پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع جیکب آباد کی ایک
عدالت نے پولیس حراست کے دوران گینگ ریپ کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کردی ہے اور
مقدمے میں ایس ایچ او کو ملوث نہ کرنے پر ایس ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرف الدین شاہ نے خاتون کے ساتھ
ہونے والی مبینہ گینگ ریپ کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ پولیس نے منگل کو ڈی ایس پی ٹھل پولیس
اور تفتیشی افسر غلام مصطفیٰ ابڑو، متاثرہ خاتون اور اُن کی دادی جو مدعی بھی ہیں کے
ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
پولیس اہلکاروں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد
چھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متاثرہ خاتون سمیت نامزد اہلکاروں کے
ڈی این اے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔
متاثرہ خاتون کے ورثا نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے
ابھی تک مرکزی ملزمان، انچارج ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کے نام کیس میں شامل نہیں کیے
جس پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی ملزمان کے نام ہی شامل
نہیں ہیں، تو یہ کیسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے؟
انھوں نے ایس ایس پی کو طلب کیا اہلکاروں نے بتایا کہ
وہ ایک پیشی کے سلسلے میں ہائیکورٹ گئے ہوئے ہیں۔
عدالت نے مقدمے کی تحقیقات وفاقی ادارے ایف آئی اے کے
حوالے کرنے کا حکم جاری کیا اور قرار دیا کہ پولیس رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ خاتون
کا تھانے کے اندر دورانِ حراست ریپ کیا گیا، جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے
(سرکل لاڑکانہ) ایک غیر جانبدار افسر کے ذریعے قانون کے مطابق تفتیش مکمل کر کے مقررہ
وقت میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔
یاد رہے کہ ٹھل تھانے کی حدود میں خواتین نے صحافیوں
سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد دوران
حراست ریپ کیا گیا، یہ خبر میڈیا میں آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار
نے اس کا نوٹس لیا اور پولیس کو مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جس کے بعد ریپ
کا نشانہ بننے والی خاتون کی دادی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔
مدعی نے الزام لگایا کہ ان کے مردوں پر قتل کا مقدمہ
درج کیا گیا تھا سات جنوری کو چھ پولیس اہلکار آئے مردوں کی عدم موجودگی میں انھیں
اور ان کی دو پوتیاں جن کی عمریں 17 سال اور 15 سال ہیں جو بہنیں ہیں کو حراست میں
لیا اور ایک مکان میں بند کردیا۔
مدعی مقدہ متاثرہ خاتون کی دادی کی جانب سے پولیس
پر یہ الزام لگایا گیا کہ 12 جنوری کی شب آٹھ بجے کے قریب ان کی بڑی پوتی 17 سالہ کو
دوسرے کمرے میں لے گئے اور چھ پولیس اہلکاروں نے ان کا ریپ کیا اور انھیں دہمکایا گیا
کہ کسی کے ساتھ یہ بات نہیں کرنی ہے اس کے بعد وہ واپس گھر آگئے، خوف کی وجہ سے وہ
فوری مقدمہ درج نہیں کراسکے تھے۔
دوسری جانب ایس ایس پی جیکب آباد کلیم ملک کا کہنا ہے
کہ تمام نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کیا گیا اور ان کا ریمانڈ بھی لیا گیا ہے اس کے
علاوہ ایس ایچ او، چوکی انچارج کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
دی گئی جو میرٹ پر تحقیقات کرے گی کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائیگی، اس وقت ایس ایچ
او سمیت نامزد اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔