بلوچستان ہائیکورٹ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ یہ درخواست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ کی جانب سے سپریم کورٹ کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔
خلاصہ
بلوچستان ہائیکورٹ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
غیر قانونی طور پر ایران اور یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 50 ہزار افراد کے پاسپورٹس بلیک لسٹ کر دیے گئے
کوئٹہ کراچی ہائی وے پر رکاوٹیں برقرار، مسافروں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان غالب رہا
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت میں عدالت نے کہا ہے کہ ممنوع جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل ہوئے تو کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہو گا
لائیو کوریج
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1300 پوانٹس کی کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی جانب سے درآمدی ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایشیا کے دیگر حصص
بازاروں کی طرح پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی
ایس ایکس) میں بھی ایک بار پھر مندی کا رجحان
دیکھنے میں آیا۔
سوموار کی تاریخی مندی کے بعد منگل کو ایکسچینج میں قدرے بہتری آئی
تھی اور کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 600 پوائنٹس اضافے کے بعد 115,532.43 پر بند
ہوا تھا۔
تاہم بدھ کے کاروبار کا آغاز اچھا نہ رہا اور ایک موقع پر کے
ایس ای 100 انڈیکس 2640.95 پوائنٹس یا 2.29 فیصد کمی کے بعد 112,891.48 پر پہنچ
گئی۔
اس کے بعد مارکیٹ کچھ سنبھلتی نظر آئی اور 11 بج کر 42 منٹ
پر انڈیکس 114202 پر پہنچ گیا جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 1329 پوانٹس کم ہے۔
تجارتی جنگ: کیا چین امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے 104 فیصد ٹیرف کا مقابلہ کر سکتا ہے؟
تقریباً 60 ممالک سے امریکہ کو درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف
نافذ ہو گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ یہ ممالک امریکی اشیا پر زیادہ
ٹیرف لگاتے ہیں یا دیگر طریقوں سے امریکی اقتصادی اہداف کو نقصان پہنچانے کی کوشش
کرتے ہیں۔
سب سے محصولات چینی مصنوعات پر عائد کیے گئے ہیں۔ چین کو اب
104 تک کے ٹیرف کا سامنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری
مرتبہ صدر بننے سے قبل چینی مصنوعات کی امریکہ درآمد پر 20 فیصد ٹیرف عائد تھا جسے
گذشتہ ہفتے بڑھا کر 54 فیصد کر دیا گیا۔ اس ٹیرف میں 50 فیصد کا مزید اضافہ پچھلے چند
گھنٹوں میں کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اضافہ چین کی جانب سے امریکی اشیا
پر جوابی ٹیرف واپس نہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایشیا کی بیشتر سٹاک مارکیٹوں
میں ایک بار پھر مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
جاپان کی نکئی 225 انڈیکس میں 4.3
فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جنوبی کوریا کے حصص بازار کوسپی میں 1.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ میں 1.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
تاہم چین جسے سب سے زادہ ٹیرف کا سامنا ہے، اس کی مارکیٹ ابتدائی
طور پر نقصان میں جانے کے بعد اب 0.2 فیصد کے اضافے پر موجود ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنکچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سے چین کو سخت مقصان ہوگا اور اسے اپنی معیشت کی تشکیل نو کرنی پڑے گی۔
کیا چین امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے 104 فیصد ٹیرف کا
مقابلہ کر سکتا ہے؟
امریکہ نے کئی چینی مصنوعات پر محصولات بڑھا کر 104 فیصد تک کر دیا ہے۔
تاہم چین سے گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز، سٹیل اور المونیم کی درآمد پر ٹیرف کی شرح کم ہے۔
بیجنگ اب بھی ہار مانتا دکھائی نہیں دے رہا۔ چین نے اعلان کیا
ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کرے گا۔
لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سے چین کو سخت
مقصان ہوگا اور اسے اپنی معیشت کی تشکیل نو کرنی پڑے گی اور مقامی کھپت پر بہت زیادہ انحصار
کرنا پڑے گا۔
یوریشیا گروپ کنسلٹنسی سے تعلق رکھنے والی ڈین وانگ کہتی ہیں کہ
درحقیقت 35 فیصد سے زائد کے ٹیرف کے نتیجے میں چینی کاروباروں کو امریکہ یا جنوب
مشرقی ایشیا مصنوعات برآمد کرنے سے ہونے والا منافع ختم ہو جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ 35 سے زیادہ کوئی بھی ٹیرف محض علامتی ہے۔
وانگ کہتی ہیں کہ ٹیرف کے نتیجے میں چین اپنے سالانہ ترقی کے
تقریباً 5 فیصد کے ہدف کو شاید حاصل نہ کر پائے۔
کے ایم سی ٹریڈ سے تعلق رکھنے والے ٹم واٹرر کہتے ہیں کہ چینی
معیشت میں برآمدات پر انحصار کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہے 104 فیصد کے درآمدی ٹیکس
سے چین کو بہت نقصان ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مختصر مدت میں تو شاید چین صورتحال
کو سنبھال لے لیکن طویل مدت میں ان ٹیرف سے نمٹنے کے لیے چین کو اپنی معیشت کے
بنیادی ڈھانچوں میں تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔
ڈومینیکن ریپبلک میں نائٹ کلب کی چھت گرنے سے 98 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنحادثے کے وقت سینکڑوں لوگ نائٹ کلب میں موجود تھے
ڈومینیکن ریپبلک کے دارالحکومت سینٹو ڈومنگو میں ایک نائٹ کلب
کی چھت گرنے سے کم از کم 98 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔
مرنے والوں میں ایک صوبائی گورنر اور سابق میجر لیگ بیس بال
کے کھلاڑی اوکٹیو ڈوٹیل بھی شامل ہیں۔ 51 سالہ ڈوٹیل ملبے سے نکالے جانے کے بعد ہسپتال
لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔
یہ واقعہ منگل کے روز جیٹ سیٹ نائٹ کلب میں مقبول گلوکار روبی
پیریز کے کنسرٹ کے دوران پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے روبی پیریز بھی ملبے میں پھنسے
ہوئے ہیں۔
حادثے کے وقت سینکڑوں لوگ کلب میں موجود تھے۔ تقریباً 400 امدادی
کارکن اب بھی زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا
خدشہ ہے۔
اگر امریکہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا بند کر دے تو ایران جوہری معاہدے کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران جوہری
معاہدے کے لیے سنیچر کے روز امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم کسی بھی نتیجے پر پہنچے کے لیے امریکہ کو فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا بند کرنا ہوں گی۔
منگل کے روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی معاہدے تک
پہنچنے کے لیے خلوصِ نیت سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے لکھا، ’ہم بالواسطہ مذاکرات کے لیے سنیچر کے روز عمان
میں ملاقات کریں گے۔ یہ جتنا بڑا موقع ہے اتنا ہی بڑا امتحان بھی۔‘
خیال رہے کہ سوموار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے
براہِ راست مذاکرات سنیچر کے روز ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے
درمیان مذاکرات ’انتہائی اعلیٰ سطح‘ پر ہوں گے۔
عراقچی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ’زیادہ سے
زیادہ دباؤ‘ کی مہم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تہران میں امریکی حکومت کی نیت کے بارے میں ’سنگین
شکوک و شبہات‘ پائے جاتے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں سب
سے پہلے اس بات پر متفق ہونا پڑے گا کہ ’فوجی حل‘ تو ایک طرف اس مسئلے کا کوئی ’فوجی
آپشن‘ ہی نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم جبر اور زبردستی کبھی قبول نہیں
کرے گی۔
اس سے قبل سوموار کے روز امریکی صدر نے
خبردار کیا تھا کہ اگر مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا تو یہ
’ایران کے لیے بہت برا دن‘ ثابت ہو گا۔
عراقچی نے اصرار کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایران
نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات
کا اعتراف کیا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے متعلق کچھ خدشات موجود ہو سکتے ہیں۔
’ہم اپنے پرامن ارادوں کو واضح کرنے اور کسی بھی ممکنہ تشویش
کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو بھی ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سفارت کاری
میں سنجیدہ ہے اور ہونے والے کسی بھی معاہدے پر قائم رہے گا۔ ’اگر ہمیں عزت دی جائے
گی تو احترام کا مظاہرہ کریں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔
امریکہ کا چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا اعلان: چین کی سٹاک مارکیٹ ایک بار پھر مندی کا شکار
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنچین کی شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.8 فیصد کمی دیکھنے میں آئی.
امریکہ کی جانب سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو کیے
جانے کے بعد چین اور ہانگ کانگ
کی مارکیٹوں میں ایک بار پھر مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کئی روز کی مندی کے بعد منگل کے روز شنگھائی سمیت ایشیا کی کئی سٹاک مارکیٹوں میں قدرے بہتری نظر آئی تھی۔
تاہم امریکہ کی جانب سے چند چینی مصنوعات پر ٹیرف 100 فیصد سے بھی بڑھائَے جانے کے بعد بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر چین کی شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.8 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ ہانگ
کانگ کی ہانگ سانگ میں 2.8 فیصد کی کمی
ریکارڈ کی گئی۔
چین نے امریکہ کی جانب سے عائد محصولات کا جواب دینے کا
اعادہ کیا ہے۔
گذشتہ روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری
کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی تھی کہ منگل کا دن ختم ہونے پر رات 12:01 بجے سے امریکہ کی
جانب سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو ہو جائے گا۔ یہ اقدام چین کی جانب
سے جوابی ٹیکس واپس نہ لینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ
سمجھتے ہیں کہ چین معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
لیویٹ نے بتایا کہ تقریباً 70 ممالک نے
امریکہ سے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی
مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئَے پر ملک کے لیے علیحدہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیرف پر نہ تو کوئی تاخیر ہوگی اور نہ
ہی توسیع دی جائے گی۔
’امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازعے سے چینی برآمدات میں
کمی آئے گی‘
وانگارڈ انویسٹمنٹ فرم کے ایشیا پیسیفک کے چیف اکانومسٹ
چیانگ وانگ کا کہنا ہے کہ بلاشبہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے
کے باعث چین کی برآمدات میں تیزی سے کمی آئے گی اور اس کے نتیجے میں مقامی سرمایہ کاری،
لیبر مارکیٹ، کھپت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گا۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ امریکی وقت کے مطابق منگل کا دن ختم ہونے پر رات 12:01 بجے سے امریکہ کی جانب سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو ہو جائے گا۔ یہ اقدام چین کی جانب سے جوابی ٹیکس واپس نہ لینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں بی این پی کے زیر اہتمام دھرنے پر فائرنگ کے ذمہ داران کے خلاف مقدمے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے شاہراہ کھول دی گئی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی ضمانتوں کی منسوخی سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ ٹرائل کورٹس چار ماہ میں تمام کیسز کو سُن کر فیصلہ دیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات سنیچر کے روز ہوں گے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔