ایرانی وزیرِ خارجہ کی امریکہ سے مذاکرات کی تردید، ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے امریکہ نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں تاہم ایران کی پالیسی 'دفاع جاری رکھنے' کی ہے اور ان کا 'فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔' ابوظہبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
خلاصہ
امریکی پیغامات موصول ہوئے، فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں: عباس عراقچی
اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو باب المندب کی آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتے ہیں: ایرانی فوجی ذرائع
پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے: وائٹ ہاؤس
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
حکومتِ پاکستان نے فیول سبسڈی کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کر دی
ایران کا ایف-18 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید
پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران میں ’درست لوگوں‘ سے بات کر رہا ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک ’بہت اہم تحفہ‘ دیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, امريکہ ايران ميں ’درست لوگوں سے بات کر رہا ہے‘ اور ایرانی حکام ’معاہدے کے لیے بے چین ہیں‘: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع پر بات کرتے ہوئے اپنے پہلے کے دعوے دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ايران کے پاس اب نہ بحريہ بچی ہے، نہ قيادت اور نہ ہی ريڈار۔
انھوں نے امریکی کارروائی کو شاندار کامیابی قرار دیا۔
امن کے حوالے سے بات چيت کے متعلق وہ مزيد کہتے ہیں:
’ہم درست لوگوں سے بات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے کے ليے بے حد بے چين ہیں۔‘
بحرین پر ایران کے میزائل حملے میں ایک ہلاک، متعدد زخمی, فرینک گارڈنر - سکیورٹی نمائندہ، دوحہ
بحرین کو جنگ کے دوران اب تک کے بدترین حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب ایک ایرانی میزائل نے جزیرے کے مغربی حصے میں واقع ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
بحرین کے مطابق حملا بیس پر ہونے والے حملے میں ایک اماراتی فوجی کنٹریکٹر (جو مراکش کا شہری تھا) ہلاک ہوا اور درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے چار کی حالت نازک ہے۔
تمام زخمی افراد بحرینی یا اماراتی فوجی اہلکار ہیں۔
ایک سینئر خلیجی عہدیدار نے اس حملے کو ’خطرناک‘ قرار دیا۔
انھوں نے مزید کہا: ’ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے، خلیج، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ ہماری شراکت مزید مضبوط ہوئی ہے۔‘
بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر موجود ہے، لیکن جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل اس اڈے کو خالی کر دیا گیا تھا اور جہاز سمندر میں پھیل گئے تھے۔
یہ جزیرہ نما ملک، جسے ایران اکثر اپنا ’گمشدہ صوبہ‘ قرار دیتا رہا ہے، خلیجی عرب ریاستوں میں سے شاید تہران کے ساتھ سب سے خراب تعلقات رکھتا ہے۔
بحرین کو ایران کی جانب سے ہر رات ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہتا ہے، جن میں سے بڑی تعداد کو روک لیا جاتا ہے۔ دیگر حملوں میں تیل کے ذخائر کے ٹینک، ایئرپورٹ اور ایک رہائشی عمارت بھی نشانہ بن چکے ہیں۔
بحرین میں شیعہ آبادی بڑی تعداد میں موجود ہے، جن میں سے کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کی اسلامی جمہوریہ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ بحرین واحد خلیجی عرب ریاست ہے جو بین الاقوامی میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں دیتی۔
ایران میں جنگ کے آغاز سے اب تک 82 ہزار سے زائد مقامات فضائی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 82,000 مقامات، جن میں ہسپتال بھی شامل ہیں، اسرائیلی و امریکی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ کے صدر کے مطابق ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ملک بھر میں 82,417 ’سولین یونٹس‘ فضائی حملوں میں نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
انسانی ہمدردی کی اس تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ ’کل 281 ہسپتال، کلینکس اور ادوایات کے مراکز بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔‘
انڈین عدالت نے پاکستانی پرچم لہرانے والی ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا دے دی, ریاض مسرور/ بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین دارالحکومت نئی دلّی کی ایک عدالت نے کئی برس سے قید انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور اُن کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے کے تحت ’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سازش رچانے‘ کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔
2017 سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں قید آسیہ کو عمر قید جبکہ صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے ایک سماعت کے دوران دلی کی خصوصی عدالت میں جج چندر جیت سنگھ کے سامنے انڈیا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے 65 سالہ آسیہ اندرابی، 59 سالہ ناہیدہ اور 41 سالہ صوفی فہمیدہ کو عمر قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد عدالت نے 24 مارچ کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔ این آئی اے کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ’اس (عمر قید) سے کم کوئی بھی سزا قانون کی بالادستی پر عوام کے اعتبار کو کم کرے گی۔‘
تاہم آسیہ اور ان کی ساتھیوں کے وکیل شارق اقبال نے ایجنسی کی طرف سے عائد الزامات کے حق میں پیش کیے گئے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا۔ سابقہ سماعت میں وکیل صفائی نے کہا تھا: ’یہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے گھر سے 800 کلومیٹر دور تقریباً 8 سال سے قید میں ہیں۔‘
وکیل نے کہا تھا کہ تینوں خواتین کئی عارضوں میں بھی مبتلا ہیں۔
واضح رہے کہ آسیہ اندرابی نے ہوم سائنس میں گریجویشن اور عربی ادب میں ایم اے کیا ہے۔ ناہیدہ زولوجی اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتی ہیں جبکہ صوفی فہمیدہ گریجویٹ ہیں۔
این آئی اے کی چارج شیٹ میں آسیہ پر الزام ہے کہ اُن کے کالعدم مسلح گروپ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے ساتھ مراسم تھے اور وہ اپنی تقریروں میں تشدد کو فروغ دیتی تھیں۔
اس سلسلے میں ایجنسی نے آسیہ کا ایک پرانا انٹرویو بھی پیش کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان عسکری گروپوں میں شامل ہوں گے اور ہماری عسکری جدوجہد مضبوط ہو جائے گی۔ بندوق ہمارے مقصد کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن ہمیں سیاسی جدوجہد کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔‘
ایجنسی کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران مختلف پولیس تھانوں میں آسیہ کے خلاف 33، صوفی فہمیدہ کے خلاف 9 اور ناہیدہ نسرین کے خلاف 5 مقدمے درج کیے گئے ہیں۔
یوں تو دختران کی سربراہ آسیہ اندرابی کشمیر میں نفاذِ شریعت اور خلافت کے قیام کی حامی تھیں، تاہم انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیرکو ’پاکستان کا نیچرل حصہ‘ قرار دے کر کشمیری تحریکِ مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کی۔
وہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں اور پاکستانی حکومت پر زور دیتی تھیں کہ وہ کشمیریوں کی تحریک کو بھرپور تعاون فراہم کرے۔
’ایران جامع جنگ بندی چاہتا ہے، عارضی نہیں‘: ایرانی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سے گفتگو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو کی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے فراہم کردہ ترجمے کے مطابق عراقچی نے وانگ یی سے کہا کہ ’ایران ایک جامع جنگ بندی کے لیے پُرعزم ہے، صرف عارضی جنگ بندی کے لیے نہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ’ہرمز سب کے لیے کھلا ہے اور جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں۔ لیکن جو ممالک اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں ان پر یہ اطلاق نہیں ہوتا۔‘
سرکاری میڈیا کے جاری کردہ خلاصے کے مطابق وانگ یی نے زور دیا کہ ’بات چیت ہمیشہ لڑائی سے بہتر ہوتی ہے‘۔ انھوں نے تمام فریقین سے کہا کہ ’امن کے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھائیں اور جلد از جلد امن عمل کا آغاز کریں۔‘
ایرانی حملے میں اماراتی فوج کا سویلین کنٹریکٹر ہلاک: وزارتِ دفاع
متحدہ عرب امارات کی وزارت
دفاع کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی حملے میں اماراتی فوج کے ساتھ کام کرنے والا سویلین
کنٹریکٹر ہلاک ہوا ہے۔
ایک بیان میں وزارتِ دفاع
کا کہنا تھا کہ مراکشی شہری بحرین پر کیے گئے ایک ’ایرانی میزائل حملے میں‘ ہلاک
ہوا ہے۔
بیان کے مطابق اس حملے میں
اماراتی فوج کے بھی پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بڑے حصے کو اپنے کنٹرول میں لے گی: وزیرِ دفاع
،تصویر کا ذریعہReuters
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز
کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مہم کے دوران اسرائیل کے فوجی اہلکار جنوبی لبنان کے
بڑے حصوں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔
کاٹز کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج دریائے لیطانی تک
سکیورٹی زون قائم کرے گی، جو کہ لبنان اسرائیل سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر
واقع ہے۔
ان کے مطابق بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کو شمالی
اسرائیل کے محفوظ ہو جانے تک ان علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ’دہشتگردوں اور اسلحے کی
ترسیل کے لیے حرب اللہ کے زیرِ استعمال‘ پانچ پلوں کو بھی اڑا دیا گیا ہے۔
ایران نے محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا
،تصویر کا ذریعہMehr News
ایرانی میڈیا پر نشر ہونے
والی اطلاعات کے مطابق محمد باقر ذوالقدر کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل علی لاریجانی اس
عہدے پر فائز تھے۔ وہ 17 مارچ کو تہران پر ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
محمد باقر ذوالقدر ماضی میں
پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر اور ملک کے نائب وزیرِ داخلہ کے طور پر بھی کام
کرتے رہے ہیں۔
پاکستان مشرقِ وسطیٰ تنازع کو ’سفارتی طریقوں‘ سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے: دفترِ خارجہ
پاپاکستان کے دفترِ خارجہ کا
کہنا ہے کہ پاکستان ’رابطہ کاری اور سفارتی طریقوں‘ سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجِ فارس
میں جاری تنازع کو حل کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر
اندرابی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا پر ایران
اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور پاکستان کے بطور ثالث کردار ادا کرنے کی خبریں
گردش کر رہی ہیں۔
طاہر اندرابی نے ایران اور
امریکہ کے درمیان ممکنہ بات چیت میں پاکستان کے کردار کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’سفارتکاری اور بات چیت کا تقاضہ ہے کہ اکثر معاملات پر خاموشی
سے آگے بڑھا جائے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم اپنے مقاصد سے پیچھے ہٹنے پر راضی نہیں, جیمز واٹرہاؤس، تلِ ابیب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے مقاصد میں تمام تضادات کے باوجود
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران اور اس کی
اتحادی تنظیم حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں نشانہ بناتا رہے گا۔
ایک مختصر ویڈیو پیغام میں انھوں نے خبردار کیا کہ
’ہم ہر صورت میں اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔‘
ایران ابھی بھی اسرائیل پر
جوابی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے تازہ ترین میزائل حملے میں تل ابیب کے
ایک رہائشی علاقے میں ایک گہرا گڑھا کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں
100 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا تھا۔
میں اپنے قریب ہی ایک بِل
بورڈ دیکھ سکتا ہوں جس پر امریکی جھنڈے کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر لگی ہے اور
نیچے لکھا ہے: ’صدر صاحب، اس کام کو پورا کریں۔‘
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل
اس تنازع کو ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں شامل نہیں، توجہ اپنے دفاع پر ہے: قطر, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
قطر کی وزارتِ خارجہ کا
کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کروانے کی کوششوں کا حصہ نہیں
ہے۔
ایک پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ
خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’ہماری توجہ اپنے ملک پر
حملوں کے خاتمے اور اپنی سرزمین کے دفاع پر ہے۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا
خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد ایران کے ساتھ نارمل تعلقات اب بھی ممکن ہیں تو ان کا
کہنا تھا کہ ’ہم اپنا محل وقوع تبدیل نہیں کر سکتے۔‘
جب ان سے ایران اور امریکہ
کے مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ: ’ان مذاکرات میں جو شامل
ہیں یہ سوال آپ ان سے پوچھیں۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہم ان مذاکرات میں شامل
نہیں ہیں۔‘
ڈاکٹر ماجد الانصاری کا مزید
کہنا تھا کہ جمعرات کے بعد سے اب تک ایران نے قطر پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں
کیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پچھلی
مرتبہ جب میں اس پوڈیم پر کھڑا تھا، اس کے فوراً بعد دو حملے ہو گئے تھے‘ اور اب
بھی ایران ’ہمارے خلیجی پڑوسیوں‘ پر حملے کر رہا ہے۔
’ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔
ہم پر اب تک 200 سے زیادہ ڈرون حملے ہو چکے ہیں اور ردِ عمل دینا ہمارا حق ہے۔
تاہم ابھی تک ہم نے اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘
امریکہ کے ساتھ مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں: ایرانی سفارتکار, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images
ایران اور امریکہ کے
درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا
ہے کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط
پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر
جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی
جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘
خیال رہے اتوار کو امریکی
صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں ’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور
تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘
تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن
کے درمیان بات چیت کی تردید کی تھی۔
اس دوران پاکستانی رہنماؤں نے امریکی اور ایرانی صدور سے رابطے کیا ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بی بی سی اردو کے سوال کے جواب میں بذریعہ ای میل اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم
شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات چیت کی تھی اور ’کشیدگی
میں فوری کمی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اختلافات کو
ختم کرنے‘ پر زور دیا تھا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کے
مطابق شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن کے
قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
عراقی مسلح گروہ پر امریکی حملے میں 15 جنگجو ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
عراق کی پاپولر موبلآئزیشن
فورسز (پی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں ایک امریکی حملے میں 15
جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔
پی ایم ایف نے اپنی ویب
سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ہلاک ہونے والے کمانڈر سعد البیجی کی بغداد
میں آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔
پی ایم ایف مسلح گروہوں کا
ایک مجموعہ ہے جس میں زیادہ تر ایران کی حمایتی تنظیمیں شامل ہیں۔ اسے اب عراق کی
سکیورٹی فورسز کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے
مطابق پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر پر حملہ اس وقت ہوا جب وہاں ایک اجلاس چل رہا تھا
اور سینیئر کمانڈر بھی موجود تھے۔
کیا ایران اور امریکہ کے درمیان واقعی مذاکرات ہو رہے ہیں؟, لیز ڈوسیٹ، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ’ٹھوس بات چیت‘ کی تعریف کر رہے ہیں۔ تاہم اب
تک اس حوالے سے صرف کسی چھوٹی پیش رفت کے ہی آثار نظر آ رہے ہیں۔
ایران کو امریکہ پر شکوک و
شبہات ہیں کیونکہ فروری اور جون میں ہونے والے مذاکرات کے دو دور امریکہ اور
اسرائیل کے حملوں کے سبب سبوتاژ ہوئے تھے۔
ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف سے فون
پر بات کی ہے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ یہ بات چیت بہت ابتدائی نوعیت کی ہے۔
پاکستان، ترکی اور مصر
سمیت متعدد ممالک کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے صدر ٹرمپ
کے ساتھ ذاتی اور مضبوط تعلقات ہیں اور وہ
اس تنازع کے دوران عرب رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں بھی رہے ہیں۔
ہم ایک غیریقینی کے دور
میں ہیں لیکن ایرانی مرکزی رہنما محمد باقر قالیباف کی نائب صدر جے ڈی وینس سے
ملاقات بظاہر ممکن نظر نہیں آتی۔
ٹرمپ کو ایران میں وینزویلا
کے موجودہ لیڈر کی طرح کی شخصیت کی تلاش ہے، ایک طاقتور مگر صلح جو فرد جو امریکی
صدر کی خواہشات کا احترام کرے۔
لیکن ایران میں ایسا نہیں
ہوگا، جہاں مذہبی شخصیات، عسکری کمانڈرز اور قالیباف کی طرح سخت گیر شخصیات فیصلوں
کا اختیار رکھتی ہیں اور اس جنگ کے اختتام کے لیے بھاری قیمت کا مطالبہ کر رہی
ہیں۔
جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی شہری
،تصویر کا ذریعہSupplied
تہران اور دیگر شہروں کو تین ہفتوں سے زیادہ عرصے
سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا سامنا ہے۔
شہری متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ان
میں سے زیادہ تر کہانیاں کبھی سامنے نہیں آئیں گی۔ لیکن جنگ کے سیاہ بادل اور
انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود، کچھ معلومات دُنیا تک پہنچ رہی ہیں۔
ایران ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن سینٹر کے مطابق
پراستش دہگین تہران میں اپنی فارمیسی میں کام کر رہی تھیں جب قریب ہی واقع ایک آئی
ٹی کمپنی پر حملہ ہوا اور وہ ہلاک ہو گئیں۔
آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں پراستش کے لیے منعقد
ہونے والی تعزیتی تقریب دکھائی گئی ہے جس میں ان کی تصویریں موم بتیوں اور پھولوں
کے درمیان رکھی گئی ہیں۔
ان کے بھائی پوریہ نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ان کی
بہن بس اپنا کام کر رہی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایک اور 26 سالہ لائف سٹائل بلاگر بریوان مولانی جو ایک آن لائن کپڑوں کی دکان چلاتی تھیں تہران واپس آئیں کیونکہ انھیں اپنے گھر والوں سے ملنا تھا۔
مولانی اپنے کمرے میں اپنے بستر پر تھیں جب فضائی حملے سے دیوار کا ایک ٹکڑا ان کے سر پر لگا۔ مولانی کی دوست، رضیہ جنباز کے مطابق کئی پڑوسی اُس اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے کہ جس میں ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ کی رات کے وقت جاری کی گئی فوٹیج میں امدادی کارکن دکھائی دیتے ہیں جو ملبے تلے پھنس جانے والی بریوان کی والدہ تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں، جبکہ والدہ بس یہ کہتی سُنائی دے رہی ہیں کہ ’کیا میری بیٹی زندہ ہے؟‘
عراق میں کُرد جنگوؤں کے ٹھکانے پر میزائل حملہ چھ افراد ہلاک متعدد زخمی: رائٹرز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خبر رساں ادارے رائٹرز نے منگل کے روز سکیورٹی
ذرائع اور کرد فورسز کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شمالی اربیل میں کُرد فورس کے ایک
اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم چھ کُرد جنگجو ہلاک اور 22
زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہوا
کہ یہ حملہ کس جانب سے کیا گیا ہے، اور نہ ہی کسی کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری
قبول کی گئی ہے۔
ایران جنگ چھ اہم پیش رفت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اب
بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز کہا کہ دونوں
ممالک کے درمیان ’تعمیری‘ بات چیت ہوئی ہے۔ ایرانی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان
کسی بھی بامعنی مذاکرات کی تردید کی، جبکہ بعد میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صورتحال ’تیزی
سے بدل رہی ہے۔‘
سوموار کے ہی روز بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی
بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے انھیں
بتایا کہ ’ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا
جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو
وٹکوف اس ہفتے پاکستان میں ایرانی حکام سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے
کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
تیل کی قیمت ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے امکان کے
ذکر کے بعد کم تو ہوئی، تاہم بعد میں دوبارہ بڑھ کر فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ ہو
گئی ہے۔
زمینی صورتحال کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی
شب ایران نے اسرائیل پر متعدد مرحلوں میں میزائل حملے کیے، جس سے تل ابیب اور وسطی
اسرائیل میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ لبنان میں سرکاری میڈیا نے بتایا کہ رات کے
دوران بیروت پر اسرائیلی حملے ہوئے، جبکہ آج صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں کے
رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت دی کیونکہ وہ حزب اللہ کے مزید بنیادی ڈھانچے کو نشانہ
بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
برطانیہ کی وزیر خزانہ ریچل ریوز آج ہاؤس آف کامنز
میں ارکانِ پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے برطانیہ پر
معاشی اثرات پر بات کریں گی۔ توقع ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں توانائی کے اخراجات
یعنی بلوں میں ممکنہ اضافے کی صورت میں عوام کی مدد کے لیے کچھ نکات پیش کریں گی۔
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں کے
رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب میڈیا رپورٹس میں کہا
گیا کہ گزشتہ رات اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی بیروت کے متعدد مقامات کو نشانہ
بنایا گیا۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی
جنگی طیارے گزشتہ رات اس علاقے میں حملے کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ
بیروت میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بحرین میں ایرانی حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے: وزارتِ داخلہ
،تصویر کا ذریعہBahrain MOI/X
بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کے محکمہ
سول ڈیفنس نے ایک کمپنی کے مقام پر لگی آگ پر قابو پا لیا ہے، تاہم اس کمپنی کا
نام ظاہر نہیں کیا گیا اور اس واقعے کا ذمہ دار ’ایران‘ کو ٹھہرایا گیا ہے۔
یہ بیان بحرین کی وزارتِ داخلہ کے اُس بیان کے چھ گھنٹے
بعد پیش آیا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ میزائل حملے کے خدشے کے پیشِ نظر سائرن
بجائے گئے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اسرائیل میں ایرانی حملے کے بعد کے مناظر
اسرائیل سے موصول ہونے والی تصاویر میں مُلک کے وسطی
علاقے پر حملوں کے بعد تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل ہم آپ تک یہ خبر پہنچا چُکے ہیں کہ وسطی
اسرائیل میں جس مقام کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے وہاں امدادی کارروائیاں
جاری ہیں۔
اب ہمیں تل ابیب سے کچھ تصاویر موصول ہوئی ہیں۔
تصاویر میں دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ
امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر کام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ایک عمارت جزوی طور پر ملبے
کا ڈھیر بن چکی ہے تاہم نقصان کی مکمل نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔