امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو ایران اپنا دُشمن سمجھے گا: محسن رضائی
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کی ’اقتصادی جنگ‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو اپنا دُشمن تصور کرے گا۔
ایران اس سے قبل خطے کے ان ممالک کو ہدف بنا چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کے روز کہا کہ اب اس چھ ماہ پر محیط تنازع کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ دیگر ممالک پر بھی زور دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط ختم کر دیں۔
’امریکہ کے ایران پر بلااشتعال حملے کے بعد ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے‘
محسن رضائی نے کہا کہ اگر بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کسی ملک پر حملے کو نہیں روکتی تو ’ہم ایٹم بم کیوں حاصل نہ کریں؟‘
محس رضائی نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران پر امریکی حملے نے کچھ ممالک کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول زیادہ بہتر دفاعی ڈیٹرنس فراہم کر سکتا ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘ این پی ٹی کا رکن تھا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کر رہا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ اب پوری دُنیا یہ کہہ رہی ہے کہ نہ تو این پی ٹی اور نہ ہی جوہری توانائی کی تنظیم کی رُکنیت مؤثر ہے جس کی وجہ سے ممالک میں ایٹم بم حاصل کرنے کی ’خواہش‘ بڑھ گئی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اپنے انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف اس عمل میں حصہ لیتا ہے جسے اُنھوں نے ’معاشی جنگ‘ قرار دیا، تو ایران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے ’تیل کا ایک قطرہ‘ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ لڑنے کے اپنے انداز اور سفارتی رویے میں تبدیلیاں لائے گا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی حملوں میں ناکامی کے بعد امریکہ اب ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔