میر علی خودکش حملے میں 13 اہلکار ہلاک، کلیئرنس آپریشن میں 14 شدت پسند بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر

صوبہ خیبرپختونخوا میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دہشتگردوں 14 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • گزشتہ روز سیلابی ریلے میں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد سوات میں سول سوسائٹی کی جانب سے انتظامیہ اور حکومت کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
  • خیبرپختونخوا حکومت نے اس واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر چار اعلیٰ افسران کو معطل کیا گیا ہے۔
  • پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے ایم پی ایز پر جرمانے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سپیکر نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا۔
  • اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جا رہی ہیں۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’اگر صدر ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں تو انھیں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے میں اپنا ہتک آمیز اور ناقابلِ قبول لہجہ ترک کرنا ہو گا۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’لگتا ہے کہ غزہ میں آئندہ ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی ممکن ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. امریکی فوج نے نہ صرف اپنے اڈے کا دفاع کیا بلکہ اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا: جنرل ڈین کین

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ پینٹاگون میں پریس کانفرنس میں موجود امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ’پیر کی صبح امریکہ کو انتباہ موصول ہونا شروع ہوا کہ ایران خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اس موقع پر جنرل ڈین کین ایران کی جانب سے قطر میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے سے متعلق بات کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے حکم پر انھوں نے بیس پر ’کم سے کم فورس پوزیشن‘ اختیار کر لی اور چند فوجیوں کو چھوڑ کر ’زیادہ تر‘ کو بیس سے نکل جانے کے احکامات دیے۔‘

    کین کا کہنا ہے کہ قطر میں امریکی فوج کے اڈے پر 44 فوجی رہ گئے تھے جو ’پورے اڈے کے دفاع کے ذمہ دار‘ تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے عمر رسیدہ فوجی 28 سالہ ایک کیپٹن تھے اور عُمر میں سب سے کم 21 سالہ ایک اور فرد تھے کہ جنھوں نے دو سال قبل ہی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔‘

    جنرل کین کا کہنا ہے کہ ’قطر میں امریکی فضائی اڈے پر ایران کا حملہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے شروع ہوا۔‘

    ان کے خیال میں العدید ایئر بیس کا فضائی دفاع امریکہ کی فوجی تاریخ کا سب سے بڑا پیٹریاٹ آپریشن تھا۔

    وہ تسلیم کرتے ہیں کہ قطر نے بھی اپنے اڈے کے دفاع میں امریکہ کی مدد کی انھوں نے مزید کہا کہ فضائی محافظوں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لئے سیکنڈ تھے کہ کیا کرنا ہے۔

    جنرل کین نے اس سب تفصیل کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات کا ذکر کیا کہ جن پر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو پہلی بار ایران کے پہاڑوں میں ایک منصوبے کے بارے میں بہت پہلے انٹیلی جنس معلومات ملی تھیں۔‘

    ان کے مطابق امریکی ڈیفنس تھریٹ ریڈکشن ایجنسی کے ایک افسر 15 سال سے فردو کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں مصروف تھے۔

    جنرل کین کا کہنا ہے کہ بعد میں ایک ’بنکر بسٹر' بم تیار کیا گیا جس کا مقصد حملہ کرنا تھا جو بالآخر 22 جون کو ہوا۔

    BBC

    جنرل کین کا کہنا ہے کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر 15 سال کے کام کا ’اختتام‘ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار فردو جوہری سائٹ پر حملے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ’ڈیزائن، منصوبہ بند اور فراہم‘ کیے گئے تھے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس مقام پر دو وینٹ شافٹوں کو نشانہ بنایا، جنھیں ایرانیوں نے حملے سے بچنے کے لیے کنکریٹ سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔

    وہ بتاتے ہیں کہ پہلے حملے میں اس کی بالائی سطح کو ہٹا دیا گیا، جس سے شافٹ کا پتہ چلتا ہے، اور پھر اسے نشانہ بنایا گیا۔

    جنرل کین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر انھوں نے اس مقام پر چھ بم گرائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’فردو جوہری سائٹ کو نشانہ بنانے والے تمام امریکی ہتھیار اپنے ہدف تک پہنچ گئے اور کامیابی سے انھیں نشانہ بنایا۔‘

    جنرل کین نے آخر پر کہا کہ ’انھیں اپنی فوج کی اس کامیابی پر فخر ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’امریکی افواج مکمل طور پر ہر چیلجن سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘

    امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈین کین نے امریکی مخالفین کو متنبہ کیا ہے کہ ’امریکی فوج اہداف کا جائزہ لے رہی ہیں۔‘

  2. یہ تاریخی طور پر کامیاب حملہ تھا اور ہمیں اس کا جشن منانا چاہیے: امریکی وزیرِ دفاع

    BBC

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جمعرات کے روز پینٹاگون سے اس ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے اثرات کے بارے میں ایک پریس بریفنگ کی۔

    اس پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایران میں امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہویے کہا کہ وہ ’انتہائی کامیاب‘ تھے۔

    ہیگسیٹھ کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ نے ’تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور خفیہ فوجی آپریشن‘ کی ہدایت کی اور یہ ایک ’زبردست کامیابی‘ تھی۔

    امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا ہے کہ ’واشنگٹن نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کی جانب سے یہ بیان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے کوئی اہم مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    ایک لیک ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ہیگسیٹھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’ابتدائی‘ تخمینہ تھا اور ذرائع ابلاغ کا ایک ’ایجنڈا‘ تھا کہ حملوں کو کامیاب نہ کہا جائے۔

    ہیگسیٹھ نے ابتدائی رپورٹ کی ’من گھڑت‘ کوریج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خامیاں تھیں اور اسے وسیع تر انٹیلی جنس کمیونٹی کے ساتھ مربوط نہیں کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طورپر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔

    اس کے بعد ہیگسیٹھ نے امریکی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں مختلف ایجنسیوں کا حوالہ دیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کی جوہری ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی حملے نے ’(ایرانی) افزودگی کی تنصیبات کو غیر فعال بنا دیا ہے۔‘

    ہیگسیٹھ نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ’بہت بڑا نقصان‘ پہنچا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سی آئی اے کا خیال ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔

  3. رہبر اعلیٰ کو اپنے جوہری پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے اہم سیاسی فیصلے کا سامنا ہے, فرینک گارڈنر، بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار کا تجزیہ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بہت سے عناصر موجود ہیں اور اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ امریکہ یا یہاں تک کہ اسرائیل اس وقت ایران کے اندر ان سب کی حیثیت کے بارے میں جانتا ہے۔

    سب سے پہلے انتہائی افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کو اس بات پر تشویش ہے کہ اگر ایران نے جوہری بم بنانے کا فیصلہ کیا تو اس ایچ ای یو کے 408 کلوگرام کے ٹھکانے کے بارے میں تشویش ہے، جو ہتھیاروں میں استعمال کیے جانے کے عمل کے بہت قریب ہے، اور یہ مقدار نو جوہری بموں کی تیاری کے لیے ایک اہم جزو ہے۔

    اس بات کا امکان نہیں ہے کہ فضائی حملوں میں مواد تباہ ہوا تھا اور زیادہ امکان یہ ہے کہ ایران نے اسے کسی اور زیر زمین خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

    اس کے بعد سینٹری فیوجز ہیں۔ جب ’کیسکیڈ‘ میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لئے تیز رفتار سے گھومتے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا فردو کے پہاڑ کے اندر زیر زمین ہال میں موجود سینٹری فیوجز اب بھی برقرار ہیں یا ان کے اوپر ہونے والے حملے میں وہ تباہ ہوئے ہیں۔

    جب تک امریکہ کے پاس انسانی مخبروں یا سگنلز کے ذریعے خفیہ انٹیلی جنس نہیں ہوتی اس بات کا امکان نہیں ہے کہ پینٹاگون یا آئی اے ای اے کو یہ معلوم ہو سکے کہ یہ سینٹری فیوجز کس حالت میں ہیں۔

    اسرائیل کے بارہ روز سے جاری فضائی حملوں میں ایران کے چند اعلیٰ جوہری سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ فوجی کمانڈر بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ تقریباً ناممکن ہے کہ وہ دہائیوں سے جاری ایرانی جوہری تحقیق کو ختم کر دیتے، جو ہارڈ ڈرائیوز، تجوریوں اور سائنسدانوں کے دماغوں میں محفوظ ہے۔

    آخر میں وہ سیاسی فیصلہ ہے جس کے بارے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے جوہری پروگرام کے ساتھ آگے کیا ہوگا۔

    کیا وہ مذاکرات کی میز پر میں واپس آئیں گے، امریکہ اور اسرائیل سے اپنی سرزمین پر افزودگی ترک کرنے کے مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے یا وہ مستقل طور پر تمام تعاون بند کر دیں گے جس سے یہ شبہ پیدا ہوگا کہ وہ اپنے مشتبہ جوہری پروگرام کی تعمیر نو کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں؟

  4. سرکاری ملازمین کا اپنے مطالبات کے حق احتجاج چوتھے روز بھی جاری، وزیر اعلیٰ بلوچستان کا ہڑتال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    سرکاری ملازمین کی اپنے مطالبات کے حق اور درجنوں ملازمین کی گرفتاری کے خلاف سرکاری دفاتر میں ہڑتال کی وجہ سے جمعرات کو چوتھے روز بھی بلوچستان میں سرکاری دفاتر میں معمولات بری طرح متاثر ہوئے۔

    سرکاری ملازمین کی تنظیمیں گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام اپنے مطالبات کے حق میں سرکاری دفاتر میں ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین نے جو مطالبات پیش کیے ہیں ان کا فنانشل امپیکٹ 14ارب روپے بنتا ہے اور بلوچستان حکومت کے لیے انھیں یہ ریلیف دینا ممکن نہیں ہے۔

    وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر بلوچستان حکومت نے سرکاری ملازمین کے ہڑتال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام محکموں کے سربراہوں کو ہدایت کی ہے وہ ہڑتال کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کریں۔

    بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا بڑا مطالبہ کیا ہے؟

    بلوچستان میں سرکاری ملازمین نے چار روز قبل اپنے مطالبات کے حق میں دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔

    اس احتجاج کے دوران کوئٹہ میں ریڈ زون میں احتجاج کرنے والے ملازمین پر نہ صرف لاٹھی چارج ہوا بلکہ گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی جن میں سرکاری ملازمین کے اتحاد گرینڈ الائنس کے رہنما بھی شامل ہیں۔

    لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے بعد ملازمین نے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ہڑتال شروع کی ہے جس کے باعث گزشتہ چار روز سے سرکاری دفاتر میں کام متاثر ہے بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

    ملازمین کے گرینڈ الائنس کے ترجمان علی بخش جمالی نے بتایا کہ کوئٹہ میں احتجاج کے دوران 90 سے زائد ملازمین کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 18 کو مچھ جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کا احتجاج جائز مطالبات کے لیے ہے اور ان کے مطالبات میں سب سے بڑا مطالبہ ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس کو 30 فیصد کرنے کا ہے جو کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو دیا جارہا ہے۔

    سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    بلوچستان اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے جو مالی وسائل ہیں ان کا سب سے بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات پر جارہا ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے محدود وسائل میں ملازمین کے تمام مطالبات من و عن تسلیم کرنا ممکن نہیں۔

    تاہم ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر بلوچستان حکومت نے تمام سرکاری محکموں کے سربراہوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ گرینڈ الائنس کی جانب سے جاری ہڑتال کے تناظر میں اپنے ماتحت تمام ملازمین کو فوراً اپنی جائے تعیناتی پر حاضر ہونے کی ہدایت کریں۔

    اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی کو بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے یا کسی بھی قسم کے سرکاری امور میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    حکومت بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ جو سرکاری ملازم گرینڈ الائنس کی ہڑتال کی آڑ میں اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اُس کے خلاف “کارِ سرکار میں مداخلت” اور حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  5. 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت نیب کی استدعا پر ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر نیب کے سپیشل پروسیکیوٹر نے کیس سٹڈی کے لیے چار ہفتے کا وقت مانگ لیا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ لینے کے لیے کمرہ عدالت میں ہی بیٹھ گئے۔

    سماعت قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔ قائم مقام چیف جسٹس نے روسٹرم پر وکلا کے رش کو دیکھتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ایک وکیل نے دلائل دینے ہیں تو اتنے وکلا روسٹرم پر کیوں کھڑے ہیں باقی لوگ پیچھے جا کر بیٹھ جائیں یہ عدالت کا ڈیکورم نہیں اگر یہ صورتحال رہی تو میں کیس کی سماعت اگے نہیں بڑھاؤں گا۔‘

    بیرسٹر سلمان صفدر نے اس پر کہا کہ ’سیاسی کیسز میں ایسا ہوتا ہے ہم ڈیکورم کا خیال رکھیں گے ہم نے اس سے پہلے بھی اس عدالت میں کیسز لڑے ہیں اور ڈیکورم بھی برقرار رکھا ہے۔‘

    سردار مظفر عباسی کی سربراہی میں نیب نے پراسیکیوشن ٹیم تعینات کردی ہے پانچ جون کو نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا تھا کہ وہ بھی بحث نہیں کریں گے اس کیس میں خاتون کو بھی سزا ہوئی ہے خواتین کی عام طور پر عدالتوں سے سزا معطل ہو جاتی ہے گزارش ہے ہمیں اپنے کیس شروع کرنے کا موقع فراہم کیا جائے شفافیت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

    سپیشل پراسیکیوٹر نیب جاوید ارشد ایڈووکیٹ نے عدالت سے وقت مانگ لیا کہا ’میں کبھی اس کیس کا حصہ نہیں رہا کل ہی مجھے اس کیس کی پیروی کے لیے سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا ہے طویل والیومز پر مشتمل کیس ہے تیاری کے لیے کم از کم چار ہفتے کا وقت درکار ہے عدالت سے استدعا ہے کہ کیس سٹڈی کے لیے وقت دیا جائے۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے افس کیس کی آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دے گا۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے استدعا کی ہے کہ ’ہمیں آئندہ کی تاریخ ابھی دے دی جائے عدالت نے کہا میں آئندہ کی تاریخ دے دوں گا کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    سماعت کے بعد علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما کیس کی آئندہ تاریخ مقرر کروانے کے لیے کمرہ عدالت میں ہی بیٹھ گئے عدالتی عملے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب کو کہیں ہم یہاں منتظر ہیں مہربانی کر کے اس کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اگاہ کیا جائے۔‘

  6. جنگ بندی کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا پیغام: ’جوہری تنصیبات پر حملے میں امریکہ کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے کوئی اہم مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ ہوا اس کے بارے میں ’غیر معمولی طور پر مبالغہ آمیز‘ بیان دیا ہے۔‘

    خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح تھا کہ انھیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے اور جو کوئی بھی سن رہا ہے وہ امریکہ کو بتا سکتا ہے کہ وہ سچائی کو مسخ کرنے کے لیے چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے خطے میں امریکہ کے اہم اڈوں میں سے ایک پر حملہ کیا اور یہاں انھوں نے اسے کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کا ایران سے ’ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ تو کیا تھا مگر امریکی صدر کا یہ بیان نا مناسب تھا۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’ایران جیسے عظیم ملک اور قوم کے لیے ہتھیار ڈالنے کا ذکر ہی توہین ہے۔‘

    ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی فوجی کارروائی جوہری معاملات یا جوہری افزودگی کے بارے میں نہیں تھی بلکہ ’ہتھیار ڈالنے‘ کے بارے میں تھی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ایک دن یہ انسانی حقوق کے بارے میں ہے، دوسرے دن یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں ہے، پھر یہ جوہری مسئلے کے بارے میں ہے، پھر میزائلوں کے بارے میں ہے۔‘

    لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ ’درحقیقت اس کی اصل وجہ ایک ہی ہے کہ اور وہ یہ کہ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔‘

  7. امریکہ کو اس جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی: آیت اللہ خامنہ ای

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’میں ایک بار پھر اپنے ملک کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے براہ راست جنگ میں اس لیے قدم رکھا کیونکہ اسے لگا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتا تو صیہونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو اس جنگ سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور ایران 'فاتح' بن کر اُبھرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس نے 'امریکہ کے منہ پر ایک سخت طمانچہ' مارا ہے۔'

    ایرنی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری تنصیبات کے تباہ ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’صیہونی حکومت کو عملی طور پر جوابی حملوں سے کچل دیا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے براہ راست اس جنگ میں اس لیے قدم رکھا کیونکہ انھیں اس بات کا علم تھا کہ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو صیہونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای نے اس بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر فارسی زبان میں ایک اور پیغام پوسٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’تیسری مبارکباد، ایرانی قوم کے اتحاد پر۔ تقریباً نو کروڑ کی آبادی والا ملک مسلح افواج کی حمایت میں ایک آواز کے ساتھ، کندھے سے کندھا ملا کر متحد ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی قوم نے اپنے ممتاز کردار کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ ضرورت پڑنے پر اس قوم کی طرف سے ایک ہی آواز سنی جائے گی۔‘

  8. جنگ بندی کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا قوم کے لیے پہلا ویڈیو پیغام: ’اسرائیل کے خلاف فتح پر قوم کو مبارکباد‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا سوشل میڈیا پر پہلا بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے ایرانی عوام کو اسرائیل کے خلاف ’کامیابی‘ پر مبارکباد دی ہے۔

    ایرانی کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایکس پر ایک طویل وقفے کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف کامیابی پر ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

    بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اب سے کچھ دیر میں ایرانی عوام سے خطاب کریں گے۔

    یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایک نیوز کانفرنس کریں گے، جہاں وہ ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے اثرات کے بارے میں تازہ ترین معلومات دیں گے۔

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ’بڑی‘ اپ ڈیٹ پینٹاگون سے فراہم کی جائے گی، جب ہیگسیتھ کے ساتھ فوجی نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

  9. پنجاب بھر میں بارشوں سے چار افراد ہلاک، 27 زخمی

    ریسکیو

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو 1122 کا کہنا ہے صوبے بھر میں اب تک بارشوں اور اس سے متعلقہ واقعات میں چار افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوچکے ہیں۔

    ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کا کہنا ہے کہ اوکاڑہ میں بستی ریاض آباد میں چھت گرنے سے پانچ سالہ بچی ہلاک جبکہ خانیوال میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    بہاولنگر میں چھت گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ جہلم میں ایک شخص برساتی نالہ میں ڈوب گیا۔

    ریسکیو 1122 نے لوگوں کو بجلی کے پول، ہورڈنگ بورڈز اور نشیبی علاقوں میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    اس سے قبل، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ موسلا دھار بارشوں کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    محمکہ موسمیات کا کہنا تھا کہ شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ،چارسدہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا بھی اندیشہ ہے۔

  10. انڈین جیل میں قید کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ میں کینسر کی ’تشخیص‘: ’اگر انھیں جیل میں کچھ ہو گیا تو یہ نیا تنازع ہو گا‘, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    شبیر احمد شاہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے علیٰحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ تہاڑ جیل میں نہایت علیل ہوگئے ہیں۔

    متعدد عارضوں میں مبتلا شبیر شاہ کو 2017 میں انڈیا کی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یا ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

    ان کی بیٹی سحر شبیر شاہ نے سوشل میڈیا پر ان کے مناسب علاج اور خاندان کو ان تک رسائی کی اپیل کی ہے جس کے بعد کئی سیاسی رہنماوٴں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہ کو انسانی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے۔

    سحر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں انھوں نے بتایا، ’پچھلے دو سال سے ایک فون کال بھی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ شدید بیمار ہیں، کئی سرجریاں تجویز کی گئی ہیں، لیکن نہ مناسب علاج دستیاب ہے اور نہ میڈیکل رپورٹس تک رسائی۔‘

    انھوں نے اپنی اپیل کو ’ایک بیٹی کی فریاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی سیاسی بیان نہیں نہ ہی کوئی قوم دشمن بات ہے، یہ انصاف، ہمدردی اور بنیادی انسانی اقدار کی پاسداری کے لیے ایک فوری اپیل ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا، ’اگر آپ کا دل ابھی بھی دھڑکتا ہے تو میری بات سُنیں، کیونکہ اس بار بھی خاموشی جیت گئی تو یاد رکھیں، آپ کو بتایا گیا تھا، آپ جانتے تھے اور آپ نے پھر بھی آنکھیں چُرا لیں۔‘

    شبیر شاہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ ابتدائی تشخیص سے پتہ چلا ہے کہ وہ کینسر میں مبتلا ہیں اور انھیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے انڈین حکومت پر زور دیا کہ اگر شبیر شاہ کو کوئی لاعلاج بیماری لاحق ہے تو انھیں پیرول پر رہا کر دیا جائے تاکہ اس مشکل گھڑی میں ان کا خاندان ان کا خیال رکھ سکیں۔

    ’اگر شبیر شاہ کو جیل میں کچھ ہوگیا تو یہ کشمیر میں ایک نیا تنازع ہوگا۔‘

    میرواعظ عمرفاروق، سجاد غنی لون، محمد یوسف تاریگامی اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی انڈین وزارت داخلہ سے اپیل کی ہے کہ اگر شبیر شاہ کو رہا نہیں کیا جاتا تو کم از کم انھیں گھر میں نظربند رکھا جائے تاکہ ان کا علاج ممکن ہو۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 سے تہاڑ اور انڈیا کی دیگر جیلوں میں درجنوں علیٰحدگی پسند رہنما قید ہیں۔ ان میں 63 سالہ آسیہ اندرابی، 59 سالہ محمد یٰسین ملک، نعیم احمد خان، آفتاب ہلالی شاہ عرف شاہدالاسلام اور بارہمولہ کے رکن پارلیمان عبدالرشید شیخ شامل ہیں۔

    ان میں سے آسیہ اندرابی اور یٰسین ملک بھی کئی برسوں سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

  11. پہلگام حملے اور ماضی کے لشکرِ طیبہ کے حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے: انڈین وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے اور ماضی میں انڈیا میں ہونے والے لشکرِ طیبہ کے حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

    جمعرات کے روز چین میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے کے دوران متاثرین کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنا کر گولی ماری گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ذمہ داری لشکرِ طیبہ کے پراکسی گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی ہے۔

    سات مئی کو ’دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے اور سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے‘ انڈیا نے کامیابی کے ساتھ ’آپریشن سندور‘ لانچ کیا۔

    ان کے مطابق، اس آپریشن کا مقصد سرحد پار موجود دہشت گردی کے تھکانوں کو تباہ کرنا تھا۔

    انڈین وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی اور امن‘ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

    ’امن اور خوشحالی دہشت گردی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں موجودگی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بنیاد پرست اور خود غرض مفادات کے لیے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔

    یاد رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح افراد کے حملے میں 26 شہریوں افراد مارے گئے تھے۔

    انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا جس کی پاکستان تردید کرتا آیا ہے۔

    اس حملے کے بعد انڈیا نے چھ مئی کی شب پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔

    کئی دنوں تک جاری رہنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کارروائیوں کا تبادلہ اس وقت تھما جب 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ملک 'فوری اور مکمل سیز فائر' پر مان گئے ہیں۔

  12. بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ ہے: این ڈی ایم اے

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے واقعات کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران مسلسل گرمی کی وجہ سے شمالی علاقوں میں برف اور گلیشیئر کے پگھلنے میں تیزی آئی ہے۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مون سون کی بارشوں وجہ سے برفانی جھیلوں پر ہائیڈرو میٹرولوجیکل دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ریشن، بریپ، بونی، سردار گول، تھلو 1، تھلو 2، بدسوات، ہنارچی، درکوٹ، ہنڈر کے علاقوں میں گلوف واقعات کی وجہ سے گلیشیائی سیلاب اور رابطہ سڑکوں کی بندش کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گلیشیرز اور دریا کے کناروں سے دور رہیں اور سیلابی ریلوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔

    گلوف الرٹ

    ،تصویر کا ذریعہX/NDMApk

  13. ایرانی پولیس کا تہران سے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    تہران کی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر کی میٹرو سے ایک شخص کو ’موساد کے لیے جاسوسی‘ کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی پولیس فورس کے ترجمان سعید منتظر المہدی کے حوالے سے بتایا کہ تہران میٹرو پولیس نے ایک مسافر کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کے پاس موجود آلات اور موبائل فون کی جانچ پڑتال کرنے پر پتا چلا اس نے فوجی اور حساس مقامات کی لوکیشن ریکارڈ کی تھی۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اسے نامعلوم نمبروں سے عبرانی زبان میں ہدایات بھی موصول ہوئی تھیں۔

    دوسری جانب پاسداران انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کے صوبہ خوزستان میں 26 افراد کو اسرائیل کے لیے کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ افراد ’درانداز تھے اور حالیہ جنگ کے دوران انھوں نے لوگوں کو دھوکہ دیا‘ تھا۔

    گذشتہ چند روز کے دوران، ایرانی پولیس اور سکیورٹی حکام نے متعدد افراد کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعاون اور دونوں ملکوں کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی ’مدد‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکومت کے مخالفین نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے بعد ایرانی حکومت کی جانب سے اختلاف رائے کو سختی سے دبانے کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں جنگ کے بعد حکومت کے خلاف عوامی عدم اطمینان کو بڑھنے سے روکنے کے لیے جبر کا استعمال کر رہی ہیں۔

  14. امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا: ڈائریکٹر سی آئی اے کا دعویٰ

    جان ریٹکلف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سی آئی اے کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو ’شدید نقصان پہنچا‘ ہے اور جوہری پروگرام کو کئی برس پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

    امریکی اینٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اہم ایرانی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

    جان ریٹکلف کا یہ بیان امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ریٹکلف کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کی معلومات میں ’تاریخی اعتبار سے قابل اعتماد اور درست ذریعہ/طریقہ سے حاصل ہونے والی نئی انٹیلیجنس شامل ہے کہ کئی اہم ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے اور ان کی دوبارہ تعمیر میں کئی برس لیں گے۔‘

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات کی حالت کے بارے میں الجزیرہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ’جی ہاں، ہماری جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ ان (تنصیبات) کو بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

  15. ثالثوں نے غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں تیز کر دی ہیں: حماس

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ثالثوں کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حماس کو ’اب تک [جنگ بندی کی] کوئی نئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے‘۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار نے ہرٹز اخبار کو بتایا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ فریقین کے درمیان بڑے اختلافات ابھی حل طلب ہیں۔

    یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ منگل کے روز اسرائیل اور ایران کی 12 روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد سے ’بڑی پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔

    ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بہت جلد کوئی اچھی خبر ملے گی۔ میں سٹیو وٹکوف سے بات کر رہا تھا... [اور] انھوں نے مجھے بتایا کہ غزہ بہت نزدک ہے۔‘

    حماس کے زیرانتظام وزارت صحت نے بتایا کہ بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں سے کچھ افراد امداد لینے گئے تَھے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسرائیلی فوج کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ غزہ میں حماس کی جانب جانب سے کیے گئے ایک حملے میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت سات فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک علیحدہ حملے میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایرانی پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منطوری دے دی ہے۔
    • ایران نے پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر علی شادمانی کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’ہم آئندہ ہفتے ایران سے بات کریں گے، شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔‘
    • ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی اور امریکی حملوں سے اس کی جوہری تنصیبات کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے کیونکہ ان کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔
    • غزہ میں حماس کی جانب جانب سے کیے گئے ایک حملے میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت سات فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک علیحدہ حملے میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔