سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔
عدالتی عملے کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا ان درخواستوں پر آج دوپہر تین بجے فیصلہ سنائیں گے۔
عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل انتظار پنجھوتہ کے مطابق سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان اور بشری بی بی رہا ہو جائیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف ان کی معلومات کے مطابق درج ہونے والے مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ توشہ خانہ کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معطل کرنے کے علاوہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور کر چکی ہے۔
سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بیوقوف ہی ہوگا کہ جو ان حالات میں یہ سوچ رہا ہے کہ سزا معطل ہونے کی صورت میں عمران خان باہر آ جائیں گے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے سنئیر سول جج قدرت اللہ نے اس مقدمے کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرتے ہوئے اس سال تین فروری کو عمران خان اور بشری بی بی کو مجرم گردانتے ہوئے ان دونوں کو سات سات سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے گذشتہ برس 25 نومبر کو قدرت اللہ کی عدالت میں عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست دائر کی تھی جس میں 16جنوری کو ان دونوں پر اس مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
اس مقدمے کی عدالتی سماعت میں بہت سارے موڑ آ چکے ہیں۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے اس مقدمے میں سزاؤں کے خلاف مجرمان کی اپیلوں پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ 29 مئی کو سنایا جانا تھا تاہم فیصلے والے دن درخواست گزار خاور مانیکا نے ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا جس پر کمرہ عدالت میں عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا اور خاور مانیکا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی جس کے بعد مذکورہ جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا جس میں شکایت کندہ خاور مانیکا کی جانب سے ان پر عدم اعتماد کا ذکر کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ معاملہ کسی اور عدالت کو بھیجنے کی درخواست کی گئی جو کہ منظور کرلی گئی۔
واضح رہے کہ ان اپیلوں کی سماعت کے دوران بھی خاور مانیکا نے جج پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انھیں ان اپیلوں کی سماعت سے الگ ہونے کی درخواست بھی دی تھی جوکہ متعقلہ جج شاہ رخ ارجمند نے مسترد کر دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو عمران خان اور بشری بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے کا حکم دیا۔
مجرمان کے وکلا نے ان درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے باوجود فیصلہ نہ سنائے جانے کے اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کو ہی محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کی استدعا کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی یہ استدعا مسترد کر دی تاہم انھوں نے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کو 10 دنوں کے اندر اس مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور ایک ماہ میں عدت کے دوران نکاح کے مقدمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کا مبینہ طور پر عدت کے دوران نکاح کا معاملہ اس سے پہلے بھی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں لایا گیا تھا اور اس میں کوئی اور درخواست گزار تھا جس کی درخواست پر متعدد سماعتیں بھی ہوئی تھیں تاہم اس درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی اور اس کے چند ہفتوں کے بعد خاور مانیکا نے اینٹی کرپشن کے ایک مقدمے میں رہائی کے بعد گذشتہ برس 25 نومبر کو عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کرنے سے متعلق درخواست دائر کی تھی اور درخواست گزار کا دعوی تھا کہ انھوں نے اپنی بیوی بشری بی بی کو طلاق دے دی تھی تاہم طلاق کے بعد عدت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی عمران خان اور بشری بی بی نے نکاح کرلیا تھا جو کہ درخواست گزار کے بقول یہ نکاح غیر شرعی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خاور مانیکا نے بھی انھی افراد کو گواہ بنایا جو پہلے درخواست دہندہ نے بنائے تھے۔
ان گواہان میں مفتی سعید، جنھوں نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح پڑھایا تھا، کے علاوہ عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف عون چوہدری قابل ذکر ہیں۔