اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا حکم

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی فوج کو فوری طور پر غزہ پر حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔ نتن یاہو کے دفتر سے ایک ایسے وقت میں یہ بیان جاری کیا گیا جب اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے حوالے کیے گئے ایک تابوت میں یرغمالی کی لاش موجود نہیں تھی۔

خلاصہ

  • ترکی اور برطانیہ کے درمیان آٹھ ارب پاؤنڈ کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت لندن 20 ٹائیفون یوروفائٹر طیارے انقرہ کو فراہم کرے گا۔
  • انڈیا اور روس کی دو کمپنیوں کے درمیان ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا میں مسافر جہاز بنائے جائیں گے۔
  • اگر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو موقع ملتا ہے تو اس سے بہتر کچھ نہیں: رانا ثنااللہ
  • وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر غور
  • 20 سال بعد پاکستان، بنگلہ دیش مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس: اسلام آباد کی ڈھاکہ کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش

لائیو کوریج

  1. وزیراعظم شہباز شریف نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے

    PM house

    ،تصویر کا ذریعہPM house

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو (ایف آئی آئی) کی نویں کانفرنس میں شرکت کے لیے وفد کے ہمراہ ریاض پہنچ گئے ہیں۔

    کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے وزیرِ اعظم اور وفد کا استقبال کیا۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہے جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاونینِ خصوصی طارق فاطمی و بلال بن ثاقب شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے جہاں وہ عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے دو طرفہ ملاقات کریں گے جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال ہو گا۔ دونوں رہنما عالمی اور علاقائی امورِ پر بھی بات چیت کریں گے۔

    PM House

    ،تصویر کا ذریعہPM House

  2. کراچی پولیس کی حراست میں نوجوان کی ہلاکت: ’ابتدائی پوسٹ مارٹم میں عرفان کے جسم پر زخم کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں‘, ریاض سہیل، بی بی سی کراچی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ’خیموں میں بیٹھے بھوکے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو دیکھ کر عرفان نے انھیں کہا کہ ان سے یہ حالت نہیں دیکھی جاتی وہ کراچی میں جاکر محنت مزدور کریں گے اور انھیں کچھ رقم بھیجیں گے۔۔۔ لیکن یہاں وہ پولیس کی بربریت کا نشانہ بن گئے۔‘

    یہ الفاظ سولہ سالہ عرفان بلوچ کے چچا اظہر ضیا کے ہیں جو احمد پور شرقیہ سے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کر رہے تھے جہاں انھوں نے ایک روز قبل ہی عرفان کی تدفین کی ہے۔

    سولہ سالہ عرفان کو سپیشل انویسٹی گیشن پولیس نے دیگر کزنز کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ دورانِ حراست ان کی ہلاکت ہو گئی ہے۔

    اظہر ضیا نے بتایا کہ عرفان صبح کے وقت ناشتہ کرنے گئے تھے، عائشہ منزل پر ویڈیو بناتے ہوئے انھیں ایس آئی یو نے گرفتار کیا۔

    وہ سوال کرتے ہیں کہ ’عائشہ منزل پر کونسی حساس جگہ ہے جس کی ویڈیو بنا کر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے؟ وہاں تو کچھ ٹھیلے والے بیٹھے ہوتے ہیں۔‘

    اظہر ضیا کے مطابق عرفان کے ساتھ گرفتار کیے گئے دیگر چار لڑکوں نے انھیں گرفتاری کے بعد تھانے میں پیش آنے والے واقعات کے متعلق بتایا ہے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’عرفان پر تھانے کے اندر تشدد کیا گیا، ایش ٹرے سینے پر ماری گئی اور جب وہ زمین پر گر کر پانی مانگ رہے تھے تو اسے کو پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔‘

    بی بی سی نے ان دعوؤں کے حوالے سے ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم تادمِ تحریر انھوں نے بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں عرفان کے جسم پر زخم کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں جبکہ موت کی وجہ کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

    پولیس کے ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی رپورٹ کے مطابق متوفی کے پشت، گردن اور دائیں ران پر سرخ نشانات اور دائیں ٹانگ کے ٹخنے کے پاس زخم کا نشان ہے۔

    عرفان کے خاندان کا تعلق اُچ شریف سے ہے۔ وہ چار بہن بھائی ہیں جن میں عرفان سب سے بڑے تھے۔

    اظہر ضیا کے مطابق ان کے والد کسان ہیں جو بیٹے کی لاش دیکھنے کے بعد سے اپنے حواس میں نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا تو دل ٹوٹا ہوا، آنکھیں غمزدہ ہیں، اتنا ظلم ہوا ہے۔‘

    دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ عرفان کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کے لیے سیکریٹری داخلہ سندھ کو احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ لواحقین مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس کے بجائے ایف آئی اے سے انکوائری کرائی جائے۔

    وزیر داخلہ سندھ کے مطابق واقعے کی مکمل فرانزک اور تفتیش کی جائیگی اور ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

    ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ ’اس پر افسوس ہے کہ بچے کی پولیس کی کسٹڈی پر موت واقع ہوئی۔‘

    یاد رہے کہ نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق زیر حراست حراستگی کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی۔

    پولیس نے سرکار کی مدعیت میں واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل خطا کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    اس مقدمے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفان اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق مدعی انسپکٹر ممتاز نے بتایا کہ اے ایس آئی زبیر نے ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں عرفان اور دیگر کو گرفتار کیا گیا۔ دوران تفتیش عرفان کی طبعیت خراب ہو گئی اور اے ایس آئی عرفان کو ہسپتال بھیجنے اور ایس ایچ او کو اس بارے میں آگاہ کیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عرفان کی موت ہو گئی ہے۔

    مدعی انسپکٹر ممتاز کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’جس اے ایس آئی نے مقدمہ درج کیا ہے وہ بھی مشکوک لگتا ہے۔‘

  3. اگر سکیورٹی فورسز کا کردار غزہ میں ’امن نافذ کرنے‘ کا ہوا تو کوئی ملک اس میں شامل نہیں ہونا چاہے گا: اردن کے شاہ عبداللہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں امن نافذ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے فوجیوں کو تعینات کیا گیا تو وہ اس فورس میں کردار ادا کرنے سے انکار کر دیں گے۔

    اردن کے شاہ عبداللہ نے یہ بات بی بی سی کو انٹرویو میں کہی ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت عرب ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں استحکام کے لیے ایسی فورسز فراہم کریں جو ’غزہ میں فلسطینی پولیس کو تربیت اور مدد دیں گی اور اس سلسلے میں اردن اور مصر سے مشاورت کریں گی جنھیں اس حوالے سے وسیع تجربہ حاصل ہے۔‘

    منصوبے کے مطابق حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے اور علاقے پر سیاسی کنٹرول ختم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

    شاہ عبداللہ نے سوال کیا کہ سکیورٹی فورسز کا غزہ کے اندر کیا مینڈیٹ ہو گا؟ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ امن برقرار رکھنے کا ہوگا، کیونکہ اگر یہ امن نافذ کرنے کا ہوا تو کوئی بھی ملک اس میں شامل ہونا نہیں چاہے گا۔‘

    بی بی سی پینوراما کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اردن اور مصر فلسطینی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے لیے تیار ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا ’امن برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ وہاں مقامی پولیس یعنی فلسطینی فورسز کی مدد کر رہے ہیں جنھیں اردن اور مصر بڑی تعداد میں تربیت دینے کے لیے تیار ہیں لیکن اس میں وقت لگتا ہے۔ اگر ہم غزہ میں ہتھیار لے کر گشت کر رہے ہوں تو اس صورتحال میں کوئی ملک شامل نہیں ہونا چاہے۔‘

    شاہ عبداللہ کے یہ بیانات امریکہ اور دیگر ممالک کی اُن خدشات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کہیں وہ حماس اور اسرائیل یا حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے درمیان جاری تنازع میں ملوث نہ ہو جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اردنی فورسز کو غزہ نہیں بھیجیں گے کیونکہ ان کا ملک اس صورتحال سے ’سیاسی طور پر بہت قریب‘ ہے۔

    شاہ عبداللہ نے وضاحت کی کہ اردن کی نصف سے زیادہ آبادی فلسطینی نژاد ہے اور گذشتہ کئی دہائیوں میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ سابقہ جنگوں سے بھاگ کر آنے والے 23 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

  4. تربت میں ڈپٹی کمشنر کیچ کے قافلے کے نزدیک دھماکہ، نو افراد زخمی

    تربت بلاسٹ

    ،تصویر کا ذریعہAsad Baloch

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں ڈپٹی کمشنر کیچ کے قافلے کے نزدیک دھماکے کے نتیجے میں ان کے سکواڈ میں شامل آٹھ اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خود اس حملے میں محفوظ رہے۔

    تربت میں تعینات لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب دفتر جاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ان کے سکواڈ میں شامل گاڑیاں سٹی تھانے کے قریب سے گزر رہی تھیں۔

    دھماکے کے باعث موقع پر موجود دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    تربت پولیس کے ایس ایچ او عبدالغفار نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک عام شہری جبکہ باقی لیویز فورس کے اہلکار ہیں۔

    تربت بلاسٹ

    ،تصویر کا ذریعہAsad Baloch

    فون پر رابطہ کرنے پر تربت پولیس کے ڈی ایس پی نذیر احمد نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اس حملے میں محفوظ رہے تاہم ان کے سکواڈ کی گاڑی میں سوار اہلکار زخمی ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے تربت ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ڈی ایس پی نذیر احمد نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    تاحال کسی بھی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ضلع کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع کیچ اور اس کے ہیڈکوارٹر تربت شہر میں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔

    ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

  5. نااہلی کے خلاف عمر ایوب اور شبلی فراز کی درخواستوں پر سماعت: ’عمر ایوب کی نشست پر انکی اہلیہ الیکشن لڑیں گی‘

    عمر ایوب، شبلی فراز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب نے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے نااہلی کیس میں دائر اپنی تمام درخواستیں واپس لے لی ہیں جبکہ عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر نوٹسز جاری کر دیے۔

    پیر کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی سے متعلق اپیلوں پر سماعت کی۔

    درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمر ایوب اپنی اپیلیں واپس لینا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر ایوب کی نشست پر انکی اہلیہ الیکشن لڑیں گی۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو ڈینوٹیفائی کرنے کے خلاف اپیل بھی واپس لے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزبِ اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ شبلی فراز نے انھیں چیئرمین سینٹ کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی ہدایت کی ہے جبکہ شبلی فراز الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے خلاف اپیل کی پیروی جاری رکھیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شبلی فراز کی خالی نشست پر تیس اکتوبر کو انتخابات ہیں، استدعا ہے کہ شبلی فراز کی الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر نوٹسز جاری کیے جائیں۔

    عدالت نے شبلی فراز کی اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    یاد رہے کہ رواں سال 5 اگست جو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پی ٹی آئی کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

    نااہل قرار دیے گئے پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمان میں میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی شامل تھے۔

  6. اگر طاقت کے بل پر غزہ میں امن قائم کرنے کا کہا گیا تو کوئی بھی ملک اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا: شاہ عبداللہ

    شاہ عبداللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت ملکوں سے طاقت کے بل پر غزہ میں امن قائم کرنے کا کہا گیا تو وہ منع کر دیں گے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت امریکہ اپنے عرب اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری طور پر تعیناتی کے لیے ایک عارضی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا۔ آئی ایس ایف غزہ میں جانچ شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرے گا، اور اس معاملے میں اُردن اور مصر سے مشاورت کرے گا جنھیں اس شعبے میں وسیع تجربہ ہے۔

    شاہ عبداللہ نے سوال اٹھایا کہ یہ سکیورٹی فورس غزہ میں کیا کرے گی؟

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سکیورٹی فورس کا کام صرف امن و امان قائم رکھنے میں مدد فراہم کرنا (پیس کیپنگ) ہو گا، کیونکہ اگر انھیں طاقت کے بل پر امن قائم کرنے کو کہا جائے گا تو کوئی بھی اس میں ہاتھ ڈالنا نہیں چاہے گا۔

    بی بی سی پینوراما کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مصر اور اردن فلسطینی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ’پیس کیپنگ کا مطلب ہے کہ آپ وہاں مقامی پولیس فورس، فلسطینیوں کی حمایت کریں، جنھیں اردن اور مصر بڑی تعداد میں تربیت دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کام میں وقت لگتا ہے۔‘

    ’لیکن اگر ہمیں ہتھیار اٹھا کر غزہ میں گشت کرنا ہے، تو یہ ایسی صورتحال نہیں ہے جس میں کوئی بھی ملک ملوث ہونا چاہے گا۔‘

    شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ اردن کی فوج کو غزہ میں نہیں بھیجے گا کیونکہ سیاسی طور پر ان کے ملک کا فلسطین سے کافی گہرا تعلق ہے۔ اردن کی تقریباً نصف آبادی فلسطینی نژاد ہے اور گذشتہ دہائیوں میں ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں 23 لاکھ فلسطینی پناہ گزین اردن میں موجود ہیں۔

    ان سے سوال کیا گیا کہ آیا انھیں بھروسہ ہے کہ حماس مستقبل میں غزہ کی سیاسی میں حصہ نہ لینے کا اپنا وعدہ پورا کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا، ’میں انھیں نہیں جانتا، لیکن قطر اور مصر جو کہ ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، وہ بہت پر امید ہیں کہ حماس اپنے وعدے پر قائم رہے گی۔‘

  7. استنبول میں مذاکرات کا تیسرا روز: پاکستان اور افغان طالبان نے کیا تجاویز پیش کی ہیں؟

    افغانستان، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت بدستور بند ہے

    استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دو روز سے جاری مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ آج اِن مذاکرات کا تیسرا روز ہوگا۔

    پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی وفد نے مذاکرات کے دوران افغان طالبان کو اپنا ’حتمی موقف‘ پیش کر دیا ہے۔

    اے پی پی کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردوں کی سرپرستی نامنظور ہے۔ پاکستانی وفد نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس (سرپرستی) کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنے پڑیں گے۔‘

    پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے سرکاری خبر رساں ادارے کو مزید بتایا کہ طالبان کے دلائل ’غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں۔ نظر آ رہا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔‘

    ’سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔ مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے۔‘

    ادھر افغان طالبان کے ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ان کے مسودے میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’افغانستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کی جائے‘ اور کوئی بھی ’گروہ یا دشمن قوت افغانستان کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال نہ کرے۔‘

    افغان طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے وفد نے جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے میکینزم یعنی طریقہ کار وضع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ جمعے کو ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ استنبول مذاکرات میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مانیٹرنگ کا تیز اور مصدقہ میکینزم تشکیل دیا جائے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت بدستور بند ہے۔

    گذشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا جس میں 25 شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ایک بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں نے اسے وقت میں دراندازی کی کوشش کی ہے جب استبول میں مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پار شدت پسندی کے ایسے واقعات عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر ’شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت عبوری افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

  8. پانچ سال بعد انڈیا اور چین کے درمیان براہ راست پروازیں بحال

    پیر کے روز انڈیا کے شہر کولکتہ سے اڑان بھرنے والی انڈیگو کی پرواز 6E 1703 تقریباً 180 مسافروں کو لے کر جنوبی چین کے شہر گوانگزو پہنچی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپیر کے روز انڈیا کے شہر کولکتہ سے اڑان بھرنے والی انڈیگو کی پرواز 6E 1703 تقریباً 180 مسافروں کو لے کر جنوبی چین کے شہر گوانگزو پہنچی۔

    پیر کے روز انڈیا کے شہر کولکتہ سے اڑان بھرنے والی انڈیگو کی پرواز 6E 1703 تقریباً 180 مسافروں کو لے کر جنوبی چین کے شہر گوانگزو پہنچی۔ اس کے ساتھ ہی انڈیا اور چین کے درمیان تقریباً پانچ سال بعد براہ راست پروازیں بحال ہو گئی ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان پروازیں 2020 کے اوائل میں کووِڈ وبا کے دوران معطل کی گئی تھیں۔ بعد ازاں ہمالیہ کے ایک متنازع سرحدی علاقے میں دونوں ملکوں کی افواج کے مابین تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پروازیں دوبارہ بحال نہیں ہوئیں۔

    لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور گذشتہ سال دونوں ملکوں نے متنازع سرحد پر گشت کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔

    رواں سال اگست کے مہینے میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کا دورہ کیا تھا۔ یہ ان کا سات سالوں میں چین کا پہلا دورہ تھا۔ اسی مہینے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی انڈیا کا دورہ کیا تھا۔

    انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ پروازوں کی بحالی سے لوگوں کے درمیان رابطے میں آسانی ہوگی اور ’دو طرفہ تبادلوں کو بتدریج معمول پر لانے‘ میں مدد ملے گی۔

  9. کوئی شک نہیں کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے: وینزویلا کے حکام

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    وینزویلا کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کو امریکہ کی ’کالونی‘ بنانا چاہتے ہیں۔

    اتوار کے روز نے بی بی سی کے نیوز آور سے بات کرتے ہوئے طارق ولیم صاب نے کہا ہے کہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبے کا اصل مقصد ان کے ملک کے قدرتی وسائل بشمول سونے، تیل اور تانبے کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔

    طارق ولیم صاب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’ناکام‘ کوششوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے۔

    امریکہ ان ممالک میں شامل ہے جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کو جائز تسلیم نہیں کرتے۔ ، 2024 کے آخری انتخابات کے بعد اسے نہ تو آزاد اور نہ ہی منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ بارہا وینزویلا میں ’زمینی کارروائی‘ کے امکان کا ذکر کر چکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ ’سمندر کو بہت اچھی طرح سے قابو میں کرنے کے بعد‘ اب زمین کی طرف دیکھ رہا ہے۔

    ستمبر کے اوائل میں ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے منشیات کے سمگلروں کے خلاف کارروائیوں کی اجازت کے بعد سے جنوبی امریکہ کے ساحلوں کے نزدیک مبینہ طور پر منشیات سمگل کرنے والی کشتیوں پر حملوں میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  10. مصر اور ریڈ کراس کی ٹیمیں غزہ میں یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش میں حصہ لے رہی ہیں: اسرائیلی حکام

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مصر اور ریڈ کراس کی ٹیموں کو غزہ میں یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ ان ٹیموں کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول ’یلو لائن‘ سے آگے تلاش کا کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    دوسری جانب، اتوار کے روز اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ حماس کے ارکان کو بھی ریڈ کراس کی ٹیموں کے ساتھ لاشوں کی تلاش کے کام میں مدد کے لیے غزہ میں اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ حماس نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں ہلاک ہو جانے والے 28 یرغمالیوں میں سے 15 کی لاشیں واپس کر دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت حماس کو تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنی ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ وہ اب مصری حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    ایک اسرائیلی ترجمان کا کہنا ہے کہ مصری ٹیم کو ریڈ کراس کے ساتھ مل کر لاشوں کو ڈھونڈنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، یہ ٹیمیں ’یلو لائن‘ سے آگے تلاش کے لیے کھدائی کرنے والی مشینیں اور ٹرک استعمال کریں گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے لاشوں کی واپسی کا عمل جلد مکمل نہ کیا تو اس امن معاہدے میں شامل دیگر ممالک اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

  11. امریکہ کے پاس پاکستان سے سٹریٹجک تعلقات بڑھانے کا موقع ہے، مگر یہ انڈیا سے دوستی کی قیمت پر نہیں ہو گا: مارکو روبیو

    مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کو لگتا ہے کہ اس کے پاس پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کا ایک موقع ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی نئی دہلی کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات یا دوستی کی قیمت پر نہیں ہے۔

    یہ بات انھوں نے سنیچر کے روز پریس بریفنگ کے دوران کہی۔

    دورانِ بریفنگ ان سے سوال پوچھا گیا کہ آیا انڈیا نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی نزدیکی کے حوالے سے کسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے تاحال ایسا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    ’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تاریخی طور پر موجود تناؤ کی وجہ سے ان کے پاس فکرمند ہونے کی وجوہات موجود ہیں۔ لیکن، میرے خیال میں انھیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں بہت سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے ہوتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کا ایک موقع دکھائی دیتا ہے اور میرے خیال میں ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘

    روبیو کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہی ان کا کام ہے کہ ایسے ممالک تلاش کریں جن کے ساتھ وہ مشترکہ مفادات کی چیزوں پر کام کر سکیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک سفارتکاری کا تعلق ہے تو انڈین کافی سجمھدار ہیں۔ ’دیکھیں، ان کے بھی کچھ ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں جن سے ہمارے تعلقات نہیں ہیں۔ لہذا، یہ ایک میچور، عملی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔‘

    امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ جو کچھ بھی پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے، وہ واشنگٹن کے انڈیا کے ساتھ تعلقات یا دوستی کی قیمت پر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات ’گہرے، تاریخی اور اہم‘ ہیں۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ بہتری اسلام آباد کی جانب سے امریکی کردار، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ روکنے کے کردار کو تسلیم کرنے کی بنیاد پر ہے، مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان نے اس بات کو سراہا ہے۔ ’جب بھی آپ کسی کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ ایک دوسرے کو جاننے لگتے ہیں، اور اس سے ایک مثبت تعلق پیدا ہوتا ہے۔‘

  12. فغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا: آئی ایس پی آر

    پاکستان افغانستان بارڈر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چار خود کش حملہ آوروں سمیت 25 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 24 اور 25 اکتوبر کو شدت پسندوں کے دو بڑے گروپس نے ضلع کرم میں جنرل ایریا غاخی اور شمالی وزیرستان میں سپن وام میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے روکا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دراندازی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب استنبول میں پاکستان اور افغان وفود ترکی میں مذاکرات میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دراندازی کی یہ کوشش عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دوحہ معاہدے پر عمل کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت دراندازی سے متعلق پاکستانی فوج اور حکومت کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے [جنگ] شروع کر دی ہے لیکن وہ بہت جلد اسے حل کروا دیں گے۔
    • اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن مانیٹ نے ایک مشترکہ ’امن معاہدے‘ پر دستخط کر دیے
    • پاکستان بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ سر کریک سے لے کر جیوانی تک، پاکستانی بحریہ اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا جانتی ہے۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر 27 اکتوبر سے 29 اکتوبر 2025 تک ریاض کا دورہ کریں گے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔