انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج، کوئٹہ سے تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے 200 کارکن گرفتار

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے متعدد شہروں میں اتوار کے روز شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کی جانب سے آج ملک بھر میں یوم سیاہ، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا
  • وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے کے ماسٹر مائند کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے
  • انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے

لائیو کوریج

  1. انڈیا کی اسلام آباد خودکش حملے کی مذمت اور دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام کی پُر زور تردید

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنانڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق پاکستان اپنی اندرونی خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں بم دھماکہ قابل مذمت ہے اور انڈیا اس سے ہونے والی ہلاکتوں پر رنج اور دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اپنے سماجی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اپنی اندرونی خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’انڈیا ایسے تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حملے کے پیچھے انڈیا اور افغانستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

    خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ ثابت ہو گیا ہے کہ حملہ آور نے افغانستان کا دورہ کیا تھا، اور انڈیا اور افغانستان کی ملی بھگت سامنے آ رہی ہے۔‘

    دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی پاکستان میں ہونے والے دھماکے کا مذمتی پیغام جاری کیا ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایکش پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان حکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نمازی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘

  2. مسقط میں اچھی بات چیت ہوئی، لگتا ہے کہ ایران شدت سے معاہدے کا خواہاں ہے: صدر ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات ’بہت اچھے‘ رہے اور ایران ’بہت شدت سے معاہدہ چاہتا ہے‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ’نتائج بہت سخت ہوں گے۔‘

    جمعے کو عمان میں شروع ہونے والے مذاکرات گذشتہ جون کے بعد پہلی مرتبہ ہیں جب امریکہ نے ایران کی تین بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

    ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔

    عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسیدی، جو ان مذاکرات کے ثالث تھے، نے کہا کہ بات چیت ’مفید رہی اور فریقین کی سوچ کو واضح کرنے میں مدد ملی‘۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مذاکرات ’اچھا آغاز‘ ہیں اور ’مثبت ماحول‘ میں ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ وفود اب مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومت واپس جا رہے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ممکنہ تصادم کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’بہت فکر مند ہونا چاہیے‘۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو وہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

    ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور وہ بارہا امریکی اور اتحادیوں کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

    امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی ہے، جسے ٹرمپ نے ’ایک بڑی بحری بیڑہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ اقدام ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن کے بعد کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، تاہم انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث درست اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکے۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی صدارتی طیارے میں سفر کے دوران صحافیوں کو مزید بتایا کہ ’ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ کیا ہے، لیکن میرے خیال میں ایران ڈیل حاصل کرنے کا بہت خواہشمند ہے، جیسا کہ انھیں ہونا چاہیے۔ پچھلی بار انھوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ کیا ہے، اور یہ یقینی طور پر پچھلی بار سے مختلف ہوگا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک بڑا بحری بیڑا ہے، ایک بہت بڑی بحریہ جو اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور جلد ہی وہاں موجود ہو گی۔ لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ معاملات کیسے چلتے ہیں۔‘

    ایک رپورٹر کے پوچھے جانے پر کہ ٹرمپ کتنا انتظار کریں گے، انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ اگر آپ کو وینزویلا یاد ہے تو ہم نے کچھ دیر انتظار کیا اور ہمیں کوئی جلدی نہیں تھی۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اگلے ہفتے کے اوائل میں دوبارہ ملیں گے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، آپ ڈیل نہ کرنے کے نتائج جانتے ہیں، نتائج واضح ہیں، اس لیے ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ یہ ملاقات ایک بہت ہی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے ساتھ تھی اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

    امریکی صدر نے معاہدے کی شرائط کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ’پہلے تو جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ہم دو سال پہلے اس طرح کے معاہدے پر پہنچ سکتے تو شاید یہ معاہدہ ہو چکا ہوتا، لیکن وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اب وہ رضامند ہیں اور یہاں تک کہ ڈیڑھ سال پہلے بھی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تاہم، یہ واضح رہے کہ ہم بالکل ایک سال سے اس پر عمل پیرا ہیں اور ہم نے اس صدارتی مدت کے آغاز کے چند ماہ بعد ہی اس رستے کا انتخاب کیا۔‘

    ٹرمپ کا ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر محصولات کا عندیہ

    عباس عراقچی اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنجمعے کو عمان میں شروع ہونے والے مذاکرات گذشتہ جون کے بعد پہلی مرتبہ ہیں جب امریکہ نے ایران کی تین بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان ممالک پر اضافی محصولات عائد کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں۔

    اس آرڈر میں شرحِ محصول واضح نہیں کی گئی، تاہم 25 فیصد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ محصولات ان تمام درآمدی اشیا پر لاگو ہوں گے جو ایسے ممالک سے امریکہ آتی ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے سامان یا خدمات خریدتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اس آرڈر پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار نہیں‘۔

    یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب عمان میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات کئی ہفتوں کی کشیدگی کے بعد ہو رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے۔ اس وقت اس فیصلے کی عملی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق تازہ ترین ایگزیکٹو آرڈر ایران کے حوالے سے جاری ’قومی ہنگامی صورتحال‘ کی تصدیق کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ایران کو اس کے ایٹمی پروگرام، دہشت گردی کی حمایت، میزائل کی تیاری اور خطے میں عدم استحکام کے لیے جوابدہ ٹھہرا رہے ہیں۔

    ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  3. نوشہرہ: اسلام آباد خودکش حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے دوران جھڑپ، اے ایس آئی اور شدت پسند ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    اسلام آباد میں واقع امام بارگاہ پر خود کش حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں اب تک کم از کم چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے

    اسلام آباد میں واقع امام بارگاہ پر خود کش حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں چھاپے کے دوران مسلح افراد سے جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایک پولیس اے ایس آئی اور مسلح شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    یہ کارروائی ضلع نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں کی گئی ہے جو نوشہرہ چھاونی کے قریب واقع ہے۔ یہ آپریشن رات 9 بجے شروع کیا گیا تھا جو لگ بھگ چار گھنٹوں تک جاری رہا۔

    نوشہرہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انھیں انٹیلیجنس کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس علاقے میں اسلام آباد امام بارگاہ پر حملے میں ملوث افراد کے سہولت کار موجود ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ حکیم آباد کے علاقے میں ایک چھوٹے چار سے پانچ مرلے کے دو منزلہ مکان پر چھاپا مارا گیا ہے۔ یہ مکان حکیم آباد میں ڈیرہ کٹی خیل محلے میں واقع ہے اور یہ بنیادی طور پر شدت پسندوں کو ٹھکانہ تھا۔

    مکان پر دستک اور اندر سے فائرنگ

    انھوں نے بتایا کہ جیسے ہی مکان پر جب دستک دی تو اندر سے فائرنگ کی گئی جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔

    اس کارروائی میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی موت ہو گئی جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق جھڑپ میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا اور تین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی شناخت اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔

    ادھر پشاور سے بھی اسلام آباد امام بارگاہ پر حملے میں ملوث افراد کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔

  4. اسلام آباد خودکش حملہ، ہم اب تک کیا جانتے ہیں

    اسلام آباد خودکش دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں جمعے کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا، پولیس حکام کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔
    • اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اموات کی تعداد 32 ہو گئی ہے جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔
    • وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
    • امام بارگاہ سے متصل گھر کے رہائشی اور خود کو امام بارگاہ کا منتظم بتانے والے سید اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ جب فائر ہوا تو میں گھر سے بھاگا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بارگاہ میں کچھ ہوا ہے۔ امام بارگاہ کے باہر موجود گارڈز نے بتایا کہ تین حملہ آور تھے۔ گارڈز بھی زخمی ہیں، ایک کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔‘
    • اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں اب تک کم از کم چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
    اسلام آباد خودکش دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فارنزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔
    • افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسلام آباد میں امام بارگاہ میں دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔
    • ایران سمیت دیگر ممالک نے بھی اسلام آباد کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے۔
    • وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے موصول ہونے والے پیغامات پر دوست ممالک اور عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
    دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران، افغانستان سمیت دیگر ممالک نے بھی اسلام آباد کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے
    اسلام آباد میں ہونے والا خودکش دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مریم نواز نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر انھوں نے لکھا کہ ’اسلام آباد کے سانحے کے پیشِ نظر میں نے کل کے لیے طے شدہ تمام بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔‘
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز پہلے سیشن کے وقفے سے پہلے بھی مندی کا رجحان تک تھا تاہم دوسرے سیشن میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد مارکیٹ میں حصص کی فروخت زیادہ نظر آئی جو مارکیٹ تجزیہ کاروں کے بعد دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تھی۔
  5. اسلام آباد خودکش حملے میں 31 ہلاکتیں، حملے میں معاونت کے الزام میں چار افراد گرفتار: پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں اب تک کم از کم چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں کا حملہ آور کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ حراست میں لیے جانے والے والےچاروں افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو گئے ہیں۔

    پمز ہسپتال میں جو ڈیڈ باڈیز لائی گئیں ان میں کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنخودکش دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے جن میں کمسن بچے بھی شامل ہیں

    پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حملے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔

    ان کے مطابق ’یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فرانزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔‘

    اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق اس واقعے سے متعلق سہولتکاروں اور معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گیں ہیں اور اس ضمن میں خیبر پختونخوا کی پولیس بھی تعاون کر رہی ہے۔

    حکام کے مطابق خصوصی ٹیموں میں کاؤنٹر ٹیررازم کے افسران شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ’حملہ آور کے موجودہ اور سابقہ ٹھکانوں سے متعلق اطلاعات پر کام جاری ہے۔ قومی شناختی کارڈ پر موجود ایڈریس والے گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں پولیس حکام کے مطابق ان چھاپوں میں مذید کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔‘

    اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کے بعد پشاوراور نوشہرہ کے کچھ مقامات پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی ہیں تاہم بی بی سی آذادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔

  6. اسلام آباد دھماکہ کے بعد عالمی رہنماؤں کے پیغامات پر شکریہ ادا کرتے ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے موصول ہونے والے پیغامات پر دوست ممالک اور عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں ’اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس گھنائونے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’اسلام آباد میں دل دہلا دینے والے خودکش حملے کے بعد دنیا بھر سے ہمیں ہمدردی اور یکجہتی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں، ہم اُن کے لیے شکر گزار ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششوں میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں کی حمایت اور تعاون ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس نازک گھڑی میں بہادر پاکستانی قوم متحد رہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح مضبوطی سے قائم رہیں۔‘

  7. افغانستان کی اسلام آباد میں امام بارگاہ میں خودکش حملے کی مذمت

    افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسلام آباد میں امام بارگاہ میں دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغانستان میں طالبان حکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نمازی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘

    انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’افغانستان ایسے حملے مقدس عبادات اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور نمازیوں و بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ جمعے کے روز اسلام آباد کے قریبی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں 31 افراد ہلاک جبکہ 169 زخمی ہوئے۔

  8. خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں لیکن اُس کے افغانستان سفر کرنے کی تفصیلات ملی ہیں: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فارنزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد خودکش حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں 31 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ 12 منٹ میں ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچنا شروع ہو گئی تھیں اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی تھی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں مذہب اور لسانیت کی بنا پر آسان اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    طلال چوہدری کے بقول بوکھلاہٹ کا شکار دہشت گرد مساجد، امام بارگاہوں اور بازاروں جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اُن کے بقول بلوچستان میں دہشت گردوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو سرپرائز دینے کی کوشش کی، لیکن اُلٹا اُنھیں بھاری جانی نقصان ہوا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جو کچھ مئی میں انڈیا کے ساتھ ہوا، اس کی ’پراکسیز‘ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔

  9. امریکہ اور ایران کے درمیان عمان میں ہونے والے مذاکرات ’ایک اچھا آغاز ہے‘: ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سینئر امریکی اور ایرانی حکام نے عمان میں بات چیت کی ہے ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    مسقط میں ہونے والی اس بالواسطہ ملاقات سے متعلق ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے اسے ’ایک اچھا آغاز‘ قرار دیا۔

    امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے کچلنے کے بعد کیا گیا، جس میں انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

    ایران نے پہلے کہا تھا کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود ہوگی، جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام روک دے گا اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے معاملات بھی شامل ہوں۔

    اس سے قبل عمان نے کہا تھا کہ اس کے وزیرِ خارجہ نے عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد و ایلچی جیرڈ کشنر کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ عمان کے مطابق ’یہ مشاورتیں سفارتی اور تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مناسب حالات تیار کرنے پر مرکوز تھیں۔‘

    حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران معاہدہ نہ کرے تو اسے بمباری کا نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم ایران کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں اور اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔

  10. اسلام آباد دھماکہ: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا لاہور لبرٹی سکوائر میں ہونے والا بسنت شو منسوخ کرنے کا اعلان

    @MaryamNSharif

    ،تصویر کا ذریعہ@MaryamNSharif

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر انھوں نے لکھا کہ ’اسلام آباد کے سانحے کے پیشِ نظر میں نے کل کے لیے طے شدہ تمام بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔‘

    انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’لاہور کے لبرٹی سکوائر میں ہونے والا بڑا بسنت شو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔‘

    مریم نواز نے ایکس پر اپنے پیغام کے آخر پر لکھا کہ ’یہ نہایت ضروری ہے کہ قوم شدت پسندوں اور ان کے ’ہمدردوں‘ کے خلاف متحد رہے، انھیں کسی قسم کی رعایت نہ دے اور ملک کے دفاع میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔‘

  11. ایران کی اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی مذمت

    تصویر

    ایران نے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے۔

    اسلام آباد میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خوفناک حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں جس میں دسیوں بے گناہ شہری جان کی بازی ہار گئے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی حکومت اور عوام بالخصوص سوگوار خاندانوں سے اپنی مخلصانہ اور گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے خیالات اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے اور ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں اب تک 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو چکے ہیں۔

  12. اسلام آباد میں خودکش دھماکہ: پاکستان سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس میں 4200 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس 4200 پوائنٹس کی کمی کے بعد 183600 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز پہلے سیشن کے وقفے سے پہلے بھی مندی کا رجحان تک تھا تاہم دوسرے سیشن میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد مارکیٹ میں حصص کی فروخت زیادہ نظر آئی جو مارکیٹ تجزیہ کاروں کے بعد دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تھی۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ کے پہلے سیشن میں بھی کاروبار دباؤ کا شکار تھا جس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ آج مارکیٹ میں کاروبار کا آخری روز تھا اور اب دو دن بعد کاروبارہ دوبارہ ہو گا۔

    اُن کے بقول ایران اور امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کسی منفی پیش رفت سے پہلے سرمایہ کار حصص کی فروخت کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط کر رہے تھے۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ وقفے کے بعد جب کاروبار کا آغاز ہوا تو اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت زیادہ دیکھنے میں آئی جو ’پینک سیلنگ‘ یعنی گھبراہٹ میں کی جانی والی فروخت ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ انڈیکس میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔

  13. ’جب فائرنگ کی آواز آئی تو اندازہ ہو گیا کہ امام بارگاہ میں کچھ ہوا ہے،‘ اسلام آباد دھماکے کے عینی شاہد نے کیا دیکھا؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعے کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو گئے ہیں۔

    امام بارگاہ سے متصل گھر کے رہائشی اور خود کو امام بارگاہ کا منتظم بتانے والے سید اشفاق نے بی بی سی کے عثمان زاہد سے گفتگو میں دھماکے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’جب فائر ہوا تو میں گھر سے بھاگا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بارگاہ میں کچھ ہوا ہے۔ امام بارگاہ کے باہر موجود گارڈز نے بتایا کہ تین حملہ آور تھے۔ گارڈز بھی زخمی ہیں، ایک کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔‘

    سید اشفاق کا مزید کہنا تھا کہ ’دھماکے کے بعد ہر طرف زخمی موجود تھے، کسی کا بازو نہیں تھا تو کسی کی ٹانگ نہیں تھی۔ ہم نے شدید زخمیوں کو اپنی گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کیا، ایمبولینسیز ایک گھنٹے بعد پہنچیں۔‘

  14. اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی، 169 افراد زخمی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اموات کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ترجمان اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد 169 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنھیں اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    دھماکے کے فوری بعد اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد کے پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کریں۔

  15. وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت، واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

    اپنے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

  16. اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکے سے کم از کم 15 افراد ہلاک، 80 سے زائد زخمی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک مختلف ہسپتالوں میں 15 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

  17. اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کا بھِی خدشہ ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ دھماکہ امام بارگاہ کے صحن میں ہوا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    ترلائی میں یہ دھماکہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبری میں ہوا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچ گئے ہیں، جہاں اُنھوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔

    اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

  18. بریکنگ, ایران اور امریکہ کے درمیان مسقط میں مذاکرات شروع

    بی بی سی فارسی نے خبر دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

    ان مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکہ کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں۔

  19. سری لنکا کی پی سی بی سے انڈیا کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل

    پاکستان اور سری لنکا کرکٹ ٹیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سری لنکا نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

    اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی سنہالہ نے بتایا ہے کہ سری لنکا نے پی سی بی کو باقاعدہ خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ وہ بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا پر اس خبر کے حوالے سے باتیں گردش کر رہی ہیں کہ سری لنکا کرکٹ نے پی سی بی کو خط میں ممکنہ مالی نقصانات کی نشاندہی کی ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول اس ہائی پروفائل میچ کی منسوخی سے سری لنکا کرکٹ کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور متوقع سیاحتی آمدن میں کمی بھی ہو گی۔

  20. خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں 24 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    سکیورٹی اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر اور ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’چار اور پانچ فروری کو خیبرپختونخوا میں دو الگ الگ جھڑپوں میں انڈین حمایت یافتہ 24 شدت پسند مارے گئے۔‘

    بیان کے مطابق ’ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس دوران شدت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں دیگر شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے۔انسداد دہشت گردی مہم کے تحت شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔