آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, صدر پزشکیان کے ’نہ جنگ نہ امن‘ کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ’مذاکرات کی بحالی کے لیے موزوں حالات‘ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو ایران اپنا دُشمن سمجھے گا: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو اپنا دُشمن تصور کرے گا۔

    ایران اس سے قبل خطے کے ان ممالک کو ہدف بنا چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز کہا کہ اب اس چھ ماہ پر محیط تنازع کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ دیگر ممالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط ختم کر دیں۔

    ’امریکہ کے ایران پر بلااشتعال حملے کے بعد ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے‘

    محسن رضائی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کسی ملک پر حملے کو نہیں روکتی تو ’ہم ایٹم بم کیوں حاصل نہ کریں؟‘

    محس رضائی نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران پر امریکی حملے نے کچھ ممالک کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول زیادہ بہتر دفاعی ڈیٹرنس فراہم کر سکتا ہے۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘ این پی ٹی کا رکن تھا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کر رہا تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اب پوری دُنیا یہ کہہ رہی ہے کہ نہ تو این پی ٹی اور نہ ہی جوہری توانائی کی تنظیم کی رُکنیت مؤثر ہے جس کی وجہ سے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اپنے انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف اس عمل میں حصہ لیتا ہے جسے اُنھوں نے ’معاشی جنگ‘ قرار دیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔

    اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ لڑنے کے اپنے انداز اور سفارتی رویے میں تبدیلیاں لائے گا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی حملوں میں ناکامی کے بعد امریکہ اب ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  2. ہم مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم اس وقت مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اتوار کو ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک اور وینزویلا بنانے کوشش کی گئی، لیکن ایران ایسی طاقت کے طور پر اُبھرا جس نے مزاحمت دکھا کر دُنیا کو حیران کر دیا۔

    ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے دُشمنوں کو اُمید ہے کہ وہ مسائل کے ذریعے معاشرے میں تقسیم اور پھوٹ ڈال سکیں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم تقسیم، پھوٹ، تنازعات اور انا پرستی سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  3. صدر پزشکیان کے ’نہ جنگ نہ امن‘ کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے

    ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ’مذاکرات کی بحالی کے لیے موزوں حالات‘ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    عمان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبد العاطی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کی صورتِ حال نیز خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری تازہ ترین سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت کی۔

    یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے ’طاقت کے ساتھ، مگر منطق کے ساتھ‘ مذاکرات کرنا ممکن ہے۔

  4. چلی کا تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان

    چلی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اگست سے ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دے گی، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا خاتمہ نہیں ہے۔

    چلی کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں سفارت خانہ بند ہونے کے بعد، ملک کے قونصلر امور ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود چلی کے قونصل خانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

    وزارت نے اس فیصلے کی وجوہات میں حکومتی خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے آپریشنل تنظیمِ نو اور وسائل کی ترجیحات کا تعین، نیز مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق احتیاطی پہلوؤں کا حوالہ دیا ہے۔

    چلی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر ہوزے انتونیو کاسٹ، جو مارچ سے اقتدار میں ہیں، ٹرمپ انتظامیہ سے ہم آہنگ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم، ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان نے حالیہ ہفتوں میں لاطینی امریکہ کے حوالے سے امریکی طرزِ عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

  5. امریکہ میں دورانِ پرواز لیپ ٹاپ میں آگ لگنے سے ایک مسافر زخمی، جہاز بحفاظت لینڈ کر گیا

    امریکہ میں دورانِ پرواز لیپ ٹاپ میں آگ لگنے سے ایک مسافر زخمی ہو گیا تاہم پرواز بحفاظت لینڈ کر گئی۔

    امریکن ایئرلائنز کی پرواز 2398 اٹلانٹا جارجیا سے آ رہی تھی، جمعے کے روز ٹیکساس کے ڈلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد ایک مسافر کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس کو حاصل ہونے والی آڈیو کے مطابق پائلٹ نے فضائی ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ ’طیارے کے پچھلے حصے میں کیبن میں آگ لگی ہوئی ہے اور کہا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس اس وقت اسے بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو مزید بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ تقریباً چار سے پانچ مسافر لیپ ٹاپ سے جھلس گئے ہیں۔‘

    ایئرلائن نے بی بی سی کو بتایا کہ پرواز ’لینڈنگ کے دوران ایک مسافر کے آلے سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات کے بعد بحفاظت لینڈ کر گئی۔ ہم اپنے عملے کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل پر ان کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے تیزی سے آلے کو قابو میں کر لیا۔‘

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) خبردار کرتا ہے کہ لیتھیم بیٹریاں، جن میں لیپ ٹاپ کی بیٹریاں بھی شامل ہیں، مختلف عوامل کے نتیجے میں حد سے زیادہ گرم ہو سکتی ہیں، جن میں بیٹری کا خراب ہونا، زیادہ گرم ہونا، پانی کے سامنے آنا، حد سے زیادہ چارج ہونا یا غلط طریقے سے پیک کیا جانا شامل ہے۔

    ایف اے اے کے مطابق رواں سال اب تک دھوئیں، آگ یا انتہائی زیادہ حرارت سے متعلق لیتھیم بیٹریوں کے 58 تصدیق شدہ فضائی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ گذشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ واقعات بیٹری پیکس سے متعلق تھے، جبکہ 84 واقعات لیپ ٹاپس سے متعلق ریکارڈ کیے گئے۔

  6. وسطی نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا

    نائیجیریا کی وسطی ریاست نائجر میں کئی دیہات پر مسلح افراد کے حملوں کے دوران 100 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ پولیس اور مقامی رہائشیوں کے مطابق حملوں میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق فوجی طرز کے لباس میں ملبوس حملہ آوروں نے جمعے کی نماز کے بعد بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا میں واقع ڈیکارا، گیدان زانا، سابون گیدا اور ماساکا نامی دیہات کو نشانہ بنایا۔

    پولیس ترجمان واسیو ابیودون نے بتایا کہ حکام کو شبہ ہے کہ حملہ آور مسلح جرائم پیشہ گروہ، یعنی ’ڈاکو‘ تھے جو نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار میں ملوث ہیں۔

    مقامی رہائشیوں کے مطابق مسلح افراد نماز کے بعد ڈیکارا میں داخل ہوئے، لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا اور انھیں قریبی جنگلات میں لے گئے، جس کے بعد وہ دیگر قریبی دیہات کی جانب روانہ ہوگئے۔

    مقامی رکنِ اسمبلی جعفر محمد شیٹی مان بورگو نے بھی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دور دراز علاقے بورگو میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ یہ علاقہ نائیجیریا کی ریاستوں کیبی اور کوارا کے علاوہ پڑوسی ملک بینن کی سرحد سے بھی ملتا ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں پولیس نے بتایا تھا کہ بورگو کے چار دیہات کونکو سو، کاسوان داجی، تنگن ماکری اور شفاچی سے اغوا کیے گئے 145 افراد کو بازیاب کرا لیا گیا۔

    یہ افراد ان 308 مغویوں میں شامل تھے جنھیں حکام کے مطابق ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران بازیاب کرایا گیا، جن میں پڑوسی ریاست کوارا سے اغوا کیے گئے 160 سے زائد افراد بھی شامل تھے۔

    تازہ حملوں نے نائجر ریاست اور شمالی وسطی نائیجیریا میں جاری سکیورٹی بحران کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جہاں مسلح گروہ دور دراز جنگلات اور کمزور سکیورٹی نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے اور اغوا برائے تاوان کرتے ہیں۔

  7. دمشق کے قریب اسرائیلی حملہ، شام کا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    شام نے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں بیت جن پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    شامی حکام کے مطابق حملے میں ایک عام شہری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    یہ ایک ہفتے کے دوران شام میں اسرائیل کا دوسرا معلوم حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نے ایک ایسے ’دہشت گرد‘ کو نشانہ بنایا جو اسرائیلی فوجیوں کے لیے فوری خطرہ بننے والے حملوں کی تیاری کے آخری مرحلے میں تھا۔‘

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل اسرائیل کی جانب سے ترکی کی سرحد کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ شام نے اس حملے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    اس واقعے کے بعد امریکہ نے غیر معمولی طور پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حملے کو ’غیر ضروری‘ قرار دیا تھا جو علاقائی استحکام میں مددگار نہیں۔

    ترکی میں امریکی سفیر ٹام بارک نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ممکن ہے اسرائیل نے ترکی کو تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش میں یہ حملہ کیا ہو، خصوصاً اسرائیلی انتخابات سے قبل۔‘

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے امریکی سفیر کے بیان کو ’غلط معلومات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج واضح انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے ابو الظہور فوجی اڈے پر منگل کے حملے کے بعد کہا کہ ’اسرائیل اور شام نے سکیورٹی معاملات پر موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم شام مبینہ طور پر حلب کے قریب ایک فوجی اڈے پر ترک فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دے کر اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔‘

    ترکی نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کے فوجی ابو الظہور اڈے پر منتقل ہوئے تھے یا نہیں، تاہم انقرہ نے اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ ترک موجودگی اس کے لیے خطرہ ہے۔

    ابو الظہور ایئربیس سنہ 2013 سے باقاعدہ فوجی ہوائی اڈے کے طور پر غیر فعال ہے۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف کارروائی کے دوران باغی فورسز نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ شام اپنے فوجی مراکز کی دوبارہ تعمیر کی کوشش کر رہا ہے جو اسد حکومت کے خاتمے والی کارروائی کے دوران تباہ ہوئے تھے۔

    ترکی نے بھی اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی فوج کو معاونت فراہم کی ہے، جبکہ اسرائیل دونوں ممالک کے بارے میں بدستور شدید تحفظات رکھتا ہے۔

    شام کے موجودہ رہنما احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ نومبر سنہ 2025 میں وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے شام کے پہلے سربراہِ مملکت بھی بنے تھے۔

  8. شاپنگ مال میں ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری، زیلنسکی کی روسی حملے کی شدید مذمت

    یوکرین میں امدادی کارکن روسی حملے میں تباہ ہونے والے ایک بڑے شاپنگ سینٹر کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    جمعے کو کریوی ریہ شہر میں مصروف شاپنگ سینٹر کو یکے بعد دیگرے دو ڈرونز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوگئے۔

    حکام کے مطابق چار افراد اب بھی لاپتا ہیں اور وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مزید دو روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملبہ ہٹانے کے دوران مزید روسی حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے حملے کو ’مکارانہ اور انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق دوسرے ڈرون نے جان بوجھ کر ان امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جو پہلے حملے کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے پہنچے تھے۔

    دنیپروپیٹروفسک کے علاقائی سربراہ اولیکساندر ہانژا کے مطابق رات کے دوران ملبے سے ایک اور لاش ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اس لیے امدادی کارروائی مزید دو دن جاری رہ سکتی ہے۔

    یوکرین کے سات دیگر علاقوں سے بھی امدادی ٹیمیں فوری طور پر کریوی ریہ روانہ کی گئی ہیں۔

    ادھر روس اور یوکرین کے درمیان رات بھر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے دوران 457 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔

    روس کے جنوبی علاقے کراسنودار کے ایک بندرگاہی شہر پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو بچے ہلاک اور دو بالغ افراد زخمی ہوئے۔

    مغربی علاقے بیلگورود میں بھی یوکرینی فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے روس کے سمارا علاقے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

    روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی ’اوزون‘ نے بھی بتایا کہ خطے میں اس کے ایک گودام کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین حالیہ مہینوں میں روس کی توانائی تنصیبات اور بڑے لاجسٹک مراکز پر حملے تیز کر چکا ہے۔ کئیو کا مؤقف ہے کہ یہ تنصیبات روسی جنگی کوششوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہیں، جبکہ ماسکو کا الزام ہے کہ یوکرین شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    روس نے فروری سنہ 2022 میں یوکرین پر حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت ماسکو یوکرین کے جنوب مشرقی حصے کے تقریباً ایک پانچویں علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔

  9. ’ٹرمپ کے محصولات کینیڈا کو تقسیم کرنے کی کوشش ہیں‘: کارنی کا امریکہ کے خلاف جوابی محصولات کا اعلان

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کی جانب سے کینیڈین اشیا پر نئے ٹیرف عائد کیے جانے کو ’نامناسب‘ اور ایک ’غلط اندازہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کا مقصد کینیڈا کو ’نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا‘ ہے۔

    کینیڈین وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ’کینیڈا آٹھ ستمبر سے امریکی ٹیرف کا ڈالر بہ ڈالر جواب دے گا۔‘ جوابی محصولات میں سٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات اور الیکٹرانکس سمیت مختلف امریکی اشیا شامل ہوں گی۔

    کینیڈا کے وزیراعظم کا یہ بیان جمعہ کی رات امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات اچانک ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    کارنی نے سنیچر کی صبح کینیڈین عوام سے خطاب میں کہا کہ ’امریکی مطالبات حد سے تجاوز کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں پیشکش انتہائی کم ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’نئے امریکی محصولات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی صورتحال اب ایک ’جنگ‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔‘

    کارنی نے کہا کہ ’کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ’مجبوراً‘ جوابی کارروائی کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جوابی اقدامات کی مزید تفصیلات آئندہ چند دنوں میں جاری کی جائیں گی۔ کینیڈا کی اپوزیشن جماعتوں، بشمول کنزرویٹو پارٹی اور بعض صوبائی رہنماؤں نے بھی وزیراعظم کے موقف کی حمایت کی ہے۔

    مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے متعدد کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کیے ہیں۔ یہ محصولات پہلے سے عائد امریکی ٹیرف کے علاوہ ہیں، جو کینیڈین سٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی پر نافذ ہیں۔

    نئے ٹیرف کا دائرہ نسبتاً محدود ہے اور تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات، یعنی مجموعی درآمدات کے تقریباً پانچ فیصد، کو متاثر کرے گا۔ ان میں شراب، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے اور ہاکی کا سامان شامل ہیں۔

    تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک مذاکرات کے خاتمے اور نئے کینیڈین ٹیرف پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ایک سال سے تجارت کے معاملے پر مذاکرات کبھی تیز اور کبھی معطل ہوتے رہے ہیں، تاہم حالیہ ہفتوں میں امریکی ڈیڈ لائن کے باعث بات چیت میں تیزی آئی تھی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر آخری لمحات میں شرائط تبدیل کرنے کا الزام لگاتے رہے، جس کے نتیجے میں جمعہ کو مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔

  10. ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے لیکن بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں: ایرانی صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے بھی اپنے قتل سے قبل اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔

    صدر پزشکیان نے ڈاکٹروں کے دن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای نے اپنی ملاقاتوں اور تقاریر میں ’عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ ہمیں نہ جنگ، نہ امن کی اس صورتحال سے باہر نکلنا چاہیے۔‘

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ’حکمت، تدبر، دانشمندی اور وقار‘ کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے۔ ہم طاقت کے ساتھ، لیکن منطق کی بنیاد پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔‘

    صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں مذاکرات اور فیصلہ سازی میں شامل افراد کے نزدیک یہ بہترین مفاہمت کی یادداشت تھی۔

    ان کے یہ تازہ بیانات گزشتہ چند دنوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت سے متعلق ان کے مؤقف کا تسلسلسمجھے جا رہے ہیں۔

  11. مستونگ میں بم حملے میں کم از کم ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سینیچر کے روز بم حملے کے ایک واقعے میں کم از کم ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے۔

    سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ کھڈکوچہ میں گرو کے علاقے میں پیش آیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو کہ اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں یہاں سے گزررہی تھیں۔

    اہلکار کے مطابق دھماکے کے باعث ایک سکیورٹی اہلکار زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے۔

    زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ایک اہلکار کے مارے جانے پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملے سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکتے۔’

    دو روز کے دوران کھڈکوچہ میں پیش آنے والا تیسرا واقعہ کھڈکوچہ میں دو روز کے دوران تشدد کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

    گزشتہ روز اس علاقے میں دو مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

    کھڈکوچہ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا جبکہ باقی چار افراد کی ہلاکت اور تین کے زخمی واقعہ ایک باغ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدور تھے جو کہ سیب کے ایک باغ میں کام کررہے تھےـ

    نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرؤف مینگل نے دعویٰ کیا کہ چار مزدور کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کا واقعہ ڈرون حملے کی وجہ سے پیش آیا ہےـ

    دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے مستونگ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  12. اسرائیل کا جنوبی شام میں حملہ، ایک شخص زخمی، دمشق کی شدید مذمت

    شام نے دمشق کے جنوب میں سنیچر کے روز ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے، جس میں ایک شخص زخمی ہوا ہے

    یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔

    شام کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ شامی عرب جمہوریہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اور شامی سرزمین پر اسرائیل کے بار بار ہونے والے حملوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی افواج نے جنوبی شام میں ایک ایسے ’دہشت گرد‘ کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حملوں کی تیاری کے آخری مراحل میں تھا۔

    تاہم ااسرائیلی فوج نے نہ تو اس شخص کی شناخت ظاہر کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا اس کا تعلق کسی مخصوص گروہ سے تھا۔

    شام کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق زخمی ہونے والا شخص اس وقت نشانہ بنا جب اسرائیلی ڈرون نے دمشق کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں میں ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے حملے کے بعد ایک تباہ شدہ ٹرک کی تصاویر بھی نشر کیں۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شخص کی سرگرمیوں سے اسرائیلی فوجیوں کو فوری خطرہ لاحق تھا، تاہم فوج نے اس کی شناخت یا تنظیمی وابستگی کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

    دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے اسرائیل شام میں سیکڑوں حملے کر چکا ہے۔

    اسی عرصے میں اسرائیل نے اپنی افواج کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں قائم بفر زون میں بھی منتقل کیا جو کئی دہائیوں سے گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان حائل رہا ہے۔

    اسرائیل متعدد بار شامی علاقے کے اندر گہرائی تک کارروائیاں بھی کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی شام میں ایک نام نہاد سکیورٹی زون میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

    اسرائیل جنوبی شام میں ایک وسیع تر غیر فوجی علاقہ قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

  13. قیدی (عمران خان) کی فیملی اور پارٹی توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے: عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے حوالے سے انتظامیہ نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کیا اور اس ضمن میں تمام اقدامات شفاف انداز میں کیے گئے۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف اس معاملے پر ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ کر رہی ہے، حالانکہ عمران خان کا عدالتی حکم کے مطابق طبی معائنہ کروایا گیا اور معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ بھی موجود تھیں۔ ان کے بقول انتظامیہ نے عدالت کے احکامات کی مکمل پیروی کی اور حقائق لمحہ بہ لمحہ قوم کے سامنے رکھے۔

    وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ان کی جماعت کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور حکومت آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معاملات پر حکومت کی جانب سے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا گیا۔

    عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ شفا ہسپتال کے باہر لوگوں کو جمع کیا گیا اور پریس کانفرنس کے ذریعے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح احکامات تھے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، تاہم تحریکِ انصاف، عمران خان کی بہن اور پارٹی قیادت نے ان احکامات کی خلاف ورزی کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت نے نظرِ ثانی اپیل میں تمام قیدیوں کے لیے یکساں سہولیات کا نکتہ اٹھایا تھا اور بانی پی ٹی آئی کا علاج کبھی نہیں روکا گیا۔ ان کے بقول ’پی ٹی آئی اس معاملے پر سیاست کر کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔‘

    وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسل نے تحریکِ انصاف کے سیاسی مؤقف سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی رکن کا انفرادی بیان کونسلوں کا سرکاری مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی طرف سے ایک ’بے بنیاد توہین عدالت کی پیٹیشن دائر کی گئی۔‘ عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال کے باہر ہجوم جمع کیا گیا، خطرہ پیدا کیا گیا، بیرئیر ہٹائے گئے، ٹک ٹاک بنائی گئی اور یہ سب پی ٹی آئی کر رہی تھی۔

    عدالت نے کہا تھا کہ سیاسی بیان بازی نہیں کی جائے گی مگر انھوں نے اس پر سیاست کی۔

  14. توہین عدالت کی درخواست میں پی ٹی آئی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو فریق کیوں نہیں بنایا؟

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی دائر کردہ درخواست میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو فریق نہ بنانے کی وجہ بتا دی ہے۔

    وکیل علی عزیر بھنڈاری نے ایکس پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس توہینِ عدالت کی درخواست میں اعظم تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کو فریق اس لیے بنایا گیا ہے کیونکہ عمران خان کی منتقلی کے معاملے پر انھوں نے جو بیانات دیے، وہ درخواست کا حصہ بنے ہیں۔‘

    وکیل کے مطابق وزیراعظم کو فریق بنانے کی بنیاد سپریم کورٹ کا یوسف رضا گیلانی کیس کا وہ فیصلہ ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ اگر حکومت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو بالآخر اس کی ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق محسن نقوی کو فریق نہیں بنایا گیا کیونکہ اس معاملے پر ان کا کوئی ایسا بیان یا مواد سامنے نہیں آیا، جس کی بنیاد پر انھیں درخواست میں شامل کیا جا سکے۔ تاہم اگر ایسا کوئی مواد سامنے آتا ہے یا عدالت یہ سمجھے کہ وہ اس معاملے میں ملوث تھے تو انھیں بعد میں بھی فریق بنایا جا سکتا ہے۔

    ان کے مطابق سیکریٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے کیونکہ رولز آف بزنس 1973 کے تحت وہ وزارتِ داخلہ کے انتظامی سربراہ ہیں۔

  15. امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اپنے اتحادیوں کی سلامتی داؤ پر لگا دی، باقر قالیباف

    ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران کو پڑوسی ممالک کی جانب سے خطے میں نئے سکیورٹی انتظامات کی تشکیل اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ’متعدد پیغامات‘ موصول ہوئے ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اپنے تمام اتحادی ممالک کی سلامتی کو دھونس اور ان کے مفادات کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے ایسے خطرے میں ڈال دیا کہ انھیں مختصر وقت کے لیے اپنی بقا تک خطرے میں محسوس ہونے لگی۔‘

    قالیباف نے مزید کہا کہ ’امن اور سلامتی کی حقیقی ضمانت ایک مقامی، خودمختار اور آزاد علاقائی نظام ہی فراہم کر سکتا ہے۔‘

  16. عمران خان کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، صحت کے مسائل تنہائی میں قید کا نتیجہ ہیں: وکیل سلمان صفدر

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا ہے کہ عمران خان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کی صحت سے متعلق مسائل طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھنے کا نتیجہ ہیں۔

    سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو جن صحت کے مسائل کا سامنا ہے، وہ براہِ راست مسلسل تنہائی میں رکھے جانے کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے بقول یہ بات اُن رپورٹوں میں بھی تسلیم کی گئی ہے جو حکام نے عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی صحت پر قید کے حالات کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو آئین اور قانون کے تحت حاصل بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے۔

  17. 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہو گا اور اب 20 نہیں بلکہ 40 لاکھ لوگ وہاں پہنچیں گے: سہیل آفریدی

    27 تاریخ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہو گا اور اب 20 نہیں بلکہ 40 لاکھ لوگ وہاں پہنچیں گے۔ یہ اعلان خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میں سٹریٹ موومنٹ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اپنی تقریر میں انھوں نے عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالت کے تین ججوں کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے نظرانداز کیا۔ ان کے بقول، اگر عدالتیں ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لا سکتیں جنھیں وہ ’طاقتور‘ قرار دیتے ہیں تو پھر کمزور اور عام شہریوں کے لیے بھی الگ معیار نہیں ہونا چاہیے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے خلاف عدالت، ایف آئی اے یا کسی دوسرے ادارے کی جانب سے کوئی حکم آئے تو اس پر فوری عملدرآمد ہوتا ہے، لیکن عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں کی جانب سے دی گئی مہلت کے باوجود فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون نہیں ہو سکتا اور سب کو یکساں انصاف ملنا چاہیے۔

    وزیرِ اعلیٰ نے پی ٹی آئی کی خواتین کے ساتھ مبینہ سلوک پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی اور پی ٹی آئی خواتین کو ظلم و جبر کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔

    اپنی تقریر میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے شروع کی گئی ’حقیقی آزادی‘ کی تحریک کا مقصد قانون کی یکساں حکمرانی اور انصاف کی فراہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتوں اور دیگر اداروں کو یہ سوچنا ہو گا کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، کیونکہ ان کے بقول کسان پریشان ہے اور صنعتکار سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ادارے طاقتور حلقوں کو تحفظ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتے۔ وزیرِ اعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں اور ملکی معاملات میں فعال کردار ادا کریں۔

  18. توہینِ عدالت کی درخواست فوری دائر کرنا ممکن نہیں تھا: سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے معاملے میں توہینِ عدالت کی درخواست فوری طور پر دائر کرنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    ان کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان جب اڈیالہ جیل سے باہر آئیں تو شام ساڑھے آٹھ بج چکے تھے، جس کے بعد تقریباً رات نو بجے وکیل عزیر بھنڈاری سے رابطہ ہوا اور توہینِ عدالت کی درخواست پر کام شروع کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ اگلا دن جمعہ تھا اور جمعے کے روز عدالتوں میں فائلنگ کا وقت محدود ہوتا ہے، جو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک ہوتا ہے۔ ان کے بقول دو گھنٹوں کے اندر تمام واقعات سے متعلق دستاویزی شواہد اکٹھے کرنا، انھیں مرتب اور بائنڈ کرنا اور پھر درخواست دائر کرنا ممکن نہیں تھا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر فرض کیا جائے کہ درخواست مقررہ وقت میں دائر بھی ہو جاتی تو بھی یہ ضروری نہیں تھا کہ اسی روز عدالت میں سماعت شروع ہو جاتی۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی درخواستیں پہلے پڑتال کے عمل سے گزرتی ہیں، جہاں ابتدائی جانچ میں کئی روز لگ سکتے ہیں، جس کے بعد معاملہ عدالت کے سامنے آتا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے فوراً بعد سماعت مقرر ہونا معمول کی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان ’بلّا‘ واپس لینا تھا تو اس مقدمے میں رات آٹھ بجے درخواست دائر ہوئی اور اگلی صبح نو بجے سماعت مقرر ہو گئی تھی، جسے انھوں نے ایک غیر معمولی مثال قرار دیا۔

  19. راولپنڈی میں حساس سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے پاکستانی فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں حساس سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے پاکستانی فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے 21 اگست 2026 کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے مطابق پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی میں کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے بچنے اور غیر متوقع حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے فوجی دستوں کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔

    دستاویز کے مطابق فوج کی تین کمپنیوں کو فوری طور پر چھ ماہ کی مدت کے لیے تعینات کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ تعیناتی ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق کی جا رہی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے اس حکم نامے کی نقل صدرِ مملکت کے دفتر، وزیرِ اعظم کے دفتر، کابینہ ڈویژن، پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اور جی ایچ کیو راولپنڈی سمیت متعلقہ اداروں کو ارسال کی گئی ہے۔

    حکم نامے کے مطابق یہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ کے آئندہ شمارے میں شائع کیا جائے گا۔

  20. سابق وزیرِ اعظم کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، تحریکِ انصاف نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست عزیر بھنڈاری اور سلمان اکرم راجہ کی جانب سے دائر کی گئی۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے حکم کی خلاف ورزی کے خلاف سنیچر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جسے باقاعدہ طور پر دائری نمبر بھی الاٹ کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق اس مقدمے میں عزیر کرامت بھنڈاری ایڈووکیٹ وکیل ہیں جبکہ توہینِ عدالت کی درخواست سے متعلق کارروائی کے ایک ایک پہلو کی سلمان اکرم راجہ نے ذاتی طور پر نگرانی کی۔

    توہینِ عدالت کی درخواست میں عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر کی تعیناتی یا لوکل کمیشن مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں توہینِ عدالت کے مرتکب افراد کو شوکاز نوٹس جاری کر کے ذاتی حاضری کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔