ایرانی حکام شاید یہ لڑائی جیت گئے ہوں، لیکن ہر بڑے چیلنج کے ساتھ ان کی طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے, بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ
ایران میں مظاہرے اگرچہ نسبتاً خاموش ہو گئے ہیں، لیکن ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل شدت اب سامنے آ رہی ہے۔
ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم دو ہزار ہے، جن میں سکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایرانی اب بیرونِ ملک فون کالز کر سکتے ہیں، لیکن ایران کی بین الاقوامی تنہائی مزید گہری ہو گئی ہے۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ’ہم اس حکومت کے آخری دنوں اور ہفتے دیکھ رہے ہیں۔ جب کوئی حکومت صرف تشدد کے ذریعے اقتدار برقرار رکھتی ہے تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ عوام اب اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘
تاہم سب ایسا نہیں کر رہے۔ حکومت کے حامی مظاہرین بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور ایران کے لیے اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، نے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔
فی الحال ایرانی حکام شاید یہ لڑائی جیت گئے ہوں، لیکن یہ سات برس سے کم عرصے میں ان کے اقتدار کے خلاف تیسرا بڑا چیلنج ہے۔ اور ہر بار ان کی طاقت مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔