آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کی صلاحیت کے حامل نظام کا انچارج کون ہے، حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے: اسلام آباد ہائیکورٹ

سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے لیے شہریوں کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگز بادی النظر میں قانونا درست نہیں اور توقع ہے وزیر اعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے

خلاصہ

  • بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے 40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کا انچارج کون ہے؟حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے
  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز پر ٹیکس یکم جولائی سے لگ جائے گا۔ لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباو محسوس کر رہے ہیں
  • صدر آصف علی زرداری نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے فنانس بل 25-2024 کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد اب مالیاتی بل یکم جولائی سے نافذ العمل ہو جائے گا
  • لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملے میں چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں عدلیہ میں سول و ملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کے لیے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں
  • افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر کا افغانستان کی قومی خودمختاری کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق بیان بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہے اور یہ کسی کے حق میں نہیں

لائیو کوریج

  1. ملکی معیشت میں ایف بی آر کا کلیدی کردار ہے، اصلاحات اور محصولات کا جائزہ خود لوں گا: وزیراعظم

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے امور پر وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملکی معیشت میں ایف بی آر کا کلیدی کردار ہے اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات اور محصولات کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت میں خود کروں گا۔‘

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے مختلف عدالتوں اور ٹریبولنلز میں زیر التوا کیسز کے حوالے سے بہترین وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مل جل کر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔‘

    اس اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، اراکین قومی اسمبلی چئیر مین ایف بی آر اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

    وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ ٹیکس سے متعلق مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے ’ان لینڈ ریونیو ایپیلیٹ ٹریبیونلز‘ کے ساتھ کسٹمز ایپیلیٹ ٹریبیونلز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔‘

    وزیراعظم نے ایف بی آر کے اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کے لیے اعزاز دینے کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینے کی بھی ہدایت کی۔

    دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایپیلیٹ ٹریبیونلز ان لینڈ ریونیو کے قیام کے حوالے سے کام کو آغاز ہو چکا ہے۔

  2. ڈپٹی کمشنر کیچ کے دفتر کے باہر لاپتہ افراد کے خاندانوں کا دھرنا دو ہفتوں سے جاری, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں آٹھ لاپتہ افراد کے خاندانوں کا احتجاجی دھرنا 14ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

    شدید گرمی میں یہ دھرنا ڈپٹی کمشنر کیچ کے دفتر کے باہر جاری ہے۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ یہ افراد تربت اور دیگر علاقوں سے لاپتہ ہوئے تھے۔

    کیچ میں دھرنے کے شرکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    دھرنے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ان کے خلاف اگر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

  3. فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کی غیر مشروط معافی قبول، سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے نوٹسز واپس لے لیے

    توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال اور فیصل واوڈا کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز واپس لے لیے ہیں۔ خیال رہے کہ دونوں رہنماؤں نے عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی مانگی تھی جسے اب قبول کر لیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے حکمنامے کے مطابق ’فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے۔ توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے۔

    ’اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی۔‘

    تاہم عدالت نے صطفی کمال اور فیصل ووڈا کی پریس کانفرس نشر کرنے پر ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔

    حکمنامے کے مطابق ’شوکاز نوٹس کا جواب چینلز مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے مشترکہ دستخط سے جمع کروائے جائیں۔ شوکاز نوٹس کے جواب میں پریس کانفرنس سے کمائی کی تفصیل بھی دی جائے۔‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، امید ہے آپ بھی ہماری کریں گے۔

    ’ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے عوام کو نقصان ہو گا۔ پارلیمان میں آرٹیکل 66 سے آپ کو تحفظ ہے لیکن باہر گفتگو کرنے سے آپ کو آرٹیکل 66 میسر نہیں ہو گا۔‘

    اس سے پہلے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو مصطفیٰ کمال کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ مصطفی کمال نے غیر مشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران فیصل واوڈا نے عدالت کو بتایا کہ وہ بھی غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں۔

  4. شیریں مزاری کا نام ای سی ایل میں نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رہنما شیریں مزاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نہ ہونے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی ہے۔

    عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت کی۔

    ڈاکٹر شیریں مزاری اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں جبکہ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    منور اقبال دوگل نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ شیریں مزاری کا نام اب ای سی ایل لسٹ میں موجود نہیں ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ کی منظوری سے نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا جو اب نہیں ہے۔

  5. بریکنگ, پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عُمر ایوب اپنے عہدے سے مستعفی

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل عُمر ایوب خان نے اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا بے حد مشکور ہوں کہ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے میرا استعفیٰ قبول کیا تاکہ اب میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنے کردار پر توجہ مرکوز کر سکوں۔‘

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’میں نے 22 جون 2024 کو اپنا استعفیٰ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کو بھیجوا دیا تھا۔ تاہم آج سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان تک میرا پیغام پہنچایا۔‘

    ایکس پر اپنے بیان میں سابق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی عُمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت کے مطابق پی ٹی آئی کے تنظیمی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں کی جائیں گی۔ میں پی ٹی آئی کے تمام افراد، پارلیمنٹیرینز اور تنظیم کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لئے انتھک محنت کی اور بے پناہ مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔‘

  6. آپریشن حل نہیں، وقتی اشتعال اور عجلت میں فیصلے کیے جا رہے ہیں: مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اس وقت ذمہ دار ریاست کے بجائے وقتی اشتعال اور عجلت میں فیصلے کیے جا رہے ہیں لیکن ریاست کے معاملات دھمکیوں اور جذبات سے طے نہیں ہوتے۔

    پشاور میں جے یو آئی کے تحت گرینڈ قبائلی جرگے کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ گرینڈ جرگے نے ’عزم استحکام‘ کو ’عدم استحکام‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ قبائلی جرگے کے ایجنڈے پر عزم استحکام آپریشن کی بات نہیں تھی لیکن فاٹا کے جرگے میں تمام صورتحال پر بحث ہوئی اور جرگے میں قبائلی عوام نے آپریشن عزم استحکام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں مغرب کے بعد پولیس اپنے تھانوں میں محصور ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے آپریشن میں قبائلی عوام کی عزت نفس اور معاش کا قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق پہلے آپریشن کے بعد دربدر ہونے والوں کو ’ابھی تک گھر نہیں ملے۔ گھروں کا سامان تک نہیں ملا۔ جب وہ واسپ آئے تو سامان لٹ چکا تھا۔ گھروں اور گلی کوچوں میں جنگل اگائے گئے اور کہا گیا کہ خود کاٹو۔‘

    مولانا فضل الرحمن کے مطابق ’آج بھی قبائل پاکستان کے اندر دربدر ہیں۔ ابھی بھی وہ اپنے گھر جانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ زیادتی کیوں کی گئی۔ کیوں سبز باغ دکھائے گئے۔ کیوں کہا گیا کہ ہم قبائل کو ہر سال سو ارب اور ایک ہزار ارب دس سال میں دیں گے۔‘ انھوں نے کہا یہ دعوے بھی کیے گئے کہ50 سے 60 ارب کے درمیان ہمیں پیسہ ملا ہے۔ کچھ خاص علاقوں میں قلعے، سڑکیں اور دو چار مساجد بھی بنائی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ’جب دنیا سے وفود آتے ہیں تو پھر انھیں وہیں لے کر جاتے ہیں کہ دیکھو قبائل نے کتنی ترقی کی ہے جبکہ یہ قبائل کے ایک فیصد سے بھی کم علاقہ ہے۔‘ ان کے مطابق پاکستان افغان عوام کی امیدوں کو خاکستر کیا جارہا ہے، کیا ہم افغانستان کو مستحکم کرنے کے بجائے غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں؟

    انھوں نے کہا کہ میں اس وقت کہتا تھا کہ قبائل سے پوچھ کر انضمام کا فیصلہ کیا جائے اور اس متعلق ریفرنڈم کروایا جائے۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ’اب تو آپ کو انضمام کا مزا آ گیا ہو گا ناں۔ آج ریفرنڈم کرا لو کہ قبائلی عوام انضمام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ کیا واقعی پانچ سال بعد وہاں خوشحالی آئی ہے۔‘

  7. بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں تقریباً 24 کروڑ ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 23 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سٹیٹ بینک کے ذخائر اس کمی کے بعد نو ارب ڈالر کی سطح سے گر کر 8.895 ارب ڈالر کی سطح تک آ گئے۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں ہونے والی کمی کی وجہ ملک کے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی رہی۔

    پاکستان کے زر مبادلہ کے مجموعی ذخائر14.207 ارب ڈالر تھے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر 8.895 ارب ڈالر ہیں۔ کمرشل بینکوں کی تحویل میں زرِمبادلہ کے خالص ذخائر 5.311 ارب ڈالر ہیں۔

  8. ’اپیل میں سزا معطل کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں دی گئی‘: عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیلوں پر تفصیلی فیصلہ جاری

    ایڈشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت کیس میں سزا معطلی کی اپیلوں کو مسترد کرنے سے متعلق 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

    اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان اپیلوں میں کوئی ایسی ٹھوس وجوہات فراہم نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر اس مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معطل کیا جاسکے۔

    اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون مجرم بھی ضمانت کی دعویدار نہیں ہو سکتی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 قابل ضمانت ہے لیکن یہ کوئی جنرل رول نہیں کہ قابل ضمانت جرم میں ضمانت حاصل کرنا ملزم یا مجرم کا حق ہے۔

    عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ عدت کے دوران نکاح کے فیصلے کے خلاف مجرمان کی مرکزی اپیلیں بھی اس عدالت میں چل رہی ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق 12 جولائی تک ان مرکزی اپیلوں پر بھی فیصلہ ہونا ہے۔

  9. عدت کیس میں فیصلے کو فی الفور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے اسلام آباد کی ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وکلا کے ساتھ مل کر اس فیصلے کو فی الفور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    ان کے مطابق قانون اور انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ اس کیس میں سزائیں ختم کر دی جاتیں کیونکہ یہ کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں ہے یہ میاں بیوی کے درمیان ایک معاملہ ہے جسے سیاسی معاملہ بنا دیا گیا اور سیاسی رہنما کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

  10. عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کیس میں اب تک کیا ہوا؟

    اسلام آباد کے سنئیر سول جج قدرت اللہ نے اس مقدمے کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرتے ہوئے اس سال تین فروری کو عمران خان اور بشری بی بی کو سات سات سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے گذشتہ برس 25 نومبر کو قدرت اللہ کی عدالت میں عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست دائر کی تھی جس میں 16جنوری کو ان دونوں پر اس مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    اس مقدمے کی عدالتی سماعت میں بہت سارے موڑ آ چکے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے اس مقدمے میں سزاؤں کے خلاف مجرمان کی اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو 29 مئی کو سنایا جانا تھا تاہم فیصلے والے دن درخواست گزار خاور مانیکا نے ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا جس پر کمرہ عدالت میں عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا اور خاور مانیکا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی جس کے بعد مذکورہ جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا جس میں شکایت کندہ خاور مانیکا کی جانب سے ان پر عدم اعتماد کا ذکر کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ معاملہ کسی اور عدالت کو بھیجنے کی درخواست کی گئی جو کہ منظور کرلی گئی۔

    واضح رہے کہ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران بھی خاور مانیکا نے جج پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انھیں ان اپیلوں کی سماعت سے الگ ہونے کی درخواست دی تھی جو متعقلہ جج شاہ رخ ارجمند نے مسترد کر دی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو عمران خان اور بشری بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے کا حکم دیا۔

    مجرمان کے وکلا نے ان درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے باوجود فیصلہ نہ سنائے جانے کے اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کو ہی محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کی استدعا کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی یہ استدعا مسترد کر دی تاہم انھوں نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو 10 دن کے اندر اس مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور ایک ماہ میں عدت کے دوران نکاح کے مقدمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کا مبینہ طور پر عدت کے دوران نکاح کا معاملہ اس سے پہلے بھی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں لایا گیا تھا اور اس میں کوئی اور درخواست گزار تھا جس کی درخواست پر متعدد سماعتیں بھی ہوئی تھیں تاہم اس درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی اور اس کے چند ہفتوں کے بعد خاور مانیکا نے اینٹی کرپشن کے ایک مقدمے میں رہائی کے بعد گذشتہ برس 25 نومبر کو عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کرنے سے متعلق درخواست دائر کی تھی اور درخواست گزار کا دعوی تھا کہ انھوں نے اپنی بیوی بشری بی بی کو طلاق دے دی تھی تاہم طلاق کے بعد عدت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی عمران خان اور بشری بی بی نے نکاح کر لیا تھا جو کہ درخواست گزار کے بقول غیر شرعی ہے۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ خاور مانیکا نے بھی ان ہی افراد کو گواہ بنایا جو پہلے درخواست دہندہ نے بنائے تھے۔ ان گواہان میں مفتی سعید، جنھوں نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح پڑھایا تھا، کے علاوہ عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف عون چوہدری قابل ذکر ہیں۔

  11. بریکنگ, عدت میں نکاح کے مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کی معطلی کی اپیلیں مسترد

    اسلام آباد میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    عدالت نے 3 فروری کو اس مقدمے میں دونوں ملزمان کو سات سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔

    اپیلیں مسترد ہونے کے بعد اب دونوں ملزمان کی سات سات سال کی سزائیں برقرار ہیں۔ تاہم ملزمان کو اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا قانونی حق حاصل رہے گا۔

  12. سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت: الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے عدالت کو مہیا کیے گئے دستاویزات میں تنازع ہے۔

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ کیسے شامل ہو سکتے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے دلائل کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے سنی اتحاد کونسل کے چئیرمین کو خود آزاد ڈیکلئیر کیا، آپ کے آزاد ڈیکلئیر کرنے پر وہ کامیاب ہو کر واپس اپنی ہی جماعت میں شامل ہوا اور اب آپ کہہ رہے ہیں سنی اتحاد کونسل کا چئیرمین خود کیسے اپنی جماعت میں شامل ہوا؟

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟ جس پر وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی۔

    دوسران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑھیں گے؟

    ’الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کر دیا تھا، الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے۔‘

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کی لسٹ آج مہیا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم جولائی دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

  13. عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی: پاکستان کا امریکی قرارداد پر قومی اسمبلی میں جوابی قرارداد لانے کا اعلان

    پاکستان کے عام انتخابات میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار نے بھی قرارداد لانے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسحٰاق ڈار نے کہا کہ امریکی قرارداد کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے لیے مسودہ تیار کر لیا ہے جسے اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ کچھ چیزیں بہت حساس ہیں، جن میں تاخیر نہیں ہو سکتی۔ ہم اپنے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان سے سات کے مقابلے میں 368 ووٹوں سے منظور قراراداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آٹھ فروری کے الیکشن میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں عوام کو جمہوری عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے عوام کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

    قرارداد میں عوام کو جمہوری عمل میں حصہ لینے سے باز رکھنے کے لیے دھمکانے، ہراساں کرنے اور قید میں رکھنے کی بھی مذمت کی گئی جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ انٹرنیٹ و ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی میں تعطل اور انسانی، سول اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے ۔

  14. سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت: ’الیکشن کمیشن نے عدالت کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا‘

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے الیکنش کمیشن کے وکیل سے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟

    اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا اور اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بینچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی۔‘

  15. سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت جاری

    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر سماعت جاری ہے اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مہیا کریں، میں تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کر دوں گا۔‘

    وکیل سکندر بشیر نے مزید بتایا کہ صاحبزداہ حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا کہ ان کا تعلق سنی اتحاد اور تحریک انصاف سے ہے۔

    ’حامد رضا کے دستاویزات میں کہا گیا کہ وہ تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہیں لیکن تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے اور اس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا کہ حامدرضا خود کو آزاد امیدوار نہ کہیں؟

    ’تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامد رضا نے جمع نہیں کروایا، حامد رضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکٹ تحریک انصاف کا دیا۔‘

    وکیل سکندر بشیر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جو بھی ریکارڈ ہے وہ ہمیں دکھایا جائے، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی۔

    اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد کسی امیدوار کو اختیار ہے کہ وہ اپنی پارٹی تبدیل کر لے؟ کیا کوئی امیدوار کہہ سکتا ہےکہ فلاں پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لینا چاہتا ہوں؟

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے، ریٹرننگ افسران کے پاس امیدوار کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکٹ ہوتا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک شخص شادی کرنا چاہے تو لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے۔

    ’جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکٹ لگانا بھی ضروری ہے۔ سرٹیفیکٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟

    وکیل الیکشن کمیشن سکندر بشیر نے جواب دیا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے، اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزاد امیدوار ہوتا ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہر کر سکتے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا جائے۔

    اس پر جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکٹ بھی دے لیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کر دیا ہو؟ جس پر وکیل نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انھوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی۔

    اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ ’وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے۔ آپ ایک قانون کی شق دکھا دیں کہ الیکشن کمیشن نے انھیں کیسے آزاد ڈیکلیئر کر دیا؟

  16. عمران خان کب سے قید ہیں اور ان کے خلاف درج مقدمات کی صورتحال کیا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف کے مطابق سابق وزیر اعظم 11 ماہ تیس سو اٹھائیس دن سے پابند سلاسل ہیں جبکہ اس دوران انھیں اٹھارہ مختلف مقدمات میں بری کیا گیا یا ضمانت مل چکی ہے۔

    عمران خان پر درج مقدمات اور ضمانتوں کے حوالے سے تحریکِ انصاف نے درج ذیل تفصیلات فراہم کی ہیں:

    عمران خان کو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسی ماہ 28 اگست کو ان کی سزا معطل کر دی گئی تھی تاہم فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد حکام نے 16 اگست کو سائفر کیس میں (پچھلی تاریخوں میں) ان کی ​​گرفتاری کا دعویٰ کیا جس کے بارے میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران حان خود اور ان کی نمائندگی کرنے والی قانونی ٹیم میں سے کسی کو بھی اس بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔

    بعد ازاں انھیں توشہ خانہ نیب کیس میں گرفتار کیا گیا اور ساتھ ہی عدت کیس میں ٹرائل بھی شروع ہوا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے دسمبر 2023 میں سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی تھی تاہم انھیں رہا نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے بعد انھیں 9 مئی کو پاکستان میں پرتشدد مظاہروں کے مقدمے اور نیب کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

    اس کے بعد تیز رفتار ٹرائلز میں پانچ دنوں کے اندر اندر تین سزاؤں کا اعلان کیا گیا (جن میں سائفر کیس 30 جنوری، توشہ خانہ نیب کیس 31 جنوری اور عدت کیس رواں برس 3 فروری کو) اور ان تینوں سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں۔

    9 مئی کو تشدد کے الزامات کے حوالے سے راولپنڈی کی ایک عدالت سے 12 مختلف الزامات میں عمران خان کی ضمانت منظور کی تاہم انھیں رہا نہیں کیا گیا۔

    تحریکِ انصاف کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کر دی گئی لیکن وہ سائفر اور عدت کے مقدمات میں گرفتار رکھے گئے۔

    تریکِ انصاف کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 مئی کو عمران حان کو 1690 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں بھی ضمانت دی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق سائفر کیس میں بریت کے بعد عمران خان اب صرف عدت کیس میں ہی گرفتار ہیں جس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے کیوںکہ اس مقدمے میں شکایت کنندہ نے تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔

    تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ آج عمران خان کو عدت کیس میں ضمانت مل جائے گی، تاہم حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کے چند وزرا نے انھیں قید میں رکھنے کا اشارہ دیا ہے اور اگر آج انھیں ضمانت مل جاتی ہے تو نئے الزامات سامنے آئیں گے۔‘

    تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو عمران خان کی بات سچ ثابت ہو گی۔اور حکومت انھیں اس لیے قید تنہائی میں رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سیاست کے میدان میں عمران خان کو ہرانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ی

    تحریِکِ انصاف کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کو ایک اور سیاسی بحران کا سامنا ہو گا۔

  17. عدت کیس میں عمران خان کی اپیل پر فیصلہ متوقع لیکن کیا ضمانت ملنے پر سابق وزیر اعظم رہا ہو جائیں گے؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

    عدالتی عملے کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ان درخواستوں پر آج دوپہر تین بجے فیصلہ سنائیں گے۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل انتظار پنجھوتہ کے مطابق سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان اور بشری بی بی رہا ہو جائیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ عدت کیس میں ضمانت ملنے کے باوجود عمران خان کو قید میں رکھا جائے گا اور نئے مقدمات سامنے آئیں گے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے اگر ایسا ہوا تو ملک میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا۔

    تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدت کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت کی اپیل منظور ہونے کی صورت میں بھی ان کی رہائی اس لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ پنجاب پولیس نے عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر رکھے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے مقدمے میں نامعلوم افراد میں عمران خان کا نام ڈال دیں جس میں ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔

    فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل اسجد محمود کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس بہت سے اختیارات ہیں اور اگر وہ کسی مقدمے میں ان کی گرفتاری نہ بھی ڈالیں تو وہ پنجاب کے محکمہ داخلہ کو خدشہ نقصِ امن کے تحت سابق وزیر اعظم کو ایک دو ماہ کے لیے نظر بند کرنے کی سفارش بھی کرسکتے ہیں۔

    قومی احتساب بیورو کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نیب کی ٹیم کی جانب سے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف مزید دو ریفرنس دائر کرنے کی انکوائری آخری مراحل میں ہے اور اس مرحلے پر بھی ان دونوں کی گرفتاری کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا۔

    یاد رہے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بیانیہ ملک کو غیر مستحکم کرنا اور افراتفری پھیلانا ہے، اس لیے ’حکومت کی کوشش ہو گی کہ انھیں جتنی دیر بھی ہو پابند رکھا جائے۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کا ایجنڈا ملک میں افراتفری اور فتنہ پھیلانا ہے اور ملک کے بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان کو پابند رکھا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جائز اور قانونی ذرائع سے جو کیس بنتے ہیں وہ ضرور بنیں گے۔

    اس سے قبل سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بیوقوف ہی ہوگا کہ جو ان حالات میں یہ سوچ رہا ہے کہ سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان باہر آ جائیں گے۔

  18. عدت کیس میں ضمانت ملنے کے باوجود عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو نیا بحران پیدا ہو گا، تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ عدت کیس میں ضمانت ملنے کے باوجود عمران خان کو قید میں رکھا جائے گا اور نئے مقدمات سامنے آئیں گے۔ ایک بیان میں جمعرات کے دن تحریک انصاف نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ملک میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق سائفر کیس میں بریت کے بعد عمران خان اب صرف عدت کیس میں ہی گرفتار ہیں جس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے کیوںکہ اس مقدمے میں شکایت کنندہ نے تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ نیب کیس میں سزا معطل ہونے پر عمران خان کو سائفر اور عدت کیس میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ نو مئی سے متعلقہ 12 الزامات میں ضمانت مل جانے کے باوجود سابق وزیر اعظم کو رہا نہیں کیا گیا۔

    تحریک انصاف کے مطابق سابق وزیر اعظم 11 ماہ تیس سو اٹھائیس دن سے پابند سلاسل ہیں جبکہ اس دوران انھیں اٹھارہ مختلف مقدمات میں بری کیا گیا یا ضمانت مل چکی ہے۔

  19. کراچی میں گرمی کی شدت میں کمی کا امکان: ’2015 کے بعد اس بار درجہ حرارت 42 ڈگری اور ہیٹ انڈیکس 50 تک جا پہنچا‘, آسیہ انصر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    محکمہ موسمیات کےڈائریکٹر ڈاکٹر سردار سرفرازکا کہنا ہے کہ ’کراچی میں آج سے بتدریج ہیٹ ویو میں کمی آنے کا امکان ہے۔ 2015 کے بعد اس سال کراچی میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا ہے اور اس دوران ہیٹ انڈیکس 50 سے 52 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔‘

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹرسردار سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رواں ہفتے کراچی میں بڑھے ہوئے درجہ حرارت اور نمی میں اضافے کے حوالے سے بتایا کہ ’گزشتہ چار روز سے درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ رہا اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور اس دوران ہوا میں نمی کا زیادہ سے زیادہ تناسب 70 سے 80 فیصد تک رہا۔ جبکہ کم سے کم نمی 40 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔‘

    یاد رہے کراچی میں گذشتہ ہفتے کے آخر سے گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث متعدد افراد کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

    اس سے قبل 2015 میں کراچی میں ایک تباہ کن ہیٹ ویو آئی تھی جس میں سمندری ہوائیں چلنا بند ہو گئی تھیں اور اس دوران 1300 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

    ڈاکٹر سردار سرفراز کے مطابق ’جمعرات کے دن درجہ حرارت میں کمی کے بعد 39 تک ہونے کی توقع ہے اور ہم یہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ جمعے کے روز سے درجہ حرارت مزید نیچے جائے گا اور ہیٹ ویو کی صورت حال ختم ہو جائے گی۔‘

    ’نو سال بعد درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچا ہے‘

    ڈاکٹرسردار سرفراز کےمطابق اس سال درجہ حرارت اور ہیٹ انڈیکس میں یہ اضافہ 2015 کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ’کراچی میں نو سال بعد درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچا ہے اور اس میں ہیٹ انڈیکس 50 سے 52 ڈگری سینٹی گریڈ رہا ہے۔ 2015 میں ایک ایسی ہی ہیٹ ویو آئی تھی جس میں 1300 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔‘

    واضح رہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے اور درجہ حرارت میں اضافے سے ہیٹ انڈیکس بڑھ جاتا ہے جو انسانی جسم پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی کو ’فیل لائیک‘ یعنی محسوس ہونا کہا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق جب ہوا میں نمی کا تناسب اس حد تک بڑھ جاتا ہے تو اس سے ڈی ہائیڈریشن یعنی جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

    ہیٹ ویو کس کیفیت کو کہتے ہیں؟

    ڈاکٹر سردار سرفراز نے بتایا کہ ’ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق جب کسی بھی مقام کا درجہ حرارت اوسط سے چار سے پانچ ڈگری بڑھ جائے اور یہ صورت حال مسلسل چار روز برقرار رہے تو اس صورت حال کو ہیٹ ویو کہا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جون کے مہینے میں کراچی کا اوسط درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ ہے لہذا جب درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا تو ہیٹ ویو کی صورت حال پیدا ہو گئی۔‘

    ان کے مطابق ’اس بار کراچی کے جنوب میں انڈین گجرات میں ہوا کا مسلسل کم دباؤ سمندر پر بننے سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جنوب مشرقی سندھ میں آج بارش کا امکان ہے جس سے کراچی میں ڈسٹ سٹارم یا آندھی کی صورت حال بنے گی۔‘

  20. نکاح کیس: عمران خان اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ آج متوقع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

    عدالتی عملے کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ان درخواستوں پر آج دوپہر تین بجے فیصلہ سنائیں گے۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل انتظار پنجھوتہ کے مطابق سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان اور بشری بی بی رہا ہو جائیں گے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف ان کی معلومات کے مطابق درج ہونے والے مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ توشہ خانہ کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معطل کرنے کے علاوہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور کر چکی ہے۔

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بیوقوف ہی ہوگا کہ جو ان حالات میں یہ سوچ رہا ہے کہ سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان باہر آ جائیں گے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد کے سنئیر سول جج قدرت اللہ نے اس مقدمے کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرتے ہوئے اس سال تین فروری کو عمران خان اور بشری بی بی کو مجرم گردانتے ہوئے ان دونوں کو سات سات سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے گذشتہ برس 25 نومبر کو قدرت اللہ کی عدالت میں عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست دائر کی تھی جس میں 16جنوری کو ان دونوں پر اس مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    اس مقدمے کی عدالتی سماعت میں بہت سارے موڑ آ چکے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے اس مقدمے میں سزاؤں کے خلاف مجرمان کی اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ 29 مئی کو سنایا جانا تھا تاہم فیصلے والے دن درخواست گزار خاور مانیکا نے ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا جس پر کمرہ عدالت میں عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا اور خاور مانیکا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی جس کے بعد مذکورہ جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا جس میں شکایت کندہ خاور مانیکا کی جانب سے ان پر عدم اعتماد کا ذکر کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ معاملہ کسی اور عدالت کو بھیجنے کی درخواست کی گئی جو کہ منظور کرلی گئی۔

    واضح رہے کہ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران بھی خاور مانیکا نے جج پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انھیں ان اپیلوں کی سماعت سے الگ ہونے کی درخواست بھی دی تھی جوکہ متعقلہ جج شاہ رخ ارجمند نے مسترد کر دی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو عمران خان اور بشری بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے کا حکم دیا۔

    مجرمان کے وکلا نے ان درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے باوجود فیصلہ نہ سنائے جانے کے اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کو ہی محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کی استدعا کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی یہ استدعا مسترد کر دی تاہم انھوں نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو 10 دنوں کے اندر اس مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور ایک ماہ میں عدت کے دوران نکاح کے مقدمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کا مبینہ طور پر عدت کے دوران نکاح کا معاملہ اس سے پہلے بھی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں لایا گیا تھا اور اس میں کوئی اور درخواست گزار تھا جس کی درخواست پر متعدد سماعتیں بھی ہوئی تھیں تاہم اس درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی اور اس کے چند ہفتوں کے بعد خاور مانیکا نے اینٹی کرپشن کے ایک مقدمے میں رہائی کے بعد گذشتہ برس 25 نومبر کو عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کرنے سے متعلق درخواست دائر کی تھی اور درخواست گزار کا دعوی تھا کہ انھوں نے اپنی بیوی بشری بی بی کو طلاق دے دی تھی تاہم طلاق کے بعد عدت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی عمران خان اور بشری بی بی نے نکاح کرلیا تھا جو کہ درخواست گزار کے بقول یہ نکاح غیر شرعی ہے۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ خاور مانیکا نے بھی انھی افراد کو گواہ بنایا جو پہلے درخواست دہندہ نے بنائے تھے۔

    ان گواہان میں مفتی سعید، جنھوں نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح پڑھایا تھا، کے علاوہ عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف عون چوہدری قابل ذکر ہیں۔