اسحاق ڈار عرب اسلامی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوموار کو ترکی روانہ ہوں گے: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے مطابق استنبول اجلاس کے دوران پاکستان غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد، فلسطینی سرزمین بالخصوص غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا معاملہ اٹھائے گا اور فلسطینیوں کے لیے امداد کی بلاتعطل فراہمی اور غزہ کی تعمیرنو کی ضرورت پر زور دے گا۔

خلاصہ

  • پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا تاہم مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
  • امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان 10 سالہ دفاعی تعاون کے فریم ورک پر دستخط کیے گئے ہیں جس دوران معلومات کی شیئرنگ کو بڑھایا جائے گا۔
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 'سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر' موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا ہے۔
  • افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کے بعد ’دونوں فریق دوبارہ ملاقاتیں کریں گے

لائیو کوریج

  1. افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتے، مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہراندرابی

    ،تصویر کا ذریعہscreen grab/ Youtube

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا تاہم مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہراندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی کے حوالے سے قطر میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے انتہائی مثبت انداز سے امن مزاکرات میں شرکت کی۔

    یاد رہے کہ استنبول مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے مشترکہ اعلامیے کے تحت پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط چھ نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے

    جمعے کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ ’پاکستان اور افغان طالبان رجیم میں مزاکرات کا دوسرا دور گزشتہ شام ختم ہوا۔ پاکستان نے مزاکرات میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے۔‘

    ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ توقع ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔پاکستان مصالحتی عمل میں اپنا کردار جاری رکھے گا اور چھ نومبر کے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید رکھتا ہے‘

    ترجمان دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان افغان سرزمین پر ’فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان‘ کی سرگرمیوں سے متعلق کئی بار ثبوت فراہم کر چکا ہے۔‘

    ان کے مطابق پاکستان افغانستان کے بارڈر پر افغانستان کی جانب سے کشیدگی کا بھرپور جواب دیا ۔ پاکستان ہر حال میں اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختادی کا دفاع کرے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان قطر اور ترکی کا شکر گزار ہے جن کی ثالثی سے مذاکرات میں مفاہمانہ حل کی جانب پیش رفت ممکن ہوئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور مسلح افواج ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر وقت تیار اور چوکس ہیں۔

  2. کوئٹہ میں 24 گھنٹوں کے لیے موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    موبائل فون انٹرنیٹ سروس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ’سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر‘ موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر میں تمام نیٹ ورکس پر موبائل فون انٹرنیٹ سروس گذشتہ شب 12 بجے کے بعد سے بند ہے۔

    سرکاری سطح پر جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے ’سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر 24 گھنٹے کے لیے موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔‘

    موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  3. کسی بھی جارحیت کا جواب سخت ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبہ سے خصوصی نشست کے دوران ملک کی ’مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی، معرکۂ حق اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔‘

    جاری کردہ بیان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک موقع پر واضح کیا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں اور پاک فوج دفاعِ وطن کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔‘

    انھوں نے ’دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید انداز میں دیا جائے گا۔‘

  4. افغانستان کے ساتھ جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی

    افغانستان کے ساتھ جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں موجودہ ہفتے کے دوران 6500 پوائنٹس سے زائد کی کمی کے بعد جمعے کو تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور اب تک تین ہزار سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال 100 انڈیکس دوبارہ ایک لاکھ 60 ہزار پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں جمعے کے روز تیزی گذشتہ کئی دنوں کی مندی کے بعد ہوئی ہے۔ موجودہ ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں مندی ریکارڈ کی گئی تھی اور انڈیکس میں 1140 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی، منگل کے روز بھی مارکیٹ مندی کا شکار رہی اور انڈیکس میں مزید 2062 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    بدھ کے روز حصص کی قیمتوں پر فروخت کا دباؤ رہا اور مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا جب انڈیکس میں 1636 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی۔ جمعرات کے روز بھی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت زیادہ ہوئی اور مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

    گذشتہ روز انڈیکس میں 1732 پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    موجودہ ہفتے کے پہلے چار کاروباری دنوں میں سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں مجموعی طور پر 6570 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    تاہم جمعے کے روز سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دوبارہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ مارکیٹ میں ادھار کے سودوں یعنی فیوچر کنٹریکٹس کی سیٹلمنٹ کے ہفتے کا اختتام اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ موجودہ ہفتے کے چار دنوں میں مندی کی وجہ ٹیکنیکل کریکشن یعنی تصحیح تھی جس میں فیوچر کنٹریکٹس کی سیٹلمنٹ بھی شامل تھی جس کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ان کے مطابق جمعے کے روز تیزی کی وجہ رول اوور ویک کا اختتام تھا۔

    دوسری جانب انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کو جاری رکھنے کی خبروں نے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ دیا ہے۔

    خیال رہے کہ دونوں ملکوں نے گذشتہ روز مشترکہ بیان میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اور اب 6 نومبر کو دوبارہ استنبول میں مذاکرات ہوں گے۔

  5. انڈیا اور امریکہ کے درمیان 10 سالہ دفاعی فریم ورک پر دستخط, تنویر ملک، صحافی

    انڈیا اور امریکہ کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدہ

    ،تصویر کا ذریعہX

    امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان 10 سالہ دفاعی تعاون کے فریم ورک پر دستخط کیے گئے ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان دفاعی شراکت میں پیشرفت ہے جو کہ علاقائی سلامتی اور روک تھام کا سنگ بنیاد ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک ’تعاون، معلومات کی شیئرنگ اور ٹیکنالوجی میں شراکت کو بڑھائیں گے۔ ہمارے دفاعی تعلقات کبھی اس سے زیادہ مضبوط نہیں رہے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا امریکی فوجی سامان خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔

    امریکی وزیر جنگ نے جمعے کو انڈیا اور چین کے ہم منصبوں سے ملائیشیا میں جاری آسیان دفاعی اجلاس میں ملاقاتیں کی ہیں۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ نے چین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ’اپنے مفادات کا سختی سے دفاع کرے گا‘ اور ہند بحر الکاہل میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھے گا۔ جبکہ انھوں نے متنازع جنوبی بحیرۂ چین اور تائیوان کے ارد گرد چینی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ

    ،تصویر کا ذریعہX

    انڈین وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی فریم ورک اس بات کا عندیہ ہے کہ دونوں ملک سٹریجیٹک اعتبار سے ہم آہنگ ہیں۔ ’ہمارے باہمی تعلقات کی بڑی بنیاد دفاع رہے گی۔‘

    راجناتھ سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شراکت کے ذریعے انڈو پیسیفک خطے کو اصولوں کو تابع رکھا جائے گا۔

  6. افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور دورے کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان افغانستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے تاہم شدت پسندی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مارشل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا جہاں انھوں نے قبائلی عمائدین کے جرگے سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عوام کی ’غیر متزلزل حمایت‘ کو سراہا اور حالیہ کشیدگی کے دوران ’سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون پر قبائلی عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔‘

    افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے تاہم اپنی سرزمین پر ’افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا۔‘

    آرمی چیف نے واضح کیا کہ ’افغانستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے باوجود پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور پاک-افغان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی اور معاشی سطح پر متعدد اقدامات کیے۔‘

    پاکستانی فوج کے سربراہ نے افغان طالبان کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت ’انڈین حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی پشت پناہی اور انھیں ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا کو ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا اور ملک بھر سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔‘

  7. باہمی احترام اور داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی تعلقات کے پابند ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کے بعد ’دونوں فریق دوبارہ ملاقاتیں کریں گے اور باقی مسائل پر غور و خوض کیا جائے گا۔‘

    ایکس پر جاری پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’استنبول مذاکرات، جو ایک پیچیدہ عمل تھا، اس نتیجے پر مکمل ہوئے کہ دونوں فریق دوبارہ ملاقاتیں کریں گے اور باقی مسائل پر غور و خوض کیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’امارت اسلامی افغانستان نے اپنے مستقل اصولی مؤقف کے مطابق، کہ مسائل کا حل سفارت کاری اور مفاہمت کے ذریعے ہے، برادر ممالک ترکی اور قطر کی درخواست اور ثالثی پر پاکستانی فریق کے ساتھ کئی روز تک استنبول میں گفتگو کی، جو آج اختتام پذیر ہوئی۔ امارت اسلامی افغانستان ان مذاکرات کی سہولت کاری اور ثالثی پر ترک جمہوریہ اور ریاست قطر کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ’امارت اسلامی افغانستان نے ابتدا ہی سے ڈپلومیسی اور مفاہمت پر یقین رکھا ہے۔ لہٰذا ایک جامع اور پیشہ ور ٹیم تشکیل دے کر مخلصانہ اور سنجیدہ انداز میں مذاکرات کا آغاز کیا اور مکمل تعاون اور صبر کے ساتھ اس عمل کو جاری رکھا۔

    ’امارت اسلامی افغانستان دیگر ہمسایہ ممالک کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی مثبت تعلقات چاہتی ہے اور باہمی احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور کسی کے لیے خطرہ نہ بننے کے اصولوں پر مبنی تعلقات کی پابند ہے۔‘

  8. استنبول مذاکرات میں طے پایا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے فریق پر سزا عائد ہو گی: عطا اللہ تارڑ

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات میں یہ طے پایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قیام امن اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے فریق پر سزا عائد ہو گی۔

    نجی چینل دنیا نیوز سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان کی عبوری حکومت پر قیام امن اور دہشتگردی کے خاتمے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔‘

    جنگ بندی پر عملدرآمد کی خلاف ورزی پر مشترکہ اعلامیے میں جس جرمانے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’دوست ممالک نے ضمانت دی ہے۔۔۔ یہ (سزا) مشترکہ طور پر طے کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ویریفیکیشن کا سسٹم شامل کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مشترکہ مانیٹرنگ اور ویریفیکیشن کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ ’خلاف ورزی کرنے والے فریق پر نہ صرف سزا عائد ہو بلکہ اسے شدت پسند گروہوں کے خلاف واضح اور موثر کارروائی عمل میں لانا ہو گی۔‘

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ شدت پسندی کے واقعات کی صورت میں ’جرمانہ یا سزا عائد کی جائے گی۔ اس میں عالمی شراکت دار اور پاکستان کے دوست ممالک شریک ہیں۔ انھیں یقینی بنانا ہوگا۔ ورنہ افغان طالبان کی حکومت اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ پاکستان کو حق حاصل ہوگا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنا جواب دے۔‘

    انھوں نے کہا کہ 6 نومبر کو ان معاملات پر دوبارہ بات چیت ہو گی اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ’عملدرآمد کے بارے میں باقی باتیں طے کی جائیں گی۔‘

    پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا ایک مشترکہ نظام تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔

    اعلامیے کے مطابق ثالث ممالک ترکی اور قطر نے دونوں فریقوں کے مثبت کردار کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔

  9. ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستانی پناہ گزین نہیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستانی پناہ گزین ہیں۔

    ایکس پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ استنبول مذاکرات کے دوران افغان وفد نے دعویٰ کیا کہ ’ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستانی پناہ گزین ہیں جو وطن واپس آ رہے ہیں۔ یہ (دعویٰ) مضحکہ خیز ہے۔‘

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے پناہ گزین ہیں جن کے پاس ’انتہائی تباہ کن ہتھیار ہیں‘ اور جو ’بسوں، ٹرکوں یا بذریعہ کاروں سڑکوں سے نہیں بلکہ چوروں کی طرح پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ افغان وفد کی ’منافقت اور نیت میں فتور بے نقاب کرتا ہے۔‘

    گذشتہ روز افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل میں پولیس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بنائی۔ 2003 میں پاکستان کے قبائل غلط پالیسیوں کی وجہ سے اٹھے اور اسی سے تحریک طالبان پاکستان قائم ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’2003 سے جو کچھ ہوا ہے، وہ سب کچھ پاکستان کے اندر ہوا تھا۔‘

  10. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کابینہ تشکیل، حلف برداری آج

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر صوبائی کابینہ کے اراکین کا اعلان کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد سہیل آفریدی نے وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالا تھا تاہم اب تک ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق عمران خان نے اس کے باوجود سہیل آفریدی کو اپنی کابینہ تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔

    سہیل آفریدی کی کابینہ میں 10 وزرا، دو مشیران اور ایک معاون خصوصی شامل ہیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ کی تقریب حلف برداری آج دوپہر تین بجے ہو گی۔

    صوبائی وزرا میں مینا خان آفریدی، ارشد ایوب خان، امجد علی، آفتاب عالم خان، فضل شکور خان، خلیق الرحمٰن، ریاض خان، سید فخر جہاں، عاقب اللہ خان اور فیصل خان شامل ہیں۔ جبکہ اس فہرست میں مشیران کے طور پر مزمل اسلم اور تاج محمد کے نام دیے گئے ہیں اور شفیع جان ‏معاون خصوصی ہوں گے۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    پاکستان، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سیز فائر جاری رکھنے پر اتفاق

    پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں اور ترکی نے استنبول مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیے میں یہ کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے اور اب جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا ایک مشترکہ نظام تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔

    افغانستان کو آبی وسائل کی مینجمنٹ میں مدد دینے کو تیار ہیں: انڈیا

    انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لیے افغانستان کو ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہے۔

    جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ :’ افغانستان کے وزیرِ خارجہ نے حال ہی میں انڈیا کا دورہ کیا ہے اور ہم نے اس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا تھا۔‘

    ’اس مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انڈیا آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لیے افغانستان کی مدد کرنے کو تیار ہے، جن میں ہائیڈروالیکٹرک منصوبے بھی شامل ہیں۔‘

    ٹرمپ نے امریکی فوج کو جوہری ہتھیاروں کے تجربات کی ہدایت دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو جوہری ہتھیاروں کے تجربے کرنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ روس اور چین جیسے ممالک کی برابری کی جا سکے۔

    جمعرات کو جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل امریکی صدر نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ: ’دوسرے ممالک کے تجرباتی پروگرامز کی وجہ سے میں نے محکمہ جنگ کو برابری کی سطح پر ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔‘

    پاکستانی خواتین سے شادی پر افغان مردوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ نے افغان شہریوں کی پاکستانی خواتین سے شادی پر انھیں پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

    بدھ کے روز جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مرد افغان شہریوں کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) جاری کرنے کے معاملے کی سماعت کی۔

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ یکم دسمبر 2023 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہم نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مرد افغانی شہری اگر پاکستانی خاتون سے شادی کرے تو اسے پی او سی کارڈ جاری کیا جائے۔

    نادرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی خاتون شہری سے شادی کرنے والے افغان شہری کیلئے ویزا کی شرط بھی ہے۔

    جسٹس ہلالی کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کوئی شخص دیوار پھلانگ کر آیا یا دروازہ پھلانگ کر۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    بلوچستان میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن، 18 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 28 اور 29 اکتوبر کو صوبہ بلوچستان میں آپریشن کے دوران 18 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ڈویژن کے علاقے چلتن پہاڑیوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 شدت پسند مارے گئے۔