آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کی صلاحیت کے حامل نظام کا انچارج کون ہے، حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے: اسلام آباد ہائیکورٹ

سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے لیے شہریوں کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگز بادی النظر میں قانونا درست نہیں اور توقع ہے وزیر اعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے

خلاصہ

  • بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے 40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کا انچارج کون ہے؟حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے
  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز پر ٹیکس یکم جولائی سے لگ جائے گا۔ لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباو محسوس کر رہے ہیں
  • صدر آصف علی زرداری نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے فنانس بل 25-2024 کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد اب مالیاتی بل یکم جولائی سے نافذ العمل ہو جائے گا
  • لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملے میں چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں عدلیہ میں سول و ملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کے لیے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں
  • افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر کا افغانستان کی قومی خودمختاری کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق بیان بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہے اور یہ کسی کے حق میں نہیں

لائیو کوریج

  1. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا معاملہ: سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ آج اپیل کی سماعت کرے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کرے گا۔

    گذشتہ روز اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت پر اپنی تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دی تھیں۔

    اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئیں معروضات میں کہا گیا ہے کہ جو سیاسی جماعت انتحابات میں حصہ لے اور کم از کم ایک سیٹ جیتے اسے مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں اور قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ فراہم کرنا ہوتی ہے۔

    ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ انتحابات میں حصہ لیا نہ مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع کرائی جبکہ مخصوص نشستیں اقلیتوں اور خواتین کے لیے رکھی گئی ہیں۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آزادامیدوار انھیں پارٹیوں میں شامل ہوسکتے جو پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔

    ان تحریری معروضات میں اٹارنی جنرل کی جانب سے مخصوص نشستیں نکالنے کا فارمولا بھی بتایا گیا ہے، جس کے تحت اقلیتوں، خواتین کو نمائندگی اور معاشرے میں اہمیت دینے کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جاتی ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے والی، کم سے کم ایک سیٹ جیتنے والی اور مخصوص نشستوں والی لسٹ مہیا کرنے والی سیاسی جماعتوں کو ہی مخصوص نشستیں مل سکتیں ہیں۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے مطابق آزادامیدوار سنی اتحاد کا حصہ پارلیمنٹ میں نہیں بن سکتے اور سنی اتحاد میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں کی حیثیت پارلیمنٹ میں آزاد امیدوار کی ہی ہو گی۔

    ان تحریری معروضات میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کا مخصوص نشستیں مانگنا آئین کے خلاف ہے کیونکہ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے کسی نے حصہ ہی نہیں لیا اور دوسرا یہ کہ الیکشن جیتنے پر ووٹرز کو مخصوص نشستوں کا معلوم نہیں تھا۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نون لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے اپنی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ انتخابات سے قبل جمع کروائی اور ان جماعتوں کو ووٹ دینے والے ووٹرز کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے انتخابات سے قبل معلوم تھا جبکہ اس کے برعکس سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل اپنا مینی فیسٹو عوام کو نہیں دیا۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بیک ڈور سے اسمبلیوں میں داخلے کی سنی اتحاد کو اجازت نہیں دی جا سکتی اور سنی اتحاد کی اپیل منظور ہونے سے جمہوریت کو خطرہ ہوگا اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا جائے گا۔

    ان تحریری معروضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتوں، خواتین کی مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو ہی ملتی ہیں جو سکروٹنی کے لیے لسٹ مہیا کرتی ہیں اور مخصوص نشستوں کا تعین کرنے کے لیے آزادامیدوار یا انتخابات میں حصہ نہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل کی جانب سے تحریری معروضات میں سنی اتحاد کونسل کی اپیل خارج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔

  2. امریکی ایوان نمائندگان کا پاکستانی انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ، ’ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد‘: پاکستان

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد کی منظوری کا نوٹس لے لیا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان سے سات کے مقابلے میں 368 ووٹوں سے منظور قراراداد میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کے الیکشن میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوام کو جمہوری عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے عوام کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں عوام کو جمہوری عمل میں حصہ لینے سے باز رکھنے کے لیے دھمکانے، ہراساں کرنے اور قید میں رکھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے جب کہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ و ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی میں تعطل اور انسانی، سول اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے ۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ قرارداد کی منظوری کا وقت اور حالات دوطرفہ تعلقات اور مثبت محرکات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق امریکی نمائندگان کی قرارداد پاکستان میں سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل سے نامکمل واقفیت کا نتیجہ ہے۔

    ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طور پر پانچویں سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق آئین پر عملداری، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کا پابند ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم تعمیری بات چیت اور مشغولیت پر یقین رکھتے ہیں۔

  3. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • وزیراعظم شہباز شریف کی تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش پر پاکستان تحریک انصاف نے بھی اپنی شرائط سامنے رکھ دیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے وزیراعظم کی پیشکش پر اپنے خطاب میں شرائط دہرائیں اور کہا عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں لکھا کہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے رپورٹ جمع کرائی ہے جس کے مطابق زرتاج گل کا نام محکمہ داخلہ پنجاب کے 16 مئی کے لیٹر پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔
    • آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
    • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی موجود نہیں، جس کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ایکس پر عمران خان کے اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ایس آئی، جس نے ملک کو دہشتگردی سے بچانا تھا، اسے پی ٹی آئی کو کچنے پر لگا دیا گیا۔‘
    • مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کا بیانیہ ملک کو غیر مستحکم کرنا اور افراتفری پھیلانا ہے، اس لیے ’حکومت کی کوشش ہو گی کہ انھیں جتنی دیر بھی ہو پابند رکھا جائے۔‘
  4. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید! اس لائیو کوریج کے دوران ہم آپ کو پاکستان کی سیاست، سکیورٹی، عدلیہ، معیشت اور دیگر امور سے متعلق آگاہ رکھیں گے۔

    گذشتہ دونوں کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔