واشنگٹن کی جنگ بندی کی تجاویز کے جواب میں ایران نے سخت مؤقف اختیار
کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ’اس کا قدرتی اور قانونی حق‘ ہے۔
یہ دعویٰ ایک نامعلوم ’سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار‘ کی
جانب سے ایران کی پریس ٹی وی کو جاری کیے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔
لیکن کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز پر اکیلے قانونی اختیار نہیں رکھتا۔
بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز ایک مشترکہ آبی گزرگاہ ہے،
جہاں ایران اور عمان دونوں اپنی اپنی ساحلی پٹی سے 12 بحری میل تک اسے اپنا بحری
علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق تمام جہازوں کو ’سمندری گزرگارہ عبور‘ کرنے کی اجازت
ہے اور ساحلی ریاستیں ان کے راستے میں مداخلت نہیں کرسکتیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے جہاز عام طور پر جن دو مرکزی شپنگ روٹس کا
استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر عمانی علاقائی پانیوں سے گزرتے ہیں کیونکہ وہاں
سمندر کی گہرائیاں زیادہ موافق ہیں۔
آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام کے دونوں جانب دونوں شپنگ لینیں مختصر
فاصلے کے لیے ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوتی ہیں۔