عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ موخر، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا فیصلہ موخر کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کا پہلا اجلاس آج متوقع ہے۔

خلاصہ

  • اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کا عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ مان لیا ہے۔
  • سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو مذاکرات میں کامیابی کی امید ہے۔
  • سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا فیصلہ اب چھ جنوری کو سنایا جائے گا۔
  • یورپی یونین نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو نو مئی کے پُرتشدد احتجاج پر سزائیں دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
  • وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جن 25 ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئیں ان کے خلاف ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
  • وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے: بیرسٹر عقیل

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کچھ دنوں میں کیا جائے گا اور اس میں حکومت کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہوں گے۔

    بیرسٹر عقیل کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں اور حکومت اس عمل کے لیے سنجیدہ ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ’سول نافرمانی کی تلوار لٹکا کر مذاکرات کی پیشکش کریں۔‘

    ادھر ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت پہلے بھی مذاکرات کے لیے سنجیدہ تھی اوراب بھی ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تمام تر مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ دسمبر کے اوائل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’سٹیک ہولڈرز سے‘ مذاکرات کے لیے عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 پاؤنڈز کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے جو 23 دسمبر کو سنایا جائے گا۔

  2. خیبر پختونخوا کی ایپکس کمیٹی کا کُرم میں تمام بنکرز اور بھاری اسلحہ ختم کرنے کا فیصلہ، وفاق سے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہKPK Govt

    خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی نے کُرم میں قیام امن کے لیے تمام بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں مشترکہ طور پر خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ کے علاوہ کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوااور اعلیٰ سول و عسکری حکام کی شرکت کی۔

    اجلاس میں ایپکس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کُرم میں بنکرز اور اسلحے کے خاتمے کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ کُرم میں ادویہ اور دیگر اشیا بروقت فراہم کی جائیں گی۔

    اجلاس میں امن امان کے لیے قائم گرینڈ جرگہ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور نگراں کمیٹی کو صلح کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گرینڈ جرگہ سے ملاقاتیں جاری رہیں گی۔

    اجلاس میں کن امور پر اتفاق ہوا؟

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ کے علاوہ کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوااور اعلیٰ سول و عسکری حکام کی شرکت کی۔

    اجلاس میں ضلع کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے طویل مشاورت کے بعد لائحہ عمل کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اجلاس میں کرم کے دونوں فریقین سے اسلحہ جمع کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ دونوں فریق تمام اسلحہ جمع کریں گے جس کے لیے فریقین حکومت کی ثالثی میں آپس میں ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    Kurrum

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق ’معاہدے میں رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرنے کے لئے دونوں فریق 15 دنوں میں لائحہ عمل دیں گے۔‘ اجلاس کے مطابق ’یکم فروری تک تمام اسلحہ انتظامیہ کے پاس جمع کیا جائے۔ یکم فروری تک علاقے میں قائم تمام بنکر مسمار کئے جائیں گے۔ اسی دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاقے کا زمینی راستہ وقفے وقفے سے عارضی طور پر کھول دیا جائے گا۔ زمینی راستے پر آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لئے سکیورٹی میکنزم ترتیب دیا گیا،پولیس اور ایف سی قافلوں کو مشترکہ طور پر سکیورٹی فراہم کریں گے۔‘

    علاقے میں آمدورفت کے مسئلے کے حل کےلیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی ائیر سروس شروع کی جائے گی جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیلی کاپٹر فراہم کریں گی۔

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ فریقین زمینی راستے کو ہمہ وقت کھلا رکھنے کے لیے کسی بھی پرتشدد کارروائی سے اجتناب کریں ورنہ انتظامیہ راستے کو دوبارہ بند کرنے پر مجبور ہو گی۔

    اعلامیے کے مطابق علاقے میں فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے والے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کیا جائے گا۔ اجلاس میں میں تیراہ اور جانی خیل میں سکیورٹی کی تازہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ’ان علاقوں میں پچھلے کچھ عرصے سے دہشتگردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کچھ علاقوں میں سے عارضی نقل مکانی کروائی جا سکتی ہے۔‘

    ان علاقوں کے لوگ کسی بھی نقصان سے بچنے کے لیے علاقے میں موجود شرپسندوں کو نکالنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

    Kurrum

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Ali Asghar

    اجلاس کے اعلامیے کے مطابق کرم کا مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ ایک قومی اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر کسی کو اپنی سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق اس ’مسئلے پر بعض سیاسی قائدین کی طرف سے سیاسی بیانات قابل افسوس ہیں۔‘

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کرم کے مسئلے پر صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور تمام متعلقہ ادارے ایک ہی پیج پر ہیں۔‘

    اجلاس کے مطابق کرم میں بچوں کی اموات کو غلط رنگ دیا جا رہاہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ صوبائی حکومت نے کرم کے مسئلے کو جرگوں کے ذریعے پر امن انداز میں حل کرنے کی تمام کوششیں کی ہیں۔ امید ہے مسئلے کے پائیدار حل کے لئے فریقین حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق ’علاقے کے لوگوں کی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔‘

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہKPK Govt

    ’صوبے میں امن و امان کے لیے وفاقی حکومت اقدامات اُٹھائے‘

    وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لیے وفاقی حکومت اقدامات اُٹھائے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک بھر میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہر سطح پر امن یقینی بنانے کے لیے اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا اور عسکری حکام نے بریفنگ دی۔

  3. مدارس بل پر وزیراعظم نے عملی اقدامات کی ہدایات کر دیں، ایک آدھ دن میں خوشخبری ملے گی: مولانا فضل الرحمان

    JUI

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس رجسٹریشن بل سے متعلق ایک آدھ دن میں خوشخبری سننے کو ملے گی۔

    جمعے کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت قانون کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ آئین اور قانون کے مطابق فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔‘

    ان کے مطابق ’ہمیں امید ہے کہ ہمارے مطالبے کے مطابق ان ہدایات پر عمل ہو گا۔‘ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم کے علاوہ مسلم ن کے رہنما، سپیکر قومی اسمبلی، پی پی پی کے رہنما اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔

    JUI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ’ہم نے اپنا مؤقف دہرایا اور یہ بات واضح کی کہ دونوں ایوانوں سے بل منظور ہو جانے کے بعد اب وہ ایکٹ بن چکا ہے، اگر صدر صاحب نے اعتراض کرنا ہے تو ایک اعتراض ہو چکا۔ سپیکر صاحب نے آئین اور قانون کے مطابق جواب بھی دے دیا اس پر صدر صاحب نے کوئی ردعمل نہیں دیا، نہ اپنے اعتراض پر انھوں نے اصرار کیا۔‘

    ان کے مطابق ’صدر کو دوسرے اعتراض کا اختیار نہیں تھا اور انھوں نے آئینی مدت گزرنے کے بعد یہ اعتراض بھیجا ہے۔ وہ بھی ابھی تک سپیکر کے دفتر تک نہیں پہنچا جبکہ یہ دونوں دفاتر کے درمیان براہ راست ایک معاملہ ہے۔‘

    انھوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بار بار یہ کہا کہ مدارس رجسٹریشن بل کا معاملہ ’آئین اور قاننون کے تحت حل ہو جائے گا۔‘

    مولانا فضل الرحمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔

    اُن دو مطالبات میں ایک تو پاکستان سے سود کے نظام کا بتدریج خاتمہ تھا جبکہ دوسرا اہم مطالبہ ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو محکمہ تعلیم کی بجائے پرانے سوسائیٹیز ایکٹ 1860کے ماتحت لانا تھا۔

    تاہم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو بھیج دیا۔

    اور یہیں سے اس معاملے کی ابتدا ہوئی جس کے پس منظر میں جے یو آئی ف کے چند رہنماؤں کی جانب سے گذشتہ دنوں ’مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ‘ کی بات کی گئی جبکہ گذشتہ روز (نو دسمبر) کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے حکمراں اتحاد پر الزام عائد کیا کہ وہ ’علما کو تقسیم کرنے کی سازش‘ پر عمل پیرا ہے۔

    مولانا حالیہ دنوں میں یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات میں مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔

    یہاں اہم سوالات یہ ہیں کہ آخر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہے کیا؟ نئے ترمیمی بِل میں رجسٹریشن سے متعلق کیا بات کی گئی ہے اور آخر اس معاملے نے حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمان کو حکمراں اتحاد کے سامنے کیوں کھڑا کر دیا ہے؟

  4. سابق ایم این اے علی وزیر کی رہائی کے لیے وانا میں جلسہ، ’رہائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ اسلام آباد تک وسیع کریں گے‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    Wana

    ،تصویر کا ذریعہShahzadeen

    جنوبی وزیرستان کے صدرمقام وانا میں سابق ایم این اے علی وزیر کی رہائی کے لیے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں قبائلی مشران، سیاسی قائدین، علما کرام اور عام قبائل نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔

    جلسہ سے پہلے وانا بازار میں ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی اور ریلی کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر علی وزیر کی غیر قانونی‘ قید کو ختم کرانے اور ان کی جلد رہائی کے نعرے درج تھے۔

    پشتین تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے عبدلصمد لالہ اور حنیف پشتین کے علاوہ جمعیت علما اسلام ف اور پیپلز پارٹی کے مقامی قائدین نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔

    Ali Wazir

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ALIWAZIRNA50

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا مقررین نے کہا کہ علی وزیر پشتون قوم کے ایک بڑے اور بہادر لیڈر ہیں اور علی وزیر نہ صرف جنوبی وزیرستان کے منتخب نمائندہ رہے ہیں بلکہ انھوں نے ملک کی تمام محکوم قوموں کی ترجمانی کر کے کروڑوں لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گئے ہیں۔

    مقررین نے کہا کہ علی وزیر کے خاندان نے ملک کی آزادی سے لے کر حالیہ دہشتگردی کی جنگ تک بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان کے خاندان کے کئی افراد ملکی یکجہتی کے لیے مارے جا چکے ہیں۔

    جلسے کے سارے مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں علی وزیر کے خاندان کی قربانیوں کا ذکر کیا۔

    انھوں نے کہا کہ علی وزیر نے کوئی جرم نہیں کیا ہے لیکن ریاست اور ریاستی ادارے انھیں اس لیے برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہر فورم پر حق کی بات کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سیاست میں علی وزیر ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کے بغیر پشتون بیلٹ میں استحکام نہیں آ سکتا۔ انھوں نے کہا کہ علی وزیر پر جتنی آیف آئی آرز کاٹی گئی ہیں وہ ساری سیاسی اور انتقامی نوعیت کی ہیں۔ مقررین نے حکومت وقت سے علی وزیر کی جلد رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انھیں مزید جیل میں رکھنے کی کوشش کی گئی تو عوام احتجاج کا دائرہ اسلام آباد تک وسیع کردیں گے۔

  5. جے یو آئی کے سابق سینیٹر خالد محمود سومرو کے قتل میں چھ ملزمان کو عمر قید: ’ادھورا انصاف ملا ہے، ہمارا مطالبہ سزائے موت ہے‘

    Senator Khalid Mehmood Soomro

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    سکھر کی ایک انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سنہ 2014 میں قتل ہونے والے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر خالد محمود سومرو کے قتل کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے تمام چھ ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔

    ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے لواحقین نے اسے ادھورا انصاف قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے تا کہ ’جرم ثابت ہونے پر سزائے موت‘ ہو سکے۔

    واضح رہے کہ لاڑکانہ کے رہائشی سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو، جو ایک تقریب کے سلسلے میں شہر میں موجود تھے، کو 29 نومبر 2014 کو سکھر کے قریب گاؤں قریشی کے ایک مدرسے میں نمازِ فجر کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا اور پھر ہسپتال منتقلی کے دوران وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے تھے۔

    سکھر کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج عبدالرحمٰن قاضی نے جمعے کی صبح مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو قتل اور دہشت گردی کے الزام میں عمر قید جب کہ اسلحہ رکھنے کے الزام میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    گرفتار ملزمان میں حنیف بھٹو، مشتاق مہر، الطاف جمالی، لطف جمالی، سارنگ توتانی اور دریا خان جمالی شامل ہیں، جو سنہ 2014 سے سینٹرل جیل سکھر میں قید ہیں۔

    JUI

    ،تصویر کا ذریعہSoomroOfficialJUI

    اس فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جے یو آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ عدالت کے باہر میڈیا سے اپنے کارکنان اور میڈیا گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود سومرو کے بیٹے اور جے یو آئی کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب جرم ثابت ہوا ہے تو پھر بحیثیت بیٹے اور چھ بھائیوں سمیت۔۔ یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عمر قید نہیں سزائے موت دی جانی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ادھورا انصاف ملا ہے، فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور امن کے ساتھ انصاف حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

    اس مقدمے میں لواحقین کے وکیل اطہر عباس سولنگی نے کہا کہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس پر سکھر کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 10 سالوں کے دوران 450 سے زائد بار سماعتیں ہوئیں، ان سماعتوں کے دوران 17 گواہان پیش ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج ملزمان سے مخاطب ہو کر عدالت نے کہا کہ گواہان کی گواہی کے نتیجے میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ آپ پر جرم ثابت ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہی بڑی کامیابی تھی کہ عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں پر جرم ثابت ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب ہم سزائے موت کے لیے اپیل میں ہائیکورٹ جائیں گے۔‘

  6. وفاقی وزیر داخلہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات، ’کرم میں قیام امن کے لیے تبادلہ خیال‘

    Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے ملاقات میں صوبے اور بالخصوص کرم میں قیام امن یقنی بنانے سے متعلق بات کی ہے۔ اس وقت وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی جاری ہے، جس میں ’خیبرپختونخوا خصوصا کرم میں قیام امن کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

    تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز وزیر داخلہ پشاور میں وزیراعلی ہاؤس گئے اور وہاں وزیراعلیٰ سے ’خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔‘

    اس ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی وزیرداخلہ نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہPID

    محسن نقوی نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں پورا سپورٹ کریں گے۔‘ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔‘

    Para Chinar

    انھوں نے مزید کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرم میں پائیدار امن کا قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جان دینے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔‘

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ہمراہ سی ٹی ڈی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹرز کا بھی دورہ کریں گے۔

  7. پاکستان ایسی میزائل ٹیکنالوجی پر کام کیوں کر رہا ہے جو امریکہ کے خلاف استعمال ہو سکے؟ امریکی نائب قومی سلامتی مشیر جان فائنر

    امریکہ میں صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا کہنا ہے کہ حالیہ دور میں پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘

    امریکی تھنک ٹینگ کارنیگے انڈاؤمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بھی آگے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔‘

    امریکہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو دن پہلے ہی بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں اس میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس بھی شامل ہے۔

    امریکہ کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے جان فائنر کا کہنا تھا کہ ’ایسے ممالک کی فہرست چھوٹی ہے جو جوہری ہتھیار بھی رکھتے ہوں اور ان کے پاس براہِ راست امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی ہو اور وہ امریکہ کے مخالفین ہیں روس، شمالی کوریا اور چین۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ مشکل ہو گا کہ ہم پاکستان کے اقدامات کو امریکہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ مجھ سمیت ہماری انتظامیہ کے سینیئر رہنماؤں نے متعدد مرتبہ ان خدشات کا اظہار پاکستان کے سینیئر حکام کے سامنے کیا ہے۔‘

    قومی سلامتی کے نائب مشیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے امریکہ کا پارٹنر رہا ہے اور وہ مشترکہ مفادات پر پاکستان کے ساتھ مزید کام کرنے کی بھی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہمارے نزدیک یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ پاکستان ایسی صلاحیت کیوں استوار کر رہا ہے جو کہ ہمارے خلاف استعمال ہو سکے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان ہمارے اور بین الااقوامی برادری کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام ہوا ہے۔‘

  8. یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے نے ’غفلت برتنے‘ پر اپنے دو افسران کو گرفتار کر لیا

    وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یونان کشتی حادثے میں ملوث تین انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے دو افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے یونان کشتی حادثے میں متاثر ہونے والے پاکستانی کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسے دینے میں ملوث تین انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔‘

    ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار دو افسران فیصل آباد ائرپورٹ پر تعینات تھے اور بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے دوران ڈیوٹی مسافروں کی سکریننگ کے عمل میں غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق یونان کشتی حادثے میں 18 متاثرین نے فیصل آباد ائرپورٹ سے بیرون ملک سفر کیا تھا۔

    یاد رہے کہ یونان میں پیش آنے والے حادثے میں 17 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا تھا جبکہ سفیان نامی متاثرہ شہری کی کشتی حادثے میں ہلاکت ہو گئی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متاثرین سے ایجنٹ نے یونان جانے کے لیے بھاری رقوم وصول کیں۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور انسانی سمگلروں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • جی ایچ کیو حملہ کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
    • روس کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ شخص کو ماسکو میں سینئر جنرل ایگور کیریلوف اور ان کے معاون کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ نیوکلیئر، بائیولوجیکل، کیمیکل ڈیفینس افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کیریلوف منگل کی علی الصبح ایک رہائشی عمارت کے باہر تھے جب ایک الیکٹرک سکوٹر میں نصب ایک دھماکہ خیز ڈیوائس پھٹ گئی۔
    • پاکستان کی قومی اسمبلی نے نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 کی منظوری دے دی ہے۔ نیشنل فرانزک ایجنسی کو الیکٹرانک ڈیوائسز، ڈیجیٹل فرانزک، سائبر فرانزک، ڈیپ فیک اور دیگر الیکٹرانک اور سائبر جرائم کے فرانزک کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔‘
    • پاکستان کے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ایڈوائزری دائرہ اختیار میں عدالت کسی سابقہ فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی ہے۔ یاد رہے رواں سال مارچ میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف دائر ریفرنس میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کے خلاف دائر قتل کے کیس میں ان کا فیئر ٹرائل نہیں تھا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی بھی اُس نو رکنی بینچ کا حصہ تھے۔
    • راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ خود کریں گے۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں