مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر ایجنڈا این آر او یا کسی کی سزائیں معافی نہیں ہوگا: وزیر مملکت برائے داخلہ
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر ایجنڈا این آر او یا کسی کی سزائیں معافی نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو اڈیالہ سے نکالنے اور عدالتوں سے متعلق بات نہیں ہو سکتی۔
خلاصہ
باجوڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری برائے امورِ علما مولانا خانزیب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے دو طرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا بلاک پولیٹکس کو فروغ دینے کی بے بنیاد کوشش ہے
مُلک میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق 26 جون سے نو جولائی تک مُلک بھر میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے 87 افراد ہلاک جبکہ 149 زخمی ہوئے ہیں
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں ایک تازہ ترین روسی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈین صحافی کرن تھاپر کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کے خلاف انڈیا سے تعاون کے لیے تیار ہے اور انڈیا کو بھی بی ایل اے اور مجید گروپ کے خلاف پاکستان سے تعاون کرنا ہو گا
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا اتحاد انڈیا کے استحکام اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے
لائیو کوریج
تربت میں دستی بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں دستی بم کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
تربت پولیس کے ایک اہلکار ظفر علی نے بتایا کہ یہ واقعہ تربت شہر کے نواحی علاقے آبسر میں پیش آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں ایک گھر پر دستی بم سے حملہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ دستی بم گھر کے احاطے میں زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے باعث ایک ہی خاندان کی تین خواتین اور دو بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں تین ہزار روپے فی تولہ کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت میں تین ہزار روپے فی تولہ کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی فی تولہ قیمت 351500 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں 2,572 روپے کی کمی آئی، جس کے بعد نئی قیمت 3,01,354 روپے ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 33 ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 3,292 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔
واضح رہے کہ موجودہ ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں 2500 روپے فی تولہ کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز سونے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہوا تھا اور اس کی قیمت میں 1500 روپے فی تولہ کا اضافہ ریکارڈ کی گیا تھا
پاکستان پہلگام حملے کی ذمہ داری لینے والے گروہ کے خلاف تعاون پر تیار، انڈیا بی ایل اے کے حوالے سے کارروائی کرے: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہThe Wire
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انڈین صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروپ کے خلاف انڈیا سے تعاون کے لیے تیار ہے اور انڈیا کو بھی بی ایل اے اور مجید گروپ کے خلاف پاکستان سے تعاون کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کو جامع مذاکرات کے ذریعے دہشتگردی کے خطرے پر بھی کھل کر بات کرنی چاہیے اور دونوں ملکوں کے لیے اس مشترکہ چینلج سے نکلنے کا رستہ تعاون ہی ہے۔
دی وائر پر 46 منٹ سے زائد نشر ہونے والے اس انٹرویو میں کرن تھاپر بلاول بھٹو سے بار بار لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی سے متعلق سوال کرتے رہے۔ اس انٹرویو میں تکرار بھی ہوتی رہی مگر بلاول کرن تھاپر کو ’یار‘ اور’ بھائی‘ کہہ کر مخاطب کرتے رہے اور یہ کہا کہ ان کا پورا جواب سن لیں یا پھر وہ خود ہی بتا دیں کہ انھیں کیا جواب دینا چاہیے۔ بلاول نے کرن تھاپر کو یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ پر کتنا دباؤ ہے اور اپنے شو میں ایک پاکستانی کو مہمان کے طور پر مدعو کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو نے دونوں ممالک کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو مخاطب کیا کہ اب دونوں ممالک آگے بڑھیں اور دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں اور نہ یہ سارے لوگ دہشتگرد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کہا کہ وہ پہلگام حملے کے لواحقین کا دکھ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ وہ خود دہشتگردی سے متاثرہ ہیں۔
اس کے بعد بلاول بھٹو نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تاریخی پس منظر پر بات کی اور بتایا کہ کیسے ان گروہوں کے تانے بانے افغان جہاد سے جڑتے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ وہ خود دہشتگردی سے متاثرہ ہیں اور ان کی ماں بینظیر بھٹو نے بھی اس جنگ میں اپنی جان دی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں۔ ہم اس برائی کے ڈسے ہوئے ہیں اور اس جنگ میں ہم نے 92000 جانوں کی قربانی دی ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ گذشتہ برس 200 دہشتگردی کے حملوں میں ہم نے 1200 سے زیادہ افراد اس جنگ میں کھوئے ہیں۔
ان کے مطابق رواں برس جتنے حملے ہوئے ہیں اور لوگ مارے گئے ہیں اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہ پاکستان کا خونی ترین سال ہوگا۔
کرن تھاپر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دنیا ٹی وی اور انڈیا ٹو ڈے کو دیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیا کہ آئی ایس آئی نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو کشمیر میں لڑنے کے لیے تربیت دی اور حافظ سعید اور ذکی الرحمان لکھوی ہمارے ہیروز تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھ کہ جب تک انڈیا مسئلہ کشمیر کا تصفیہ نہیں کرتا تو ایسے حملے جاری رہیں گے۔
بلاول بھٹو نے مشرف کو ڈکٹیٹر کہہ کر پکارا اور پھر یہ بھی کہا کہ 9/11 سے قبل یہ گروپس فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان جہاد اور سرد جنگ کے دوران میری ماں اور میری جماعت کی پالیسی یہ کبھی نہیں رہی۔‘
بلاول بھٹو نے کرن تھاپر کو اس انٹرویو میں متعدد بار بتایا کہ ہم ماضی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے انڈیا کو آگے بڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ماضی ہے، پاکستان ایک عمل سے گزرا ہے اور انڈیا اس عمل کو نظر انداز کر رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان افغان جنگ کے بعد بطور معاشرہ اور ریاست تبدیل ہوا ہے اور افغانستان کے بعد ایسے گروہوں کا نشانہ بھی بنا ہے جو القاعدہ اور دوسرے گروہوں میں تقسیم ہوئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کسی اور ملک اور اپنے ملک میں دہشتگردی کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا اور دہشتگردی کے اس ناسور سے نبرد آزما ہے۔
کرن تھاپر نے کہا کہ آپ نے ابھی تک انڈیا پر حملے بند نہیں کیے ہیں اور پہلگام کے بعد پاکستان نے دنیا کو یہ بتایا کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہے جبکہ ’دی رزسٹینس فرنٹ‘ نامی گروہ نے 45 منٹ میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ کرن تھاپر نے اس کے بعد کہا کہ انڈیا نے تین بار اس گروپ کو اقوام متحدہ کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں درج کرانے کی کوشش کی جسے چین نے پاکستان کی ایما پر بلاک کر دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم اس گروپ کے خلاف ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘ اس کے بعد بلاول نے کہا کہ جب بھی پاکستان نے بی ایل اے اور مجید گروپ کو اقوام متحدہ کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں ڈالنے کی کوشش کی تو انڈیا کی طرف سے اس کی مخالفت سامنے آئی۔
بلاول بھٹو نے یہاں ایک بار پھر کرن تھاپر کی اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ ’ہم ماضی سے متعلق ہی بات کر رہے ہیں کیا ہم حال پر بھی بات کر سکتے ہیں۔‘
اس کے بعد بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان کے اندر دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں کیونکہ ایسے متعدد گروپس پاکستان میں متحرک ہیں۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میری ماں کی شہادت کے بعد میرے والد کی حکومت نے ان گروہوں کے خلاف جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کیے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے اس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، فیٹف کے تحت اقدامات اٹھائے جسے عالمی برادری نے تسلیم بھی کیا۔ انھوں نے کرن تھاپر کو بتایا کہ یہ بہت ہی کڑی نگرانی والا عمل تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کرن تھاپر نے کہا کہ مریدکے پر انڈین حملے کے بعد وہاں مرنے والوں کا نماز جنازہ مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ اور الفلاح انسانیت کے سربراہ حافظ عبدالرؤف نے پڑھائی ہے۔ کرن تھاپر نے کہا کہ اس جنازے میں لاہور کے کور کمانڈر، ایک میجر جنرل اور متعدد جونیئر فوجی افسران شامل تھے۔
بلاول بھٹو نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ اس شخص کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ تاہم بلاول نے پہلگام حملے پر بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاتھ صاف تھے تو ہم نے تحقیقات کا کہا جبکہ انڈیا نے عالمی سطح پر آزاد تحقیقات کی پیشکش کو ماننے سے ہی انکار کر دیا۔
بلاول نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، انڈیا کو الزامات کے بجائے ثبوت پیش کرنے چاہیں۔ ان کے مطابق اس حملے کے بعد انڈین میڈیا پر جعلی اور گمراہ کن خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
بلاول بھٹو نے کرن تھاپر کو ممبئی حملوں سے متعلق بتایا کہ انڈیا نہ گواہ پیش کر رہا ہے اور نہ ثبوت دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا یہ مقدمہ ابھی زیر التوا ہے اور پاکستان ان حملوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آج بھی پرعزم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔ پاکستان نے دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے پر 2645 سے زائد مقدمات درج کیے اور ان میں سے ابھی تک 549 افراد کو سزا بھی ہو چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حافظ سعید کو بھی 31 برس کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے انسداد دہشتگردی کے قوانین کے تحت 2000 سے زائد افراد اور 80 سے زائد تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے۔
کرن تھاپر اپنے انٹرویو میں ایف آئی اے کے سابق سربراہ طارق کھوسہ کے ڈان میں شائع ایک آرٹیکل کا بار بار حوالہ دیتے رہے اور اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ڈان میرا اخبار ہے اور ایک اخبار کے کالم کو ثبوت کے طور پر عدالت میں نہیں پیش کیا جا سکتا اس کے لیے انڈیا کو تعاون کرنا ہوگا اور اسے ویڈیو لنک کے بجائے قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عدالتوں کے سامنے گواہان اور ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔
بلاول بھٹو نے کرن تھاپر سے یہ بھی کہا کہ 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے میں 40 پاکستانی مارے گئے مگر آج تک انڈیا اس بارے میں کچھ پیشرفت نہیں کر سکا۔ بلاول نے کہا کہ جن ملزمان نے اعتراف کیا انھیں یہ بیانات تک واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔
کرن تھاپر نے یہ بھی سوال کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی صورت میں دہشتگرد گروہ پھر سے منظم ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ حافظ سعید، مسعود اظہر، عبدالرحمان مکی، ذکی الرحمان لکھوی اور ساجد میر پاکستان کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگرد تنظیموں کے دھڑوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔ بلاول بھٹو نے مسعود اظہر کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کیا اور کہا کہ وہ شاید افغانستان میں ہیں۔ جب کرن تھاپر نے 2018 کے صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیان کا حوالہ دیا کہ یہ ملک دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے تو بلاول نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو امریکی صدر اور ان کے حکام کے بیانات پر اتنا بھروسہ ہے۔‘
اس کے بعد بلاول نے کہا کہ اب جو امریکی حکام کہہ رہے ہیں اور جو امریکی جنرل نے کانگریس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کیسے کامیابی سے دہشتگردی کے خلاف لڑ رہا ہے تو اس پر بھی آپ کو اتنا ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردی آج انڈیا اور پاکستان دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آج پاکستان میں جو دہشتگردی کے حملے ہو رہے ہیں یہ انڈیا کی پشت پناہی میں ہو رہے ہیں۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں آپ کو اس کے ثبوت دے سکتا ہوں اور پھر انھوں نے کلبھوشن کا نام لیا کہ وہ انڈین فوج کا ایک حاضر سروس افسر ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے تانے بانے بھی انڈین ایجنسیوں سے ملتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج بھی انڈیا کا وزیر اعظم اور ان کی حکومت پاکستان کے 240 ملین لوگوں کے پانی کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ کیا وہ انڈس سولائزیشن کے دشمن بن گئے ہیں جو گاندھی اور انڈیا کی فلاسفی کے بھی خلاف ہے۔
کرن تھاپر نے بلاول سے کہا کہ یہ دہشتگردی آپ کی اپنی پیداوار ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اب انڈیا اور پاکستان کو جامع مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان میں 2012 میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ان دہشتگرد گروہوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان یہ بتاتا رہا کہ حملے کرنے کی غرض سے کون سے لوگ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لشکر طیبہ اور جیش محمد کے بارے میں پاکستان نے انڈیا کو جبکہ انڈیا نے بی ایل اے، مجید گروپ اور اس طرح کے دیگر گروہوں سے متعلق معلومات دینی تھیں۔
انڈین فضائیہ کا لڑاکا طیارہ راجستھان میں گر کر تباہ، دونوں پائلٹ ہلاک, شکیل اختر، بی بی سی اردو دلّی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین فضائیہ کا
ایک جیگوار لڑاکا طیارہ راجستھان کے ضلع چورو میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ انڈین ائیر فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حادثے میں دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔
تباہ ہونے والا
طیارہ ایک ٹو سیٹر جنگی جہاز تھا۔
اے این آئی کے
مطابق تباہ ہونے والے جیگوار طیارے نے راجستھان
کے صورت گڑھ فضائی اڈے سے پرواز شروع کی تھی۔
انڈین فضائیہ کے مطابق اس واقعے کی انکوائری کی جا رہی ہے۔
یہ گذشتہ چھ مہینے
میں جیگوار طیارہ گرنے کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 7 اپریل کو بھی ایک ٹو سیٹر جیگوار
اپنی تربیتی پرواز کے دوران گجرات کے علاقے جام نگر میں میدان میں گر کر تباہ ہوا تھا،
اس حادثے میں ایک پائلٹ کی جان گئی تھی۔
دو مارچ کو ایک
جیگوار طیارہ ہریانہ کے امبالہ فضائی اڈے سے پرواز کرنے کے کچھ ہی دیر بعد پنچکولاکے علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا۔
جیگوار طیارے
میں دو انجن نصب ہوتے ہیں، اسے فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔
انڈیا کے پاس سنگل
اور ٹوسیٹر دونوں طرح کے طیارے ہیں۔ ٹو
سیٹر جہاز عموماً تریبت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
انڈین فصائیہ کے
ذرائع کے مطابق اس وقت انڈین ایئر فورس کے پاس تقریبً 120 جیگوار طیارے ہیں، انھیں
انڈین فضائیہ میں پہلی بار 1979 میں شامل کیا گیا تھا۔
بنوں میں شدت پسندوں کی طرف سے کواڈ کاپٹر سے حملے: ایک خاتون ہلاک، تین زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے دو کواڈ کاپٹر حملے کیے جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک حملہ رات جبکہ دوسرا پولیس سٹیشن پر صبح کے وقت پر کیا گیا ہے۔
بنوں ہسپتال کے ترجمان نعمان خان نے تصدیق کی ہے کہ خاتون کی لاش سمیت تین زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب گذشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فوج نے یہ وضاحت دی تھی کہ یہ حملے شدت پسندوں نے کیے۔
دوسرا کواڈ کاپٹر حملہ مریان پولیس سٹیشن پر ہوا، جس میں پولیس سٹیشن کی چھت پر لگے سولر پینلز کو نقصان پہنچا، اس حملے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے، یہ اس تھانے پر تیسرا شدت پسندی کا تیسرا واقعہ ہے۔
بنوں میں گذشتہ کئی مہینوں کے دوران متعدد شدت پسند حملے ہو چکے ہیں۔ مارچ میں بنوں کینٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 16 شدت پسند ہلاک جبکہ پانچ فوجی بھی مارے گئے تھے۔
ڈی پی او بنوں سلیم کولاچی نے کہا ہے کہ ان واقعات کی مزید تفتیش جاری ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے گزشتہ مالی سال میں 38 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر موصول, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب
سے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 38.3 ارب ڈالر کی رقوم پاکستان بھیجی
گئی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 26.6 فیصد زائد رہیں جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں
کی جانب سے 30.3 ارب ڈالر کی رقوم پاکستان بھیجی گئی تھیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری
کردہ اعدادوشمار کے مطابق جون 2025 کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے 3.4 ارب
ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ جون کے مہینے میں موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر گزشتہ
سال جون کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ رہیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق جون 2025 کے دوران
بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر میں سعودی عرب سے 82 کروڑ ڈالر
موصول ہوئے جب کہ متحدہ عرب امارات سے 71 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔
برطانیہ سے آنے والی ترسیلاتِ زر کی
مالیت 53 کروڑ ڈالر اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے 28 کروڑ ڈالر سے موصول ہوئیں۔
اسلام آباد کے نالہ کورنگ میں نوجوان موٹر سائیکل سوار ریلے میں بہہ گیا، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ سے نقصانات کی اطلاع
،تصویر کا ذریعہSocial Media
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے قریب نالہ
کورنگ میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے اسے پار کرنے کی کوشش میں ایک نوجوان موٹر
سائیکل سوار پانی کے ریلے میں بہہ گیا ہے۔
ریلے میں بہہ جانے والے نوجوان کی
ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نالے پر بنائے گئے
پُل سے لوگ اپنی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں گزار رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ریلے میں
بہہ جانے والے نوجوان کی تلاش جاری ہے جب کہ نالہ کورنگ کے کنارے کچے مکانوں
کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم نالے کے قریب رہنے والوں کو اس سے دور رہنے کی ہدایت کی
گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام
کشمیر سے صحافی نصیر چوہدری کے مطابق ضلع جہلم ویلی کے علاقہ گوہرآباد میں کلاوڈ برسٹ یعنی بادل کے پھٹ جانے کی وجہ سے پانچ مکانات چھ دوکانیں تباہ جبکہ ایک موٹر سائیکل اور چار سے زائد گاڑیوں کو نقصان
پہنچا ہے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
شاہراہ لیپہ ہٹیاں بالا کے مقام سے
مکمل بند ہو گئی ہے۔ گوہرآباد نامی علاقے میں کلاؤد برسٹ یعنی بادل کے پھٹنانے کی
وجہ سے خاصے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس میں متعدد مکانات و دوکانوں سمیت گوہر
آباد گاؤں کی اہم شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSDMA
تفصیلات کے مطابق گوہرآباد میں 14 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ اسی علاقہ میں موجود چھ دوکانوں میں پانی داخل ہو جانے کی وجہ سے مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے اہلکار سعید قریشی کے مطابق گوہر آباد کلاؤد برسٹ سے متاترہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور تباہ شدہ اہم شاہراہ کو بحال کرنے کی کوشش جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہSDMA
اب کسی سے کوئی بھی مذاکرات نہیں بلکہ صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق
وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ’اب
کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا
تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔‘
عمران خان کے ایکس
اکاونٹ پر جاری ہونے والے بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ایک قوم اپنے
حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ تمام
پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا۔‘
ایکس پر پیغام میں اُن کا کہنا تھا
کہ ’ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا
ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔‘
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس
پر اپنے بیان میں کہنا جتھا کہ ’ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا
جائے گا، پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز
ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دوٹوک پیغام دے
رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے
الگ ہو جائے۔‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے
عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کے روز اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی
عمران خان سے ملاقات کی۔
جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو
کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی کہ ’بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں،
حامیوں اور عوام سے کہا ہے کہ وہ 5 اگست سے شروع ہونے والی پرامن لیکن مؤثر
احتجاجی مہم کے لیے تیار ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ اب صرف سیاسی
انتقام کا معاملہ نہیں رہا، یہ ہر شہری کے حقوق چھن جانے کا معاملہ ہے، بانی نے
کہا ہے کہ یہ تحریک اب دوسری تحریک پاکستان کی شکل اختیار کرے گی۔‘
عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بیرسٹر
گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی سے بہت سے معاملات پر بات چیت ہوئی ہے پارٹی امور پر
بھی ہوئی ہے قانونی معاملات پہ بھی ہوئی ہے۔ تحریک کے حوالے سے بھی ہوئی ہے بات یہ
ہے کہ جب ائیسولیٹ کر دیا جائے، اخبار نہ دیا جائے اور ملاقات کرنے کی اجازت نہ دی
جائے تو بہت سارے معاملات زیر بحث آجاتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے افغان طالبان رہنماؤں کے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد پر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہEPA
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے
طالبان کے دو سرکردہ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان پر افغانستان میں
خواتین اور لڑکیوں پر ظلم و ستم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ہیگ میں قائم عدالت نے کہا کہ اس
بات پر یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ
اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی نے سنہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خواتین
اور لڑکیوں کے ساتھ اپنے سلوک میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کی
جانب سے خواتین پر عائد کی جانے والی پابندیوں میں 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں
کی تعلیم تک رسائی اور خواتین کو ملازمتوں سے روکنا شامل ہیں۔
تاہم اس کے جواب میں طالبان کا
کہنا تھا کہ وہ آئی سی سی کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اس وارنٹ کو ’واضح دشمنی‘ اور
’دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقائد کی توہین‘ قرار دیا۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان
میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے مجموعی طور پر آبادی پر کچھ قوانین اور پابندیاں عائد
کر رکھی ہیں لیکن انھوں نے خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کو ان کی جنس کی بنیاد پر
نشانہ بنایا ہے اور انھیں بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ نے ان
پابندیوں کو ’صنفی امتیاز‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔
طالبان حکومت نے کہا ہے کہ وہ
افغان ثقافت اور اسلامی قانون کی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتی
ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے دونوں طالبان
رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔
بیان میں آئی سی سی سے مطالبہ کیا
گیا ہے کہ وہ طالبان کی دیگر زیادتیوں کے متاثرین کے ساتھ ساتھ دولت اسلامیہ
خراسان صوبے کی فورسز، سابق افغان سکیورٹی فورسز اور امریکی اہلکاروں تک انصاف کی
رسائی کو وسعت دے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان
میں تشدد اور استثنیٰ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام مجرموں کے
متاثرین کو انصاف تک مساوی رسائی حاصل ہو۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا اتحاد خطرہ ہے، انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی
ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا اتحاد انڈیا
کے استحکام اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
انھوں نے ایک تقریب میں بات کرتے
ہوئے کہا کہ ’اگر چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اسٹریٹجک تعاون ہوتا ہے تو
اس کا براہ راست اثر انڈیا کی سلامتی پر پڑے گا۔‘
انڈیا اور پاکستان کے درمیان 7 سے
10 مئی تک جاری رہنے والے فوجی تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ ’یہ
پہلا موقع ہے جب دو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک براہ راست فوجی تصادم میں ملوث
ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا پہلے ہی
واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جوہری بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکے گا۔‘
پاکستان اور چین کے درمیان اتحاد
کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’پاکستان نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنے
70 سے 80 فیصد ہتھیار اور سازوسامان چین سے درآمد کیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ چین کی
فوجی کمپنیوں کے پاکستان میں حصص ہیں۔
امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سکریننگ کے دوران جوتے اتارنے کی شرط ختم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے
دوران مسافروں کو اب اپنے جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے
دو دہائیوں کے بعد سکیورٹی چیکنگ کے لیے جوتے اتارنے کی پالیسی ختم کر دی ہے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر کرسٹی
نوئم نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکہ کے تمام ہوائی اڈوں پر فوری طور پر نافذ العمل ہو
گئی ہے، حالانکہ جانچ پڑتال کا ایک ’مکمل اور تفصیلی‘ عمل برقرار رہے گا۔
نوئم نے کہا کہ ’ہوائی اڈوں پر مسافروں
کو چیکنگ کے دوران اب بھی اپنی بیلٹ اور کوٹ اتارنے ہوں گے۔ لیپ ٹاپ اور اور دیگر
سامان کو بیگ سے باہر نکالنا ہوگا لیکن ان قواعد پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے۔
دسمبر 2001 میں ایک برطانوی
شہری نے پیرس سے میامی جانے والی پرواز میں اپنے جوتے میں بم چھپا رکھا تھا۔ تاہم برطانوی
شہری بم کو دھماکے سے اڑانے میں ناکام رہا اور مسافروں نے اسے پکڑ لیا۔ اس کے بعد
طیارہ بوسٹن میں بحفاظت اتر لیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد امریکا نے سنہ
2006 میں مسافروں کی سکیورٹی چیکنگ کے لیے جوتے اتارنے کا اصول نافذ کیا تھا۔
منگل کے روز نامہ نگاروں سے بات
کرتے ہوئے نوم نے کہا کہ ’ہماری سکیورٹی ٹیکنالوجی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یہ
نظام جدید اور اب بہت ترقی کر چکا ہے جسے مدِ نظر رکھتے ہوئے اب یہ فیصلہ کیا گیا
ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ سے فلسطینیوں کو رفح کے ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ
انھوں نے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ سے تمام فلسطینیوں کو علاقے کے جنوب
میں واقع ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کریں۔
اسرائیل کاٹز نے صحافیوں کو بتایا
کہ وہ رفح شہر کے کھنڈرات پر ایک ’انسانی ہمدردی کا شہر‘ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں
ابتدائی طور پر تقریباً چھ لاکھ فلسطینی اور پھر 21 لاکھ آبادی رہائش پذیر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد
سکیورٹی سکریننگ کے بعد لوگوں کو اندر لانا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے
کہ وہ حماس کے کارکن نہیں ہیں اور انھیں وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر حالات
سازگار ہوئے تو 60 روزہ جنگ بندی کے دوران تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا جس پر
اسرائیل اور حماس مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے ایک اسرائیلی اہلکار
اور وکیل نے اس اسرائیلی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انسانیت کے خلاف ایک جرم‘
قرار دیا ہے۔
مائیکل سفرڈ نے گارڈین اخبار کو
بتایا کہ ’یہ غزہ کی پٹی کے جنوبی سرے پر آبادی کی منتقلی کے بارے میں ہے تاکہ پٹی
سے باہر جلاوطنی کے لیے حالات سازگار کیے جا سکیں۔‘
اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی
متنبہ کیا تھا کہ مقبوضہ علاقے کی شہری آبادی کی ملک بدری یا جبری منتقلی بین
الاقوامی انسانی قوانین کے تحت سختی سے ممنوع ہے اور ’نسل کُشی کے مترادف‘ ہے۔
تاہم فلسطینی اتھارٹی یا حماس کی
جانب سے ابتک اس پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی کوششیں، نیتن یاہو کی 24 گھنٹوں میں ٹرمپ سے دوسری ملاقات
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن
یاہو نے اپنے دورہ واشنگٹن کے بعد دوسری بار وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ سے دو گھنٹے کی ملاقات میں غزہ کی جنگ کے بارے میں بات کی ہے۔
یہ ملاقات منگل کی شب ہوئی جبکہ نیتن
یاہو پیر کی رات وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیہ پر مہمان بھی تھے اور
دونوں رہنماؤں نے کئی گھنٹوں تک ملاقات اور بات چیت کی۔
نیتن یاہو کا وائٹ ہاؤس کا دوسرا
دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے سٹیو
وٹٹیکر نے کہا ہے کہ ’قطر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے لیے
مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔‘
وٹٹیکر نے منگل کے روز کہا کہ ’فریقوں
کے درمیان اختلافات کے نکات کی تعداد اب چار سے کم ہو کر ایک رہ گئی ہے جس کے بعد
اب فیصلہ کُن حل کی جانب بڑٹنے میں مدد ملے گی۔
وائٹ ہاؤس روانگی سے قبل نیتن
یاہو نے منگل کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات کی تھی۔
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ہم امریکہ کے ساتھ تاریخی معاہدے کے قریب تھے، لیکن اسرائیل نے اسے تباہ کر دیا: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے جدہ میں ملاقات کی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا
کے مطابق عراقچی کی جانب سے ملاقات کے دوران اسرائیلی حملوں پر سعودی عرب کی جانب
سے کی جاننے والی مذمت کو سراہا۔
ارنا نے یہ بھی لکھا کہ ایرانی
وزیر خارجہ نے سعودی ولی عہد سے ملاقات سے قبل سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے
بھی ملاقات کی۔
ایرانی خبر رسان ادارے کی جانب سے
علاقائی پیش رفت، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے ساتھ
ساتھ غزہ کی جنگ کو عراقچی کی آج سینئر سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا محور قرار
دیا گیا ہے۔
سعودی عرب، جس نے گزشتہ دو سالوں
میں تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا ہے، خلیج فارس میں امریکہ کا اہم
اتحادی ہے اور تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ ملک کے تعلقات کو وسعت
دینے کے لئے کام کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر ریاض سے بھی کہا ہے کہ وہ تہران کو واشنگٹن
کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں مذاکرات پر واپس آنے کے لیے ’ممکنہ آمادگی‘
کے پیغامات بھیجے ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ان پر اعتماد
کرنا مُشکل ہو گیا ہے۔
اراغچی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز
میں ایک مضمون میں لکھا کہ تہران اور واشنگٹن جوہری مذاکرات کے پانچ دور کے دوران ’تاریخی
پیش رفت‘ کے بہت قریب تھے لیکن ایران پر اسرائیل کے حملے نے سفارت کاری کو نہ صرف
نقصان پہنچایا بلکہ اس کوشش کو ’تباہ‘ کردیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی کے
مطابق ان کے اور مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹٹیکر کے
درمیان نو ہفتوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران، فریقوں اور عمانی ثالث نے
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے ’کئی فائدہ
مند حل‘ تجویز کیے، لیکن عمان میں ہونے والی چھٹی ملاقات سے صرف 48 گھنٹے قبل
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
گزشتہ روز کی اہم خبریں
گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر:
مبینہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ہونے والے چکوال کے رہائشی کے خلاف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں منگل کے روز مقدمہ درج کیا گیا۔ ملز کے خلاف باقاعدہ تھانہ پانجگراں میں مقامی امام مسجد نے درخواست دائر کی درخواست دی اور موقف اختیار کیا کہ ’چکوال سے تعلق رکھنے والی مذہنی شخصیت نے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے جس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں موجود ہے۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے پانچ رہنمائوں سمیت چھ افراد کی تین ماہ سے زائد کے عرصے بعد منگل کے روز مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کی گئی اور ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت نے ان کو دس روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
منگل کے روز حماس کی عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کو دوبارہ قید کیا جا سکتا ہے، جبکہ قطر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں ابھی وقت لگے گا۔ ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں فوج رکھنے کا فیصلہ نیتن یاہو کی سب سے بڑی ’بیوقوفی‘ ہو گی‘۔
افغانستان کی طالبان حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے افغانستان کے بارے میں منظور کی گئی قرارداد کے بعض نکات پر تنقید کی ہے۔ یہ بیان طالبان کی جانب سے 8 جولائی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔