لائیو, ایران کے خلاف ’معاشی حملے‘ کا اعلان فوجی محاذ پر امریکی ناکامی کا اعتراف ہے: پاسدارانِ انقلاب

امریکہ نے پیر سے ایران کے خلاف بڑے ’معاشی حملے‘ کا اعلان کیا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران بھی متوقع ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی کے مطابق یہ اعلان دراصل واشنگٹن کی ’فوجی محاذ پر ناکامی‘ کا اعتراف ہے۔

خلاصہ

  • ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے امریکہ کی جانب سے معاشی دباؤ بڑھانے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے
  • امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا‘
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے: ایران
  • ہم مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں: ایرانی صدر
  • صدر پزشکیان کے 'نہ جنگ نہ امن' کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے
  • ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اپنے اتحادیوں کی سلامتی داؤ پر لگا دی۔

لائیو کوریج

  1. امریکی معاشی حملے کا اعلان فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا اعتراف ہے: پاسدارانِ انقلاب

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے معاشی حملے کی بات دراصل فوجی محاذ پر بڑی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے۔‘

    شمالی صوبے البرز میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین محیبی نے کہا کہ ’اگر آپ فوجی محاذ پر کامیاب ہو گئے ہوتے تو اس تمام معاشی شور شرابے کی ضرورت نہ پڑتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دشمن قوتیں اپنے بحری جہاز خاصا پیچھے ہٹانے پر مجبور ہوئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو توڑنے کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آئی آر جی سی کے ترجمان نے ایرانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ جنگ کی نوعیت اور اس میں شامل فریقوں کی درست نشاندہی کرکے عوام کو اس سے آگاہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ میڈیا کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ’میدانِ جنگ میں شکست کھانے والا فریق عوام کے ذہنوں میں خود کو فاتح کے طور پر پیش کر سکے۔‘

  2. فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایک وفد کے ہمراہ تہران ک دورہ کریں گے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے فیلڈ مارشل اپنے دورے کے درمیان ایران کے سینیئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    تاہم پاکستان نے تاحال سرکاری سطح پر اس دورے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور اس دوران خطے میں امن، سکیورٹی ور استحکام کی بحالی کی کوششوں پر بات چیت ہوئی تھی۔

  3. ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کے سے روز سے شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی پیر کی صبح شروع کی جائے گی، جو ان کے بقول کسی دشمن کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کا مقصد ایران کے آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے، تاکہ بالآخر تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔‘

    امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید لکھا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں حکومت کے تمام اداروں کی مکمل صلاحیت، تمام قانونی اختیارات اور وہ اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سکیورٹی ضمانتوں کے لیے دباؤ ڈال کر زندہ رہا ہے۔‘ ان کے بقول ’اس نظام نے اپنی طاقت اس سوچ سے حاصل کی کہ ایران کی جوابی کارروائی یقینی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے سخت اقدامات پر عمل درآمد قابلِ مذاکرات ہے۔ لیکن ٹرمپ کی صدارت میں یہ دور ختم ہو چکا ہے اور جو لوگ تہران کی جوابی کارروائی کے خطرے سے خوفزدہ ہیں، انھیں واشنگٹن کے عزم کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ سنیچر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی۔‘ ان کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گی۔

  4. گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی صدر پوتن جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے حملوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس موسمِ سرما کا انتظار کر رہا ہے اور یوکرین کے شہری کاروبار، لاجسٹکس نیٹ ورک اور ترسیلی نظام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’یہ سلسلہ 2022 سے جاری ہے۔‘
    • عمان اور فلائی دبئی نے جنوبی ایران میں ایک نئے فضائی راستے کے قیام کی درخواست دی ہے، جس کا ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس مجوزہ روٹ کا مقصد فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو مزید بہتر بنانا، پروازوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ایران کے جنوبی فضائی راستوں کی اہمیت اور کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
    • عمان اور فلائی دبئی نے جنوبی ایران میں ایک نئے فضائی راستے کے قیام کی درخواست دی ہے، جس کا ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس مجوزہ روٹ کا مقصد فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو مزید بہتر بنانا، پروازوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانا اور ایران کے جنوبی فضائی راستوں کی اہمیت اور کشش میں اضافہ کرنا ہے۔
  5. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    اس صفحے پر آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کر سکتے ہیں۔