آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باقاعدہ اعلان کر دیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کر دیے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

خلاصہ

  • روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کل متحدہ عرب امارات میں، ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات تقریباً تیار ہیں‘: زیلنسکی
  • امریکی صدر نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باقاعدہ اعلان کر دیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کر دیے
  • امریکہ کی روس سے ملاقات جمعے کو ہوگی، ہر کوئی جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے: ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات کے بعد گفتگو
  • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے جانے والی گاڑی کو حادثہ، 10 فوجی ہلاک
  • حکومت کو تین سال سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کروانے میں ناکامی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش
  • افغانستان میں بارش اور برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج، کابل کو دیگر شہروں سے ملانے والی سالنگ ہائی وے بند

لائیو کوریج

  1. گرین لینڈ کی ملکیت پر ٹرمپ کا یورپ کو پیغام: ’ہاں کہیں گے تو شکر گزار رہوں گا، نہ کہیں گے تو یاد رکھوں گا‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے حصول کی بات کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو کہا کہ گرین لینڈ کے پاس انتخاب ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ ہاں کہہ سکتے ہیں اور ہم بہت شکر گزار ہوں گے، یا آپ نہ کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایک مضبوط اور محفوظ امریکہ کا مطلب ہے ایک مضبوط نیٹو۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نیٹو کے ساتھ سو فیصد کھڑا ہوگا، لیکن یہ یقین نہیں کہ اتحادی بھی ’بدلے میں یہی کریں گے۔‘

    انھوں نے یوکرین کی جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کو یہ جنگ ختم کرنی ہوگی کیونکہ ’بہت سے لوگ بلا وجہ مر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پوتن اور زیلنسکی دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

  2. امریکہ یورپ اور نیٹو کی مدد کرے گا، بدلے میں صرف ’برف کا ایک ٹکڑا‘ چاہیے: ٹرمپ

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو دفاعی شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کچھ نہیں ملے گا جب تک میں طاقت کا حد سے زیادہ استعمال نہ کروں، ہم ناقابلِ شکست ہوں گے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’مجھے طاقت استعمال نہیں کرنی، میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا، اور میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ صرف ’گرین لینڈ نامی ایک جگہ‘ مانگ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یورپ اور نیٹو کی مدد کرے گا، اور اس کے بدلے میں وہ صرف ’برف کا ایک ٹکڑا‘ چاہتے ہیں، جس سے ان کی مراد گرین لینڈ تھی۔ انھوں نے اسے نیٹو کو دی گئی امریکی قربانیوں کے مقابلے میں ایک ’چھوٹی درخواست‘ قرار دیا۔

  3. یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا‘۔

    سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس ’یورپ کو نہیں پہچانتے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یورپ سے محبت ہے، میں اسے ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن یہ صحیح سمت میں نہیں جا رہا ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتے لیکن ان کے دوست یورپ سے واپس آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ اسے نہیں پہچانتے۔

    عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اور ریکارڈ بجٹ اور تجارتی خسارے کا ذکر کیا۔

    گرین لینڈ کے حصول کے لیے ٹرمپ کا ’فوری مذاکرات‘ پر زور

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے: ’میں گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے فوری مذاکرات چاہتا ہوں۔‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی صدور تقریباً دو صدیوں سے گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جزیرے پر ’ڈنمارک کی کوئی موجودگی نہیں‘ اور ڈنمارک گرین لینڈ پر اتنا خرچ نہیں کر رہا جتنا اس نے وعدہ کیا تھا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ صرف امریکہ ہے جو اس بڑے خطۂ زمین، اس بڑے برفانی ٹکڑے کو محفوظ بنا سکتا ہے، اسے ترقی دے سکتا ہے اور بہتر بنا سکتا ہے۔‘

    ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وہ ملک کو حاصل کرنے کے لیے ’فوری مذاکرات‘ چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں بات جاری رکھتے ہوئے اسے ’ایک وسیع، تقریباً غیر آباد اور غیر ترقی یافتہ ملک، جو غیر محفوظ پڑا ہے‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’گرین لینڈ میں نایاب معدنیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل اہمیت اس کی سٹریٹجک قومی سلامتی اور بین الاقوامی سلامتی ہے۔‘

  4. ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

    امریکی صدر کا طیارہ ایئر فورس ون ابھی ابھی سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے ہوائی اڈے پر اترا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے دن کا پہلا ایجنڈا کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ملاقات ہے، جس کے بعد وہ ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کریں گے۔

  5. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 187000 پوائنٹس کی سطح پر آگیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا تاہم دورانِ کاروبار انڈیکس میں بڑی کمی اس وقت دیکھی گئی جب 100 انڈیکس میں تقریباً 2000 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 1588 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ ہوئی اور انڈیکس 187,033 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ گذشتہ روز انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی اور یورپ کے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خدشات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ہونے والی صورتحال کا کچھ اثر ضرور ہوا، تاہم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کی بڑی وجہ پرافٹ ٹیکنگ یعنی منافع سمیٹنے کا رجحان تھا جس کے باعث زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا انڈیکس کافی اوپر جا چکا تھا، جس کے بعد پرافٹ ٹیکنگ ہوئی اور حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

  6. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوئٹزرلینڈ آمد متوقع

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوئٹزرلینڈ آمد کا انتظار کیا جا رہا ہے جو جلد متوقع ہے۔

    ٹرمپ کا سوئٹزرلینڈ کا سفر اس وقت تاخیر کا شکار ہوا جب ایئر فورس ون کو ایک ’معمولی برقی خرابی‘ کے باعث واپس میری لینڈ کے ایک فضائی اڈے کا رخ کرنا پڑا۔

  7. یوکرین پر توجہ کم نہیں ہونی چاہیے: نیٹو

    نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران کہا ہے کہ ’اب اصل مسئلہ گرین لینڈ نہیں بلکہ یوکرین ہے۔‘

    ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ وہ ’کچھ پریشان ہیں کہ کہیں ہم دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دے کر یوکرین کے معاملے کو نظر انداز نہ کر دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ دسمبر میں ہزاروں جانی نقصان کے باوجود روس یوکرین پر حملے بڑھا رہا ہے۔

    مارک روٹے نے مزید کہا کہ امن مذاکرات میں پیش رفت اور یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے نئے قرضے سے نیٹو کے یورپی رکن ممالک کو یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ وہ ’یوکرین کے دفاع کو بھول سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انھیں ہماری مدد آج، کل اور آنے والے دنوں میں چاہیے۔ مجھے یورپی اتحادیوں کی ضرورت ہے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ مرکوز رکھیں۔‘

  8. سپین میں ایک اور ٹرین پٹری سے اتر گئی، ڈرائیور ہلاک اور 37 زخمی

    سپین کے شہر بارسلونا کے قریب ٹرین پٹری سے اتر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیور ہلاک اور کم از کم 37 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    یہ واقعہ ملک کے جنوب میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 42 افراد کی ہلاکت کے چند روز بعد پیش آیا۔

    مقامی حکام کے مطابق روڈالیز ٹرین منگل کی شام کو ایک حفاظتی دیوار سے ٹکرا گئی۔ کاتالونیا کے علاقائی فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک ملازم کلاڈیو گیلارڈو نے بتایا کہ تمام مسافروں کو نکال لیا گیا ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شدید طوفان شمال مشرقی سپین سے ٹکرایا اور ملک کے مشرقی اور شمال مغربی ساحلوں کے لیے شدید موسم کی وارننگ جاری کی گئی۔

    ایمرجنسی سروسز کے مطابق بارسلونا سے 35 کلومیٹر دور جائے وقوعہ پر 11 ایمبولینسیں پہنچ چکی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ 35 کارکنوں کو علاقے میں بھیج دیا گیا اور ٹرین میں پھنسے ایک شخص کو بھی بچا لیا گیا۔

    ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ افراد شدید زخمی ہیں، چھ معمولی زخمی ہوئے ہیں اور 26 دیگر کو معمولی زخم آئے ہیں۔

  9. امریکہ کا ایران سے فٹبالر امیر حسین قادرزاده کی پھانسی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایران میں ملک گیر مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے امیر حسین قادرزاده کو سزائے موت سنائے جانے پر کہا ہے کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’ایرانی حکومت عوام کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے انتہائی اقدامات کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حکومت اپنے نوجوانوں کو سننے کے بجائے انھیں سزائے موت دیتی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اپنے نوجوانوں پر رحم نہیں کرتی، یہ بات واضح کرتی ہے کہ ایران میں کوئی بھی اس کے تشدد سے محفوظ نہیں ہے۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ ’امیر حسین کی پھانسی کو فوری طور پر روکا جائے، پرامن احتجاج کے لیے قید تمام افراد کو رہا کیا جائے اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔‘

    اس سے قبل، رشت میں گرفتار کیے گئے 19 سالہ فٹبالر امیر حسین کے خاندان کے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد انھیں بدھ کی صبح پھانسی دی جا سکتی ہے۔

  10. ایران کے ساتھ یورینیم کے ذخائر پر تنازع ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی

    ڈیووس سربراہی اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس میں جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ سماجی بدامنی کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ ’ناممکن‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر پر تنازع اور بم زدہ تنصیبات تک رسائی میں ناکامی ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔

    رافیل گروسی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی خصوصی رپورٹ آئی اے ای اے کو پیش نہیں کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ صورتحال ہمیشہ نہیں چل سکتی کیونکہ کسی وقت مجھے کہنا پڑے گا کہ مجھے نہیں معلوم یہ یورینیم ذخائر کہاں ہیں، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مواد کی قسمت جاننے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی نتیجہ یا الزام نہیں ہے لیکن ایران کو بطور عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔

    آئی اے ای اے کے مطابق ایران کے 13 جوہری مقامات کا معائنہ کیا جا چکا ہے جن پر بمباری نہیں ہوئی، تاہم نطنز، فردو اور اصفہان جیسے تین اہم مقامات تک رسائی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔ ایران کے یورینیم ذخائر کی آخری بار تصدیق سات ماہ قبل ہوئی تھی، حالانکہ ایجنسی کے رہنما خطوط کے مطابق یہ جانچ ہر ماہ ہونی چاہیے۔

  11. ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے: نیٹو کے سابق سربراہ

    نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل اینڈرز فوگ راسموسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب یورپ کی جانب سے ’زیادہ سخت ردعمل‘ کی توقع کی جا سکتی ہے۔

    اینڈرز فوگ راسموسن ڈنمارک کے سابق وزیرِاعظم بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ٹرمپ آٹھ یورپی ممالک پر اضافی محصولات عائد کرتے ہیں تو یورپ کو جوابی محصولات لگانے چاہییں کیونکہ ’ٹرمپ صرف طاقت اور قوت کا احترام کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اگر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی پر عمل کیا تو نیٹو قائم نہیں رہ سکے گا۔

    فوگ راسموسن نے کہا کہ ’ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔‘

  12. یورپی یونین امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدام پر غور کرے: فرانس

    امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے اُن یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دی جو ان کے منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    منگل کے روز ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میخوان نے کہا کہ وہ ’غنڈہ گردی کے بجائے احترام‘ اور ’بربریت کے بجائے قانون کی حکمرانی‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔

    ایمینوئل میخواں کے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر نے اسی دن فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، کیونکہ فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کی جانب سے عالمی رہنماؤں پر مشتمل ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    ایمینوئل میخواں اُن رہنماؤں میں شامل ہیں جو یورپی یونین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کرے، جن میں ایک انسدادِ دباؤ کا آلہ بھی شامل ہے جسے عرف عام میں ’تجارتی بزوکا‘ کہا جاتا ہے۔

  13. گولی یا زہر نہیں، چترال کا برفانی چیتا اسہال اور پانی کی کمی سے مرا: پوسٹ مارٹم میں تصدیق, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے پہاڑوں سے نایاب سنو لیپرڈ کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چیتے کی موت طبعی قرار دی گئی ہے۔

    ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف آفیسر چترال فاروق نبی کے مطابق 19 جنوری کو چترال کے علاقے گرم چشمہ کے نواحی گاؤں وخت کے بالائی علاقے میں ایک برفانی چیتے کی لاش کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد برفانی چیتے کی لاش کو تحویل میں لے کر چترال شہر میں قائم سول ویٹرنری ہسپتال میں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جہاں ابتدائی رپورٹ کے مطابق چیتے کی موت کسی گولی یا زہر سے نہیں ہوئی بلکہ ڈائیریا اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق اس نر چیتے کی عمر بارہ سال تھی۔ فاروق نبی کے مطابق عام طور پر چیتے کی عمر دس سے تیرہ سال تک ہوتی ہے اور یہی امکان ہے کہ چیتا اپنی عمر پوری کر کے ہی مرا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاروق نبی کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں چیتے کی لاش ملی ہے وہاں لگ بھگ 21 سال بعد یہ چیتا نظر آیا ہے، جبکہ پورے چترال میں کیمرہ ٹریکنگ کے ذریعے 28 سے 32 تک برفانی چیتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چترال میں اتنی تعداد میں چیتوں کی موجودگی عوامی آگاہی کی بدولت ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً آگاہی سیشن کرتے ہیں۔ اگر کسی چیتے نے مال مویشیوں کو نقصان پہنچایا ہے تو محکمہ وائلڈ لائف اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے ہم ان کے مالک کو معاوضہ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انھیں مارنے یا شکار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

  14. اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت سے متعلق ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی درخواست کی سماعت کی۔

    ملزمان کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون نے ضمانت کے حصول کے لیے پوری رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نے ان کے مؤکلین کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج کر رکھا تھا تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ انھیں پہلے ہی گرفتار کر لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو اس مقدمے میں گرفتاری اسی وقت ہی کیوں یاد آئی جب متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کی طرف سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔

    انھوں نے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔

    کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کے مؤکلین کوئی ملک دشمن نہیں ہیں اور اس ملک میں انھیں بھی اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا اس عدالت کے جج یا کسی دوسرے پاکستانی شہری کو ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس یہ مقدمہ درج ہوا تھا اور ان کے مؤکلین اس دوران مقدمات کی پیروی کے لیے مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اگر پولیس چاہتی تو انھیں اُس وقت بھی گرفتار کر سکتی تھی۔

    انھوں نے استدعا کی کہ ان کے مؤکلین کو اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو یہ ہدایت کی جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو جب تک وہ مقدمہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کے مؤکلین کو گرفتار نہ کیا جائے۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے جو مقدمہ ہے وہ اسی کی حد تک ہی احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    سماعت کے دوران وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔

  15. عالمی رہنما ٹرمپ کے اعلان کے منتظر: ’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے،‘ گرین لینڈ کی وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل, سارہ سمتھ کا تجزہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے روانگی سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں گرین لینڈ کے معاملے پر اپنے سخت مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیٹو کے ٹوٹنے کی قیمت وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ادا کرنے کو تیار ہیں، تو اس کے جواب میں یوں محسوس ہوا کہ ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے بیانات یا دھمکیوں سے لوگوں میں ناراضی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیں گے جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم بھی خوش ہوں گے۔‘ تاہم اس ممکنہ سمجھوتے کی نوعیت پر انھوں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

    ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ کے لیے قومی سلامتی کے تناظر میں لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ خطہ ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس مقصد کے لیے کتنی دور تک جانے کو تیار ہیں، تو ان کا مختصر جواب تھا ’آپ کو اس کا جواب بہت جلد مل جائے گا۔‘

    ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران، جہاں ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کئی ملاقاتیں طے کر رکھی ہیں، یہی سوال بار بار اٹھنے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں اپنے پہلے سال کی کامیابیاں بھی گنوانا چاہتے ہیں لیکن اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ آنے والے سال میں گرین لینڈ کے حوالے سے ان کے منصوبے کیا ہیں۔

    تاہم اسی دوران گرین لینڈ کی وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل ناجا ناتانیلسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم نہ تو امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی کہلانا۔‘

  16. ’معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، اب واپسی کا کوئی امکان نہیں‘: ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حصول پر مؤقف مزید سخت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اب ’واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں‘ اور یہ کہ ’گرین لینڈ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں، تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو جلد پتا چل جائے گا۔‘

    دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے خبردار کیا کہ دنیا ’قواعد و ضوابط کے بغیر ایک نئے دور‘ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ’پرانا عالمی نظام واپس نہیں آ رہا۔‘

    صدر ٹرمپ کو بدھ کے روز ڈیووس پہنچنا تھا، تاہم ایئر فورس ون میں معمولی خرابی کے باعث طیارے کو واپس لوٹنا پڑا۔ اس تاخیر کے ان کے شیڈول پر اثرات کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق طیارہ واپس موڑ دیا گیا اور صدر ٹرمپ کسی دوسرے طیارے کے ذریعے ڈیووس روانہ ہوں گے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ’متعدد اہم ملاقاتیں طے ہیں۔‘

    اس سے قبل طویل پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’صورتحال کافی بہتر انداز میں طے پا جائے گی۔‘

    بی بی سی کی جانب سے جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا گرین لینڈ کے لیے نیٹو اتحاد کے ممکنہ ٹوٹنے کی قیمت ادا کرنا انھیں قبول ہوگا، تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’جو کُچھ میں نے نیٹو کے لیے کیا ہے، کسی نے نہیں کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم بھی خوش ہوں گے‘، اور اس بات پر زور دیا کہ ’عالمی سلامتی کے لیے نیٹو کی ضرورت ہے۔‘

    تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا نیٹو امریکہ کی مدد کے لیے آئے گا یا نہیں۔

    انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم نیٹو کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے، لیکن مجھے واقعی شک ہے کہ کیا وہ ہماری مدد کے لیے آئیں گے یا نہیں۔‘

    نیٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) اس وقت 32 رکن ممالک پر مشتمل ہے، جن میں امریکہ ان 12 بانی ممالک میں شامل ہے۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا۔ این بی سی نیوز کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس مقصد کے لیے طاقت استعمال کریں گے، تو صدر کا جواب تھا کہ ’ابھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

  17. انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں صحافیوں کو تھانے طلب کرنے پر شدید سیاسی ردعمل, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کے اراکین اور ان کے لواحقین کی سبھی ذاتی معلومات اکھٹا کرنے کی مہم شروع کی۔

    انڈیا کے کئی بڑے اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا تو سرینگر میں مقیم ان کے نامہ نگاروں کو سائبر پولیس نے طلب کیا اور ان میں سے انڈین ایکسپریس کے نامہ نگار بشارت مسعود کو بانڈ (حلفیہ بیان) پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس میں لکھا تھا کہ ’میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔‘

    بشارت مسعود اس بارے میں براہ راست میڈیا سے بات نہیں کررہے تاہم ان کے دوست احباب کے مطابق بشارت کو سائبر پولیس سٹیشن طلب کر کے وہاں دن بھر یہ کہہ کر رکھا گیا کہ ’صاحب ابھی مصروف ہیں۔‘ شام کو انھیں کہا گیا کہ وہ کل صبح اپنے ساتھ کسی رشتہ دار یا ساتھی کو بھی پولیس سٹیشن لے کر آئیں۔

    دوسرے روز جب بشارت پولیس سٹیشن پہنچے تو انھیں مجسٹریٹ کے پاس لے جایا گیا، جہاں ان سے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ بشارت نے بانڈ کی عبارت پڑھی جس میں اشارہ تھا کہ ’بشارت امن و قانون کے لئے خطرہ ہے‘ اور یہ کہ ’میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔‘

    بشارت نے اس تحریر پر دستخط کرنے سے انکار کیا تو انھیں لگاتار تین روز تک تھانے بلایا گیا اور ان کا فون بھی کئی روز کے لیے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

    انڈین ایکسپریس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اپنے صحافیوں کی عزّت اور وقار کی حفاظت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔‘

    انڈیا کے ایک اور اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے نامہ عاشق حسین کو بھی مساجد کمیٹیوں کی تفتیش سے متعلق خبر دینے پر ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں جب طلب کیا گیا تو ہندوستان ٹائمز نے پولیس سے تحریری طور اس طلبی کا جواز مانگا۔

    متعدد دیگر صحافیوں کو بھی اسی سٹوری کے لئے سائبر پولیس نے طلب کیا تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے نام ظاہر نہیں کیا۔

    رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے پولیس کی اس کارروائی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنے پر صحافیوں کو طلب کرنا جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔‘ ایک اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہا ’حکام صحافیوں کو اپنے اشاروں پرنچانے کے لئے نتے نئے حربے آزما رہے ہیں۔‘

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 منسوخ کئے جانے کے بعد سے کشمیر میں صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی صحافیوں کو انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق خبریں شائع کرنے پر قید بھی کیا گیا۔

    فہد شاہ کے اخبار ’کشمیر والا‘ کو کالعدم قرار دے کر انھیں سینٹرل جیل بھیج دیا گیا اور 21 ماہ بعد ان کی ضمانت ہوئی۔ گزشتہ سال نومبر کے دوران جموں میں مقیم ’کشمیر ٹائمز‘ کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا اور پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہاں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ یہ اخبار اپنی اشاعت کئی سال پہلے معطل کرچکا ہے اور اب صرف آن لائن پورٹل چل رہا ہے۔

    ان واقعات پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز جیسی عالمی تنظمیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  18. ہرات میں طالبان کی جانب سے میڈیا اور لباس سے متعلق پابندیاں سخت، اخلاقی نگرانی میں اضافہ

    افغانستان کے دوسرے بڑے شہر ہرات میں طالبان نے عام لباس اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں، جس کے تحت عوامی مقامات، جامعات اور میڈیا کے شعبے میں اخلاقی نگرانی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔

    یہ اقدامات حالیہ مہینوں میں مغربی شہر ہرات میں کی جانے والی نمایاں ترین کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن پر مقامی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ بعض مذہبی علما کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

    افغان میڈیا کے بیرونِ ملک قائم اداروں نے 16 جنوری کو ایک ویڈیو وسیع پیمانے پر نشر کی جس میں مسلح طالبان ہرات کے ایک ہوٹل کے ہال میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ہرات یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے فارغ التحصیل طلبہ اپنی گریجویشن کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے موجود تھے۔

    ویڈیو میں افغان طالبان اہلکاروں کو متعدد گریجویٹس کو زبردستی اپنی ٹائیاں اترواتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کا مؤقف تھا کہ ٹائی غیر اسلامی لباس ہے۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور بعض مذہبی شخصیات نے بھی اس کارروائی کو توہین آمیز اور غیر ضروری قرار دیا۔

    بعد ازاں طالبان حکام نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وزارتِ ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے کہا کہ ’ٹائی پہننے پر کئی برسوں سے پابندی عائد ہے جس کا حوالہ انھوں نے سنہ 2024 کے اخلاقی قانون کی جانب دیا۔‘

    سیف الاسلام خیبر نے تنقید کرنے والوں پر غیر ملکی مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا اور اس بات کی تردید کی کہ کسی قسم کا زور زبردستی استعمال کیا گیا، تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح اہلکاروں کی موجودگی نے خوف اور دباؤ کی فضا پیدا کر دی تھی۔

    یہ مہم صرف ٹائی تک محدود نہیں رہی بلکہ مردوں کے لباس اور ظاہری حلیے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  19. ایرانی میڈیا کی جانب سے گرفتاریوں کی خبریں، مظاہرین پر امریکا اور اسرائیل سے روابط کا الزام

    ایرانی میڈیا نے 20 جنوری کو ملک بھر میں حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتاریوں سے متعلق کہا ہے کہ حکام کی جانب سے ان حکومت مخالف مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیا جا رہا ہے اور گرفتار افراد پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اُن کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ روابط کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مغربی صوبہ لورستان میں قائم ابو الفضل کور نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فورسز نے صوبے میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ’ہنگامی کارروائیوں‘ کے ذریعے 134 ’ایجنٹس، اہم افراد اور اثر و رسوخ رکھنے والے رہنماؤں‘ کی شناخت کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اطلاع آئی آر جی سی سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے دی۔

    آئی آر جی سی کے صوبائی کور کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق ’امریکی دہشت گرد نیٹ ورک‘ سے تھا اور انھوں نے ’دہشت گرد سیلز قائم کر رکھے تھے۔‘ بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ ان افراد نے داعش طرز کی کارروائیوں کے ذریعے مختلف اقسام کے اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے اور انھیں زخمی کیا۔

    فورس نے گرفتار افراد پر یہ الزام بھی لگایا کہ انھوں نے ’عوامی اور نجی مقامات کو تباہ کیا اور آگ لگائی‘، جن میں مساجد، دکانیں، بینک، نجی و سرکاری اور سروس گاڑیاں شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف گرفتاریوں کا یہ سلسلہ ’تاحال جاری ہیں۔‘

    ایرانی صوبہ زنجان کے شمال مغربی علاقے میں تعینات پبلک سکیورٹی پولیس نے بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت زنجان میں ہونے والے احتجاج کے دوران ’بدامنی اور افراتفری‘ پھیلانے کے الزام میں 150 ’شر پسندوں اور اُن کے رہنماؤں‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ تسنیم نیوز ایجنسی نے شائع کی۔

    پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو اُجرت دینے کا کہہ کر ان مظاہروں کے لیے اُکسایا گیاتھا، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے ’معصوم شہریوں کا خون بہایا، مقدس مقامات، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، فوجی تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کی، عوامی نظم و ضبط کو سبوتاژ کیا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔‘

  20. عالمی منڈیوں میں مسلسل دوسرے روز مندی کا رجحان: ’یورپی پارلیمان امریکی تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا سوچ رہی ہے‘

    یورپی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تجارتی کمیٹی سے قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اس معاہدے سے معطلی کا اعلان آج یعنی بدھ کے روز فرانس کے شہر سٹرسبورگ میں کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ اقدام امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کی علامت ہوگا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کی اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں اور اس معاملے پر ہفتے کے آخر میں نئے محصولات یعنی ٹیرف لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    اس تعطل نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تجارتی جنگ کی باتیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور امریکہ کے تجارتی اقدامات کے جواب میں ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    منگل کے روز بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب حصص یعنی شئیرز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، یورپی سٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے دن بھی خسارہ دیکھنے کو ملا۔

    امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس ایک اعشاریہ سات فیصد سے زیادہ گراوٹ کا شکار نظر آیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں دو فیصد سے زائد کمی آئی اور نیسڈیک تقریباً دو اعشاریہ چار فیصد کم ہو کر بند ہوا۔

    بدھ کے روز ایشیا پیسیفک خطے کی سٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا، جاپان اور آسٹریلیا کے بڑے اعشاریے قدرے نیچے رہے، جبکہ چین کے مین لینڈ میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ جاری رہا اور یہ پہلی بار 4800 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔ چاندی کی قیمت ریکارڈ سطح 94 ڈالر فی اونس سے کم ہو گئی۔

    غیر یقینی حالات میں قیمتی دھاتوں کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران سونے اور چاندی دونوں کی ہی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا ہے، حالانکہ راتوں رات اس کی قدر میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئی تھی جو دسمبر کے آغاز کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

    امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی جولائی میں اس وقت کم ہو گئی تھی جب دونوں فریقوں نے سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے ٹرن بیری گالف کورس پر ایک معاہدہ کیا تھا۔

    اس معاہدے کے تحت زیادہ تر یورپی اشیا پر امریکی محصولات 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے، جو اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ’لبریشن ڈے‘ ٹیرف مہم کے تحت دھمکی دی گئی 30 فیصد شرح سے کم تھے۔ اس کے بدلے یورپ نے امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے اور براعظم میں ایسی تبدیلیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا جن سے امریکی برآمدات میں اضافے کی توقع تھی۔

    تاہم اس معاہدے کو باضابطہ بننے کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے۔

    لیکن سنیچر کے روز، گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی محصولات کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد، یورپی پارلیمنٹ کے بااثر جرمن رکن مانفریڈ ویبر نے کہا کہ ’اس مرحلے پر منظوری ممکن نہیں ہے۔‘

    اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے کہا کہ ’گرین لینڈ پر دھمکیوں کی وجہ سے معاہدے کو معطل کرنے کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔‘

    لانگے نے مزید کہا کہ ’ایک یورپی یونین کے رکن ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو دھمکی دے کر اور ٹیرف کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر کے، امریکہ یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کے استحکام اور پیش گوئی کے قابل ہونے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ لانگے کی کمیٹی کو معاہدے پر دستخط کرنے ہوتے ہیں اس کے بعد ہی یہ حتمی ووٹ کے لیے پارلیمنٹ میں جاتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ٹرن بیری کی دو قانون سازی تجاویز پر کام اس وقت تک معطل کر دیا جائے جب تک امریکہ تصادم کے بجائے تعاون کے راستے پر دوبارہ آمادہ نہیں ہوتا اور اس سے پہلے کہ کوئی مزید اقدامات کیے جائیں۔‘