فلپائین کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کی جانب سے
قومی توانائی ایمرجنسی کے اعلان کے اگلے ہی دن منیلا بھر میں فضا بے چینی کا شکار
ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی فراہمی کو ’فوری
خطرات‘ لاحق ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
کر دیا ہے اور ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
فلپائن اس خطے سے درآمد شدہ ایندھن پر بہت زیادہ
انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے حالات کا اثر شدید ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ استعمال کے مطابق ملک کے
پاس تقریباً 45 دن کا ایندھن موجود ہے اور وہ اضافی سپلائی حاصل کرنے کے لیے تیزی
سے اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ ایمرجنسی، جو ایک سال تک جاری رہ سکتی ہے حکام
کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے جس میں ایندھن کی درآمدات کو تیز کرنا، پبلک ٹرانسپورٹ
کے لیے معاونت فراہم کرنا اور خوراک جیسی ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف
کارروائی شامل ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے
کوئلے پر زیادہ انحصار کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے ہیں۔ وزراء نے عارضی طور پر
ایک سستا لیکن زیادہ آلودہ ایندھن محدود پیمانے پر استعمال کرنے کی بھی اجازت دی
ہے۔
سڑکوں پر دباؤ پہلے ہی واضح ہے۔ جیپنی ڈرائیورز کا
کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے، جبکہ مسافر بڑھتے
ہوئے کرایوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
مزدور تنظیم ’کیلسانگ مایو اونو‘ نے اس اقدام پر
تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے اور خبردار کیا ہے کہ
احتجاج پر پابندیاں مزدوروں کی آواز کو دبا سکتی ہیں۔
ہزاروں ٹرانسپورٹ ورکرز، جن میں رائیڈ ہیلنگ
ڈرائیورز بھی شامل ہیں اس ہفتے کے آخر میں ہڑتال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان
کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ منصوبے تبدیل نہیں ہوئے۔