آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مدد آ رہی ہے، احتجاج جاری رکھیں‘: ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام اور امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ایرانی محبِ وطنوں، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘ امریکی صدر نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کو پیغام: ’احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے‘
  • کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
  • ایران پر مزید پابندیاں جلد عائد کی جائیں گی: یورپی یونین
  • یورپی یونین کی پابندیوں پر ایران کی جوابی اقدام کی دھمکی، جرمن چانسلر کے بیان پر سخت جواب
  • ایران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔
  • ایران سے تجارت پر اضافی ٹیرف: چین کا امریکی اقدام کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان

لائیو کوریج

  1. ایرانی حکام شاید یہ لڑائی جیت گئے ہوں، لیکن ہر بڑے چیلنج کے ساتھ ان کی طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے, بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    ایران میں مظاہرے اگرچہ نسبتاً خاموش ہو گئے ہیں، لیکن ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل شدت اب سامنے آ رہی ہے۔

    ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم دو ہزار ہے، جن میں سکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ایرانی اب بیرونِ ملک فون کالز کر سکتے ہیں، لیکن ایران کی بین الاقوامی تنہائی مزید گہری ہو گئی ہے۔

    جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ’ہم اس حکومت کے آخری دنوں اور ہفتے دیکھ رہے ہیں۔ جب کوئی حکومت صرف تشدد کے ذریعے اقتدار برقرار رکھتی ہے تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ عوام اب اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘

    تاہم سب ایسا نہیں کر رہے۔ حکومت کے حامی مظاہرین بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور ایران کے لیے اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے۔

    اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، نے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔

    فی الحال ایرانی حکام شاید یہ لڑائی جیت گئے ہوں، لیکن یہ سات برس سے کم عرصے میں ان کے اقتدار کے خلاف تیسرا بڑا چیلنج ہے۔ اور ہر بار ان کی طاقت مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

  2. ایران پر مزید پابندیاں جلد عائد کی جائیں گی: یورپی یونین

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ دار حکام پر مزید پابندیاں ’جلد‘ تجویز کرے گا۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور ’طاقت کے حد سے زیادہ استعمال اور آزادی پر مسلسل پابندیوں‘ کی مذمت کی۔

    ارسلا وان ڈر لیئن نے مزید کہا کہ اپنے نائب کاجا کالاس کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد ’مزید پابندیاں ان افراد پر جلد تجویز کی جائیں گی جو اس سرکوبی کے ذمہ دار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں جو اپنی آزادی کے لیے بہادری سے مارچ کر رہے ہیں۔‘

  3. ٹیرف کا اعلان آسان، مگر عمل درآمد مشکل, جوناتھن جوزفس، بی بی سی کے نامہ نگار برائے اقتصادی امور

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نئے ٹیرف اور پابندیوں کا اعلان کرنا آسان ہے، لیکن ان پر عمل درآمد کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    اگرچہ گذشتہ برسوں میں اسی نوعیت کی پابندیاں لگائی گئی تھیں، اندازہ ہے کہ ایران نے سال 2024 میں تیل کی برآمدات سے تقریباً 78 ارب ڈالر کمائے۔

    ایران نے یہ آمدنی اُن تیل بردار جہازوں کے ذریعے حاصل کی جنھیں ’سایہ بیڑا‘ کہا جاتا ہے اور جن کا سراغ لگانا مشکل ہے، نیز امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوان میں تیل فروخت کر کے۔

    گذشتہ سال میری گفتگو ریچارڈ نیفیو سے ہوئی تھی، جو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے اہم معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پابندیوں کو برقرار رکھنا اور ان پر عمل درآمد کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ انھیں پہلی بار نافذ کرنا، کیونکہ جس فریق پر پابندی لگتی ہے وہ انھیں ناکام بنانے کے طریقے ڈھونڈ لیتا ہے۔‘

    اسی لیے اگر صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ ٹیرف واقعی نافذ ہو جائیں تو ممکن ہے کہ کچھ ممالک ایران سے تیل خریدنے سے باز آ جائیں، لیکن یہ امکان کم ہے کہ اصل مقصد یعنی ایرانی حکومت کے مالی وسائل کو مکمل طور پر ختم کرنا حاصل ہو سکے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین حکم میں، جسے انھوں نے سوشل میڈیا پر شائع کیا، دنیا کے تمام ممالک کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے تو امریکہ کے ساتھ ان کی ہر قسم کی تجارت اور برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔

  4. جو حکومت اپنے عوام کو قتل کرے، وہ اخلاقی جواز کھو جاتی ہے: آسٹریلیا

    آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے ایران کی حکومت کو ’جابرانہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ حمایت کیا ہے۔

    پینی وانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’گذشتہ چند ہفتوں اور دنوں میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ ایک جابرانہ حکومت ہے جو اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ پرتشدد اور جابرانہ ہتکھنڈے استعمال کر رہی ہے‘

    پینی وانگ نے ایرانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اپنے عوام کا قتل عام بند کریں، بلکہ وہ حکومت جو اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کرنے پر مجبور ہو، ایسی حکومت کسی بھی طرح اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رکھتی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایرانی عوام کے خلاف حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ مظاہرین کا قتل، طاقت کا استعمال اور غیرقانونی گرفتاریاں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔‘

    آسٹریلیا کی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ فوراً ایران چھوڑ دیں۔

    ادھر آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے بھی ایرانی حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔انھوں نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم ایرانی عوام کی جدوجہد برائے عزت اور آزادی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایرانی حکومت کو مذمت کے قابل سمجھتے ہیں اور ایک ایسے جمہوری ایران کی حمایت کرتے ہیں جو انسانی حقوق کا احترام کرے۔‘

  5. ’کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے تیار ہیں‘: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اقدام کے جواب میں ایران ’ہر طرح سے تیار‘ ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں مداخلت کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی تیاری ’اس سے کہیں زیادہ ہے‘ جتنی جون 2025 میں امریکی فضائی حملوں کے وقت تھی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’دانشمندانہ راستہ اختیار کیا جائے گا۔‘

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم وائٹ ہاؤس میں ایران کے حوالے سے اجلاس کرنے والی ہے۔

    سی بی ایس کو وزارتِ دفاع کے دو اہلکاروں نے بتایا کہ ٹرمپ کو ایران میں استعمال کے لیے خفیہ اور فوجی ذرائع پر بریفنگ دی گئی ہے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملے اور سائبر آپریشنز شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کسی بھی امریکی فوجی ردعمل میں فضائی طاقت کا استعمال کا زیادہ امکان ہے، تاہم منصوبہ ساز ایرانی کمانڈ سٹرکچرز اور کمیونیکیشنز کو متاثر کرنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کے فیصلے کی وجہ ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ کا آغاز تھا۔

    الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے اس سوال کے جواب میں کہ وہ انٹرنیٹ کی بندش کو کس طرح جائز قرار دیتے ہیں، دعویٰ کیا کہ ایران میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد، کسی وقت ’غیر ملکی احکامات‘ کے ساتھ ’دہشت گردانہ کارروائیاں‘ شروع ہوئیں اور اسی لمحے سے حکومت نے انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ایران میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کا آغاز جمعرات 8 جنوری کو ہوا۔

    عباس عراقچی نے 8 جنوری کو 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کا ’13 واں دن‘ قرار دیا۔ ’دشمن نے اس جنگ میں جو کچھ حاصل نہیں کیا، وہ یہاں ایک اور طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کی اور وہ ایرانی معاشرے میں تناؤ پیدا کرکے۔‘

    8 جنوری کو جیسے ہی ایران بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور رات کے وقت بڑے ہجوم سڑکوں پر آ گئے تو ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ اور مواصلات کو مکمل طور پر بند کرنا شروع کر دیا۔

    انٹرنیٹ بند ہونے سے ایران سے مزید محدود معلومات کی ترسیل ہو رہی ہے اور اس سے انسانی حقوق کی تنظیموں میں ایران میں جبر میں شدت آنے کے امکان کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    ایران میں دو ہفتوں سے زائد احتجاج اور بدامنی کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  6. ملک گیر مظاہروں کو قریب سے دیکھنے والے جوڑے نے ایران میں کیا دیکھا؟

    ایران سے نکلنے والے ایک جوڑے نے ہمیں پچھلے کچھ دنوں کا احوال اس طرح بیان کیا ہے کہ ’دن کے وقت، موبائل کالز ممکن تھیں، لیکن شام اور رات کو صرف لینڈ لائنز کام کرتی تھیں۔ اتوار کا دن قدرے بہتر تھا، لیکن مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم 30 سال پہلے واپس آ گئے تھے، جب ہمیں پیلے صفحات سے فون نمبر لینے پڑتے تھے، جو سب مصروف تھے۔ انٹرنیٹ اس مقام پر تھا جہاں طبی خدمات بھی کام نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ نسخے اب آن لائن جاری کیے جاتے ہیں۔‘

    جوڑے نے ’ہمیں بتایا کہ روزمرہ کی زندگی درہم برہم تھی: کئی کاروبار جن میں کلینک، سٹورز، کلب اور دیگر سہولیات شامل ہیں، دوپہر کو بند کر دیے گئے تھے۔ میٹرو بھی شام کو بند تھی اور ٹریفک خوفناک تھا۔‘

    وہ جمعرات کی رات گھر جا رہے تھے۔ ’ہمیں ایسے مناظر کا سامنا کرنا پڑا جو خانہ جنگی سے مشابہت رکھتے تھے۔ لڑائی سے بچنے کے لیے ہمیں کئی بار اپنا راستہ بدلنا پڑا۔ قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، کھانا ملنا ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ کارڈ ریڈرز اور بینکنگ ایپس ابھی بھی کام کر رہی تھیں۔‘

    یہ جوڑا ایران چھوڑنے کے لیے امام خمینی ہوائی اڈے پر گیا اور انھیں ’افراتفری میں پایا۔ وہاں سینکڑوں لوگ تھے، جن میں بہت سے غیر ملکی، خاص طور پر چینی اور انڈین شہری شامل تھے، جو بڑی تعداد میں ایران سے جا رہے تھے۔ انھوں نے یورو اور غیر ملکی کرنسی 100,000 تومان فی یورو کی شرح سے حاصل کی۔

  7. یہ ہم ایرانی حکومت کے آخری دن دیکھ رہے ہیں: جرمن چانسلر

    جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے منگل کی صبح کہا ہے کہ ’ہم اب ایرانی حکومت کے آخری دنوں اور ہفتوں کو دیکھ رہے ہیں‘۔

    فریڈرک مرز نے کہا کہ ’جب کوئی حکومت صرف تشدد کے ذریعے اقتدار برقرار رکھتی ہے تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ عوام اب اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اس وقت یورپی ممالک بڑھتی ہوئی تشدد کی کارروائیوں پر ایران کے سفیروں کو طلب کر رہے ہیں۔

    ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سپین کے وزیر خارجہ نے ایران کے سفیر کو میڈرڈ میں طلب کر کے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی ’شدید مذمت‘ کی ہے۔

    فن لینڈ کی وزیر خارجہ الینا والتونن نے بھی کہا ہے کہ وہ ایران کے سفیر کو طلب کریں گی۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایرانی حکومت نے خاموشی میں قتل اور مظاہرین کی سرکوبی کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ناقابلِ برداشت ہے۔‘

  8. ایران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ

    ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بی بی سی فارسی کے نامہ نگار جیّار گل اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک ذریعے نے بتائی ہے۔

    جیّار گل کا کہنا ہے کہ وہ ’یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے‘، اور اگرچہ حکومت نے پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا ہے، ’اس بار صورتحال بالکل غیر معمولی ہے۔‘

    روئٹرز نے ایک ایرانی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً دو ہزار تک ہو سکتی ہے۔

    یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے جنیوا میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ ’رپورٹس کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے گئے ہیں۔‘

    جیریمی لارنس نے کہا کہ یہ اندازہ اقوامِ متحدہ کے اپنے زمینی ذرائع سے حاصل ہوا ہے اور ’یہ قابلِ اعتماد ذرائع ہیں۔‘

    اس سے قبل ایک انسانی حقوق گروپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں تقریباً 650 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

    ایران میں ہلاکتوں کی درست تعداد جاننا مشکل ہے کیونکہ ملک میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیاں ہیں اور گزشتہ پانچ دنوں سے انٹرنیٹ بھی بند ہے۔

  9. ’شہر ناقابل شناخت ہو چکا ہے‘ ایران سے موصول ہونے والی کالز میں سامنے آنے والی خوفناک کہانیاں, کیرولائن ہولی، بی بی سی کی نامہ نگار برائے سفارتی امور

    انٹرنیٹ کی بندش کے باعث خونریزی کی اصل شدت جاننے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن کئی دنوں بعد بیرونِ ملک اپنے عزیزوں کو فون کرنے والے ایرانی خوفناک سطح کی ہلاکتوں اور تباہی کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔

    بحیرہ کیسپین کے ساحل پر واقع شہر رشت کے ایک رہائشی نے کہا کہ شہر ’ناقابلِ شناخت‘ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ’ہر جگہ آگ سے جلی ہوئی ہے۔‘

    احتجاج کو دبانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے براہِ راست گولیاں چلانے کے ساتھ ساتھ گرفتاریوں کی لہر بھی جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہَنگاو کے مطابق ایک 26 سالہ نوجوان، جسے گذشتہ جمعرات کو گرفتار کیا گیا تھا، کو پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ افران سلطانی کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی ہے کہ انھیں کل پھانسی دی جائے گی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا مقدمہ کب چلا یا ان پر کیا الزامات عائد کیے گئے۔

    ہَنگاو کے نمائندے اویار شێخی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے کبھی کسی مقدمے کو اتنی تیزی سے آگے بڑھتے نہیں دیکھا۔ حکومت ہر حربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ عوام کو دبایا جا سکے اور خوف پھیلایا جا سکے۔‘

  10. ایرانی حکومت نے قتل اور جبر کے لیے انٹرنیٹ بند کیا: فن لینڈ کی وزیر خارجہ

    فن لینڈ کی وزیر خارجہ الینا والتونن نے کہا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ناقابلِ برداشت ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے خاموش قتل اور جبر کو انجام دے سکے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ناقابل قبول ہے۔ ہم ایرانی عوام، اس ملک کی خواتین اور مردوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    الینا والتونن نے کہا کہ وہ ایران کے سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔

    ان کے مطابق فن لینڈ یورپی یونین کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات پر غور کر رہا ہے جن سے ایران کے عوام کو ’آزادی واپس دلائی جا سکے۔‘

  11. سپین میں ایرانی سفیر کی طلبی اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر احتجاج

    سپین نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے منگل کے روز ایران کے سفیر کو میڈرڈ میں طلب کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سپین کے وزیر خارجہ نے ریڈیو کاتالونیا کو بتایا کہ ’ایرانی خواتین اور مردوں کے پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے‘ اور ’بے رحمانہ گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔‘

    ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائی کو دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر تنقید اور مذمت کا سامنا ہے۔

  12. مہنگائی سے امریکی مداخلت کی دھمکی تک، ایران میں صورتحال یہاں تک کیسے پہنچی؟

    ایران میں احتجاج دو ہفتے قبل 28 دسمبر کو شروع ہوا جب تہران میں تاجر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں ایک اور بڑی کمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

    گذشتہ سال کے دوران ریال تاریخی حد تک گر چکا ہے اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، جس کے باعث روزمرہ اشیاء جیسے خوردنی تیل اور گوشت کی قیمتیں ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

    ایرانی معیشت حکومتی بدانتظامی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ جوہری پروگرام پر لگائی گئی پابندیوں سے بھی کمزور ہوئی ہے۔

    احتجاج دیگر شہروں تک پھیل گیا اور سیاسی تبدیلی کے وسیع تر مطالبات سامنے آئے۔ امریکہ میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق مظاہرے ایران کے تمام صوبوں میں کم از کم 186 شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے ہیں۔

    انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اب تک سینکڑوں مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے باعث زیادہ تر ایرانی بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں کر پا رہے، لاکھوں افراد انٹرنیٹ سے کٹ گئے ہیں، جس سے معلومات کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔

    حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دی ہے۔

    پیر کو انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’انتہائی سخت اقدامات‘ پر غور کر رہا ہے، اور راتوں رات انھوں نے ان ممالک سے آنے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔

    ان کی قومی سلامتی کی ٹیم بعد میں مداخلت کے ممکنہ اقدامات پر غور کے لیے ملاقات کرے گی، اور بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ کو پہلے ہی فوجی اور خفیہ ذرائع سے متعلق مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔

  13. ’ایران میں زیادہ تر ہسپتال میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہے ہیں‘

    ایران سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شہرام کرداستی، جو گذشتہ دو دہائیوں سے لندن میں بطور کینسر کے ماہر ڈاکٹر کام کر رہے ہیں نے کہا ہے کہ ایران میں موجود اپنے ساتھی ڈاکٹروں سے رابطے کے ذریعے انھیں سنگین صورتحال کی اطلاعات ملی ہیں۔

    ڈاکٹر شہرام کے مطابق ماضی میں بدامنی کے دوران معلومات حاصل کرنا نسبتاً آسان رہا ہے، لیکن اس بار تمام ذرائع ابلاغ بند کر دیے گئے ہیں، حتیٰ کہ سٹارلنک بھی جو چند روز پہلے تک کام کر رہا تھا۔

    انھوں نے بی بی سی نیوز ڈے کو بتایا کہ تہران میں موجود ایک ساتھی نے انھیں آخری پیغام میں کہا کہ ’زیادہ تر ہسپتالوں کا حال جنگی میدان جیسا ہے۔ ہم سامان کی کمی کا شکار ہیں، خون کی شدید قلت ہے۔‘

    ڈاکٹر شہرام نے کہا کہ اگرچہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن ’دو سے تین ہسپتالوں‘ کے ڈاکٹرز نے انھیں بتایا ہے کہ انھوں نے سینکڑوں افراد کا علاج کیا ہے۔

    ان کے مطابق زیادہ تر اعداد و شمار تہران یا بڑے شہروں سے آ رہے ہیں، لیکن چھوٹے شہروں میں کیا ہو رہا ہے، اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    بی بی سی کو حالیہ دنوں میں ایران کے کئی ہسپتالوں کے عملے نے بتایا ہے کہ ان کے مراکز اب بھر چکے ہیں۔

    تہران کے ایک ہسپتال کے طبی عملے نے کہا کہ ’نوجوانوں کے سروں اور دلوں پر براہِ راست گولیاں ماری گئیں‘ جبکہ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ دارالحکومت کے ایک آنکھوں کا ایک ہسپتال بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔

  14. ٹرمپ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے پرامن احتجاج کو خونریزی میں بدل دیا: ایران

    ایران نے ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ملک میں پرامن احتجاج کو تشدد کی طرف دھکیل دیا ہے۔

    حکومتی ترجمان فاطمہ مهاجرانی نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے عوامی پرامن مظاہروں کو خون میں نہلا دیا۔‘

    گذشتہ روز ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی‌ نے بھی ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے مسلح افراد جنھیں اسرائیل اور امریکہ کی کھلی حمایت حاصل تھی تشدد میں ملوث پائے گئے۔‘ انھوں نے خبردار کیا کہ ان کے ساتھ ’بغیر کسی رعایت‘ کے سختی سے نمٹا جائے گا۔

  15. ایران سے تجارت پر اضافی ٹیرف: چین کا امریکی اقدام کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان

    چین نے کہا ہے کہ وہ ’اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘۔ یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی صدر نے پیر کو اعلان کیا کہ یہ ٹیرف ’فوری طور پر نافذ العمل‘ ہوگا۔ یہ اقدام ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اس وقت ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار چین ہے۔

    واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹیرف کے اندھا دھند نفاذ کے خلاف چین کا مؤقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’ٹیرف جنگیں اور تجارتی جنگیں کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتیں۔ دباؤ اور جبر مسائل کا حل نہیں۔ تحفظ پسندی تمام فریقوں کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘

  16. آپریشن سندور کے بعد دہشتگردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی: انڈین آرمی چیف

    انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے بعد دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے جموں و کشمیر میں اپنی موجودگی کو کم کر دیا یا وہاں سے کوئی فوجی واپس بلا لیے ہیں بلکہ ہم نے اتنا ہی دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔‘

    انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے مزید کہا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق مغربی جانب کے کیمپوں میں آٹھ کیمپ ابھی بھی وہاں فعال ہیں، ایسا لگتا ہے کہ تقریباً 100 سے 150 لوگ ابھی بھی وہاں موجود ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان ان لوگوں کی حمایت کر رہا ہے جو بنیاد پرستی کو فروغ دیتے ہیں اور لوگوں کو یہاں آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘

    انڈین فوج کے سربراہ جنرل نے مزید کہا کہ ’لائن آف کنٹرول پر ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں کیونکہ آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔‘

  17. مشہد کی سڑکوں پر جاری احتجاج کے مناظر

    ایران کے شمال مشرقی اہم شہر مشہد سے سامنے آنے والی اس ویڈیو میں مظاہرین اور سکیوری فورسز کے درمیان جھڑپیں کسی حد تک دیکھی جا سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ مشہد نہ صرف ایران کا دوسرا بڑا شہر ہے بلکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    یہ شہر ایران کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور افغانستان و ترکمانستان کی سرحد کے قریب ہے۔

  18. ایران میں انٹرنیٹ اور فون کی بندش: ’ہمیں یا تو حکومت مخالف مظاہروں سے دور رہنے یا پھر حق میں ہونے والے احتجاج کی دعوت کے پیغامات مل رہے ہیں‘, غونچہ حبیبازاد بی بی سی فارسی

    ایران کے اندر انٹرنیٹ کی رسائی سرکاری طور پر بند ہونے کی وجہ سے مظاہرین کے درمیان رابطہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ان افراد سے رابطہ قائم کیا ہے جنھوں نے عارضی طور پر سٹارلنک اور دیگر طریقوں سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر ایک دوسرے کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجنا انتہائی مشکل ہے اور بعض کو صرف ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں یا تو انھیں حکومت کے حامی مظاہروں میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے یا پھر حکومت مخالف احتجاج میں شامل نہ ہونے کی وارننگ دی گئی ہے۔

    ایک فرد نے بتایا کہ ’فی الحال رابطے کے زیادہ طریقے موجود نہیں ہیں۔ ہمارے پاس ایک گروپ تھا جہاں ہم مل کر منصوبہ بندی کرتے تھے لیکن اب کچھ بھی واضح نہیں ہے۔‘

    ادھر، جن لوگوں سے بی بی سی فارسی نے بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر فون کالز بھی بعض اوقات بند کر دی جاتی ہیں۔

    ایک فرد نہ کہا کہ ’صورتحال ایسی ہے کہ ہمیں خود بھی کُچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو ہم اپنے قریب رہنے والے لوگوں سے سنتے ہیں۔‘

    بی بی سی فارسی سے بات کرنے والوں نے یہ بھی بتایا کہ مظاہرین رات کے وقت اپنے گھروں کے اندر سے نعرے لگاتے ہیں اور حکومتی کارروائیوں سے بچنے کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے۔

  19. ایران میں انٹرنیٹ 108 گھنٹے سے بند: نیٹ بلاکس

    انٹرنیٹ مانیٹر کرنے والی کمپنی نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش 108 گھنٹے سے تجاوز کر گئی ہے۔

    نیٹ بلاکس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’ایران میں انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں اور بندش کو 108 گھنٹے گزر چکے ہیں، جس نے ایرانی شہریوں کو دنیا اور ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔‘

    انٹرنیٹ کی طویل بندش نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ جب کی جانب سے اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انتظامیہ کے اس اقدام کے پسِ پردہ ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکام مظاہروں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ بند کر کے ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جاری بین الاقوامی جرائم کے حقیقی پیمانے کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  20. امریکہ کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں اضافہ آرہا ہے اور یہ پرتشدد شکل اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور تشدد کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات، سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ اور انٹرنیٹ کی بندش جاری ہے۔‘

    ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت نے موبائل، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر دی ہے جبکہ کئی ایئرلائنز نے ایران آنے اور جانے والی پروازوں کو معطل یا محدود کر دیا ہے۔ بعض ایئرلائنز نے اپنی سروس جمعہ 16 جنوری تک روک دی ہے۔‘

    بیان میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ’وہ رابطے کے متبادل ذرائع تلاش کریں اور اگر محفوظ ہو تو آرمینیا یا ترکی کے راستے زمینی طور پر ایران چھوڑنے پر غور کریں۔‘

    ایران میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ’اگر ملک چھوڑنا ممکن نہ ہو تو کسی محفوظ مقام پر رہیں، کھانے پینے کی اشیاء، پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان ذخیرہ کریں، مظاہروں سے دور رہیں اور اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں۔‘

    امریکہ کی ایران میں کوئی براہِ راست سفارتی موجودگی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ امریکہ کے لیے ’پروٹیکٹنگ پاور‘ کے طور پر کام کرتا ہے اور امریکی وزارتِ خارجہ ایران میں ورچوئل ایمبیسی کے ذریعے معلومات فراہم کرتا ہے۔