہ کے تنازع میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے آئین کے تحت یہ انتہائی حساس اور سیاسی معاملہ ایگزیکٹو کا معاملہ ہے جو جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ اور بالآخر رائے دہندگان کے سامنے جوابدہ ہے نہ کہ عدالتوں کے لیے۔‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ مقدمہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ الحق اور گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک کی جانب سے ڈپارٹمنٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

    حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ دفاعی پروگرام سے دستبرداری برطانیہ اور نیٹو پر امریکی اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاعی ایکسپورٹ لائسنسنگ کا جائزہ لینا جاری رکھے گی۔

    ایک ترجمان نے کہا کہ ’عدالت نے اس معاملے پر اس حکومت کے مکمل اور قانونی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے وکلا اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا انھیں اپیل کرنے کی بنیاد مل سکتی ہے۔

  7. ایلون مسک کی ٹرمپ کے ٹیکس پلان پر شدید تنقید: ’اب ایک نئی پارٹی بنانے کی ضرورت ہے‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا تفصیلی ٹیکس پلان، جسے وہ ذاتی طور پر ’ایک بڑا، خوبصورت بل‘ کہتے ہیں، کانگریس کی راہداریوں اور چیمبرز میں ہفتوں کی بحث اور تنازعات کے بعد پیر 30 جون کی شام کو ووٹنگ کے عمل میں داخل ہوا۔

    ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے ٹیکس منصوبے کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور بار بار اسے ’تباہی اور امریکی معیشت میں کساد کا محرک‘ قرار دے چکے ہیں، نے پیر کے روز ایکس پر منصوبے کے نفاذ کے بعد حکومت کے قرضوں کا تخمینہ ’6 ٹریلین ڈالر‘ لگایا ہے۔

    مسک، جو صرف 40 دن پہلے تک امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کے رکن تھے، نے پیر کو ایک بار پھر اس بل پر اُس وقت تنقید کی کہ جب اس پر سینیٹ میں ووٹنگ شروع ہوئی۔

    واضح رہے کہ اس بل میں دفاعی اخراجات میں اضافے اور فلاحی سکیموں کی فنڈنگ میں کٹوتیاں تجویز کی گئی ہیں۔

    ایکس پر لکھتے ہوئے مسک نے کہا کہ ’شاید اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ میں ایک نئی پارٹی تشکیل دی جائے‘ تاکہ ان کی رائے میں ملک کو سیاسی تعطل سے بچایا جا سکے۔‘

    ہزاروں صفحات پر مشتمل یہ بل، جس پر سینیٹرز کی بحث 20 گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہے، گزشتہ چند ہفتوں سے کانگریس ارکان کے درمیان شدید اختلافات کا باعث بنا رہا ہے۔ اسے سینیٹ میں ایک بھی ووٹ نہیں ملا اور ایوان نمائندگان میں صرف ایک ووٹ سے اس کی منظوری دی گئی۔

  8. امریکی حملے میں ’تباہ‘ ہونے والی ایرانی جوہری تنصیب ’فردو‘ کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں بھاری مشینری کی موجودگی کی تصدیق

    MAXAR

    ،تصویر کا ذریعہMAXAR

    میکسر ٹیکنالوجیز کی سیٹلائٹ تصاویر میں ایران میں فردو جوہری تنصیب پر بھاری تعمیراتی مشینری کو دکھایا گیا ہے۔

    29 جون کو سامنے آنے والی تصاویر میں اس مقام پر کھدائی کرنے والی ایک مشین اور کرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصاویر میں بلڈوزر اور کرین کو سائٹ تک ایک نئی تعمیر شدہ رسائی سڑک کے اوپر دکھایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ وہی ایرانی جوہری تنصیب ہے کہ جسے امریکہ کی جانب سے بنکر بسٹنگ بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ تعمیراتی مشینری سائٹ کے داخلی دروازے اور کمپلیکس کے مشرقی حصے میں ایک تباہ شدہ عمارت پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہے، جسے امریکی حملوں کے ایک دن بعد اسرائیلی فضائی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔

    جوہری ہتھیاروں کے ماہر ڈیوڈ البرائٹ، جنھوں نے 28 جون کو لی گئی اسی جگہ کی تصاویر کا تجزیہ کیا تھا کہتے ہیں کہ تعمیراتی کام میں گڑھوں کو دوبارہ بھرنا، نقصانات کا تخمینہ لگانا اور ریڈیولاجیکل سیمپلنگ شامل ہوسکتے ہیں۔

    امریکی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے ایران کی جوہری افزودگی کی اہم تنصیبات کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

    ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ’سنگین‘ ہے لیکن تفصیلات واضح نہیں ہیں، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اصرار ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام طے شدہ وقت سے ’دہائیوں‘ پیچھے ہے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جمعے کے روز کہا کہ ایران چند ماہ میں یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

    BBC/MAXAR

    ،تصویر کا ذریعہBBC/MAXAR

    BBC/MAXAR

    ،تصویر کا ذریعہBBC/MAXAR

    فردو کو امریکی حملے میں کتنا نقصان ہوا تھا؟

    22 جون کو بنائی گئی ہائی ریزولوشن تصاویر میں چھ نئے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی بموں کا داخلی پوائنٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرمئی دھول اور پہاڑ کے ساتھ ملبے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    میکنزی انٹیلیجنس سروسز میں سینیئر امیجری اینالسٹ سٹو رے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ 'آپ کو داخلی راستے پر بڑے دھماکے کے آثار نہیں دکھائی دیں گے کیونکہ یہ داخلی پوائنٹ پر پھٹنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا بلکہ تنصیب میں گہرائی میں جا کر پھٹتا ہے۔'

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر دو مختلف داخلی پوائنٹس پر تین مرتبہ بم گرائے گئے اور زمین پر موجود سرمئی دھول کنکریٹ کا ملبہ دکھائی دیتی ہے جو دھماکے کے باعث بکھرا ہوا ہے۔

    رے کا مزید کہنا ہے کہ سرنگ کا داخلی راستہ بظاہر بند کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے قریب بظاہر کوئی ظاہری گڑھا موجود نہیں ہے، رے سمجھتے ہیں کہ یہ شاید ایران کی جانب سے کسی بھی فضائی بمباری سے بچنے کے لیے کیا گیا ہو۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں سے جوہری تنصیب کو کتنا نقصان ہوا ہے۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کی عدلیہ نے ’غداروں اور کرائے کے فوجیوں‘ کے خلاف تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی برانچز تشکیل دے دی ہیں۔ پیر کو ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نئی برانچز کے قیام کے لیے ملک بھر میں تمام جوڈیشل دفاتر کو پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔
    • مغربی غزہ میں سمندر کنارے واقع ایک کیفے پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ طبی کارکنان اور عینی شاہدین کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور مقامی رہائشیوں میں مقبول اس کیفے پر حملہ پیر کو ہوا۔
    • بنگلہ دیش میں ایک خاتون پر جنسی تشدد کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر ہونے کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کا کہنا تھا کہ گذشتہ جمعرات کو ان کے والد کے گھر پر ان کا ریپ کیا گیا ہے۔ شیئر کی جانے والی ویڈیو کلپ میں متعدد افراد کو جائے وقوعہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
    • انڈیا کی ریاست تلنگانا میں ایک فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد کے نزدیک پاشامیلارم انڈسٹریل زون میں واقع ایک کیمیکل فیکٹری کا ری ایکٹر پھٹنے سے پیش آیا۔ دھماکے کے بعد فیکٹری میں آگ بھرک اٹھی ہے۔ ری ایکٹر کے پھٹنے کے بعد علاقے کیمیکل کی بو پھیل گئی ہے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔