ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک ریفری اور ایک طالبہ بھی شامل ہیں۔
26 سالہ کوچ اور ریفری امیر محمد کوہکن کے ایک دوست نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ 3 جنوری کو نیریز شہر میں احتجاج کے دوران براہِ راست انھیں گولی کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کے دوست نے مزید بتایا کہ ’سب لوگوں میں ان کی وجہ شہرت ان کی نرمی اور اچھے اخلاق تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ان کا خاندان سوگوار اور ’اس بات پر غصے میں ہے کہ انھیں حکومت نے قتل کیا۔‘
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پانچ دن بعد 23 سالہ طالبہ روبینہ امینیان کو تہران میں احتجاج کے دوران گولی مار دی گئی۔ ان کے ماموں نے سی این این کو بتایا کہ ’وہ ان چیزوں کے لیے لڑتی تھیں جنھیں وہ درست سمجھتی تھیں۔‘
امریکہ میں کام کرنے والے ایک حقوق گروپ کے مطابق دو ہفتوں کے دوران تقریباً 500 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ایران میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں معیشت کے خلاف شروع ہوئے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی (ھرانا) کے مطابق یہ 186 شہروں اور تمام 31 صوبوں تک پھیل گئے۔
یہ مظاہرے کئی برسوں میں سب سے بڑے ہیں، جن میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
ھرانا کے مطابق مظاہروں کے نتیجے میں حکومت نے کریک ڈاؤن کیا، جس میں کم از کم 10,600 افراد کو گرفتار اور 496 مظاہرین کو قتل کیا گیا۔
ایران میں طبی عملے نے بتایا کہ ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ بی بی سی فارسی نے تصدیق کی کہ 9 جنوری کو رشت شہر کے پورسینا ہسپتال میں 70 لاشیں لائی گئیں، اور بی بی سی نے تہران کے قریب ایک مردہ خانے کی فوٹیج دیکھی جو غالباً اس رات کی ہی تھی اس میں 180 لاشوں کو بوریاں تھیں۔
بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی ادارے ایران کے اندر سے رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں، اور ایرانی حکومت نے جمعرات سے انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے، جس سے معلومات حاصل کرنا اور ان کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
امیر محمد کوہکن صوبہ فارس کے جنوب مغرب نیریز میں مارے گئے۔ ان کے دوست نے بتایا کہ انھوں نے واقعہ خود نہیں دیکھا بلکہ عینی شاہدین سے سنا۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت جوان تھے، ان کی زندگی کا خاتمہ بہت جلدی ہو گیا۔‘
ان کے دوست نے بتایا کہ وہ امیر محمد کوہکن کو 10 سال سے جانتے تھے۔ ’بچپن سے وہ میرے کوچ تھے، پھر وہ میرے بھائی جیسے ہو گئے۔‘
انھوں نے امری محمد کوہکن کو ایک ایسے شخص کے طور پر متعارف کرایا ’جو لوگوں کو پریشان حال دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سب لوگ انھیں ان کی نرمی اور اچھے اخلاق کے لیے جانتے تھے۔ پورا شہر انھیں چاہتا تھا۔ خاندان سوگوار بھی ہے اور غصے میں بھی۔ سوگوار اس لیے کہ انھوں نے اپنا بیٹا کھو دیا، غصے میں اس لیے کہ انھیں حکومت نے قتل کیا۔‘
تین حقوق گروپوں کے مطابق اس احتجاج میں روبینہ امینیان بھی ہلاک ہوئیں، جو ایک کرد طالبہ تھیں اور جمعرات کو احتجاج میں شریک تھیں جب انھیں گولی ماری گئی۔ دو گروپ — ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس اور کرد تنظیم ہنگاو نے کہا کہ انھیں سر میں گولی ماری گئی، جبکہ کردستان ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے کہا کہ انھیں پیٹھ میں گولی لگی۔ دونوں کرد گروپوں نے کہا کہ انھیں حکومتی فورسز نے نشانہ بنایا۔
بی بی سی ان کی موت کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق 23 سالہ امینیان، جس کا نام روبینہ بھی لکھا گیا ہے، تہران کے شارعیاتی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج میں ٹیکسٹائل اور فیشن کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔
ان کے ماموں نے سی این این کو بتایا کہ ’وہ ایک مضبوط لڑکی تھیں، ایک بہادر لڑکی، اور وہ ایسی نہیں تھیں جنھیں تسلط میں رکھا جا سکے یا جن کے لیے فیصلے کیے جا سکیں۔ وہ ان چیزوں کے لیے لڑتی تھیں جنھیں وہ درست سمجھتی تھیں اور سختی سے لڑتی تھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’آزادی کی پیاسی تھیں، خواتین کے حقوق کی پیاسی تھیں۔‘
ان کے خاندان کے افراد کرمانشاہ سے تہران گئے تاکہ ان کی لاش کی شناخت کر سکیں۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ خاندان کو ان کے کالج کے قریب ایک مقام پر احتجاج میں مارے گئے نوجوانوں کی سینکڑوں لاشوں میں تلاش کرنا پڑا۔
ان کی والدہ نے کہا کہ ’یہ صرف میری بیٹی نہیں تھی، میں نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں لاشیں دیکھیں۔‘
ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے ابتدا میں ان کی لاش خاندان کے حوالے کرنے سے انکار کیا، پھر ان کی تدفین یا سوگ کی رسومات کو ان کے آبائی شہر میں روک دیا۔
خاندان کو مبینہ طور پر مجبور کیا گیا کہ وہ انھیں کرمانشاہ اور کامیاران کے درمیان سڑک کے کنارے دفن کریں۔
ایرانی رہنما خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہرین کو ’فسادی‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ امریکی فوج ’بہت سخت اقدامات‘ پر غور کر رہی ہے۔
ایران نے مظاہرین پر الزام لگایا ہے کہ انھیں امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔
یہ مظاہرے 2022 کی بغاوت کے بعد سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں، جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ مہسا امینی ایک نوجوان کرد خاتون تھیں جنھیں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر حجاب درست نہ پہننے پر گرفتار کیا تھا۔
اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 550 سے زیادہ افراد ہلاک اور 20,000 گرفتار کیے گئے تھے۔