ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کی تجاویز کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ: ’ایرانی چاہتے ہیں ہم آبنائے ہرمز جلد از جلد کھول دیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک ’انتہائی بحران کی حالت‘ میں ہے اور وہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولی دیں۔‘ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک 'انتہائی بحران کی حالت' میں ہے اور وہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم 'آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولی دیں‘
  • متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے
  • قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے امریکہ اور ایران میں ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر، پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا
  • ایران کے نائب وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی‌ نیک کا کہنا ہے کہ امریکہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنے کے قابل نہیں رہا
  • خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غور کیا جائے گا

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی: پمز انتظامیہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) ہسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے کے بعد صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔

    اب پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 28 اپریل کو عمران خان کو پمز لایا گیا جہاں ان کی آنکھ میں انٹرا ویٹریئل انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی۔

    پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انجیکشن لگانے سے پہلے آنکھوں کے ماہر معالجین نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت مستحکم پائی۔ پمز انتظامیہ کے اعلامیے میں درج ہے کہ عمران خان کی آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی کی گئی جس سے طبی بہتری ظاہر ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق عمران خان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد، تمام حفاظتی احتیاطی تدابیر اور پروٹوکولز اختیار کرتے ہوئے، سرجنز نے آپریشن تھیٹر میں ان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز لگائی۔

    پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں قیام کے دوران عمران خان کی حالت مستحکم رہی، بعد ازاں انھیں مزید نگہداشت اور فالو اَپ سے متعلق ہدایات اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

  2. عمران خان کا پمز ہسپتال اسلام آباد میں طبی معائنہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔

    اڈیالہ جیل حکام کے مطابق دو گھنٹے تک طبی معائنے کے بعد عمران خان کو صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق تفصیلی رپورٹ طبی معائنہ کرنے والی ٹیم جاری کرے گی۔

  3. جنگ کے دوران 50 ہسپتالوں اور ایمرجنسی مراکز کو نقصان پہنچا: ایرانی وزیر صحت

    ایران کے وزیر صحت محمد رضا ظفرقندی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ’صحت اور علاج کے مراکز پر تقریباً 240 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 50 ہسپتالوں اور تقریباً 50 ایمرجنسی مراکز کو نقصان پہنچا۔‘

    ایرانی حکومتی عہدیدار کے مطابق ان طبی مراکز پر ہونے والے حملوں کی تفصیلات کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دے دی گئی ہے۔

  4. ایرانی ایئرلائنز سے تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں: امریکی وزیر خزانہ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ یہ انتباہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں رپورٹ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تجارتی پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔

    ان رپورٹس کے مطابق استنبول، مسقط (عمان کا دارالحکومت)، سعودی عرب کے شہر مدینہ، عراق اور قطر کے لیے پروازوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور بعض پروازیں روانہ بھی کی گئیں۔

  5. ایرانی وزیر خارجہ کا ’سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیر مقدم‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، ہم ’روس کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’حالیہ واقعات نے ہماری تزویراتی شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو واضح کر دیا ہے۔‘

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ایران اور روس کا تعلق مزید مضبوط ہو رہا ہے، ’ہم (روس کے) اظہار یکجہتی پر شکر گزار ہیں اور سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے روس کا دورہ کیا ہے جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ہوئی۔

  6. ایرانی اراکین پارلیمان کی امریکہ سے بات چیت کے لیے مرکزی مذاکرات کار کے طور پر باقر قالیباف کی حمایت, بی بی سی مانیٹرنگ

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    ایرانی اراکین پارلیمان کی ایک واضح اکثریت نے پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی حمایت کی ہے جنھوں نے اسلام آباد میں امریکی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں تہران کی قیادت کی تھی۔

    پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی آئی سی اے این اے نے 27 اپریل کو یہ خبر رپورٹ کی۔

    ایک بیان میں ’دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کے ایک نئے میدان میں قدم رکھنے‘ پر باقر قالیباف کو سراہا گیا، جس پر پارلیمان کے 285 میں سے 261 ارکان کے دستخط تھے۔ اسی بیان میں سیاسی اور سماجی کارکنوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ ’افواہوں اور نا مکمل معلومات پر مبنی قیاس آرائیوں اور تجزیوں‘ سے گریز کریں اور ایران کے ’دشمنوں‘ کی جانب سے منظم کی جانے والی ’فکری جنگ‘ کو ہوا نہ دیں۔

    ارکان پارلیمان نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد امریکہ اور اسرائیل کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی عوام مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے ’بد اعتمادی‘ کا شکار ہو جائیں۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں باقر قالیباف کہہ چکے ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی کئی اہم ’غیر استعمال شدہ کارڈز‘ موجود ہیں اور انھوں نے ٹرمپ کا مذاق بھی اڑایا کہ وہ اپنی کامیابیوں پر ’شیخی بھگار‘ رہے ہیں۔

  7. جنگ بندی کے بعد سعودی عرب میں محدود تعداد میں ایرانی حجاج کی آمد, بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب میں ایرانی حاجی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images)

    ایران جنگ کے دوران ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات میں بگاڑ کے باوجود حج کی ادائیگی کے لیے ایرانی زائرین سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

    محدود تعداد میں ایرانی حجاج کی سعودی عرب آمد 25 اپریل سے شروع ہوئی ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق تقریباً 31 ہزار ایرانی زائرین سعودی عرب آئیں گے، یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ گذشتہ سال حج کے لیے تقریباً 90 ہزار ایرانی حجاج آئے تھے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے باعث سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی، ریاض نے مارچ میں ایران کے سفیر کو طلب کر کے ان حملوں کی مذمت کی۔

    دونوں ممالک نے سنہ 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، تاہم جنگ سے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت متاثر ہوئی، سعودی حکام کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ جو محدود اعتماد بحال ہوا تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اب جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی رابطے دوبارہ بحال ہوئے ہیں، اور سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے دو فون کالز ہو چکی ہیں۔

    حج کا سفر ایک طویل عرصے سے سنی اکثریتی سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی ایران کے درمیان تعلقات کا ایک حساس پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔

    سنہ 2016 میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد ایرانی حجاج حج میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کی جانب سے ایک شیعہ عالم کی پھانسی اور ایران میں سعودی سفارتی مشنز پر حملوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

  8. آبنائے ہرمز معاشی جوہری ہتھیار ہے جسے ایران دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کو ’معاشی جوہری ہتھیار کے مترادف‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اسے دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ایران فخر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی 20 سے 25 فیصد توانائی کو یرغمال بنا کر رکھ سکتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تصور کریں اگر ایران کو جوہری ہتھیار تک رسائی مل گئی ’تو وہ پورے خطے کو یرغمال بنا لے گا۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ انھیں امید ہے اس تنازع کے بعد پوری دنیا کو ایران سے لاحق خطرے کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ ان کے مطابق ایران دنیا کے ساتھ جو کچھ جوہری ہتھیار کے ذریعے کرنا چاہتا ہے، وہی وہ اس وقت تیل کے ذریعے کر رہا ہے۔

    انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کے بارے میں سنجیدہ ہے جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے آغاز سے پہلے ایران کو جن مسائل کا سامنا تھا وہ اب بھی موجود ہیں یا مزید بڑھ چکے ہیں، تاہم اب اس کے پاس پہلے کے مقابلے میں آدھے میزائل رہ گئے ہیں، کوئی فیکٹری باقی نہیں رہی اور اس کی بحریہ بھی ختم ہو چکی ہے۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی حکومت میں تمام عناصر سخت گیر ہیں، لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ایک ملک اور معیشت چلانی ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق ایرانی نظام میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی فیصلے کے پیچھے اس کے فائدے اور نقصان کا اندازہ لگاتے ہیں ’اور ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ جو بھی شر انگیزیاں وہ کر رہے ہیں، ان کا نقصان فائدے سے زیادہ ہو۔‘

    مارکو روبیو نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی خواہش ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی نہیں ہے۔ اس سال کے آغاز پر ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہماری خواہش تھی کہ 30 سے 40 ہزار افراد کو سڑکوں پر قتل کرنے کے بجائے ایرانی عوام کی آواز سنی جاتی۔‘

  9. صدر ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے الزام میں مشتبہ شخص پر فردِ جرم عائد تفصیلات

    کول تھامس ایلن

    ،تصویر کا ذریعہDepartment of Justice

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کا الزام، ملزم کول تھامس ایلن کے زیر استعمال گن کو بھی میڈیا کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کر دیا گیا

    امریکی صدر ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار شخص کول تھامس ایلن پر فردِ جرم عائد عائد کر دی گئی ہے۔ فرد جرم میں امریکہ کے صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش، آتشیں اسلحے کے استعمال اور جرم کرنے کے ارادے سے آتشیں اسلحے کی بین الریاستی نقل و حمل جیسے الزامات عائد کیے گئے۔

    کول تھامس ایلن کو پیر کے روز ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ جب جج نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے خلاف الزامات سے متعلق آگاہی رکھتے ہیں تو کول تھامس نے جواب دیا: ’جی، یور آنر۔‘

    فیڈرل پراسیکیوٹر جوسلین بالنٹائن نے کول تھامس ایلن کی پیشی کے دوران کہا کہ مدعا علیہ کے پاس 12 گیج کی شاٹ گن، تین چاقو اور دیگر ہتھیار تھے۔ سماعت کے دوران، پراسیکیوٹر نے جج سے کہا کہ وہ ملزم کو حراست میں رکھنے کا حکم دیں کیونکہ ان پر دہشت گردی کا الزام ہے۔

    اگرچہ کول تھامس ایلن پر براہ راست دہشت گردی کا الزام نہیں مگر صدر کو قتل کرنے کی کوشش کو ملکی سطح پر دہشت گردی سمجھا جا سکتا ہے۔ امریکی قانون کے تحت، اس میں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

  10. روس نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ’مفید‘ قرار دیا

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل کے باوجود، آج ایک ایرانی وفد صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے روس پہنچا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر بات چیت کی جا سکے۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان ’سٹریٹجک تعلقات‘ کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ روسی وزیر خارجہ نے اس بات چیت کو ’مفید‘ قرار دیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے مذاکراتی وفد کو اسلام آباد جانے روک دیا تھا۔

  11. بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام پر متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر دی

    Bahrian

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے اُن افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے جنھوں نے ’ایران کے معاندانہ اور مجرمانہ اقدامات کی حمایت یا تعریف کی۔‘ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُن افراد کے خاندانوں پر بھی لاگو ہو گا جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بحرین خطے کے اُن کئی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متعلق معلومات کو سختی سے کنٹرول کیا اور اُن مقامی و غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا جنھوں نے ان حملوں کی ویڈیوز بنائیں۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ایران کی معاندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں سے ہمدردی اور ان کی تعریف کرنے والوں کی بحرینی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔ اب تک اس فیصلے کے تحت، ان کے زیرِ کفالت اہلِ خانہ سمیت کُل 69 افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘

    ایران کی طرح بحرین میں بھی آبادی کی اکثریت شیعہ ہے اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے حق میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ حکام نے مظاہرین اور مظاہروں کی ویڈیوز بنانے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا اور درجنوں افراد پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے یا غداری جیسے الزامات عائد کیے۔ ان جرائم میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

    یہ ملک خلیج کے اُن چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں ایسے قوانین موجود ہیں جو بعض جرائم میں سزا پانے والے افراد کی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ افراد بے وطن ہو سکتے ہیں۔ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اس نوعیت کے اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے اور ناقدین کو سزا دینے کے لیے جبر کے آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

  12. امریکہ نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے، عباس عراقچی کا دعویٰ

    پوتن عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے۔

    سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ’دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور [امریکہ] کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ’اپنے مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر پایا ہے۔‘

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اسی لیے انھوں نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔

    اس بارے میں واشنگٹن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کریملن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ایران کے ’روس جیسے عظیم دوست اور اتحادی ہیں۔‘

  13. ’دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں اور بارود کی بو تھی، ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے‘

    افغانستان کے صوبہ کنڑ میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بی بی سی پشتو کو بتایا، ’معمول کی طرح دوپہر ڈھائی بجے کے قریب میں اپنی کلاس میں مصروف تھا اور استاد ہمیں پڑھا رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔‘

    واقعے کے عینی شاہد اکرام اللہ کا کہنا ہے، ’دھماکے کے بعد، وہاں پر شدید دھول، دھواں اور بارود کی بو تھی، اور ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ایجوکیشن کی عمارت کو نقصان پہنچا اور اس کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق واقعے کے بعد کنڑ کے دارالحکومت اسد آباد میں ایمبولینسوں کی آواز سنی گئی اور بعض زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    یاد رہے کہ افغانستان نے پاکستان پر اس حملے کا الزام لگایا ہے تاہم پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔

    یونیورسٹی
  14. پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے جھڑپوں کی اطلاعات, محمد کاظم اور عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ مختلف سرحدی اضلاع سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    سرکاری حکام نے بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن سے متصل سرحدی علاقوں میں پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دو پہر تک جاری رہا۔

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جھڑپوں کا آغاز پیر کو صبح کے وقت چمن شہر سے انداز 15 کلومیٹر کے فاصلے پر روغانی کی حدود میں ہوا۔

    اگرچہ سویلین حکام نے اس علاقے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق تو کی ہے لیکن تاحال اس کی وجوہات اور کسی جانی نقصان کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

    جب اس سلسلے میں چمن شہر میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اویس سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال اس حوالے سے کسی زخمی شخص کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں سے بھی جھڑپوں کے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    مقامی افراد نے بتایا ہے کہ گولے آبادی کے قریب گرے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

    ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سرحدی علاقوں بشمول لغڑئی، چارمنگ اور سلارزئی کے علاقوں میں سنی جا رہی ہیں۔

    لغڑی سے مقامی قبائلی رہنما ملک شاہئن نے بی بی سی کو بتایا کہ لغڑی میں چند روز کے وقفے کے بعد آبادی کے قریب گولے گرے ہیں لیکن اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دیگر سرحدی علاقوں جیسے سلارزئی اور چارمنگ کے بازار میں بھی گولے گرے ہیں۔

    لغڑی سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبادی کے درمیان سڑک سے دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ افرا تفری میں بھاگ رہے ہیں۔

    اس علاقے میں اس سے پہلے بھی لوگوں کے گھروں پر گولے گرے تھے جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  15. افغان وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی کنڑ یونیورسٹی پر ’پاکستانی میزائل حملے‘ کی مذمت

    افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔

    وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے اس کے حملے کے نتیجے میں 30 تقریباً طلبہ و اساتذہ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے کنڑ یونیورسٹی پر حملے کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے اور پاکستان نے سید جمال الدین یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

  16. عباس عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات: روس مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گا، پوتن

    عراقچی پوتن

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی روس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ہوئی ہے۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ملاقات کے دوران پوتن نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے کہا ہے کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری کے لیے حوصلے سے لڑ رہے ہیں۔

    تاس نے پوتن کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران اس مشکل مرحلے پر قابو پانے کے بعد امن کی جانب بڑھے گا۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پوتن نے عراقچی سے کہا ہے روس ’مشرق وسطیٰ میں جلد از جلد امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘

    اس سے قبل عراقچی کے ٹیلی گرام چینل پر شیئر کی گئی تصاویر میں ایران کے وزیر خارجہ کو دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ ایک میز کے گرد بیٹھے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصویر میں انھیں روسی صدر سے ہاتھ ملاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پوٹن کے ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، مشیر یوری یوشاکوف اور روس کی جی آر یو ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ایگور کوسٹیوکوف بھی شامل ہیں۔

    عراقچی پوتن

    ،تصویر کا ذریعہAbbas Araghchi/Telegram

    عراقچی پوتن

    ،تصویر کا ذریعہAbbas Araghchi/Telegram

  17. سٹیٹ بینک کا شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان: ’یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا‘, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرحِ سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر شرحِ سود 10.50 فیصد سے بڑھر 11.50 فیصد ہو گئی ہے۔

    مرکزی بینک نے یہ فیصلہ آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

    شرح سود میں اضافے پر ملک کی کاروباری تنظیموں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے اورکہا گیا ہے ملک میں پہلے سے مشکلات کے شکار کاروبار کے لیے شرح سود میں اضافے سے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

    ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) پر اس فیصلے کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ ایس ایم ایز کے لیے سستی مالیات تک رسائی کے دروازے بند کر دے گا۔

    اانھوں نے کہا کہ بجلی کے بھاری ٹیرف کے ساتھ ساتھ اس مانیٹری سختی سے کئی مینوفیکچررز ڈیفالٹ یا مکمل بندش کی طرف چلے جائیں گے۔

    کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے سٹیٹ بینک کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صنعتی سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ بظاہر مہنگائی کے دباؤ، کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال اور بیرونی مالیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاہم موجودہ حالات میں یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

  18. ’پاکستان نے کنڑ میں یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا‘: وزارت اطلاعات کی افغان میڈیا میں گردش کرتی اطلاعات کی تردید

    سید جمال الدین افغان یونیورسٹی۔ فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہSayed jamaluddin Afghani University

    ،تصویر کا کیپشنسید جمال الدین افغان یونیورسٹی۔ فائل فوٹو

    پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے میزائلوں اور جنگی طیاروں سے افغانستان کے صوبے کنڑ میں کارروائی کی ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ طلوع کی خبر کے مطابق اس کارروائی میں سید جمال الدین یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور بچوں سمیت 45 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    بیان میں افغان میڈیا کی اس خبر کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان درستگی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سید جمال الدین یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

    کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    دوسری جانب بی بی سی پشتو کو بھی مختلف ذرائع نے کنڑ میں یونیورسٹی پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعوی کیا ہے۔

    اس کے علاوہ بی بی سی پشتو کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  19. اسلام آباد کی عدالت نے ایکس پر متنازع پوسٹ لگانے کے جرم میں گرفتار صحافی کی ضمانت منظور کر لی

    اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت نے ایکس پر متنازع پوسٹ لگانے پر پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار سینیئر صحافی فخر الرحمان کی ضمانت منظور کرلی۔

    سوموار کے روز کو متعلقہ عدالت میں ضمانت بعد از گرفتاری درخواست پر سماعت کے دوران ملزم فخر الرحمان کی جانب سے بیرسٹر احد کھوکھر عدالت پیش ہوئے۔

    بیرسٹر کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اینجنسی یعنی این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملزم سے موبائل برآمد کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملزم بزرگ شہری ہے اور وہ باقاعدگی سے دوائیں لیتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنی کوئی رائے نہیں دی بلکہ انھوں نے محض فیلڈ مارشل جنرل عاصم منری کی شیعہ علما سے ملاقات سے متعلق ایک عالم دین کا بیان ٹویٹ کیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے متعلق ایف آئی آر میں ملزم کا رول بھی نہیں بتایا گیا۔

    فخر الرحمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ یہ ایک بے بنیاد کیس ہے اور ان کے موکل کی ضمانت منظور کی جائے۔

    اس موقع پر پراسیکیوشن نے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کی جانب سے اپنی ٹویٹ میں جس عالم دین کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، کیا اس بیان کی ڈی جی آئی ایس پی آر یا وزارت دفاع سے تصدیق کی تھی؟

    وکیلِ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ایسی ہی ٹویٹس کی وجہ سے سارا سکردو جل گیا تھا۔

    انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔

    فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں پچاس ہزار روپے مالیتی مچلکوں کے عوض فخر الرحمن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرنے کا حکم سنا دیا۔

  20. ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کریملن

    کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے جڑی صورتِ حال جس طرح آگے بڑھ رہی ہے، اس تناظر میں ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

    خیال رہے کہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان کے دورے کے بعد سوموار کے روز ہی روس پہنچے ہیں۔

    اس سے قبل سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘