آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مدد آ رہی ہے، احتجاج جاری رکھیں‘: ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام اور امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ایرانی محبِ وطنوں، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘ امریکی صدر نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کو پیغام: ’احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے‘
  • کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
  • ایران پر مزید پابندیاں جلد عائد کی جائیں گی: یورپی یونین
  • یورپی یونین کی پابندیوں پر ایران کی جوابی اقدام کی دھمکی، جرمن چانسلر کے بیان پر سخت جواب
  • ایران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔
  • ایران سے تجارت پر اضافی ٹیرف: چین کا امریکی اقدام کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان

لائیو کوریج

  1. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں دو دنوں میں 3000 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 1000 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    واضح رہے کے رواں ہفتے کے پہلے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جب انڈیکس میں 2000 پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال کے ساتھ ساتھ سٹاک ایکسچینج انڈیکس میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیکنیکی تصیح آئی ہے یعنی سٹاک مارکیٹ یا کسی مالیاتی منڈی میں قیمتیں کچھ وقت کے لیے اوپر جانے کے بعد معمولی کمی یا ایڈجسٹمنٹ کا شکار ہوئی ہیں۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ سے مارکیٹ میں لیوریج پوزیشن یعنی ادھار پر کام کرنے کی مالیت بہت بڑھی گئی تھی اور ایک تیکنیکی تصیح آنی تھی جو ایران کی صورتحال کی وجہ سے آ گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کی صورتحال پر امریکی پالیسی کے سامنے آنے کے بعد اس بات کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ براہ راست ایران پر حملہ بھی کر سکتا ہے جس کے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور سٹاک ایکسچینج نے ان خدشات پر اپنا ردعمل دیا ہے جس کی وجہ سے حصص کی خرید وفروخت دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔‘

  2. ایران میں ہونے والے مظاہرے صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک نظام سے بغاوت ہے: ولادیمیر زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زلنسکی نے ایران میں حالیہ عوامی مظاہروں کو ’بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے صرف احتجاج نہیں بلکہ دراصل ایک بڑی ’عوامی بغاوت‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

    زلنسکی نے پیر کے روز ایکس پر فارسی زبان میں لکھا کہ ’ایران میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، بشمول وسیع پیمانے پر جاری حکومت مخالف مظاہرے، دراصل ایک بغاوت ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ احتجاج ’روس کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ حالات ان کے لیے بھی آسان نہیں ہوں گے۔‘

    یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دنیا کا ہر عام انسان چاہتا ہے کہ ایرانی عوام بالآخر خوش قسمت ثابت ہوں اور اس جابرانہ حکومت سے آزادی حاصل کریں، جس نے نہ صرف ایران بلکہ یوکرین اور دیگر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔‘

    زلنسکی نے زور دیا کہ ’یہ لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہیے ایک ایسے وقت میں کہ جب تبدیلی ممکن ہے۔ ہر رہنما، ہر ملک اور بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایرانی عوام کی مدد کریں تاکہ وہ ذمہ داران کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سب کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔‘

  3. ایران کا مستقبل عوام اور خواتین کی شمولیت سے تشکیل پانا چاہیے نہ کہ بیرونی طاقتوں یا جابرانہ حکومتوں کے ذریعے: ملالہ یوسفزئی

    نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے ایران میں جاری احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے مظاہروں کو خواتین پر عرصہ دراز سے عائد پابندیوں اور ان کی خودمختاری کی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی خواتین بھی دنیا بھر کی لڑکیوں کی طرح باوقار زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی ہیں۔‘

    ملالہ یوسف زئی نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران کے عوام اپنی آواز دُنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مستقبل ایرانی عوام کے ہاتھوں اور خواتین کی شمولیت سے تشکیل پانا چاہیے، نہ کہ بیرونی طاقتوں یا جابرانہ حکومتوں کے ذریعے۔‘

    بیان کے آخر میں انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایرانی عوام اور خواتین کے جائم مطالبات کے ساتھ اُن کے حق میں کھڑے ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کے تعین کے حق دار ہیں۔‘

  4. ایران میں احتجاج جاری، حکام کی عوام سے خون عطیہ کرنے کی اپیل

    بی بی سی فارسی کو ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں ایران کے قدس سکوائر میں جاری مظاہروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو کی تاریخ کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے لیکن اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ حالیہ ملک گیر احتجاجات سے متعلق ہے۔

    قدس سکوائر سے ویڈیو بھیجنے والے کا کہنا ہے کہ یہ مناظر جمعرات کو ریکارڈ کیے گئے تھے۔

    ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے باعث احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز تاخیر سے بیرونی دُنیا تک پہنچ رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی درست تاریخ کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔

    امریکی چینل فاکس نیوز کے رپورٹر تری ینگست نے بتایا کہ انھوں نے پیر کے روز اصفہان میں ایک شخص سے رابطہ کیا جس نے انھیں بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر تشدد اور اسلحے کے استعمال کے باوجود احتجاج جاری ہے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے پیر کے روز ایک اعلان کیا گیا کہ جس میں شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

    ایران کی بلڈ ٹرانسفیوزن آرگنائیزیشن سے متعلق یہ اعلان سوشل میڈیا پر اُن قیاس آرائیوں کے ساتھ سامنے آیا کہ جن میں کہا گیا تھا کہ اس ادارے میں خون کی قلت کی وجہ مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔

  5. ہم جلد ہی ایران میں آزادی کا جشن منائیں گے: سابق ملکہ ایران فرح پہلوی

    ایران کی سابق ملکہ فرح پہلوی نے ایرانی عوام کے نام اپنے تازہ پیغام میں کہا ہے کہ ’میرے ہم وطنوں اُمید کو قائم رکھیں، مضبوط رہیں اور یقین رکھیں کہ جلد ہی ہم سب ایران میں آزادی کا جشن منائیں گے اور روشنی تاریکی پر غالب آئے گی۔‘

    فرح پہلوی نے پیر کے روز اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک آڈیو پیغام کے ساتھ تحریری بیان بھی جاری کیا جس میں انھوں نے ایرانی عوام کی ’بہادری، وطن سے محبت اور قربانیوں‘ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے لاکھوں افراد نے ان کی جدوجہد کی حمایت کی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تاریک دور کے حکمرانوں آپ کی آواز سے خوفزدہ ہو کر دنیا سے آپ کے روابط منقطع کر رہے ہیں لیکن آپ کا پیغام اتنا واضح ہے کہ اسے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے احتجاجی مناظر جلد یا بدیر سنسرشپ کی دیواروں کو توڑ کر دنیا کو حیران اور متاثر کریں گے۔‘

    سابق ملکہ نے ایران میں مظاہرین کے قتلِ عام پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر بے گناہ ایرانی کا خون میرے لیے ذاتی دکھ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ میں ایرانی والدین کے ساتھ سوگ میں شریک ہوں اور ان کے لیے دعا گوہ ہوں۔‘

    انھوں نے زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کو مخاطب کیا ’یاد رکھیں کہ کسی حکومت کی بقا یا کسی مفاد کا تحفظ ہم وطنوں کا خون بہانے کا جواز نہیں ہو سکتا۔ مظاہرین کی آواز سنیں اور دیر ہونے سے پہلے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔‘

    فرح پہلوی نے آخر میں کہا کہ ’ایک آزاد ایران کل آپ کے بچوں کا بھی وطن ہوگا۔ اپنے ہم وطنوں کا خون بہا کر اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کو تباہ نہ کریں۔ تاریخ ان دنوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور رسوائی ان کے حصے میں آئے گی جنھوں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں پر گولیاں چلائیں۔‘

  6. ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مُمالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد، صدر ٹرمپ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، وائٹ ہاؤس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے جہاں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ٹیرف ’فوری طور پر نافذ العمل‘ ہے تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ’ایران کے ساتھ کاروبار کرنے‘ کی تعریف کیا ہوگی یا کس نوعیت کا کاروبار کرنے والوں پر یہ محصولات عائد کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس میں ایران کے خلاف تازہ ترین آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم انھوں نے بارہا کہا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کا قتل عام ہوا تو امریکی حکومت ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق صدر ’ہمیشہ تمام آپشنز پر غور کرتے ہیں اور فضائی حملہ بھی ان میں شامل ہے۔‘

    ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’سفارت کاری صدر کا پہلا آپشن ہے۔ انھوں نے کل رات بھی یہی کہا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے عوامی سطح پر جو بیانات دیے جا رہے ہیں وہ ان پیغامات سے مختلف ہیں جو ہمیں نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں اور صدر ان پیغامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مزید کہا کہ ’صدر نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بھی وہ ضروری سمجھیں تو فوجی آپشن استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے اور ایران اس حقیقت کو سب سے بہتر جانتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین، عراق، متحدہ عرب امارات، ترکی اور انڈیا بھی شامل ہیں۔

    یہ نیا ٹیرف اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ اگر مظاہرین کو قتال کیا گیا تو ایران کارروائی کر سکتا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی لین دین پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔‘

    وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جن میں یہ وضاحت شامل ہو کہ کن ممالک کی درآمدات سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

    ایران میں کرنسی ’ریال‘ کی قدر میں شدید کمی کے بعد دسمبر کے آخر میں عوامی احتجاج شروع ہوا، جو اب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ایچ آر اے این اے‘ کے مطابق ایران میں تقریباً 500 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بی بی سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مزید ہزاروں افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    جمعرات کی شام سے جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث درست اور تازہ معلومات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایران کے اندر سے براہِ راست رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں۔

  7. ایران بھر میں مظاہروں کے دوران نو بچوں سمیت 648 مظاہرین ہلاک: ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم

    ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جب سے ایران میں مظاہرے شروع ہوئے ہیں، اب تک نو بچوں سمیت کم از کم 648 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

    ناروے میں قائم تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مغدام نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ تعداد کم سے کم ہے اور اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے

    ان کے بقول ’کیونکہ ہمیں بہت سے شہروں سے قابل اعتماد معلومات نہیں ملی ہیں۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور معلومات تک رسائی پر سخت پابندیوں کی وجہ سے موجودہ حالات میں آزادانہ تصدیق کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس انداز میں دستاویز کرنا تقریباً ناممکن ہے جس طرح تنظیم نے ہمیشہ کیا ہے۔

    ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی اندازہ لگایا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 10,000 سے زیادہ ہے۔

  8. انڈیا اور امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں: نئی دہلی میں نئے امریکی سفیر کا بیان

    نئی دہلی میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ انڈیا اور امریکہ تجارتی معاہدے کے مذاکرات میں فعال طور پر مصروف ہیں۔

    سرجیو گور نے نومبر میں وائٹ ہاؤس میں حلف اٹھایا تھا لیکن وہ ابھی تک انڈیا کے صدر کو باضابطہ طور پر اپنے سفارتی اسناد پیش نہیں کر سکے۔ پیر کو نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران انھیں باضابطہ طور پر سفیر کے طور پر خوش آمدید کہا گیا۔

    سرجیو گور نے بتایا کہ اس معاہدے پر بات چیت کے لیے اگلا اجلاس منگل کو ہوگا، تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس میں کون شریک ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کے درمیان دوستی حقیقی ہے اور ’حقیقی دوست اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آخرکار اپنے اختلافات کو حل کر لیتے ہیں۔‘

    سرجیو گور کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند امریکی حکام نے معاہدے پر دستخط میں تاخیر کا الزام انڈیا پر عائد کیا تھا، جسے نئی دہلی نے مسترد کر دیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب امریکہ نے اگست میں انڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جو ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس میں انڈیا کی روسی تیل کی خریداری سے متعلق جرمانے بھی شامل تھے۔

    واشنگٹن انڈیا کے زرعی شعبے تک زیادہ رسائی چاہتا ہے، جو ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور نئی دہلی نے اس کی سخت مزاحمت کی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے انڈیا کو امریکہ کا ’سب سے اہم پارٹنر‘ قرار دیا اور کہا کہ دو طرفہ تعلقات اس صدی کی ’سب سے اہم پارٹنرشپ‘ بن سکتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یاد رکھیں، انڈیا دنیا کا سب سے بڑی مارکیٹ والا ملک ہے، اس لیے یہ کام آسان نہیں ہے کہ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے، لیکن ہم پُرعزم ہیں کہ وہاں تک پہنچیں۔‘ امریکی سفیر نے کہا کہ دونوں فریقین دیگر ’انتہائی اہم شعبوں‘ جیسے سلامتی، انسداد دہشت گردی، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت پر بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں۔

  9. ایرانی سفارتکاروں اور نمائندوں پر یورپی پارلیمنٹ کی عمارتوں میں داخلے پر پابندی عائد

    یورپی پارلیمنٹ نے ایران کے سفارت کاروں اور دیگر نمائندوں کے اس کی عمارتوں میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اعلان کیا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد دبانے کی وجہ سے کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ ’ایسی حکومت کو قانونی حیثیت دینے میں مدد نہیں کرے گی جس نے تشدد، جبر اور قتل پر اپنی بقا قائم کی ہو۔‘

    یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کا قانون ساز ادارہ ہے اور اس کا صدر دفتر فرانس میں ہے۔

  10. ایران کے پاس اب کس نوعیت کا اسلحہ باقی رہ گیا ہے؟

    بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈمز سے پوچھا گیا کہ 2025 کے تنازعات اور امریکی حملوں کے بعد ایران کے پاس کس نوعیت کا اسلحہ باقی رہ گیا ہے۔

    پال ایڈمز کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کو پہنچنے والا نقصان ’انتہائی سنگین‘ تھا لیکن ’فیصلہ کن یا مکمل تباہی‘ نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور ’پورا فوجی ڈھانچہ‘ کافی پھیلا ہوا ہے، اور اس کے کچھ حصے اب بھی بہت محفوظ ہیں۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ ایران ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں ہے، اور اگرچہ امریکہ کے پاس خطے میں ’بہت بڑی‘ فوجی موجودگی نہیں ہے، لیکن ’اتنی ضرور ہے کہ کارروائی کر سکے‘۔

    پال ایڈمز نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ امریکہ فاصلے سے بھی حملے کر سکتا ہے، مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔ یقیناً بیرکس تباہ کرنے اور علامتی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایرانی قیادت کے بعض عناصر کو نشانہ بنا یا ہلاک کر سکتے ہیں۔‘

  11. کیا ایران میں امریکی مداخلت غیر معمولی تیزی سے ہو سکتی ہے؟

    بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار پال ایڈمز سے پوچھا گیا کہ حالیہ امریکی اقدامات کو دیکھتے ہوئے کیا ایران میں کسی ممکنہ مداخلت کا عمل ’غیر معمولی تیزی‘ سے ہو سکتا ہے؟

    پال ایڈمز کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی انتظامیہ ہے جو حالیہ کامیابیوں سے ’حوصلہ افزا‘ ہے، اور صدر ٹرمپ امریکہ کی ’بے مثال فوجی طاقت‘ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں 1980 کی ناکام امریکی فوجی کارروائی ’ایگل کلا‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں ایران کے انقلاب کے بعد تہران میں یرغمال بنائے گئے امریکی سفارتکاروں کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔

    پال ایڈمز کے مطابق ’یہ کارروائی اس وقت تباہی پر ختم ہوئی جب ہیلی کاپٹر ایرانی صحرا میں آپس میں ٹکرا گئے۔ یہ ایک ایسا سایہ ہے جو ایران سے نمٹنے کے معاملے میں آج بھی امریکہ پر موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ وہ چیز ہے جس سے صدر بخوبی آگاہ ہیں، اور یہ ان کئی وجوہات میں سے ایک ہوگی جس کی بنا پر وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔‘

  12. کیا صدر ٹرمپ ایران میں مداخلت کریں گے؟, پال ایڈمز، بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار

    بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار پال ایڈمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تازہ ترین اطلاعات سامنے آنے سے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ردعمل آ سکتا ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی حکام کس طرح جواب دیتے ہیں۔

    ٹرمپ نے مظاہرین کو ’بچانے‘ کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اتوار کو واشنگٹن جاتے ہوئے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ کچھ ’بہت سخت آپشنز‘ پر غور کر رہے ہیں، جو غالباً فوجی آپشنز ہیں۔

    ان سے توقع ہے کہ وہ کل ان آپشنز پر بریفنگ حاصل کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تہران نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کیے جا سکیں، اگرچہ انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ مذاکرات کس بارے میں ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق ملاقات کے انتظامات کر رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کے مطابق ممکن ہے کہ امریکہ کو ملاقات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے۔

    یہ بظاہر ایک سخت وارننگ ہے کہ امریکہ جلد ہی اقدام کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

  13. کیا ایرانی حکمرانوں کے سر پر سب سے بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے؟

    بی بی سی کی سفارتی امور کی نامہ نگار کیرولین ہیلی سے پوچھا گیا کہ کیا موجودہ مظاہرے 1979 میں قیام کے بعد سے ایران کی اسلامی جمہوریہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں؟

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ’بڑے خطرے‘ کا سامنا کر رہی ہے اور یہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ’اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے‘، جبکہ سڑکوں پر احتجاج سے نمٹنے کے لیے ’غیرمعمولی طاقت‘ استعمال کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی بار احتجاجی لہریں اٹھ چکی ہیں، سنہ 2009 میں متنازع انتخابات کے بعد، سنہ 2019 میں ایندھن کی قیمتوں پر اور 2022 میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے یہ سب ہوا۔

    لیکن ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مظاہرے، جو ابتدا میں معاشی مسائل پر شروع ہوئے تھے، اب ’اس حد تک پھیل گئے ہیں کہ لوگ ایران کی ہر اُس چیز پر غصہ ظاہر کر رہے ہیں جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔‘

    کیرولین ہیلی نے کہا کہ مکمل حقائق تک ابھی رسائی مشکل ہے کیونکہ انٹرنیٹ بند ہے، اور ایرانی حکومت اپنے حامیوں کی تصاویر جاری کر کے بیانیے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  14. ممکنہ فوجی آپشنز: امریکی مداخلت کی صورت میں ایران کیا کچھ کر سکتا ہے؟, فرینک گارڈنر، بی بی سی نیوز کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے لیے مختلف فوجی آپشنز پیش کیے گئے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جواب دے گا۔

    جیسا کہ حالیہ مظاہروں کے ساتھ ہوا، اس کی ایک تازہ تاریخی مثال بھی موجود ہے۔ گذشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ مختصر مگر شدید جنگ ہوئی تھی، جس کے اختتام پر امریکی فضائیہ نے شامل ہو کر ایران کے تین مقامات پر ایٹمی پروگرام کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا تھا۔

    اس بار اگر صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کی منظوری دیتے ہیں تو امریکی حملے کا ہدف غالباً ایران کے سکیورٹی ڈھانچے کا مرکز ہوگا، جس میں پاسداران انقلاب (آئی آر سی جی)، بسیج فورس اور ممکنہ طور پر خود سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شامل ہو سکتے ہیں۔

    تاہم اس کے الٹا اثرات مرتب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ ایران پہلے ہی مظاہرین کو ’دہشت گرد‘ قرار دے چکا ہے جو ’ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ اگر امریکی فضائی حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے تو یہ حکومت کے حق میں جا سکتا ہے۔

    جوابی کارروائی کے معاملے میں ایران بالکل بے بس نہیں ہے۔ اس کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے، یمن میں اس کے اتحادی حوثی ہیں اور وہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    لیکن امریکی صدر کے الفاظ میں ایران کے پاس ’تمام پتے نہیں ہیں‘۔ آج وہ 18 ماہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہے، شام میں اپنے بڑے اتحادی کو کھو چکا ہے اور اسرائیل کو اپنی فضائی دفاعی نظام سے گزرتے اور مشرقِ وسطیٰ میں جہاں چاہے حملے کرتے دیکھ رہا ہے۔

  15. ٹانک میں پولیس بکتر بند گاڑی پر بارودی سرنگ کا دھماکہ، پانچ اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں تھانہ گومل کی حدود میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر آئی ای ڈی بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب اے پی سی گاڑی تھانہ گومل سے ٹانک شہر کی طرف آ رہی تھی۔ دھماکے میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او اسحاق خان بھی مارے گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتوں کو ریسکیو 1122 کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹانک منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’واقعہ کے ذمہ دار دہشت گردوں کو جلد از جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘

    پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ’واقعہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔‘

    وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو جلد از جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

  16. ایران میں احتجاج کے دوران ریفری اور طالبہ سمیت سیکڑوں ہلاکتیں، ’وہ ان چیزوں کے لیے لڑتی تھی جنھیں وہ درست سمجھتی تھی‘

    ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک ریفری اور ایک طالبہ بھی شامل ہیں۔

    26 سالہ کوچ اور ریفری امیر محمد کوہکن کے ایک دوست نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ 3 جنوری کو نیریز شہر میں احتجاج کے دوران براہِ راست انھیں گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دوست نے مزید بتایا کہ ’سب لوگوں میں ان کی وجہ شہرت ان کی نرمی اور اچھے اخلاق تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ان کا خاندان سوگوار اور ’اس بات پر غصے میں ہے کہ انھیں حکومت نے قتل کیا۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پانچ دن بعد 23 سالہ طالبہ روبینہ امینیان کو تہران میں احتجاج کے دوران گولی مار دی گئی۔ ان کے ماموں نے سی این این کو بتایا کہ ’وہ ان چیزوں کے لیے لڑتی تھیں جنھیں وہ درست سمجھتی تھیں۔‘

    امریکہ میں کام کرنے والے ایک حقوق گروپ کے مطابق دو ہفتوں کے دوران تقریباً 500 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

    مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں معیشت کے خلاف شروع ہوئے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی (ھرانا) کے مطابق یہ 186 شہروں اور تمام 31 صوبوں تک پھیل گئے۔

    یہ مظاہرے کئی برسوں میں سب سے بڑے ہیں، جن میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

    ھرانا کے مطابق مظاہروں کے نتیجے میں حکومت نے کریک ڈاؤن کیا، جس میں کم از کم 10,600 افراد کو گرفتار اور 496 مظاہرین کو قتل کیا گیا۔

    ایران میں طبی عملے نے بتایا کہ ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ بی بی سی فارسی نے تصدیق کی کہ 9 جنوری کو رشت شہر کے پورسینا ہسپتال میں 70 لاشیں لائی گئیں، اور بی بی سی نے تہران کے قریب ایک مردہ خانے کی فوٹیج دیکھی جو غالباً اس رات کی ہی تھی اس میں 180 لاشوں کو بوریاں تھیں۔

    بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی ادارے ایران کے اندر سے رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں، اور ایرانی حکومت نے جمعرات سے انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے، جس سے معلومات حاصل کرنا اور ان کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔

    امیر محمد کوہکن صوبہ فارس کے جنوب مغرب نیریز میں مارے گئے۔ ان کے دوست نے بتایا کہ انھوں نے واقعہ خود نہیں دیکھا بلکہ عینی شاہدین سے سنا۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت جوان تھے، ان کی زندگی کا خاتمہ بہت جلدی ہو گیا۔‘

    ان کے دوست نے بتایا کہ وہ امیر محمد کوہکن کو 10 سال سے جانتے تھے۔ ’بچپن سے وہ میرے کوچ تھے، پھر وہ میرے بھائی جیسے ہو گئے۔‘ انھوں نے امری محمد کوہکن کو ایک ایسے شخص کے طور پر متعارف کرایا ’جو لوگوں کو پریشان حال دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سب لوگ انھیں ان کی نرمی اور اچھے اخلاق کے لیے جانتے تھے۔ پورا شہر انھیں چاہتا تھا۔ خاندان سوگوار بھی ہے اور غصے میں بھی۔ سوگوار اس لیے کہ انھوں نے اپنا بیٹا کھو دیا، غصے میں اس لیے کہ انھیں حکومت نے قتل کیا۔‘

    روبینہ امینیان کا قتل

    تین حقوق گروپوں کے مطابق اس احتجاج میں روبینہ امینیان بھی ہلاک ہوئیں، جو ایک کرد طالبہ تھیں اور جمعرات کو احتجاج میں شریک تھیں جب انھیں گولی ماری گئی۔ دو گروپ — ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس اور کرد تنظیم ہنگاو نے کہا کہ انھیں سر میں گولی ماری گئی، جبکہ کردستان ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے کہا کہ انھیں پیٹھ میں گولی لگی۔ دونوں کرد گروپوں نے کہا کہ انھیں حکومتی فورسز نے نشانہ بنایا۔

    بی بی سی ان کی موت کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    ایران ہیومن رائٹس کے مطابق 23 سالہ امینیان، جس کا نام روبینہ بھی لکھا گیا ہے، تہران کے شارعیاتی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل کالج میں ٹیکسٹائل اور فیشن کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

    ان کے ماموں نے سی این این کو بتایا کہ ’وہ ایک مضبوط لڑکی تھیں، ایک بہادر لڑکی، اور وہ ایسی نہیں تھیں جنھیں تسلط میں رکھا جا سکے یا جن کے لیے فیصلے کیے جا سکیں۔ وہ ان چیزوں کے لیے لڑتی تھیں جنھیں وہ درست سمجھتی تھیں اور سختی سے لڑتی تھیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’آزادی کی پیاسی تھیں، خواتین کے حقوق کی پیاسی تھیں۔‘

    ان کے خاندان کے افراد کرمانشاہ سے تہران گئے تاکہ ان کی لاش کی شناخت کر سکیں۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ خاندان کو ان کے کالج کے قریب ایک مقام پر احتجاج میں مارے گئے نوجوانوں کی سینکڑوں لاشوں میں تلاش کرنا پڑا۔

    ان کی والدہ نے کہا کہ ’یہ صرف میری بیٹی نہیں تھی، میں نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں لاشیں دیکھیں۔‘

    ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے ابتدا میں ان کی لاش خاندان کے حوالے کرنے سے انکار کیا، پھر ان کی تدفین یا سوگ کی رسومات کو ان کے آبائی شہر میں روک دیا۔ خاندان کو مبینہ طور پر مجبور کیا گیا کہ وہ انھیں کرمانشاہ اور کامیاران کے درمیان سڑک کے کنارے دفن کریں۔

    ایرانی رہنما خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہرین کو ’فسادی‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ امریکی فوج ’بہت سخت اقدامات‘ پر غور کر رہی ہے۔

    ایران نے مظاہرین پر الزام لگایا ہے کہ انھیں امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔

    یہ مظاہرے 2022 کی بغاوت کے بعد سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں، جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ مہسا امینی ایک نوجوان کرد خاتون تھیں جنھیں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر حجاب درست نہ پہننے پر گرفتار کیا تھا۔

    اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 550 سے زیادہ افراد ہلاک اور 20,000 گرفتار کیے گئے تھے۔

  17. ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟, فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    ایران گذشتہ 17 برسوں میں کئی بار اس رستے پر چل چکا ہے۔ ہر بار وہی سوالات دوبارہ سامنے آتے ہیں، حکومت کو گرانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

    ہم کیسے جانیں گے کہ کوئی فیصلہ کن موڑ آ چکا ہے؟

    حکومت کو حقیقی طور پر شدید خطرے میں ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بڑی اور نمایاں تعداد اپنا رخ بدل کر مظاہرین کا ساتھ دے۔ ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

    ایران کے پاس دنیا کے سب سے گہرے، وسیع اور مؤثر سکیورٹی نظاموں میں سے ایک ہے۔ اس کے پاس مخبر، سن گن لینے والے، آن لائن مواد پر نظر رکھنے والے اور نیم فوجی رضاکارانہ بسیج فورس کا ایک پورا لشکر ہے، جس کا کام حکومت اور اس کی جابرانہ اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔

    اب تک اس نے ہر احتجاجی تحریک کو کچلنے میں کامیابی حاصل کی ہے، بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل اور گرفتار کر کے، کئی صورتوں میں انھیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنا کر، اور پھر انھیں زخمی اور خوفزدہ حالت میں رہا کر کے تاکہ وہ دوسروں کو خبردار کر سکیں کہ اگر پکڑے گئے تو کیا انجام ہوگا۔

    یہ خوف کے ذریعے روک تھام کی ایک پالیسی ہے۔

  18. ’خامنہ ای مردہ باد‘ تہران میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے خلاف وائرل ویڈیو کی بی بی سی نے کیسے تصدیق کی؟

    تہران کے ایک جنازے میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ ’خامنہ ای مردہ باد‘ کے نعرے والی ویڈیو سمیت بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی نے احتجاجی مظاہروں کی سینکڑوں ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے، جن میں ایک ویڈیو تہران کے ایک مردہ خانے کی ہے جہاں جنازے کے دوران لوگ احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر پوسٹ کی جانے والی اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لواحقین تابوت اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔

    اس جنازے میں شریک افراد کی شناخت کو ظاہر نہ کرنے کے لیے ویڈیو کو دھندلا کیا گیا ہے، لیکن ہم نے اس مردہ خانے کی تصدیق کی ہے۔

    گوگل پر بھی ’ریورس سرچ‘ کے بعد بھی ہمیں اتوار سے قبل ایسی کوئی ویڈیو نہیں ملی ہے۔

    عام طور پر اس تقریب میں ’لا الہ الا اللہ‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں، لیکن اس ویڈیو میں ’خامنہ ای مردہ باد‘ کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔

  19. مظاہرین کو ’فوری‘ اور ’سخت سزا‘ دینے کے لیے ایجنسیوں سے تعاون کریں: ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا خطاب

    ایران کے عدلیہ کے سربراہ نے مظاہروں میں شامل افراد کے خلاف ’فوری اور سخت‘ سزا دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتیں ’فسادیوں‘ کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتیں۔

    پیر کی صبح سینیئر عدالتی حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں غلام حسین محسنی ایجئی نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعاون کریں تاکہ مقدمات کو ’جتنا جلد ممکن ہو‘ نمٹایا جا سکے۔

    عدلیہ کے سربراہ نے ایک بار پھر مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی میں ہیں، جنھیں انھوں نے ’ان پرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے اصل محرک‘ قرار دیا۔

    یہ بیانات نو جنوری سے ایران کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی وارننگز کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جن میں ایران کے اٹارنی جنرل محمد کاظم موحدی آزاد کی غیر معمولی وارننگ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے 10 جنوری کو کہا تھا کہ ’تمام فسادی‘ محاربہ یعنی خدا کے خلاف جنگ کے الزام کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ایران کے قانون میں اس جرم کی سزا موت ہے۔

  20. ایران میں وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش