آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی وزیرِ خارجہ کی امریکہ سے مذاکرات کی تردید، ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے امریکہ نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں تاہم ایران کی پالیسی 'دفاع جاری رکھنے' کی ہے اور ان کا 'فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔' ابوظہبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی پیغامات موصول ہوئے، فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں: عباس عراقچی
  • اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو باب المندب کی آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتے ہیں: ایرانی فوجی ذرائع
  • پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے: وائٹ ہاؤس
  • ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومتِ پاکستان نے فیول سبسڈی کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کر دی
  • ایران کا ایف-18 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید
  • پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں
  • صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران میں ’درست لوگوں‘ سے بات کر رہا ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک ’بہت اہم تحفہ‘ دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سینٹ کام: ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 300 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 300 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

    • سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق 290 امریکی فوجی جنگ کے پہلے دن سے اب تک زخمی ہوئے۔
    • ان میں سے 255 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
    • 10 فوجی شدید زخمی ہیں۔
    • باقی 25 اہلکاروں کی حالت کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
  2. امریکی و اسرائیلی حملوں سے شہر میں دو ہزار خاندان بے گھر ہو گئے ہیں: تہران کے میئر

    تہران کے میئر علی رضا زاکانی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شہر پر بمباری کے بعد 2000 خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔

    ان کے مطابق حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور خواتین، بچوں اور بزرگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں۔

  3. وائٹ ہاؤس کی ایران سے ممکنہ معاہدے پر تازہ ترین پوزیشن کیا ہے؟

    وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ ختم ہو گئی ہے۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے اپنی معمول کی بریفنگ میں ایران کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔

    خلاصہ:

    • لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ اب بھی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت‘ میں مصروف ہیں، حالانکہ تہران نے امریکی امن منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
    • وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ ’قیاس آرائی‘ قرار دیا ہے، اگرچہ لیوٹ نے اعتراف کیا کہ اس میں کچھ سچائی کے عناصر موجود ہیں۔
    • امریکہ میں بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں پر عوامی شکایات کے جواب میں لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ جنگ کے دوران قیمتیں جتنا ممکن ہو کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    • ایران میں امریکی زمینی فوج (’بوٹس آن دی گراؤنڈ‘) کے امکان پر لیوٹ نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا، لیکن کہا کہ ایسی کارروائی کے لیے کانگریس کی باضابطہ منظوری ضروری نہیں۔
    • جنگ کے اختتام سے متعلق سوالات پر لیوٹ نے کہا کہ آپریشن ’شیڈول سے آگے‘ ہے اور انتظامیہ اسے بہت کامیاب فوجی کارروائی قرار دیتی ہے۔
  4. بریکنگ, کیا ایران میں زمینی فوج بھیجنا واحد آپشن رہ گیا ہے؟

    ایک صحافی نے لیوٹ سے پوچھا کہ کیا امریکہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کی حمایت کر رہا ہے، اور کیا صدر ٹرمپ جنوبی لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر تشویش رکھتے ہیں۔

    لیوٹ نے کہا کہ وہ امریکی حمایت پر تبصرہ نہیں کر سکتیں، لیکن صدر کو بے گھر ہونے والوں کی صورتحال پر ’یقیناً تشویش‘ ہے، اسی لیے وہ ایران اور اس کے اتحادیوں جیسے حزب اللہ کے خطرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

    لیوٹ سے ریپبلکن سپیکر مائیک جانسن کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایران میں جنگ ’اختتامی مرحلے‘ میں ہے، اور یہ کہ امریکہ کے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کے ساتھ یہ مؤقف کیسے مطابقت رکھتا ہے، کیا وائٹ ہاؤس واقعی جنگ کے ختم ہونے کے قریب سمجھتا ہے یا صورتحال نئی شکل اختیار کر رہی ہے؟

    لیوٹ نے جواب دیا کہ امریکہ اپنے اہداف ’تیزی سے‘ حاصل کر رہا ہے، لیکن صدر ٹرمپ ہمیشہ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ پینٹاگون کا کام ہے کہ وہ کمانڈر اِن چیف کو تمام آپشنز فراہم کرے‘۔ انھوں نے اس پر مزید تفصیل دینے سے گریز کیا۔

    ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ چونکہ امریکی اتحادی جنگ میں شامل نہیں ہو رہے، تو کیا ایران میں زمینی فوج بھیجنا واحد آپشن رہ گیا ہے؟

    لیوٹ نے اس سوال پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

  5. بریکنگ, پاکستان میں امریکہ ایران مذاکرات پر قیاس آرائیوں کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے: وائٹ ہاؤس

    لیوٹ سے پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو، کسی بھی قیاس آرائی کو سرکاری مؤقف نہ سمجھا جائے۔

  6. بریکنگ, کیا ٹرمپ کے چین کے دورے سے پہلے جنگ ختم ہو جائے گی؟

    کیرولین لیوٹ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران میں جاری امریکی جنگ اُس وقت تک ختم ہوتی نظر آئے گی جب صدر ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے؟

    لیوٹ نے جواب دیا کہ چونکہ آپریشن کی مدت کا اندازہ چار سے چھ ہفتے لگایا گیا تھا، اس لیے ’آپ خود حساب لگا سکتے ہیں‘ کہ اس وقت جنگ کس مرحلے پر ہوگی۔ یہ ملاقات اب دوبارہ شیڈول کی گئی ہے۔

  7. بریکنگ, سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ ’قیاس آرائی‘ ہے: وائٹ ہاؤس

    کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ یہ جواب انھوں نے اس سوال پر دیا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ایک مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔

    لیوٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 15 نکاتی منصوبہ ’قیاس آرائی‘ پر مبنی ہے۔

    ان کے مطابق: ’اس میں کچھ عناصر درست ہیں، لیکن اس پر ہونے والی تمام رپورٹنگ مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ جاری مذاکرات کی تفصیلی باریکیوں میں نہیں جائیں گی۔

  8. بریکنگ, لیوٹ: کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ’ہم پہلے ہی بڑی جنگی کارروائی میں مصروف ہیں‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ اب کمرے میں موجود صحافیوں کے سوالات لے رہی ہیں۔

    انھیں پہلا سوال یہ کیا گیا کہ کیا کوئی ایسا مرحلہ آئے گا، چاہے زمینی فوج بھیجنے کا معاملہ ہو یا کچھ اور، جب صدر ٹرمپ ایران میں جاری کارروائی کے لیے کانگریس سے باضابطہ اجازت لینے پر غور کریں گے؟

    لیوٹ نے جواب دیا کہ اس وقت ایسی منظوری کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکہ ’اس وقت بڑی جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ صدر اور محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ آپریشن تقریباً چار سے چھ ہفتے لے گا، اور ابھی جنگ کا 25واں دن ہے۔

    لیوٹ کے مطابق صدر نے جنگ سے قبل کانگریس کے چند اہم خارجہ پالیسی رہنماؤں کو ’بطور احترام‘ آگاہ کیا تھا، اور انتظامیہ کے نمائندے قانون سازوں کو بریفنگ بھی دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کے مطابق کام کرے گی۔

    امریکی آئین کے مطابق جنگ کا باضابطہ اعلان کانگریس کرتی ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں نے وہ قراردادیں منظور کرنے سے انکار کر دیا جو صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرتیں۔

  9. بریکنگ, ٹرمپ ایران کے ساتھ ’مثبت بات چیت‘ میں مصروف ہیں: وائٹ ہاؤس کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

    لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ گذشتہ تین دن سے ایران کے ساتھ ’مثبت اور نتیجہ خیز گفتگو‘ میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر کا مقصد ہمیشہ امن ہوتا ہے، لیکن خبردار کیا کہ اگر ایران نے موجودہ صورتحال کو قبول نہ کیا تو ٹرمپ ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب‘ لگائیں گے۔

    لیوٹ نے مزید کہا: ’صدر ٹرمپ دھمکی نہیں دیتے اور وہ جہنم برپا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی آخری ’غلطی‘ نے اسے اس کی قیادت، بحریہ اور فضائی دفاعی نظام سے محروم کر دیا۔

  10. بریکنگ, لیوٹ: ایرانی قیادت اس صورتحال سے ’نکلنے کا راستہ‘ تلاش کر رہی ہے

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری فوجی کارروائیاں مزید کامیاب ہو رہی ہیں‘ اور امریکہ ایران کی تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان تمام عوامل کی وجہ سے امریکہ آپریشن ایپک فیوری کے بنیادی مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، اور جنگ کے 25 دن بعد امریکہ ’شیڈول سے آگے‘ ہے۔

    لیوٹ کے مطابق ایران کی جوہری خواہشات ’کچل دی گئی ہیں‘ اور ایرانی قیادت اب اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ’ایگزٹ ریمپ‘ تلاش کر رہی ہے۔

  11. بریکنگ, امریکہ ایران کی عسکری صلاحیت ’تباہ‘ کر رہا ہے: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کی بریفنگ شروع ہو گئی ہے۔

    لیوٹ نے کہا کہ امریکہ ایران کی حملہ آور اور دفاعی صلاحیتوں کو ’تباہ‘ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ کہ آپریشن ایپک فیوری بلاشبہ ’ایک شاندار فوجی کامیابی‘ ثابت ہوا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اب تک 9,000 اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، اور یہ کہ امریکہ ایران کی بحریہ بشمول اس کے بارودی سرنگ بچھانے والے جہازوں کو ’صفحۂ ہستی سے مٹا رہا ہے‘۔

    لیوٹ کے مطابق تین ہفتوں کے عرصے میں کسی بحریہ کی اتنی بڑی تباہی دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دیکھی گئی ہے۔

  12. ایرانی کمانڈر: اسرائیلی شہروں پر حملے ٹرمپ کی دھمکیوں کے ’جواب‘ میں کیے گئے

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ آج اسرائیلی شہروں دیمونا اور حیفہ کو نشانہ بنانا ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں دیا گیا ایک واضح پیغام تھا۔

    ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ان دونوں شہروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیل کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے بھی آج ان علاقوں میں ایران کی جانب سے داغے گئے پروجیکٹائلز کے بارے میں وارننگ جاری کی تھی۔

    پاسدارانِ انقلاب ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ کو ’سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کے خلاف ہر دھمکی اور الٹی میٹم جنگی کارروائی کا حصہ ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو ’صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے‘ تاہم پیر کے روز انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اس کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔

  13. نتن یاہو: اسرائیل جنوبی لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ کو وسعت دے رہا ہے

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنے سکیورٹی زون کو ’وسعت دے رہا ہے‘ تاکہ اینٹی ٹینک میزائلوں کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ اس توسیع سے ایک بڑا بفر زون قائم ہوگا اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر زمینی حملے کو روکنے میں مدد ملے گی۔

    حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے لیتانی دریا پر واقع کئی پل تباہ کر دیے ہیں، جو لبنان اسرائیل سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ نے الزام عائد کیا کہ یہ پل ’حزب اللہ کی جانب سے دہشت گردوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔‘

    منگل کو وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں بے گھر ہونے والے ہزاروں لبنانی شہری اس وقت تک لیتانی دریا کے جنوب میں واپس نہیں جائیں گے جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے مکمل سکیورٹی یقینی نہیں ہو جاتی۔

  14. ایران آبنائے ہرمز پر اختیار کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کسی بھی ملک کو اس پر اختیار حاصل نہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    واشنگٹن کی جنگ بندی کی تجاویز کے جواب میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ’اس کا قدرتی اور قانونی حق‘ ہے۔

    یہ دعویٰ ایک نامعلوم ’سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار‘ کی جانب سے ایران کی پریس ٹی وی کو جاری کیے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔

    لیکن کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز پر اکیلے قانونی اختیار نہیں رکھتا۔

    بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز ایک مشترکہ آبی گزرگاہ ہے، جہاں ایران اور عمان دونوں اپنی اپنی ساحلی پٹی سے 12 بحری میل تک اسے اپنا بحری علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق تمام جہازوں کو ’سمندری گزرگارہ عبور‘ کرنے کی اجازت ہے اور ساحلی ریاستیں ان کے راستے میں مداخلت نہیں کرسکتیں۔

    آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے جہاز عام طور پر جن دو مرکزی شپنگ روٹس کا استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر عمانی علاقائی پانیوں سے گزرتے ہیں کیونکہ وہاں سمندر کی گہرائیاں زیادہ موافق ہیں۔

    آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام کے دونوں جانب دونوں شپنگ لینیں مختصر فاصلے کے لیے ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوتی ہیں۔

  15. ایران کے مبینہ میزائل حملے کے بعد اسرائیلی پاور پلانٹ پر سے دھواں اٹھنے کی فوٹیج کی تصدیق, سارہ جلیلی، بی بی سی ویریفائی

    ہم نے آج کی ایک فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں ایران کے مبینہ میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے ایک پاور سٹیشن پر دھوئیں کا بادل نظر آ رہا ہے۔

    خدیرہ میں واقع یہ پاور سٹیشن، جو بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ہے، اسرائیل کے سب سے بڑے سٹیشنوں میں سے ایک ہے اور اسے سنہ 2022 میں کوئلے سے گیس پر منتقل کیا گیا تھا۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پلانٹ کے ایک کولنگ ٹاور کے قریب سے سرمئی دھواں اٹھ رہا ہے۔

    ہم سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اس مقام کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو کلپ سب سے پہلے آج ہی اپ لوڈ کی گئی تھی۔

    اس سے قبل ٹائمز آف اسرائیل نے اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ بیلسٹک میزائل حملے کے بعد پاور سٹیشن کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

  16. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی متضاد اطلاعات اور تیل کی منڈیوں پر اس کا اثر, سیبسٹین اُشر، تجزیہ کار برائے مشرقِ وسطی

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں متضاد بیانات اور واضح مؤقف کا فقدان برقرار ہے۔

    ان افواہوں نے فی الحال تیل کی منڈیوں کو تو پرسکون کر دیا ہے، لیکن ان مذاکرات کے حوالے ایرانی حکام کے ابتدائی تبصرے امید افزا نہیں ہیں۔

    ایک سینیئر مگر نامعلوم عہدایدار نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ایران نے صدر ٹرمپ کے 15 نکاتی مجوزہ منصوبے پر منفی ردِعمل دیا ہے۔

    اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران اس جنگ اختتام کے وقت کا فیصلہ خود کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔

    امریکہ کا پندرہ نکاتی منصوبہ ایران سے بڑے پیمانے پر رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جوہری پروگرام کو بند کرنا، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنا، میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز کو ایک آزاد سمندری گزرگاہ کے طور پر تسلیم کرنا۔

  17. امریکہ آپریشن ایپک فیوری ’مکمل‘ کر رہا ہے: مائیک جانسن

    امریکہ ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی جنگ کو ’مکمل‘ کر رہا ہے۔

    جانسن نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ ’میرے خیال میں ہم آپریشن ایپک فیوری مکمل کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ جلدی ہو جائے گا اور شیڈول کے مطابق ہوگا۔‘

  18. پاکستانی وزیرِ اعظم اور قطری امیر کے درمیان فون پر رابطہ، سفارتی کوششوں پر گفتگو

    پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں ’پاکستان کی سفارتی رسائی اور امن کی کوششوں‘ سے آگاہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قطری امیر کو بتایا کہ ’پاکستان نے مسلسل تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں مذمت کرتا ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

  19. مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع میں اب تک کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں؟

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے لیکن بظاہر اس تنازع میں اب تک ہونے والی اموات 4500 سے تجاوز کر چکی ہیں۔

    • امریکہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ہرانا کے مطابق ایران میں اس تنازع کے دوران 3291 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں 1072 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں۔
    • عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں اس جنگ کے دوران 81 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد پاپولر موبلآئزیشن فورسز کے اراکین کی ہے، جو ایران سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔
    • اسرائیل میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دو اہلکار جنوبی لبنان میں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • اس جنگ کے دوران امریکہ کے 13 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، ان میں چھ عراق میں ایک طیارہ گرنے کے واقعے میں مرے تھے۔
    • دوسری جانب قطری وزارتِ دفاع کے مطابق ملک میں ایک ہیلی کاپٹر گِرنے کے و اقعے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    • متحدہ عرب امارات نے اب تک نو اموات کی تصدیق کی ہے، جن میں تین عام شہری اور چھ فوجی اہلکار شامل ہیں۔
    • کویت نے چھ اموات کی تصدیق کی ہے، جن میں دو فوجی اہلکار شامل ہیں۔
    • اس کے علاوہ حملوں میں شام میں چار، غرب اردن میں چار، بحرین میں دو، عمان میں دو اور سعودی عرب میں بھی دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  20. ایران نے امریکہ کا 15 نکارتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا، جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ مسترد کر دیا ہے اور اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔

    پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔

    اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا امریکہ نے بذریعہ پاکستان ایران کو یہ مجوزہ منصوبہ بھیجا ہے۔

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے اسے مزید بتایا کہ واشنگٹن متعدد سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے پروپوزل پیش کر رہا ہے جو ایران کے نزدیک ’حدود سے تجاوز‘ کر رہے ہیں۔

    اس عہدیدار نے پریس ٹی وی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی پانچ شرائط بھی پیش کی ہیں:

    • دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتلِ عام‘ کا مکمل خاتمہ
    • ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار
    • جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت
    • خطے میں تمام محاذوں اور ’مزاحمتی گروہوں‘ کے خلاف جنگ کا خاتمہ
    • بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے