امریکی صدر، قطری وزیرِ اعظم کی حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدے کی تصدیق

قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے قطر میں پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

خلاصہ

  • قطری وزیر اعظم کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جاری بیان میں مصر اور قطر، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔
  • قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
  • امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’(اسرائیلی) یرغمالیوں سے متعلق ڈیل ہو گئی ہے‘ اور یہ کہ ’انھیں (یرغمالیوں کو) جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔‘

لائیو کوریج

  1. فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس: نو مئی کے ملزمان آرمی ایکٹ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، وکیل وزارت دفاع

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    منگل کے روز دورانِ سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے ملزمان آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی ون کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور ان کا ٹرائل خصوصی کورٹ میں ہی ہوگا۔

    خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلوں میں خصوصی کورٹ تسلیم شدہ ہیں جہاں آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا ٹرائل ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہاں بات سویلین کے ٹرائل کی نہیں ہے، اگر آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا گٹھ جوڑ ہو تو ملٹری ٹرائل ہوگا۔

    دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے 21ویں ترمیم کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ 21ویں ترمیم مخصوص حالات میں کی گئی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ ایریا میں آرمی سکول پر حملہ ہوا تب بھی خصوصی عدالت میں ٹرائل ممکن نہیں تھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دہشتگردوں کا مقدمہ خصوصی عدالت میں چلانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی تھی۔

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا آرمی پبلک سکول واقعے میں گٹھ جوڑ موجود تھا؟

    اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اے پی ایس حملے کے وقت گٹھ جوڑ بالکل موجود تھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل کے سوال پر کہ کیا اے پی ایس حملے کے وقت آرمی ایکٹ موجود تھا، خواجہ حارث نے بتایا کہ اس وقت آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ دونوں موجود تھے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کی جانب سے ایک اور سوال پر کہ ایسی کیا وجہ تھی کہ گٹھ جوڑ اور آرمی ایکٹ کے ہوتے ہوئے بھی ٹرائل خصوصی عدالت میں نہیں چلا اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کیوں کرنا پڑی؟

    خواجہ حارث نے دعویٰ کیا کہ ترمیم اس لیے کی گئی کیونکہ اے پی ایس ملزمان آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی ون کے جرائم میں نہیں آتے تھے۔

    دورانِ سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ دہشت گرد گروہ یا مذہب کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیوں پر ٹرائل کہاں چلے گا۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت دہشت گرد گروہ یا مذہب کے نام پر دہشت گردی کے واقعات پر ٹرائل خصوصی کورٹ میں چلے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر بھی ایسے جرائم کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چل سکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ اگر کوئی دہشت گرد تنظیم تاوان کیلئے کسی سکیورٹی فورس کے اہلکارکو اغوا کرے تو اس کا ٹرائل کہاں چلے گا۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ فرض کریں ٹرائل خصوصی کورٹ میں نہیں چل سکتا، تو ایسے میں اس کیس پر کیا اثر پڑے گا۔

    عدالت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں کیسز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جمعرات کے روز تک ملتوی کردی۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  2. 190 ملین پاؤنڈ کیس: میری عدم موجودگی کا جواز بنا کر فیصلہ موخر کرنا مضحکہ خیز ہے، عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی عدم موجودگی کو جواز بنا کر 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس کا فیصلہ موخر کرنا انتہائی مضحکہ خیز اور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

    خیال رہے کہ سوموار کے روز عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ تیسری مرتبہ موخر کرتے ہوئے احتساب عدالت نے سترہ جنوری کی تاریخ دے دی تھی۔

    احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 18 دسمبر 2024 کو محفوظ کیا تھا۔ احتساب عدالت نے فیصلہ سنانے کیلئے پہلے 23 دسمبر اور اس کے بعد 6 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی پھر تیسری 13 جنوری کی تاریخ دی۔

    سوموار کے دن صبح گیارہ بجے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں ملزمان کی موجودگی میں فیصلہ سنانا تھا تاہم اس سے کچھ ہی دیر قبل جج کی جانب سے نئی تاریخ سامنے آ گئی۔

    اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے جج ناصر جاوید نے ریمارکس دیے کہ انھوں نے دو گھنٹے انتظار کیا اور ملزم عمران خان کو دو مرتبہ پیغام بھجوایا گیا کہ وہ عدالت میں پیش ہوں لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

    منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں جج صریحا غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

    سابق وزیر اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان کے مطابق منگل کے روز اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ القادر کیس کی سماعت ہمیشہ دن 11:30 سے 12 بجے کے درمیان شروع ہوتی ہے۔

    ان کے مطابق سوموار کے روز بھی اس کیس کی سماعت کے لیے 11 بجے کا وقت مقرر تھا لیکن ان کے وکلا کی آمد سے بھی قبل قریباً 9 بجے انھیں اطلاع دی گئی کہ جج صاحب آ گئے ہیں۔

    ’میری نقل و حرکت جیل تک محدود ہے اور میرا قانونی حق تھا کہ میں وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی دو مقدمات میں جج ابولحسنات اور جج محمد بشیر ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنا چکے ہیں بالکل اسی طرح اس کیس کا فیصلہ بھی سنایا جا سکتا تھا۔

    ’مگر میری عدم موجودگی کا جواز بنا کر فیصلہ موخر کر دینا انتہائی مضحکہ خیز اور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’ملٹری تحویل میں ہمارے کارکنان کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ ’ملٹری تحویل میں ہمارے کارکنان کو سخت ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو ایک خط لکھیں گے ’تاکہ ان بے قصور شہریوں کی شنوائی ہو۔‘

    ’میرا اوورسیز پاکستانیوں سے بھی مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے اپنی آواز بلند کریں۔‘

  3. بلوچستان: کوئٹہ میں 12 کانکنوں کی ہلاکت پر ملزمان کی گرفتاری کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں 12 کانکنوں کی ہلاکت پر نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

    ضلع کوئٹہ کے علاقے سنجدی میں ایک کوئلے کی کان میں اس واقعے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مائنز انسپکٹر کو معطل کر کے تحقیقات چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو منتقل کی جائے۔

    یہ حکم وزیر اعلیٰ نے منگل کو کانوں میں حادثات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیا جس میں خیبر پخونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    خیال رہے کہ سنجدی کی ایک نجی کان میں ہلاک ہونے والے 12 کانکنوں میں سے 11 کا تعلق شانگلہ اور خیبر پختونخوا کے دوسرے علاقوں سے تھا۔

    پیر کی شب پانچ روز بعد پھنسے ہوئے آخری کانکن کی لاش کو نکالنے کے بعد کان کو حکام نے سیل کر دیا گیا ہے۔

    کان میں گذشتہ جمعرات کو گیس بھر جانے کے باعث دھماکے کے نتیجے میں 12 کانکن پھنس گئے تھے۔ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کے راستے بند ہونے سے فوری طور پر ریسکیو کا کام شروع نہیں کیا جاسکا جس کے باعث کان میں پھنسے کسی بھی کانکن کو زندہ نہیں بچایا جاسکا۔

    کان کے مالک شیخ عبدالعزیز سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلٰی نے محکمہ مائینز کی معائنہ ٹیموں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی جواز نہیں کہ امن و امان کے باعث انسپکٹرز کانوں تک نہیں جاسکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو ملازمین جس کام کے لیے بھرتی ہوئے ہیں اگر وہ اپنا کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ حادثات کی ذمہ داری کا واضح تعین کر کے ذمہ داروں کو سزا دینی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی کمپنی کی کان میں ایک سال کے دوران دوسرا حادثہ بظاہر غیر ذمہ داری کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں جدید مائننگ کی حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں اور مائینز کی ریگولر انسپیکشن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

  4. غزہ اور اسرائیل میں جنگ بندی کے امکان پر کیا تاثرات ہیں؟

    غزہ
    ،تصویر کا کیپشنغزہ کی رہائشی سنابل کے مطابق وہ دل تھام کر اس لمحے کی منتظر ہیں

    بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈمز کے مطابق غزہ میں لوگوں کو اپنی زندگیوں کے سب سے مشکل 15 مہینوں کے بعد بھی جنگ بندی کی امید ہے کہ صرف اسی سے ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    شمالی غزہ کے ایک گھر میں رہائش پذیر اسما کہتی ہیں کہ ’آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ لوگ یہاں کتنے خوش اور کتنے پریشان ہیں۔‘

    ’ہر کوئی اس انتظار میں ہے جیسے وہ صرف اس اعلان کے بعد بچ سکیں گے۔‘

    اسما کا تعلق عزہ کی پٹی کے سب سے بڑے پناہ گزین کے کیمپ جبالیہ سے ہے۔ اکتوبر میں جب اسرائیلی فوج جبالیہ واپس آئی تو ان کے خاندان کو دوبارہ بے گھر ہونا پڑا۔ انھوں نے النصر میں اپنے دادا دادی کے گھر پناہ لی۔

    جبالیہ میں تب سے شدید لڑائی جاری ہے۔ اگر جنگ نہ رُکی تو اس خاندان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ انھوں نے دسمبر میں بتایا تھا کہ ’میرا پورا علاقہ مٹ چکا ہے۔‘

    اسرائیل میں جنگ بندی کے امکان پر کیا تاثرات ہیں؟

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دوسری طرف اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں نے آج ایک ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں تمام مغویوں کو رہا کیا جائے۔

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے میں ایک ساتھ تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

    انھی خاندانوں میں سے ایک کے رکن شے ڈکمین نے بتایا کہ انھیں تشویش ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی پر تاحال اتفاق نہیں ہوا۔

    ’ہم نے وزیر اعظم نتن یاہو کو بتایا اور انھوں نے اتفاق کیا کہ وقت بہت اہم ہے اور یرغمالیوں کے لیے یہ وقت اچھا نہیں۔‘

    یرغمالی شہری کے والد روبی شین نے کہا کہ ’ایسے معاہدے کا وقت ہے جس میں تمام یرغمالی شامل ہوں۔ ہم نے یہی مطالبہ کیا اور وزیر اعظم سے اسی کی توقع ہے۔‘

  5. غزہ میں جنگ بندی کا امکان: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    غزہ، جنگ بندی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر بظاہر کچھ پیشرفت نظر آ رہی ہے جس سے غزہ میں 15 ماہ سے جاری جنگ رُک سکتی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوسکتی ہے۔

    • آج صبح دوحہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہوئی ہے۔ ثالث قطر کا کہنا ہے کہ فریقین معاہدے کے ’کافی قریب ہیں۔‘
    • غزہ میں نامہ نگار رشدی عبوالوف کے مطابق معاہدے کے تین مرحلے ہو سکتے ہیں جن میں پہلے روز تین یرغمالیوں کی رہائی ہوگی اور اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہو جائے گا۔
    • نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اسرائیلی حکومت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں ’پیشرفت ہوئی ہے‘ لیکن ابھی معاہدے کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ مغربی کنارے میں فلسطینی جماعت پی این آئی کے رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں لگتا ہے حماس نے معاہدہ منظور کر لیا ہے۔
    • ثالثی کے ایک ماہر کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم 20 جنوری تک معاہدے پر اتفاق کو موخر کر سکتے ہیں۔ اس روز نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھائیں گے۔ ’فارورڈ تھنکنگ‘ نامی تنظیم کے سربراہ اولیور میکٹرننن کے مطابق یہ نتن یاہو کا نئے امریکی صدر کے لیے ’تحفے ہوگا۔‘
    • امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ غزہ میں جنگ نے خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اب ’نئے حقیقت تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ جنگ بندی ہوگی اور بال ’حماس کے کورٹ میں ہے۔‘
  6. غزہ میں جنگ بندی: مذاکرات پر حماس کو ’اطمینان‘ اور اسرائیل کی ’حقیقی پیش رفت‘ کی تصدیق, لوسی ولیمسن، نمائندہ برائے مشرقِ وسطی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس نے اسرائیل کے ساتھ قطر میں جاری مذاکرات پر ’اطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ بات چیت کا یہ مرحلہ کسی معاہدے پر ختم ہوگا۔

    منگل کو جاری ایک بیان میں مسلح گروہ کا کہنا تھا کہ اسے امید ہے کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ کسی ’واضح اور جامع معاہدے‘ پر اختتام پزیر ہوگا۔

    دوسری جانب ایک اسرائیلی حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطر میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں گذشتہ کئی دنوں میں ’حقیقی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اسرائیلی حکومتی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ قطر میں جاری مذاکرات ایک اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ’نومبر 2023 کے بعد ہم پہلی مرتبہ حماس کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ وہ (حماس) مذاکرات کا کھیل نہیں کھیل رہے۔‘

    ان کا کہنا ہے تھا وہ کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن ’یہ کوئی حتمی بات نہیں۔‘

    اسرائیلی حکومتی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 33 افراد کو رہا کیا جانا ہے اور اس حوالے سے ایک فہرست مسلح گروہ کو دی گئی ہے تاکہ تصدیق ہو سکے کہ ان میں سے کتنے افراد زندہ ہیں۔

    اسرائیلی حکومتی اہلکار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یرغمالیوں کے بدلے میں متوقع طور پر رہا کیے جانے والے ’سینکڑوں‘ فلسطینی قیدیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے انتظامات پر بھی غور جاری ہے۔

    اسرائیل چاہتا ہے کہ قتل کے مقدمات میں سزایافتہ قیدیوں کو غرب اردن میں نہ چھوڑا جائے۔

    اس اسرائیلی حکومتی عہدیدار کے مطابق اسرائیل متوقع جنگ بندی کے پیشِ نظر سکیورٹی انتظامات پر بھی غور کر رہا ہے جس میں غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر ایک بفر زون برقرار رکھنا شامل ہے تاکہ ملک کے شمالی علاقوں میں واپس آنے والے افراد کی نگرانی کی جا سکے اور حماس کی جانب سے اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش کو روکا جا سکے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں حماس کے اتحادیوں کا کمزور ہونا، مسلح گروہ پر اندرونی دباؤ اور مذاکراتی عمل میں امریکی انتظامیہ کی دلچسپی کے سبب معاہدے کے ’نئے امکانات‘ پیدا ہوئے ہیں۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’جب تک ہمارے تمام یرغمالی گھر واپس نہیں لوٹ جاتے ہیں ہم غزہ کی پٹّی کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

  7. غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ قریب لیکن مذاکراتی عمل اب بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے, پال ایڈمز، نمائندہ سفارتی امور

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماضی کے مقابلے میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان کوئی معاہدہ اب زیادہ قریب نظر آ رہا ہے۔

    کچھ دیر پہلے قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ’سامنے موجود مسائل کو حل کر لیا گیا ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘

    لیکن ماجد الانصاری نے اپنی گفتگو میں ایک اور اہم بات یہ بھی کی کہ: ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ معاہدہ ابھی حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔‘

    مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم اس مقام پر پہلے بھی کئی مرتبہ آ چکے ہیں اور ایسا ہمیں کرسمس سے پہلے بھی محسوس ہوا تھا۔

    دانشمندی یہی ہوگی کہ ہم آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق زیادہ امیدیں نہیں رکھیں۔ ہو سکتا ہے کہ جلد ہی معاہدے کی کچھ تفصیلات سامنے آنی شروع ہو جائیں لیکن یہاں بہت ساری وجوہات ہیں جن کے سبب یہ مذاکرات کا عمل خراب ہو سکتا ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حماس اور اسرائیل ’اب بھی (معاہدے کی) تفصیلات میں گُم ہو سکتے ہیں۔‘

    ’چھوٹے سے چھوٹا نقطہ بھی پورے عمل کو خراب کر سکتا ہے۔‘

    یہاں ایسی بہت سی وجوہات ہیں جن کے سبب مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی میت کی واپسی بھی کسی معاہدے کا حصہ ہو گی۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں یحییٰ سنوار کی زندگی کے آخری لمحات کو ایک اسرائیلی ڈرون نے اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔

    لیکن یہاں ایک ایسی قابلِ ذکر بات بھی ہے جسے سُن کر محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ شاید غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو ہی جائے۔

    ہمیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 15 مہینوں میں پہلی مرتبہ حماس اور اسرائیل کے مذاکرات کار ایک ہی چھت تلے موجود ہیں۔

    تاہم یہ مذاکرات ایک دوسرے کے سامنے نہیں بیٹھے ہوئے اور ماضی میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ دونوں کے درمیان قطری اور امریکی حکام ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک سابق افسر نے مجھے بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات میں حصہ لینے والے حماس اور اسرائیلی وفود ماضی میں قاہرہ میں ایک ہی سڑک پر مختلف عمارتوں میں موجود ہوتے تھے۔

    اگر اس بار فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تب بھی یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ حماس اور اسرائیل کے مذاکرات کار آپس میں ہاتھ ملا کر اس کا اعلان کریں گے۔

    لیکن فریقین اب ایک ہی چھت تلے موجود ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزاکرات کاروں کے درمیان اختلافات میں کچھ کمی آئی ہے۔

  8. غزہ جنگ: بے گھر ہونے والے افراد سخت سردی میں ساحلِ سمندر پر رہنے پر مجبور, یولانڈے نیل، نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    غزہ کے ساحلوں پر سیر نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہاں وہ لاکھوں لوگ خیمہ زن ہیں جنھیں جنگ کے دوران اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا تھا۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً تمام 23 لاکھ آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور ہر 10 میں سے نو افراد کسی پناہ گاہ یا خیمہ بستی میں رہ رہے ہیں۔

    سردیوں میں وہاں درجہ حرارت تیزی سے نیچے گِر رہا ہے اور اسی سبب لوگوں کی بڑی تعداد بیماریوں میں مبتلا ہے۔ یہاں سڑکوں پر بارش اور گٹر کے پانی نے سڑکوں پر سیلاب کی سی صورتحال بنا رکھی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پورے غزہ میں دواؤں، کھانے اور رہائش کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔

    حکام اس صورتحال کو ’قیامت خیز‘ قرار دے رہے ہیں۔

    جنوبی اور وسطی غزہ میں کھانا اور دیگر اشیا فراہم کرنے والے فلاحی اداروں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔

    خان یونس کی رہائشی سلویٰ ابو نمر نے بی بی سی کو روتے ہوئے بتایا کہ ’جب یہاں بارش ہوتی ہے تو ہم بھیگ جاتے ہیں۔ ہمارے پاس نہ آٹا ہے، نہ کھانا ہے، نہ پینے کے لیے کچھ اور نہ ہی رہائش۔‘

    ’میں یہ کیا زندگی جی رہی ہوں؟ میں اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے ماری ماری پھر رہی ہوں۔‘

  9. ماضی کے مقابلے میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بہت قریب ہیں: قطر

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ آج جنگ بندی کا اعلان ہوگا یا نہیں۔

    منگل کو ایک میڈیا بریفنگ کے دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے اعلان کے حوالے سے کوئی حتمی وقت دینا ’ابھی بہت مشکل ہے‘ لیکن ’ہم ماضی کے مقابلے میں کسی ممکنہ جنگ بندی (کے معاہدے) کے بہت قریب ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ (جنگ بندی کے معاہدے کے) دو ڈرافٹس فریقین کو دیے جا چکے ہیں۔‘

    ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس معاہدے کے حوالے سے پُرامید ہیں۔‘

    ماجد الانصاری کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری فریقین سے درخواست‘ ہے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کر کے جتنی جلدی ممکن ہو سکے جنگ ختم کریں۔

    خیال رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں قطر بطور ثالث اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق ’بڑے چیلنجز کو عبور کر لیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مذاکرات کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’چھوٹے سے چھوٹا نقطہ بھی پورے عمل کو خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔‘

  10. ڈی چوک احتجاج: عدالت نے 13 مقدمات میں بشریٰ بی بی کی ضمانتیں منظور کر لیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے 13 مقدمات میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانتیں منظور کرلی ہیں۔

    منگل کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں بشریٰ بی بی کی ڈی چوک احتجاج کے 13 مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس دوران بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت وکلا کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر جگہ کہتے ہیں وی آئی پی پروٹوکول ملے، ایسا نہیں ہو سکتا، میں نےآپ کو انتظار نہیں کروایا، میں فیصلہ لکھوا رہا تھا وہ چھوڑ کر آپ کی ضمانتوں پر سماعت کررہا ہوں۔‘

    عدالت میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں: تھانہ سیکرٹریٹ میں تین، تھانہ مارگلہ میں دو اور تھانہ کراچی کمپنی میں بھی دو مقدمات درج ہیں۔

    اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ رمنا میں دو، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک، ایک مقدمہ درج ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے پانچ، پانچ ہزار روپے مچلکوں پر بشریٰ بی بی کی7 فروری تک عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کو ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  11. نو مئی کی سازش کرنے والے یا ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی خصوصی کورٹ میں ہی ہوگا: وکیل وزارت دفاع

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں مختلف سوالات کے سامنے آنے کے بعد سماعت کل یعنی بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ نو مئی کو کیسے لوگ بغیر ہتھیاروں کے کور کمانڈر ہاؤس میں پہنچے؟ کیا 9 مئی میں کسی فوجی افسر کے ملوث ہونے پر ٹرائل ہوا؟۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’کسی فوجی افسر کا ٹرائل نہیں ہوا۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ آرمی ایکٹ کا دائرہ جتنا آپ وسیع کر رہے ہیں، اس میں تو کوئی بھی آسکتا ہے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایف بی علی کیس مارشل لا دور کا ہے، ذوالفقار علی بھٹو سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے، جنھیں ہٹانے کی کوشش میں ایف بی علی کیس بنا تھا۔

    خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین پر الزام املاک کو نقصان پہنچانے کا ہے، 9 مئی کے واقعے میں کسی فوجی افسر کا ٹرائل نہیں ہوا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’ایف بی علی کیس میں آخر کوئی ماسٹر مائنڈ بھی ہوگا، سازش کس نے کی ہوگی۔‘

    اس پر وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث کہ کہنا تھا کہ ’سازش کرنے والے یا ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی خصوصی کورٹ میں ہی ہوگا۔‘

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کر دی۔

  12. لاس اینجلس میں 38 ہزار ایکڑ زمین آتش زدگی سے متاثر، ہزاروں گھر بجلی سے محروم

    Los Angeles

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ میں اب تک 12,000 سے زیادہ عمارتیں، گھر، دکانیں، شیڈز اور گاڑیاں تباہ ہو چُکی ہیں۔ بے قابو آگ کی وجہ سے ایٹن سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 7،000 سے زیادہ مکانات اور گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔

    موسم کی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’ایکو ویدر‘ کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکہ میں لگنے والی آگ کی وجہ سے 250 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم اس آگ کی وجہ سے لاس اینجلس میں اپنے گھروں سے محروم ہونے والی مشہور شخصیات میں میل گبسن، لیٹن میسر اور ایڈم بروڈی شامل ہیں۔

    امریکہ میں لگی آگ کی وجہ سے جہاں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے وہیں اب بھی ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہیں۔

    USA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ میں آگ کہاں کہاں لگی ہوئی ہے؟

    کیلیفورنیا کے فائر حکام کا کہنا ہے کہ وسیع علاقے میں دو مقامات ایسے ہیں کہ جہاں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ایک اور مقام پر لگنے والی آگ پر تقریباً قابو پا لیا گیا ہے۔

    پالیساڈس: یہ وہ مقام تھا کہ جسے ایک ہفتہ قبل لگنے والی آگ نے سب سے پہلے متاثر کیا اور اس کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ یہاں لگنے والی آگ نے اب تک 23،713 ایکڑ زمین کو جلا دیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ پیر تک اس پر 14 فیصد قابو پا لیا گیا تھا۔

    ایٹن: لاس اینجلس کے اس شمالی حصے کو بھی آگ نے شدید نقصان پہنچایا۔ اس علاقے میں آگ نے 14,000 ایکڑ سے زیادہ کے رقبے کو نقصان پہنچایا۔

    ہرسٹ: سان فرنینڈو کے شمال میں واقع ہرسٹ نامی اس علاقے کو گزشتہ منگل کے روز آگ نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ اگ کی وجہ سے پرسٹ میں 799 ایکڑ تک زمین کو آگ نے متاثر کیا اور یہاں تقریباً مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    اس سے قبل کینتھ، آرچر، سن سیٹ، لیڈیا، ووڈلی اور اولیوس میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔

    Los Angeles

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں لگی آگ آخر کب ختم ہوگی؟

    اس بارے میں امریکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ لاس اینجلس کی آگ آخر کار کب ختم ہوگی۔ اگلے چند دنوں میں چلنے والی تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔

    سانتا انا ہوائیں جس نے آگ کے شعلوں کو بھڑکایا تھا منگل کے روز ان میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ جس کے بعد لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب مُنتقل ہونے اور محتاط رہنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

  13. صوبہ خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران 8 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 اور 13 جنوری 2024 کو صوبہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ واقعات میں آٹھ شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ٹانک میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا تھا۔ آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

    تاہم ایک اور کارروائی میں ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ایک جھڑپ کے دوران دو شدت پسند ہلاک ہوئے۔

  14. لاس اینجلس میں آگ سے 24 افراد ہلاک اور 250 ارب ڈالر کا نقصان، جنگلات میں آگ کیسے لگی؟

    Los Angeles wildfires

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں چند روز قبل لگنے والی خطرناک آگ پر متعدد مقامات پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

    مقامی حکام نے لاس اینجلس میں آگ لگنے کی وجہ تیز ہواؤں اور خشک موسم کو قرار دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا میں لاس اینجلس اور اس کے مضافاتی علاقوں کے جنگل میں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے اور فائر ڈپارٹمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے اس پر قابو پانے کی کوششیں منگل اور بدھ کو تیز ہواؤں کی وجہ سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

    اس آگ کے باعث اب تک اربوں ڈالر کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اتوار کو موسم کی نگرانی کرنے والی ایک نجی کمپنی نے آگ لگنے سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر لگایا۔

    آگ لگنے کی وجہ کیا ہے؟

    ایل اے کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے کہا کہ آگ کے لگنے کی ممکنہ وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات مکمل ہو چُکی ہیں۔‘

    امریکہ میں آتشزدگی کا سب سے بڑا اور عام ذریعہ آسمانی بجلی کے گرنے کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ بھی لاس اینجلس کے دو اہم علاقے پالیسیڈس اور ایٹن میں لگنے والی آگ کی وجہ آسمانی بجلی کے گرنے کو ہی قرار دیا گیا ہے۔

    Los Angeles wildfires

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم ابھی تک اس بات کا کوئی سرکاری اشارہ نہیں ملا ہے کہ امریکہ میں لگنے کی وجہ آسمانی بجلی ہے، خشک موسم یا کسی اور وجہ سے اتنی شدید آگ لگی۔

    تاہم ایٹن فائر کیس میں ایک قانونی فرم نے پیر کے روز الیکٹریکل کمپنی سدرن کیلیفورنیا ایڈیسن کمپنی (ایس سی ای) کے خلاف شکایت درج کرائی اور دعویٰ کیا کہ اس بات کے ’شواہد‘ موجود ہیں کہ سب سے بڑی آگ ’غفلت‘ کی وجہ سے لگی۔

    لا فرم بریڈفورڈ گلیسن اینڈ آرٹینیئن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ ایٹن فائر ایس سی ای کی جانب سے ایٹن کینین سے گزرنے والی اپنی اوور ہیڈ تاروں کو متحرک کرنے میں ناکامی کی وجہ سے لگی۔

    قانونی فرم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دعوے کی بنیاد اپنی تحقیقات، مختلف کنسلٹنٹس کے ساتھ بات چیت، ایس سی ای کے عوامی بیانات اور آگ کی اصل کے ویڈیو شواہد پر مبنی ہے۔

    جنگلات میں لگی آگ کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور سرکاری طور پر اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

    Los Angeles wildfires

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایس سی ای نے ایک بیان میں کہا کہ اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ابھی تک شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایس سی اے ترجمان گیبریلا اورنیلاس نے بی بی سی کو بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا اور کمپنی آگ سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

    جمعے کے روز ایس سی ای نے کہا کہ ایل اے فائر حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس کا بنیادی ڈھانچہ ہرسٹ میں لگنے والی آگ کی وجہ بنا ہے یا نہیں۔

    غیر معمولی طور لاس اینجلس میں خشک موسم یا بارش کی کمی اور وہ سمندری ہوائیں جنھیں سانتا انا کے نام سے جانا جاتا ہے مل کر جنگل کی آگ کے لئے موزوں حالات پیدا کیے ہیں۔

  15. غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، فلسطینی عہدیدار

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق ایک فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فریقین کے مابین غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ فریقین کے درمیان معاہدہ ایک اہم موڑ پر ہے جہاں اس کے نتیجہ خیز ثابت ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اسی کے ساتھ امریکی انتظامیہ بھی اس معاملے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہ بھی بتایا کہ مذاکرات ’آخری مراحل‘ میں ہیں اور ’گھنٹوں، دنوں یا اس سے زیادہ‘ میں معاہدہ ممکن ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور پیر کو قطر کے شیخ تمیم بن حماد الثانی سے بات چیت کی۔

    فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس اور اسرائیلی حکام پیر کے روز ایک ہی عمارت میں بالواسطہ بات چیت کر رہے تھے۔

    معاہدے کی کچھ ممکنہ تفصیلات سے متعلق بتانے ہوئے فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ ’تفصیلی تکنیکی بات چیت میں کافی وقت لگا۔‘

    فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حماس معاہدے کے پہلے دن تین یرغمالیوں کو رہا کرے گی جس کے بعد اسرائیل آبادی والے علاقوں سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کر دے گا۔

    سات دن بعد حماس مزید چار یرغمالیوں کو رہا کر دے گی اور اسرائیل جنوبی علاقوں میں بے گھر ہونے والے افراد کو شمال کی طرف لوٹنے کی اجازت دے گا، لیکن صرف ساحلی راستے سے اور وہ بھی پیدل۔

    تاہم نقل و حمل کے لیے صلاح الدین روڈ سے متصل راستے سے گزرنے کی اجازت ہوگی، جس کی نگرانی قطری اور مصری ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کے ذریعے کی جائے گی۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    معاہدے میں اسرائیلی افواج کو فلاڈیلفی کوریڈور میں رہنے اور پہلے مرحلے کے دوران مشرقی اور شمالی سرحدوں کے ساتھ 800 میٹر بفر زون برقرار رکھنے کی شقیں شامل ہیں، جو 42 دن تک جاری رہیں گی۔

    اسرائیل نے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے جن میں سے تقریباً 190 ایسے ہیں جو 15 سال یا اس سے زائد کی سزا کاٹ چُکے ہیں۔ اس کے بدلے حماس 34 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔

    معاہدے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے مذاکرات جنگ بندی کے 16 ویں دن شروع ہوں گے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ پیر کے روز غزہ شہر پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’انھوں نے سکولوں، گھروں اور یہاں تک کہ لوگوں کے اجتماعات پر بھی بمباری کی۔‘

    تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ پیر کے روز غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔‘

  16. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر:

    • پاکستان کے دفترِ خارجہ نے برطانیہ میں پاکستانی برادری کے بارے میں حالیہ نفرت آمیز بیانات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے افعال کی بنیاد پر ایسی بڑی اور متنوع کمیونٹی کو بدنام کرنا قابلِ مذمت ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی دوستی گرمجوشی، مستحکم تعاون اور اعتماد پر مبنی ہے اور کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا یہ رشتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترجیح ہے۔
    • خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور گزشتہ روز مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے دو بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کیا۔ مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایک ایک بنکر دونوں جانب سے مسمار کیے گئے ان میں ایک بنکر بالیش خیل اور دوسرا بنکر خار کلی میں مسمار کیا گیا۔ لوئر کرم کے پولیس افسر نے بتایا کہ ایک ایک مورچہ مسمار کر دیا ہے اور باقی مورچے پھر کل یعنی منگل کے روز مسمار کیے جائیں گے کیونکہ اب کافی اندھیرا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگ بنکرز گرانے کے حق میں نہیں تھے لیکن کوئی بڑی مخالفت سامنے نہیں آئی۔
    • چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے پیر کے روز سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی جس میں صحافیوں کو عدالتی کارروائی کے دوران پیش آنے والی مشکلات سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے، ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، ججز پر تنقید ہونی چاہیے لیکن یہ تعمیری تنقید ہو۔
    • امریکہ میں لگی آگ پر قابو پانی کی کوششیں تا حال جاری ہیں۔ لاس اینجلس میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کئی طیارے لگاتار آگ پر گلابی رنگ کا مائع گراتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ گلابی مادہ پانی، نمکیات، کیمیکلز اور کھادوں کا مرکب ہے۔ اس میں بنیادی طور پر امونیم فاسفیٹ کے ساتھ ملا ہوا محلول ہوتا ہے۔ دراصل یہ فائر ریٹارڈنٹ یعنی ایسا مادہ ہے جو آگ یا جلنے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والے اس کیمیکل کو گلابی رنگ دیا جاتا ہے تاکہ فائر فائٹرز کو معلوم ہو کہ یہ کہاں استعمال ہوا ہے۔
  17. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    گزشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔