ایران میں کہاں کہاں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ایرانی محبِ وطنوں، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘ امریکی صدر نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ایڈیشنل ججز جسٹس محمد آصف، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کو مستقبل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت کمیشن کے ایک اور اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج نجم الدین مینگل کو بھی مستقل کرنے کی منظوری دی گئی تاہم جسٹس ایوب خان کو مستقل نہیں کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شرکت نہیں کی
کمیشن کے تیسرے اجلاس میں آئینی عدالت اور ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی کے فریم ورک پر غور ہوگا۔ اس میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی سے قبل امیدواروں کے انٹرویوز کا طریقہ کار بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ وہ عالمی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ہم نے کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے ملک کی خود مختاری اور سکیورٹی کا عالمی قوانین کے مطابق تحفظ ضروری ہے۔
صددر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران تواتر سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین پر گولی چلائی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے حکمرانوں نے سُرخ لکیر عبور کر لی ہے اور اب امریکہ مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
امریکہ نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے معاملے پر ایران میں مداخلت کی دھمکی دینے کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور 'وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔'
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو 'ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔'
صدر ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے، لیکن اتوار کو انھوں نے کہا کہ 'ہم کچھ نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں'۔
بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے پشاور کے کور کمانڈر سے کہا گیا ہے کہ وہ صوبے میں سکیورٹی سے متعلق خصوصی کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ دیں۔
صوبائی اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی کی ہدایت پرلکھے گئے خط میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں جاری سکیورٹی اقدامات اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں خصوصی کمیٹی کے کردار اور مینڈیٹ سے آگاہ کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اب تک چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ و قبائلی امور) اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا سمیت اہم اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کر چکی ہے، جن کی روشنی میں سفارشات اور اسمبلی میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مشاورتی عمل کے تسلسل میں کور کمانڈر پشاور سے ان کیمرا بریفنگ اہم ہے تاکہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال کا جامع اور ہمہ جہت جائزہ لیا جا سکے۔
خیال رہے کہ خصوصی سکیورٹی کمیٹی کا قیام صوبے میں امن و استحکام سے متعلق جامع پارلیمانی مشاورت کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس میں قائدِ ایوان، قائد حزب اختلاف، صوبائی وزرا، پارلیمانی لیڈرز اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ پیر کی صبح تھانہ گومل کی حدود میں پیش آیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او اسحاق خان بھی شامل ہیں۔
ایک پولیس اہلکار قدرت اللہ نے بتایا ہے کہ بکتربند گاڑی میں ایس ایچ او اور ایڈشنل ایس ایچ او دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ معمول کے گشت پر تھے کہ سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔
ان کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بکتربند گاڑی کے حصے دور دور تک پھیل گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹانک منتقل کر دیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے محکمے کے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے آپریشن جاری ہے۔
خیبر پختونخوا کا ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان، بلوچستان کے ضلع ژوب اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد پر واقع ہے اور صوبے میں جاری تشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے لیکن پولیس فورس پر حملوں سے امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مرنے والے اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ لیکن پہلے خود کسی پیشگی فوجی کارروائی پر غور نہیں کر رہا۔
تہران میں غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے مخالفین کو خبردار کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
اُنھوں نے گذشتہ برس جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اس سے بھی زیادہ تیار ہے۔‘
عراقچی نے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُس وقت جاری رہے گی، جب تک ہم یہ یقینی نہیں بنا لیتے کہ اب مزید کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے اب دہشت گرد آپریشن میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں۔ لیکن یہ منصفانہ اور برابری کی سطح پر ہونے چاہییں۔
وزیرِ خارجہ کی نیوز کانفرنس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے درمیان ’بات چیت کے چینلز کھلے‘ ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’جب ضرورت محسوس ہوتی ہے پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ابتدا میں مظاہرین پرامن تھے اور حکومت نے مظاہرین کے جائز مطالبات سن کر اقتصادی اصلاحات بھی شروع کیں۔
مظاہرے دسمبر کے آخر تک کم زور تھے لیکن جنوری کے آغاز میں احتجاج نے ایک نیا روپ اختیار کیا اور نئے افراد اور دہشت گرد عناصر کی مداخلت سے یہ مظاہرے پرتشدد اور خونریز بن گئے۔
عراقچی نے کہا کہ بعض مظاہرین کو ہتھیار دیے گئے اور انھوں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں پر بھی فائرنگ کی، جس کا مقصد جانی نقصان بڑھا کر امریکہ کو مداخلت کا بہانہ فراہم کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے مظاہروں میں تشدد کو ہوا دی اور بعض عناصر کو اس پر اکسانے کا سبب بنی۔
وزیر خارجہ کے مطابق داعش اور دیگر دہشت گرد عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹ دیے اور کچھ کو زندہ جلا دیا۔ اس دوران سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا، جس میں دکانیں، ہسپتال، بسیں اور حتیٰ کہ 350 مساجد شامل ہیں۔ زخمی افراد کو بھی ہدف بنایا گیا اور بعض افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ عراقچی نے کہا کہ کچھ افراد کو بڑی رقوم دے کر پولیس سٹیشنوں اور دیگر اہداف پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے سکیورٹی فورسز تعینات کیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا، جن کے قبضے سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ عراقچی نے کہا کہ جلد گرفتار کیے گئے افراد کے اعترافی بیانات اور شواہد عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور تمام ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں شامل 70 فیصد افراد کو غیر ملکی عناصر نے بھڑکایا جبکہ 30 فیصد مظاہرین پرامن تھے جن کے مطالبات جائز تھے۔ حکومت ان پرامن مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے لیے قانونی اور عدالتی راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔ عراقچی نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے اور جلد انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہو جائے گی تاکہ سرکاری ادارے اور سفارتخانے معمول کے مطابق کام کر سکیں۔
وزیر خارجہ نے آخر میں سفارتکاروں اور عوام کا صبر و استقامت کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت نے حالات پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پرامن مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہpresstv
ایران کے سرکاری نیوز چینل پریس ٹی وی کے مطابق ’غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح فسادات‘ کی مذمت کرنے کے لیے ملک بھر میں ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
پریس ٹی وی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر اس حوالے سے تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ہر طبقہِ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہrealDonaldTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے جس میں وہ خود کو ’وینزویلا کے قائم مقام صدر‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
’ٹرتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنوری 2026 سے وہ جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے عبوری رہنما کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
خیال رہے امریکہ نے 3 جنوری کو وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس میں مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات کے تحت نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ عبوری دور میں وینزویلا اور اس کے تیل کے اثاثوں کی نگرانی کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہTASNIM
ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کے انٹیلیجنس ونگ نے ملک کے شمال مشرق میں دو مبینہ موساد ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے شمالی خراسان صوبے میں پاسدارانِ انقلاب انٹیلیجنس آرگنائزیشن کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دو ’موساد سے منسلک جاسوسوں‘ کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد موساد کے ’دہشت گرد نیٹ ورکس‘ کے سرغنہ کے طور پر کام کر رہے تھے اور ’فسادات اور وسیع پیمانے پر تشدد‘ منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان سے مواصلاتی اور جاسوسی کا سامان، اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے ہی ایران میں مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو رہے ہیں، سعودی ذرائع ابلاغ نے ایک تنقیدی موقف اپنایا ہے، جس میں درجنوں مظاہرین کے مارے جانے اور ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کی خبروں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
11 جنوری کو ایرانی مظاہرے العربیہ ٹی وی کی خبروں کا ایک اہم موضوع تھے۔ چینل نے مظاہرین کے خلاف تشدد میں اضافے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 116 افراد ہلاک اور 2600 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
نیٹ ورک نے یہ بھی اطلاع دی کہ انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش نے احتجاج کی حد کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔
ایرانی امور کے ایک تجزیہ کار نے نیٹ ورک کو بتایا کہ ایرانی حکام ’دو محاذوں‘ پر لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں: ایک مظاہرین کے خلاف اور دوسرا کسی بھی غیر ملکی حملے کے خلاف۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے بارے میں متعدد وارننگز جاری کی ہیں اور متعدد بار مداخلت کی دھمکی دی ہے۔
نیٹ ورک کے ایک تجزیہ کار نے پوچھا، ’مظاہرے کم نہیں ہوئے ہیں۔ کیا ایرانی صدر اپنے [معاشی] وعدوں کے باوجود اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ نکال پائیں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا ’امکان نہیں‘ ہے، لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ فوجی اڈوں اور سیکورٹی فورسز پر امریکی حملے ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا، جبکہ بی بی سی کے ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حکومتی کریک ڈاؤن میں شدت آنے کے ساتھ اب تک سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
اتوار کے روز تہران میں موجود ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ’یہاں حالات انتہائی خراب ہیں۔ ہمارے بہت سے دوست مارے جا چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز براہِ راست گولیاں چلا رہی تھیں۔ یہ جنگی علاقے جیسا منظر ہے، سڑکیں خون سے بھری ہوئی ہیں۔ لاشوں کو ٹرکوں میں ڈال کر لے جایا جا رہا ہے۔‘
بی بی سی نے تہران کے قریب ایک مردہ خانے کی فوٹیج میں تقریباً 180 لاشوں کے بیگ گنے ہیں۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے ہے کہ ملک بھر میں 495 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کی بدامنی کے دوران مزید 10,600 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
امریکہ نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے معاملے پر ایران میں مداخلت کی دھمکی دی ہے، تاہم اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور ’وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔‘
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ’ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے، لیکن اتوار کو انھوں نے کہا کہ ’ہم کچھ نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں‘۔
بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے حکام کے مطابق دیگر ممکنہ اقدامات میں آن لائن حکومت مخالف ذرائع کو تقویت دینا، ایران کی فوج کے خلاف سائبر ہتھیاروں کا استعمال، یا مزید پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اور بحری مراکز بھی جائز اہداف بن جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔‘
ٹرمپ نے تفصیلات بتائے بغیر ایک رپورٹر کو بتایا، ’ہاں، ہاں۔ انھوں نے کل فون کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کے رہنما مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا: ’ہو سکتا ہے ہم ان سے ملاقات کریں، میرا مطلب ہے کہ ملاقات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، لیکن جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ سے ہمیں کچھ اقدام اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی مظاہروں پر اپنے تازہ ترین ردِعمل میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شام ایک رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے متعلق خبروں پر تبصرہ کیا اور اس سوال کا جواب دیا کہ آیا ایران نے وہ ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی ہے جس کا وہ پہلے ذکر کر چکے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے واقعی ایسا کیا ہے۔ بظاہر انھوں نے لوگوں کو مارا ہے۔ یہ تشدد ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھیں صرف فوجی حکمران کہا جا سکتا ہے یا نہیں، لیکن ہم انھیں اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے کئی نہایت مضبوط آپشنز زیرِ غور ہیں۔‘
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران، صدر ٹرمپ متعدد بار امریکی ردِعمل سے متعلق خبردار کر چکے ہیں اور ایرانی حکومت کو ’سخت دھچکا‘ پہنچانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX/Pehlavi
اتوار کی شام جاری ہونے والے اپنے تازہ ترین بیان میں رضا پہلوی نے کہا کہ ان کی رائے میں ایران میں حکومت کو ’جابرانہ قوتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور لوگوں پر فائرنگ میں اضافہ اختیارات کی وجہ سے نہیں، بلکہ کرائے کے فوجیوں کی کمی اور تیزی سے حکومت گرنے کا خدشہ ہے۔‘
پہلوی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اگلے مرحلے میں مظاہرین کو ان تمام ’اداروں اور آلات پر غور کرنا چاہیے جو حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے اور مواصلات کو منقطع کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔‘
انھوں نے سرکاری ملازمین اور سیکورٹی اور فوجی دستوں کو بھی متنبہ کیا کہ: ’ان کے پاس موقع ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شامل ہو کر قوم کے مددگار بنیں۔‘
اتوار کی شام ایکس چینل پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، پہلوی نے کہا کہ وہ اور ایران کے اندر احتجاجی مظاہروں کے دوران پہلوی کے نام کا نعرہ لگانے والے مظاہرین کا ’پیچھے ہٹنے‘ کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ایران میں مظاہرین ’تنہا نہیں ہیں‘ اور یہ کہ ’بین الاقوامی امداد جلد پہنچ جائے گی‘ حالانکہ انھوں نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اس میں شامل ممالک کس قسم کی امداد فراہم کریں گے۔
’ہم اکیلے نہیں ہیں۔ عالمی امداد بھی جلد ہی پہنچ جائے گی۔ میرے اگلے پیغامات کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔ ہم جلد ہی اپنے پیارے ایران کو اسلامی جمہوریہ سے واپس لیں گے اور ایران میں ہر جگہ آزادی اور فتح کا جشن منائیں گے۔‘
رضا پہلوی نے اس اعلان میں بیرون ملک ایرانیوں کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: تمام ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے ایرانی قوم کے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ انھیں اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے ایران کے قومی پرچم سے سجایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہUGC
لندن میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی ریلی اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اتارے جانے کے بعد تہران میں برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے۔
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے سفارتی مقامات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور مظاہروں کے بارے میں ’مداخلت پسند‘ بیانات دے رہی ہے۔
خیال رہے سنیچر کے روز، مغربی لندن میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت کے سامنے ایک ریلی کے بعد، ایک مظاہرین نے سفارت خانے کی بالکونی پر چڑھ کر اسلامی جمہوریہ کے جھنڈے کو نیچے اتارا، اور اس کی جگہ شیر اور سورج کے نشان کے ساتھ جھنڈا لگا دیا۔
لندن پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور اب وہ تجاوزات کے الزام میں ایک اور شخص کی تلاش کر رہی ہے۔
ایک اور ریلی میں، مغربی لندن کے کنسنگٹن میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کے سامنے مظاہرین کے ایک گروپ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائے اور اس پر اشیا پھینکیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کے ریمارکس کی بھی مذمت کی۔
برطانوی وزیر خارجہ نے پہلے ’ایران میں مظاہرین کی ہمت‘ کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ جو لوگ ایران کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہیں ان کے ساتھ ’تشدد، دھمکی یا انتقامی سلوک‘ نہیں کیا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہIRINN
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران اپنی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے۔ یہ ان کا پہلا ٹیلی وژن انٹرویو تھا جو 11 جنوری کو سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر نشر ہوا۔
ایرانی صدر نے اعتراف کیا کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور اندازہ لگایا کہ ’شاید 80 یا 90 فیصد‘ لوگوں کے خدشات جائز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیشت میں موجود ’ساختی عدم توازن‘ درست کیا جائے گا اور ایران موجودہ بحران پر قابو پا لے گا۔
ان کے دفاع کا مرکزی نکتہ حکومت کا وہ فیصلہ تھا جس کے تحت ترجیحی زرِمبادلہ کے ترجیحی نرخ ختم کر دیے گئیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں شدید اتار چڑھاؤ آیا اور تاجروں و کاروباری افراد میں غصہ پایا گیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ زرِمبادلہ کے متعدد نرخوں نے بدعنوانی کو فروغ دیا اور طاقتور حلقوں کو عوام کی قیمت پر فائدہ پہنچایا۔ ان کے مطابق اس طرح کے نرخوں کو ختم کرنا انصاف اور مساوات قائم کرنے کے لیے ضروری تھا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ پالیسی قلیل مدتی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، لیکن بالآخر ایک مسابقتی منڈی قائم کرے گی، بدعنوانی کم کرے گی اور عوامی زندگی بہتر بنائے گی، چاہے اس سے وہ افراد متاثر ہوں جو پرانے نظام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
انھوں نے زور دیا کہ حکومت بڑھتی ہوئی شرحِ مبادلہ کے باوجود اصلاحات جاری رکھے گی اور کہا کہ کم آمدنی والے خاندان بالآخر اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے احتجاج شروع ہوتے ہی فوری اقدامات کیے، تاجروں سے ملاقات کی اور صوبائی حکام کو مظاہرین سے رابطے کی ہدایت دی۔
انھوں نے کا کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی احتجاج جائز ہے۔‘ انھوں نے مزید کہ ’حکومت اقتصادی شعبے سے متعلق شکایات سن رہی ہے اور انھیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
انٹرویو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کی مزاحمت اندرونی اور بیرونی دونوں حلقوں سے آ رہی ہے، جن کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کی اقتصادی مشکلات کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’احتجاج عوام کا حق ہے اور ہمیں اسے سننا چاہیے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ ’فسادات، عوامی املاک پر حملے، مساجد کو جلانا اور خدا کی کتاب کو جلانا امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہیں۔‘
مسعود پزشکیان نے ان واقعات اور ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے اقدامات کو امریکہ یا یورپ میں احتجاج کہا جائے گا؟ ان کا اصرار تھا کہ ذمہ دار افراد ’فسادی ہیں، مظاہرین نہیں۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ مسلح گروہوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جبکہ عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ’فریب‘ میں نہ آئیں اور ایسے انتشار کا حصہ نہ بنیں جو دیرپا نقصان چھوڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد ہی ’ظالم کی قید‘ سے آزاد ہو جائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ ’ہم سب امید کرتے ہیں کہ ایرانی قوم جلد ہی ظلم کے بندھن سے آزاد ہو جائے گی اور جب وہ دن آئے گا، اسرائیل اور ایران ایک بار پھر دونوں قوموں کے لیے خوشحالی اور امن سے بھرے مستقبل کی تعمیر کے لیے وفادار شراکت دار ہوں گے۔‘
ایران میں مظاہرے شروع ہونے کے 15 دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حکام نے ان کی حمایت کی ہے۔
ایرانی حکام ان مظاہروں کا ذمہ دار اسرائیل کی طرف سے تربیت یافتہ افراد کو قرار دیتے ہیں، چاہے وہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک، اور اسے 12 روزہ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔
آج پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ فوجی حملے کی صورت میں، اسرائیل اور ’امریکی فوجی اور جہاز رانی کے مراکز ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہIRIB NEWS AGENCY
ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے جاری بدامنی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کی ہے۔
تسنیم کے مطابق 11 جنوری تک مجموعی طور پر 114 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبہ بہ صوبہ ایک فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں، جسے تسنیم نے کہا ہے کہ مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس، پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) اور اس کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے اہلکار شامل ہیں۔
مرکزی صوبہ اصفہان میں سب سے زیادہ 30 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اس کے بعد قزوین میں نو، جبکہ کئی دیگر صوبوں میں ایک سے آٹھ ہلاکتیں درج کی گئیں۔ دارالحکومت تہران میں مرنے والوں کی فہرست میں یہ تعداد ’غیر متعین‘ بتائی گئی ہے کیونکہ تسنیم کے مطابق وہاں کے اعداد و شمارکا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے نے تشدد کو ’مسلح دہشت گردوں‘ اور غیر ملکی حمایت یافتہ گروہوں کا کام قرار دیا اور امریکہ، اسرائیل اور اپوزیشن تنظیموں پر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد پر ’محاربہ‘ یعنی ’خدا کے خلاف جنگ‘ کا مقدمہ چلایا جائے گا، جس کی سزا موت ہے۔
پولیس اور سکیورٹی اداروں نے خاندانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’اپنے بچوں کا خیال رکھیں‘ کیونکہ بعض اجتماعات میں مسلح گروہوں کی موجودگی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
یہاں آپ کو پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں، تجزیے اور تبصرے پیش کیے جائیں گے۔
گذشتہ روز کے لائیو پیج پر جانے اور خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کر سکتے ہیں۔