عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اسلام آباد کی ہی ایک عدالت نے رواں برس تین فروری کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

خلاصہ

  • تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کے اوپر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر تھانہ آبپارہ میں درج ہو گئی ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔‘
  • لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ایک کیس میں درخواستِ ضمانت کی منظوری کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پرویز الہی کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اپنی رہائش گاہ پہنچ چکے ہیں۔
  • وفاقی کابینہ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی انکوائری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انکوائری کمیشن نے اپنے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کے مطابق کام نہیں کیا۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احمد فرہاد کی مبینہ بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر ان کے ساتھ گمشدگی کے دوران کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر آئے گی۔‘
  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ٹیریئن کیس میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست خارج کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. وزیراعظم شہباز شریف تہران پہنچ گئے

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایران کے شہر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ امام خامنہ ای اور ایران کے قائم مقام صدر ڈاکٹر محمد مخبر سے ملاقات کریں گے اور پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔

  2. عمران خان 30 مئی کو سپریم کورٹ میں پیش ہو کر خود دلائل دینا چاہتے ہیں: چیئرمین تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان خود سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اپنے مقدمے پر دلائل دینا چاہتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ نیب آرڈیننس پر جو بینچ بنا ہے، اس کیس کی سماعت شاید 30 مئی کو ہو، اس حوالے سے عمران خان کا پیغام ہے، میں عمران خان کی طرف سے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں کہ 30 تاریخ کو عمران خان کے لیے تمام انتظامات کرے، عمران خان خود اس کیس میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ لائیو سٹریمنگ کا مطالبہ تھا، آج عمران خان یہ ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم خود پیش ہوں گے اور عمران خان اپنے کیس پر خود دلائل دیں گے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے انھیں یہ بتایا ہے کہ وہ خود اپنے مقمدے میں دلائل دیں گے۔

    ان کے مطابق عمران خان نے دبئی لیکس سے متعلق جامع تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ انھوں نے بیرون ملک اپنے خریدے گئے اپارٹمنٹ کی مکمل منی ٹریل دی تھی اور اب ان سب لوگوں سے بھی منی ٹریل طلب کی جائے۔

  3. حکمِ امتناع سمز بلاک کرنے پر نہیں، درخواست گزاروں کے تحفظ کے لیے ہے، چیف جسٹس عامر فاروق

    IHC

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیکس نان فائلرز کی موبائل فون سمز بلاک کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف کیس پر سماعت کی۔

    موبائل نیٹ ورک کمپنیز کے خلاف کارروائی پر جاری سٹے آرڈر خارج کرنے کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ’بہتر ہو گا کہ مرکزی درخواست ایک ہی بار سُن کر فیصلہ کر دیا جائے۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’ایک بات واضح کر دوں کہ حکمِ امتناع سمز بلاک کرنے پر نہیں ہے۔ سٹے آرڈر صرف درخواست گزاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا۔‘

    انھوں نے نے کہا کہ ’حکومت کا سمز بلاک کرنے کا آرڈر اب بھی اِن فیلڈ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’عدالت سمجھ سکتی ہے کہ حکومت معاشی ریفارمز پر فوکس کر رہی ہے۔ یہ اقدام بھی انھی ریفامرز کے تناظر میں لیا گیا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’عدالت کوشش کرے گی کہ جلد از جلد اس کیس کا فیصلہ ہو جائے۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کر دی۔

  4. بشکیک سے مزید 200 طلبہ پشاور پہنچ گئے

    بشکیک سے پاکستانی طلبہ کو کو لے کر دوسرا طیارہ پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری پرواز میں تقریباً 200 کے قریب پاکستانی طلبہ کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’کرغزستان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی مزید لسٹنگ بھی گوگل فارم کے ذریعے کی جا رہی ہے۔‘

    کرغزستان سے آنے والے پاکستانی طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود ہے۔ کرغزستان سے آنے والے پاکستانی طلبہ کو سرکاری حکام نے ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا۔

  5. بلوچستان حکومت بشکیک سے طلبہ کی واپسی کے لیے خصوصی طیارہ بھجوا رہی ہے: ترجمان, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    ترجمان حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں بلوچستان کابینہ نے انتظامی امور سمیت مفاد عامہ سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں۔

    ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں پھنسے طلبہ کے لیے حکومت بلوچستان نے خصوصی طیارہ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو 95 طلبہ کے اعداد و شمار موصول ہوئے ہیں۔

    بلوچستان کابینہ نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے اصلاحاتی عمل پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے دونوں محکموں کے وزرا کو جامع سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  6. بشکیک سے آج چار پروازیں پاکستان آئیں گی، مزید پروازوں کا شیڈول بھی مرتب کیا جا رہا ہے: پی ائی اے

    ترجمان پی آئی اے نے کہا ہے کہ بشکیک سے آج چار پروازیں پاکستان آئیں گی جبکہ مزید پروازوں کا شیڈول بھی مرتب کیا جارہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق پی ائی اے کی پروازیں وزرات خارجہ کے مرتب کردہ شیڈول کے مطابق آپریٹ کی جارہی ہیں۔ پی ائی اے کی منگل کو دو پروازیں بشکیک سے پاکستان پہنچیں تھیں۔

    پروازوں پر پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے مہیا کردہ لسٹ کے مطابق طلبہ کو بورڈنگ جاری کیے جاتے ہیں۔

    ہر پرواز سے قبل کئی ہزار طلبہ ائیرپورٹ پر چیک ان کاونٹرز پر اکھٹے ہوتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق طلبہ کی وطن واپسی پی ائی اے کی اولین ترجیح ہے مگر مروجہ طریقے کو اپنانا اور نظم و نسق برقرار رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔

    ترجمان نے کہا ہے کہ تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ رکھیں اور اپنی اپنی پرواز کا شیڈول حاصل کریں۔

  7. لاہور ہائی کورٹ کی گاڑی کی ٹکر سے شہری کی موت سے متعلق کیس میں تفتیش کے لیے آئی جی اسلام آباد نے چار ہفتے کی مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے تھانہ کھنہ کی حدود میں لاہور ہائی کورٹ کی گاڑی کی ٹکر سے شہری کی موت سے متعلق کیس کی سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کردی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی جہاں آئی جی اسلام آباد علی ناصر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ کو ایک اہم معاملے سے متعلق بلایا ہے، ایک انوسٹی گیشن دو سال سے زیرالتوا ہے اس میں کچھ نہیں کیا گیا۔

    آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ کیس محض 10 دن کا تھا لیکن دو سال گزر چکے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، میں اب خود اس کیس کو دیکھوں گا اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن اس کی تفتیش کریں گے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ انوسٹی گیشن آپ کا کام ہے آپ نے کرنی ہے، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرے گی، اب آگے حل کیا ہے آپ عدالت کو بتا دیں؟

    آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ہمیں چار ہفتے کا وقت دے دیں، تفتیش مکمل کر لیں گے، ہمیں کچھ اور ویڈیوز ملی ہیں جن میں ایک چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

  8. کرغزستان معاملے پر انکوائری کمیٹی بنا دی، رات تک مجموعی طور پر 4290 پاکستانی واپس آ چکے ہوں گے: اسحاق ڈار

    وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کرغزستان میں طلبہ پر حملے کے معاملے میں انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ہوگی جس کا آج ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا جو دو ہفتے میں اپنی فائنڈنگ مکمل کر کے رپورٹ پیش کر دے گی۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے ان تحقیقات کے لیے میری سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے جس میں ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ جو بچے یہاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے یہاں کیا کیا جا سکتا ہے۔‘

    ’ہمارے سفیر نے بتایا کہ اس وقت وہاں حالات بہتر ہیں۔ اس وقت کرغستان میں موجود پاکستانی طلبا میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ آج رات تک مجموعی طور پر 4290 پاکستانی واپس آ چکے ہوں گے۔‘

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’کرغزستان ہم مںصب نے ملاقات کے دوران بتایا ہے کہ اس واقعہ سے کچھ دن پہلے مقامی اور ہاسٹل طلبہ کے درمیان ایک جھگڑا ہوا تھا جس میں انڈین، بنگلہ دیشی اور عرب طلبہ بھی شامل تھے، تاہم میں یقین دہانی کرواتا ہوں کہ اب حالات نارمل ہوگئے ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ہمارے صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ طلبہ اور ورکرز ہمارے مہمان ہیں۔

    واپس آنے والے طلبا کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے سوال کے جوب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’جن طلبا کا فائنل ایئر ہے وہ تو غالبا ڈگری لے کر آئیں تاہم جو فرسٹ ایئر یا سیکنڈ ایئر یا پراسیس میں ہیں ان کے لیے یہاں کا میکینزم بنانے پر بھی غور کیا جائے گا تاہم کسی طلبا یا والدین کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔`

    اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے بعد کرغزستان کے وزیرخارجہ سے ملاقات کی جس میں ان سے پاکستانی طلبہ پر حملے کے معاملے پر گفتگو کی۔

    ’ان سے درخواست کی ہے کہ میں فوری طور پر بشکیک جاکر وہاں طلبہ کو دیکھنا چاہتا ہوں جس پر انھوں نے کہا کہ مجھے تھوڑا وقت دیں۔ انھوں نے اپنے صدر سے بات کی، جس کے بعد میں اپنے کرغزستان کے ہم مںصب کے ساتھ ہی آستانہ سے بشکیک روانہ ہوا، جہاں میں نے کرغزستان کے نائب وزیراعظم سے تفصیلی ملاقات کی۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کرغزستان نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہے اور انھوں نے یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہیں ہوں گے اور زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  9. بریکنگ, رؤف حسن پر ’خواجہ سراؤں‘ کے حملے کی ایف آئی آر درج: یہ وہی قوتیں ہیں جو ججوں کو دھمکاتی ہیں، عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کے اوپر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر تھانہ آبپارہ میں درج ہو گئی ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔‘

    حملے کی ایف آئی آر میں رؤف حسن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’حملہ آورروں نے تیز دھار آلے سے حملہ کر کے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے ۔ دو روز قبل بھی حملہ کیا گیا تھا، تحریک انصاف کا ترجمان ہوں اور مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی گئی ہے، مجھے جان کا تحفظ دیا جائے۔‘

    واضح رہے کہ رؤف حسن پر منگل کی شام اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں اس وقت حملہ کیا گیا جب و ہ پروگرام کی ریکارڈنگ کر کے نکل رہے تھے۔ اس حملے میں وہ زخمی ہو گئے جس پر انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ’میں پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹری اطلاعات ہوں اور مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی پارٹی کی ترجمانی کرتا ہوں اس سلسلے میں پرو گرام ریکارڈ کروا کر پارکنگ میں اپنی گاڑی کی طرف جارہا تھا کہ اچانک ایک شخص جو کہ بظاہر خواجہ سرا معلوم ہوتا تھا اس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مجھے روکا اور مجھ پر حملہ کر دیا۔‘

    متن کے مطابق ’اس دوران حملہ آور کے دیگر ساتھیوں نے مجھ پر جان لیوا حملہ کر دیا اور جان سے مارنے کے لیے تیز دھار آلات سے مسلسل میری گردن پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ بھی اپنے حلیے سے بظاہر خواجہ سرا معلوم ہوتے تھے۔

    دو دن قبل بھی بلیو ایریا کے ایک نیوز کے دفتر واقع سے پروگرام ریکارڈ کروا کر باہر نکلا تو خواجہ سراؤں کے حلیہ میں ملبوس تین سے چار افراد نے مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں موجود لوگوں نے مجھے بچا لیا تھا۔‘

    رؤف حسن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اپنی جماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘

    عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے حملے میں لکھا کہ ’پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔ یہ وہی قوّتیں ہیں جو پردوں کے پیچھے چھُپ کر وار کرتی، اپنے مہروں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلاتی، ججوں کو دھمکاتی اور انتخابی نتائج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے پورے انتخابی عمل کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیتی ہیں۔‘

    عمران خان کا ٹوئٹ

    ،تصویر کا ذریعہScreenShot/@ImranKhanPTI

    عمران خان نے کہا کہ ’کان کھول کر ہماری بات سُن لیں کہ پاکستان تحریک انصاف ان مکروہ ہتھکنڈوں اور پُرتشدد کارروائیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی جن سے اس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا کہ شرپسند قوم کے سامنے مزید بے نقاب ہوتے ہیں۔

    رؤف حسن کی جانب سے درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’میں اپنی گردن بچانے کے لیے یچھے ہوا تو میرے منہ پر تیز دھار آلہ سے حملہ کیا گیا جس سے میرا منہ شدید زخمی ہوا اور کٹ گیا اور میں لہولہان ہو گیا اور میرے منہ کے دائیں طرف شہ رگ سے تھوڑا اوپر گہرے زخم آگئے۔ یہ لوگ مسلسل مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے اسی اثنا میں وہاں چند لوگ اکھٹے ہو گئے جن کو دیکھ کر یہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔‘

    ’دو دن قبل بھی بلیو ایریا کے ایک نیوز کے دفتر واقع سے پروگرام ریکارڈ کروا کر باہر نکلا تو خواجہ سراؤں کے حلیہ میں ملبوس تین سے چار افراد نے مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں موجود لوگوں نے مجھے بچا لیا تھا۔‘

    چونکہ میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں اور مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں ان لوگوں کے خلاف دعوے دار ہوں،ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور میرا مقدمہ درج کیا جائے مجھے جان کا تحفظ دیا جائے۔‘

    مقدمے کے متن کےمطابق ’میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہہیں ہے اس وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ‘

  10. 300 کے قریب پاکستانی طلبا بشکیک سے پشاور خصوصی پرواز کے ذریعے واپس پہنچ گئے, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کا پہلا خصوصی طیارہ بشکیک سے پشاور باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گیا جس میں تقریباً 300 کے قریب پاکستانی طلبہ کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے.

    یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جو طلبا واپس آنا چاہتے ہیں انھیں خیبرپختونخواہ حکومت پشاور لانے میں معاونت کرے گی۔

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق کرغزستان سے آنے والے پاکستانی طلبہ کے استقبال کے لیے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کرغزستان سے آنے والے پاکستانی طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد بھی ایئر پورٹ پر موجود تھی۔

    واضح رہے کہ بشکیک سے طلبا کو باحفاظت پہنچانے کے لئے خصوصی فلائٹ آپریشن کی ذمہ داری پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے سپرد کی گئی ہے اور ان طلبا کے سفری اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر کرغزستان سے خصوصی پرواز سے پشاور پہنچنے والے دیگر صوبوں کے طلبا کو وزیر اعلی ہاوس میں ٹھہرایا گیا ہے۔ اور کل ان طلبہ کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق کرغزستان میں موجود دیگر پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے دوسری پرواز آج صبح راونہ کی جائے گی.

    پی ڈی ایم اے کے مطابق کرغزستان میں پھنسے پاکستانی طلبہ و طالبات کی مزید جانچ بھی گوگل فارم کے زریعے کی جا رہی ہے.

  11. زیارت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم ایک شخص ہلاک, محمد کاظم/بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے سنجاوی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ مسلح افراد نے کوئلے سے لوڈ پانچ ٹرکوں کو نذر آتش بھی کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر زیارت لیاقت علی کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو کوئلے سے لوڈ ٹرک دکی سے سنجاوی کی جانب آ رہے تھے کہ بغاؤ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک ٹرک ڈرائیور ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے علاوہ مسلح افراد نے پانچ ٹرکوں کو نذر آتش بھی کیا۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد نے چار ٹرک ڈرائیوروں کو اغوا بھی کر لیا ہے لیکن ڈپٹی کمشنر نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد تین ڈرائیور تاحال لاپتہ ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ لاپتہ ڈرائیور خوف کی وجہ سے بھاگ گئے ہیں یا ان کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

  12. پرویز الہی جیل سے رہا: ’عمران خان کے ساتھ تھا، ہوں اور رہوں گا‘

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہX/PTI

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ایک کیس میں درخواستِ ضمانت کی منظوری کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پرویز الہی کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور اب وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پہنچ چکے ہیں۔

    ایک پیغام میں تحریک انصاف کے مرکزی صدر پرویز الہی کا کہنا ہے کہ ’اللہ پاک کا بہت شکر ہے کہ مجھے سرخرو کیا۔ اللہ پاک نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں ثابت قدم رہوں۔ میں ان ججوں کا مشکور ہوں جنھوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور مجھے رہائی ملی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں ان سب لوگوں کا مشکور ہوں جنھوں نے میرے لیے دعائیں کیں اور اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ گجرات کے لوگوں کو بہت زیادتیاں اور ظلم سہنا پڑا۔ گجرات میں ہمارا مینڈیٹ تک چرایا گیا۔‘

    ’شجاعت صاحب کے بچوں سے اس وقت تک کوئی بات نہیں ہو گی جب تک ہمارا مینڈیٹ واپس نہیں ہو گا۔ گجرات میں جن لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں وہ جب تک معاف نہیں کریں گے تب تک ان سے کوئی بات نہیں ہو گی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ’مجھے پکڑوانے میں اور میرے ساتھ زیادتی کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ہے۔‘ اب تک وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    پرویز الہی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’میں عمران خان کے ساتھ تھا، ہوں اور انشاء اللہ رہوں گا۔‘

  13. پی ٹی آئی ترجمان پر اسلام آباد میں حملہ، ’رؤف حسن کے چہرے پر خواجہ سراؤں نے بلیڈز مارے‘، اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    raoof hasan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن اسلام آباد میں ایک حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’رؤف حسن کو نجی ٹی وی کے دفتر کے باہر بلیڈ مارا گیا ہے۔

    ’عینی شاہدین کے مطابق رؤف حسن کو خواجہ سراؤں نے چہرے پر بلیڈ مارا۔‘

    ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہنا ہے کہ ’پولیس موقع پر موجود ہے اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ جن خواجہ سراؤں نے یہ کام کیا ہے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    رؤف حسن اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں ایک نجی ٹی وی چینل میں اپنا پروگرام ریکارڈ کروانے کے بعد واپس اپنی گاڑی کی جانب آ رہے تھے کہ چند نامعلوم افراد ان کے قریب آئے اور ان سے الجھ پڑے۔

    اس واقعہ کے ایک عینی شاہد کے مطابق ’چار افراد نے رؤف حسن پر حملہ کیا اور ان سے موبائل وغیرہ بھی چھیننے کی کوشش کی تاہم ان کے شور شرابے کی وجہ سے ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔‘

    اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مقامی نجی ٹی وی چینل کی انتظامیہ کے ذمہ داران اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے باہر آ گئے اور انھوں نے پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات کو اپنے ساتھ اپنے آفس میں لے گئے۔

    اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد متعقلہ تھانہ آبپارہ کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور انھوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر دی ہے تاہم ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔

    پولیس افسران پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات سے ملاقات کر کے ان سے اس واقعہ سے متعلق اور ملزمان کے حلیوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کر رہی ہے۔

    رؤف حسن سابقہ نگراں کابینہ میں نجکاری کے وفاقی وزیر فواد حسن فواد کے بھائی ہیں۔

  14. وفاقی کابینہ کا فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، خصوصی کمیٹی سفارشات پیش کرے گی

    وفاقی کابینہ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی انکوائری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انکوائری کمیشن نے اپنے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کے مطابق کام نہیں کیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے فیض آباد دھرنا واقعے کے انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی اور اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وفاقی کابینہ نے اس حوالے سے کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی جو اس سلسلے میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

  15. احمد فرہاد کے ساتھ گمشدگی کے دوران کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ داری ریاست پر آئے گی: جسٹس کیانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    IHC

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احمد فرہاد کی مبینہ بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر ان کے ساتھ گمشدگی کے دوران کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر آئے گی۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج جب احمد فرہاد کی مبینہ گمشدگی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی تو اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ریاست کی جانب سے عدالت کو یہ یقین دہانی کروائی کہ مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کو اگلے دو تین روز میں بازیاب کروا لیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔‘

    اس دوران ایس ایس پی آرپیشنز اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ’انھوں نے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کے دفتر سے رابطہ کیا تھا لیکن وہ دستیاب نہیں تھے تاہم ان کے جونیئر سٹاف نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ احمد فرہاد ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔‘

    اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی آپریشنز سے کہا کہ وہ اس بیان کو 161 کا بیان تصور کریں اور اس حوالے سے جو مقدمہ درج ہوا ہے اس میں بطورِ ضمنی اس بارے میں لکھیں۔

    خیال رہے کہ 161 کا بیان دراصل پولیس کو دیا جاتا ہے۔

    درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے اس دوران دعویٰ کیا کہ ’بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آئی ایس آئی اور ایم آئی کی تحویل میں رہتے ہیں اور یہ ایجنسیاں پہلے تو تردید کرتی ہیں لیکن پھر ان ہی کی تحویل سے وہ برآمد ہوتے ہیں۔‘

    عدالت نے کہا کہ ہم آپ کے الفاظ کو آنر کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ جو آپ کہہ رہے ہیں ویسا ہی ہو گا، کیونکہ آپ ریاست اور اس کے اداروں کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے سماعت کے دوران دعویٰ کیا کہ ’یہ دونوں ایجنسیاں لوگوں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر فرہاد بھی اسی حالت میں بازیاب ہوا یا اس کی مسخ شدہ لاش کسی ویرانے سے مل گئی تو اس کی ذمہ داری کس کی ہو گی؟‘

    جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس کی ساری ذمہ داری ریاست پر عائد ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک جو ریکارڈ سامنے آیا ہے اس میں احمد فرہاد کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

    آج سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’جب بھی جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ عدالت میں لایا جاتا ہے تو سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش نہیں ہوتے اور شاید وہ عدالت میں پیش ہونا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔‘

    جس پر بینچ کی طرف سے ریمارکس دیے گئے کہ ’جہاں پر ملک کا چیف ایگزیکٹو پیش ہو سکتا ہے وہاں ان کے ماتحتوں کو بھی پیش ہونا پڑے گا۔‘

    انھوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’وہ یقینی بنائیں کے سیکرٹری دفاع آئندہ سماعت پر بیمار نہ ہوں۔‘ اٹارنی جنرل کی درخواست پر عدالت نے درخواست کی سماعت 24 مئی تک ملتوی کر دی۔

  16. ٹیریئن کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست خارج کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ٹیریئن کیس میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست خارج کر دی ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس درخواست پر سماعت کی۔ دیگر دو ججز میں جسٹس ارباب طاہر اور سمن رفعت شامل تھیں۔

    سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے درخواست گزار ساجد کے وکیل حامد شاہ سے استفسار کیا کہ کیا ہم اس درخواست کو دوبارہ سن سکتے ہیں جبکہ اس پر دو ججوں نے فیصلہ دے رکھا ہے۔

    خیال رہے کہ جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس محسن اختر کیانی گذشتہ برس اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے چکے ہیں۔

    اس پر وکیل حامد شاہ نے کہا کہ یہ دو ججز کی رائے تھی۔ چیف جسٹس کے اس فیصلے پر دستخط نہیں تھے۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے سوال کیا کہ ’جب بینچ کے دو ممبرز نے کہا کہ درخواست قابل سماعت ہی نہیں خارج کی جائے تو ایک ممبر کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے کیا فرق پڑے گا؟

    اس پر وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں اس حوالے سے جواب تیار کرنے میں مزید تین ہفتے کا وقت درکار ہے۔

    عدالت کی جانب سے اُن دو ججوں کا فیصلہ عدالت میں سب کے سامنے کھول کر سنایا گیا۔ عداالت کا کہنا تھا کہ ’جب ان دو ججوں نے جو رائے دی تھی تو وہی فیصلہ رہے گا۔‘

    عدالت کی جانب سے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دینے کے بعد کہا گیا ہے کہ اس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس محسن اختر کیانی اور ارباب طاہر شامل تھے نے 2-1 سے اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیا تھا اور اس کے بعد اس فیصلے کو ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔

    تاہم اس فیصلے کو رجسٹرار آفس کی جانب سے اس کے بعد یہ کہہ کر اتار دیا گیا تھا کہ کیونکہ یہ بینچ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنا تھا اس لیے فیصلے کو اپ لوڈ کرنے کے لیے ان کی منظوری ضروری تھی جو نہیں لی گئی تھی۔

  17. عمران خان حملہ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی

    گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں عمران خان حملہ کیس میں تین ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

    عمران خان پر مبینہ حملہ آور نوید اور اس کے دو ساتھی ملزمان وقاص اور طیب پر فرد جرم عائد کی گئی ہے اور آج انسداد دہشت عدالت میں ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی، ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

    عدالت نے مقدمے کی شہادتیں 25 مئی کو طلب کرلی ہیں اور کیس کا باقاعدہ ٹرائل 25 مئی سے شروع ہو گا۔

    یاد رہے کہ یہ واقعہ پنجاب کے شہر وزیر آباد میں تین نومبر 2022 کو پیش آیا تھا جب عمران خان آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد جارہے تھے۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان پر حملہ کیس میں پنجاب کے شہر وزیر آباد سے گرفتار ہونے والے دو ملزمان احسن نذیر اور مدثر نذیر کو ابتدائی سماعت میں انسداد دہشتگردی عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

    دونوں ملزمان نواحی علاقہ سوہدرہ کے رہائشی ہیں اور عمران خان حملہ کیس میں انھیں مرکزی ملزم نوید علی کو حراست میں لئے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    احسن نذیر کو وزیرآباد میں واقع ان کی کمپیوٹر ریپئرنگ شاپ سے حراست میں لیا گیا تھا جبکہ میاں مدثر نذیر جو کہ مسلم لیگ ن وزیر آباد کے سیکرٹری اطلاعات تھے انھیں بھی حساس اداروں نے حراست میں لیا تھا۔

    انسداد دہشتگردی کی عدالت نے دونوں ملزمان کی بریت کا فیصلہ جاری کر دیا جس میں لکھا گیا ہے کہ احسن نذیر اورمدثر نذیر کو زیرِ دفعہ 265 ڈی کے تحت بری کیا جاتا ہے۔

    یاد رہے دونوں بھائی احسن نذیر اور مدثر نذیر بالترتیب 5 ماہ اور 4 ماہ جیل میں قید رہے جن کی بعد ازاں ضمانت منظور ہوئی اور اب انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے انھیں باعزت بری کر دیا ہے۔

  18. بریکنگ, لاپتا بلوچ طلبہ کیس: ایجنسیوں کے کام پر اعتراض نہیں، اعتراض ماورائے قانون کام پر ہے، جسٹس محسن کیانی

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہIHC

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایجنسیوں کے کام پر کسی کو اعتراض نہیں، اعتراض ماورائے قانون کام کرنے پر ہے، ایجنسیز کے کام کرنے کا طریقہ کار واضح ہو جائے تو اچھا ہو گا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل اور گمشدہ بلوچ طلبہ کی جانب سے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے لاپتا افراد کی کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ گذشتہ دس سال میں کتنے لوگ گرفتار ہوئے؟ لاپتا ہوئے یا ہراساں کیے گئے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز کسی بھی شخص کو ہراساں نہیں کر سکتیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایجنسیز کے کام کرنے کا طریقہ کار واضح ہو جائے تو اچھا ہو گا، قانون میں ایف آئی اے اور پولیس تفتیش کر سکتی ہیں، تاہم ایجنسیز تفتیش میں معاونت کرسکتی ہیں، ہمیں قانون کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہے، کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ صحافی ہو یا پارلیمنٹیرین وہ دہشتگردوں کی حمایت نہیں کر رہا ، کوئی بھی شخص اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنے سے نہیں روکتا۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک سیاسی طور پر س معاملے کو حل نہیں کیا جاتا تب تک یہ معاملہ حل نہیں ہو گا، جسٹس محسن اختر کا کہنا تھا کہ مطلب یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، ہم نے باہر سے کسی کو نہیں بلانا کہ وہ آ کے معاملہ حل کرے، غلطیاں ہوتی ہیں تو غلطیوں سے سیکھ کر آ گے بڑھنا ہوتا ہے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے ریمارکس دیے کہ یہ 21 ویں سماعت ہو رہی ہے اور آپ (اٹارنی جنرل) کی محنت سے کئی طلبہ بازیاب ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر بلوچ طلبہ کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا ، لاپتا افراد کی کمیٹی بنائی گئی لیکن کمیٹی میں سے لواحقین سے ملنے کوئی بھی نہیں گیا، کمیشن بنا دی گیا لیکن کوئی بھی پیشرفت نہیں ہے، لاپتا افراد کے لواحقین کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔

    محسن اختر کیانی نے وکیل ایمان مزاری سے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق جو معلومات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں وہ درست نہیں ہیں؟ ہمیں اس معاملے میں اٹارنی جنرل کی کاوشوں کو سراہنا ہوگا ، اٹارنی جنرل کی کاوشوں سے بہت سے لاپتا افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں ، جب تک لاپتا افراد کے کیسز آتے رہیں گے یہ عدالتیں کام کرتی رہیں گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک کیس نہیں ہے کہ اس پر آرڈر کریں اور بات ختم ہو جائے، تنقید ہوتی رہتی ہے، جو پریس کانفرنس کرتا وہ کرتا رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایمان مزاری سے مکالمہ کیا کہ میں آرڈر جاری کروں گا، وہ آپ دیکھ لیں، اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ آپ جیسے لوگ کہاں پر ہیں جو مسائل کو حل کرتے ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سر یہ بہت مشکل سوال ہے، اس معاملے کو اگر حل نہیں کیا تو مسائل بڑھیں گے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہمارے پاس ایک اور لاپتا افراد سے متعلق کیس ہے اس میں بھی آپ آئیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں اسی کیس میں ضرور آؤں گا۔

    بعد ازاں عدالتی سوالنامہ کے جوابات آئندہ سماعت پر جمع کرنے کی ہدایت کے ساتھ عدالت نے مقدمے کی سماعت 14 جون تک ملتوی کر دی۔

  19. پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ہتک عزت بل 2024 منظور

    Punjab Assembly

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی نے پیر کو اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے اور صحافیوں کے احتجاج کے باوجود ہتک عزت بل 2024 منظور کر لیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بل پیش کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ’کالا قانون قرار دیا ہے۔‘

    اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ ’ہتک عزت بل 2024 کالا قانون ہے اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے حکومت کی جانب سے یہ بل منظور کیے جانے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ’آدھی رات سے پہلے بل پاس کرنے کی جلدی کیوں ہے۔‘

    صوبائی حکومت کی جانب سے ہتک عزت بل کو صحافتی تنظمیوں نے بھی مسترد کرتے ہوئے اس میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔

    گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

    ہتک عزت بل 2024 کیا ہے؟

    ہتک عزت بل 2024بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اورسوشل میڈیا پر ہو گا اور یہاں پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا مقدمہ درج ہو سکے گا۔

    یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہو گا۔ ذاتی زندگی، عوامی سطح پر بھی شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر کارروائی ہو گی۔

    ہتک عزت کے مقدمات کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ چھ ماہ میں فیصلہ کرنےکے پابند ہوں گے۔

    صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والے ہتک عزت بل 2024 کے تحت ٹی وی چینل اور اخبارات کے علاوہ فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام پر بھی غلط خبر یا کردار کشی پر 30 لاکھ روپے ہرجانہ ہو گا۔

    ہتک عزت بل کے مسودےپر انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بھی اظہارِ تشویش کرتے ہوئےکہا کہ بل آزادی اظہار کا گلا گھونٹ رہا ہے۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اسلام آباد کی مقامی عدالت نے آزادی مارچ پر اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور دیگر رہنماؤں کو بری کر دیا ہے۔
    • پاکستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد پنجاب میں صوبائی حکومت نے ہیٹ ویو کے خدشے کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کو 25 سے 31 مئی تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    • اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے احمد فرہاد کی مبینہ طور پر گمشدگی سے متعلق دائر درخواست پر سیکرٹری دفاع کو منگل کے روز ذاتی حثیت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ کو بھی ذاتی حثیت میں طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے اس مقدمے کے تفتشی افسر کو حکم دیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا بیان ریکارڈ کرے اور اس ضمن میں رپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔