’جنگ بندی برقرار ہے‘: صدر ٹرمپ کی امریکی بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق، ایرانی کشتیوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جاسک کی بندگاہ کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔

خلاصہ

  • ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
  • سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
  • ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’جس طرح سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے خطرہ ہے ایسے ہی سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔‘
  • پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ 'معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے۔‘
  • جوہری پروگرام پر مذاکرات نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہی رہنی چاہیے، رہبر اعلیٰ کے مشیر

لائیو کوریج

  1. معرکۂ حق کو ایک سال مکمل، انڈیا کو ہمارے جواب پر سفید جھنڈا لہرانا پڑا: وزیرِ داخلہ محسن نقوی

    Mohsin Naqvi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات جاری ہیں اور اس دوران وزارتِ داخلہ سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل رہی، جس کے وہ خود عینی شاہد ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ملڑی سیکریٹری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے کہا کہ آپ بنکر میں چلے جائیں صدر پاکستان نے جواب دیا میری شہادت یہاں لکھی ہے یہاں ہی ہو گی۔ ان کے مطابق صدر اور وزیراعظم پاکستان جنگ کے دوران کسی بنکر میں نہیں گئے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے معرکۂ حق کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران انڈیا کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے اور مختلف پاکستانی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا گھنٹوں تک یہ دعوے کرتا رہا کہ پاکستانی ڈرونز نئی دہلی میں وزیراعظم ہاؤس اور دیگر حساس مقامات تک پہنچ گئے۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے والے بیشتر ڈرونز کو سرحد عبور کرتے ہی یا شہری حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ’ان انڈین حملوں کے نتیجے میں پاکستان کے نوجوان شہید ہوئے، تاہم پاکستان نے جارحیت کا بھرپور دفاعی جواب دیا۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے جوابی اقدامات کے بعد انڈیا کو سفید جھنڈا لہرانا پڑا اور جنگ بندی کی اپیل کرنا پڑی۔ ان کے مطابق پاکستانی نوجوانوں نے سائبر حملوں کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا، اور یہ سب اس نوعیت کی جنگ میں پہلی بار ہوا۔

    وزیر داخلہ نے پاکستانی میڈیا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران قومی میڈیا نے بہترین کارکردگی دکھائی اور پوری قوم کو متحد رکھا، جبکہ انڈین میڈیا مسلسل دباؤ اور انتشار کا شکار رہا۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی انڈیا کو واضح پیغام دے دیا تھا کہ ہم چھپ کر وار نہیں کریں گے، اور جب بھی ردِعمل دیں گے کھل کر اور سامنے سے دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ایک موقع پر پاکستان کی ایک بیس پر 16 میزائل فائر کیے گئے، تاہم مسلح افواج صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ تھیں۔ ان کے مطابق 16 میں سے 14 میزائل بروقت ناکارہ بنا دیے گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہدف انتہائی محدود جگہ پر تھا، اس کے باوجود پاکستان نے کامیابی حاصل کی اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد سے ممکن ہوا۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ انڈین جنگی طیارے اور حساس علاقوں کی سرگرمیاں پاکستان کے ریڈار پر تھیں۔ صورتحال واضح ہونے کے بعد انڈیا نے خود جنگ بندی کی طرف قدم بڑھایا۔ ان کے مطابق انڈین اداروں کے سربراہان نے بھی تسلیم کیا کہ انھیں اس آپریشن میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

    وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس کامیابی میں پاکستان کی مسلح افواج اور ایجنسیاں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہیں، اور انڈیا میں ہونے والی حکمتِ عملی کے حوالے سے معلومات پہلے سے موجود تھیں، جن سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی تھا اور وہ ائیر چیف کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، جبکہ نیول چیف بھی اسی رابطے کا حصہ تھے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی مشترکہ فیصلہ سازی کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی، اور ایسے بڑے فیصلوں کے لیے غیر معمولی جرات درکار ہوتی ہے، جس کے نتائج آج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ جنگ کے دوران جو کچھ ہوا، پوری دنیا نے دیکھا، اور پاکستان کی کامیابیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال غیر معمولی حد تک آگے بڑھ چکی تھی اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک لانا آسان نہیں تھا۔

  2. جوہری پروگرام پر مذاکرات نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہی رہنی چاہیے، رہبر اعلیٰ کے مشیر

    ICRG

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ اور ایران کے نئے رہنما کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران ’جوہری معاملے پر کسی سے مذاکرات نہیں کرے گا‘ اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران ہی کے پاس رہنا چاہیے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور ایران کی مصلحت کونسل کے موجودہ رکن محسن رضائی نے خبردار کیا کہ ’اگر آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور انتظام ایران کے ہاتھ سے نکل گیا تو دشمن ایک بار پھر اسے ایران اور اس کے عوام کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایرانی ماڈل اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کی سلامتی خطے کے اپنے ممالک کو ہی فراہم کرنی چاہیے، غیر ملکی افواج، چاہے وہ امریکی ہوں یا یورپی، کو خطے سے نکل جانا چاہیے۔‘

    اس سے قبل بھی محسن رضائی کا ایک سخت بیان سامنے آیا تھا، جس میں اُنھوں نے کہا کہ ایرانی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور ’ہماری انگلیاں ٹریگر‘ پر ہیں۔

  3. امریکی رویہ ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف ہے، ایرانی صدر کا فرانسیسی ہم منصب سے شکوہ

    France, Iran

    ،تصویر کا ذریعہX/@drpezeshkian2

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے گفتگو میں امریکہ کے رویے کو ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے طرزِ عمل نے سفارتکاری کا رخ خطرات، دباؤ اور پابندیوں کی جانب موڑ دیا ہے، جس کے باعث ایران امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

    ایرانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے دو مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، مگر ہر بار ان مذاکرات کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی جارحیت بھی کی گئی۔ ان کے بقول ’ایسا طرزِ عمل درحقیقت پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کسی بھی مؤثر مذاکرات کے لیے جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی ضمانت ضروری ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ کوئی معاندانہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    صدر مسعود پیزشکیان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی مسلح افواج کوئی عسکری اقدام کرتی ہیں تو اس کا واضح اعلان کیا جاتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا ضامن رہا ہے، تاہم امریکی اقدامات، جن میں بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے، خطے کے استحکام میں خلل کا باعث بنے ہیں۔

    انھوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات کے لیے امریکہ کی عائد کردہ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔

    بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس مذاکرات کو آگے بڑھانے اور تہران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

  4. ٹرمپ کا سٹاک مارکیٹ میں تیزی پر خوشی کا اظہار، ’بچت اور ملازمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے دوران وال سٹریٹ میں ریکارڈ توڑ اضافے کو ایک بار پھر ’ترقی کرتی ہوئی‘ معیشت کا ثبوت قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ ’آج سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، بچت اور ملازمتیں بڑھ رہی ہیں۔‘

    جمعرات کو ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک کمپوزٹ دونوں نے ریکارڈ سطح پر بندش دی، جہاں بالترتیب 1.46 فیصد اور دو فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ زیادہ تر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ حصص میں تیزی کے باعث ہوا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں بھی ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔

    ان اضافوں کی وجہ سرمایہ کاروں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات میں پیش رفت کی امید کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔

    تاہم ٹرمپ کی جانب سے ’ترقی کرتی‘ معیشت کے دعوؤں کے باوجود، امریکہ میں پیٹرول کی قومی اوسط قیمت کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر 4.48 ڈالر فی گیلن (3.78 لیٹر) ہے۔ بُدھ کو معمولی کمی سے قبل، صرف دو ہفتوں میں قیمتوں میں 11 فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔

    امریکی فیڈرل ریزرو نے گذشتہ ماہ جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا تھا کہ خوراک اور توانائی سے متعلق مہنگائی کے حوالے سے امریکی گھریلو توقعات 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہ@WhiteHouse

  5. ایران کی جنوبی کوریائی بحری جہاز پر دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تہران نے جنوبی کوریائی بحری جہاز پر ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے میں ملوث ہونے کی ’دوٹوک‘ تردید کر دی ہے۔

    ایران نے اس ہفتے کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک جہاز پر ہونے والے دھماکے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

    سیول میں ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں ایک کوریائی بحری جہاز کو نقصان پہنچنے کے واقعے میں ایرانی مسلح افواج کے ملوث ہونے سے متعلق تمام الزامات کو سختی سے اور دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔‘

    جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ جنوبی کوریا کے زیرِ انتظام اس بحری جہاز پر ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے کی وجوہات کا تعین اُس وقت ہی کیا جا سکے گا جب جہاز کو بندرگاہ پر لایا جائے گا۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز پر فائرنگ کی ہے۔

    ایرانی سفارت خانے نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے باعث ایران اب آبنائے ہرمز کو اپنے ’دفاعی جغرافیے‘ کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن قوتوں اور ان کے اتحادیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ میں سیکیورٹی پروٹوکولز تبدیل ہو چکے ہیں۔

  6. حماس کے رہنما کا بیٹا غزہ میں اسرائیلی حملے میں زخمی

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کے رہنما خلیل الحیا کا بیٹا بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں زخمی ہو گیا، جس میں سول ڈیفنس اور اس پٹی کے ہسپتالوں کے مطابق چھ فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے طبی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں حماس کے رہنما خلیل الحیا کے بیٹے عزام الحیا، جو اسرائیل کے ساتھ تحریک کے مذاکراتی وفد کے سربراہ تھے، زخمی ہوئے۔

    اسرائیل تقریباً روزانہ کی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں اپنی بمباری کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حماس پر ان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ کرتا ہے۔

  7. ایران کے تبریز ہوائی اڈے سے پروازیں دوبارہ بحال

    ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی میڈیا نے تبریز ایئرپورٹ کو دوبارہ کھولنے کی خبر دی۔ تبریز سول ہوائی اڈے پر ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران حملہ ہوا تھا اور اس کے رن وے اور کنٹرول اور مواصلاتی مرکز کو نقصان پہنچا تھا۔

    حکام کے مطابق اب، تزئین و آرائش کے کام کی تکمیل کے ساتھ، ہوائی اڈے کو ’مکمل طور پر‘ دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

    ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران تہران، مشہد، تبریز، اہواز وغیرہ شہروں کے کئی ہوائی اڈوں پر متعدد بار حملے ہوئے۔

  8. توقع ہے کہ ایران آج جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز پر اپنا ردعمل دے گا: امریکی میڈیا

    USA

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    امریکی میڈیا نے ذرائع سے متعلق یہ خبر دی ہے کہ ’توقع ہے کہ ایران آج جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز کے حوالے سے ثالثوں کو اپنا جواب دے گا۔

    سی این این نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اور ایرانی فریق جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جب کہ تہران امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر غور کر رہا ہے۔

    ایرانی میڈیا کو بھی ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ ایران ابھی امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پھر ثالث ملک (پاکستان) کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ باخبر ذرائع نے اسے بتایا کہ امریکی صدر ’ٹرمپ کی پسپائی کے بعد ایران نے اس معاملے پر دوبارہ غور و خوض شروع کر دیا ہے اور جب کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا تو ثالث کو مطلع کر دیا جائے گا۔‘

    اسے باخبر ذرائع نے بُدھ کو یہ بتایا ہے کہ امریکی میڈیا کے ان دعوؤں کے باوجود، جن میں کہا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے کے قریب ہیں، تہران نے اب تک واشنگٹن کی تازہ ترین تجویز پر سرکاری طور پر کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اس میں ’کچھ ناقابلِ قبول شقیں‘ شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ’آج امریکی میڈیا کی طرف سے کی جانے والی پروپیگنڈا مہم کا مقصد بنیادی طور پر ٹرمپ کی حالیہ معاندانہ کارروائی سے پسپائی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ابتدا ہی سے غلط تھا اور کبھی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا، ’یہ واضح نہیں کہ امریکہ کو زمینی حقائق کو سمجھنے کے لیے کتنی بار دیوار سے سر ٹکرانا پڑے گا۔ بہرحال، تجربے سے امریکیوں کو یہ سمجھ آ جانی چاہیے تھی کہ طاقت اور دھمکیوں کی زبان نہ صرف ایران کے خلاف غیر مؤثر ہے بلکہ امریکیوں اور دیگر دشمنوں کے لیے صورتِ حال کو مزید خراب کرتی ہے۔‘

    ذرائع نے وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے 14 شقوں پر مشتمل ’معقول اور منطقی‘ تجاویز پیش کیے جانے کے بعد، امریکیوں نے اپنی تجویز ارسال کی، لیکن اس کے فوراً بعد انھوں نے مہم جوئی اور دشمنی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنے جواب کا جائزہ لے رہا تھا، مگر امریکیوں نے ایک بار پھر ایک غیر دانشمندانہ طریقہ اختیار کیا، جس کے باعث جائزے کے عمل میں وقفہ آیا۔‘

  9. بحری جہاز امریکی بحری ناکہ بندی توڑ کر خلیج میں داخل

    ٹینکر ٹریکرز

    ،تصویر کا ذریعہ@TankerTrackers

    جہازوں کی نگرانی کرنے والے ایک ادارے کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے اور تیل سے خالی آئل ٹینکر مسلسل خلیجی علاقے میں پہنچ رہے ہیں، جن میں کم از کم دو جہاز امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    خصوصی نگرانی کی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایک VINA/VALLEY (9157478) نامی ٹینکر، جو عام طور پر ایران کی مائع پیٹرولیم گیس یمن میں حوثیوں تک پہنچاتا ہے، بدھ کے روز امریکی ناکہ بندی سے گزر کر گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک اور، نسبتاً بڑے ایرانی تیل بردار جہاز کی بھی خلیجی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ ناکہ بندی دباؤ کی ایک مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔

  10. ٹرمپ پر قالیباف کا طنز، ’اب معمول کا جعلی آپریشن شروع ہوا چاہتا ہے‘

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران کے خلاف حالیہ فوجی سرگرمیوں پر طنزیہ انداز میں ردِعمل دیا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر پیغام میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے اعلان کردہ ناموں کو بدل کر ’آپ مجھ پر یقین کریں آپریشن‘ اور ’جعلی کارروائی آپریشن‘ قرار دیا۔

    قالیباف نے لکھا کہ ’آپ مجھ پر یقین کریں آپریشن‘ ناکام ہو گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب معمول کے مطابق ’جعلی کارروائی آپریشن‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہ@mb_ghalibaf

  11. ایران آسانی سے آبنائے ہرمز سے دستبردار نہیں ہوگا: سابق برطانوی بحریہ کے سربراہ

    BBC
    ،تصویر کا کیپشنبرطانوی رائل نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل لارڈ ایلن ویسٹ

    برطانوی رائل نیوی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول آسانی سے نہیں چھوڑے گا جب تک دیگر اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو جائے۔‘

    ایڈمرل لارڈ ایلن ویسٹ نے بی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’موجودہ صورتحال کا پہلے ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ دیکھیں کہ امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا تھا تو ‘ایپک فیوری’ ایک بڑی ناکامی ثابت ہوئی ہے‘، یہ بیان انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس آپریشن کو دیے گئے نام کے حوالے سے دیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات بالکل واضح تھی کہ جیسے ہی آپ ایران کے ساتھ جنگ میں جائیں گے، وہ آبنائے ہرمز کو بند کرے گا یا بند کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا لگتا ہے جیسے امریکی اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے، جو میرے لیے حیران کن ہے۔‘

    ایڈمرل ویسٹ کے مطابق اس اہم گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا انحصار تہران پر ہوگا اور اس بات پر کہ مذاکرات میں پیش کی جانے والی شرائط سے ایران کس حد تک مطمئن ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی انتظامیہ اور فوج جہازرانی پر حملے نہیں کرتے تو آبنائے کو کھولا جا سکتا ہے۔‘

  12. اوول آفس میں ٹرمپ کی اچانک مختصر ملاقات، ایران سے ممکنہ معاہدے پر امید کا اظہار, وائٹ ہاؤس سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار برنڈ ڈیبس مین جونیئر کا تجزیہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وائٹ ہاؤس کے پریس پول کو اچانک اوول آفس میں بلایا گیا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی یو ایف سی شخصیات کے ہمراہ مختصر ملاقات کی۔ یہ ملاقات 14 جون کو امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے سلسلے میں متوقع ایک اہم تقریب کا حصہ ہے۔

    ٹرمپ نے رپورٹرز پر زور دیا کہ وہ موضوع پر رہیں، تاہم انھوں نے ایران سے متعلق کئی سوالوں کے جواب بھی دیے اور ایک بار پھر اس بات پر امید کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کے لیے کوئی معاہدہ ممکن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم ایک معاہدہ کر لیں۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا اور یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ایران دیگر امور کے ساتھ ساتھ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضامند ہو گیا ہے تاہم اس دعوے کی ایرانی جانب سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

    امریکی صدر نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ مذاکرات کے لیے 30 دن کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن ہے اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہوتی۔‘

    ابھی تک امریکی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں براہِ راست معلومات محدود ہیں اگرچہ ٹرمپ اور دیگر حکام مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ بات چیت مثبت سمت میں جا رہی ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اگرچہ فوجی کارروائی کے آپشن کو مکمل طور پر رد نہیں کیا لیکن بظاہر وہ اب بھی پرامید ہیں کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

  13. جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل کے بیروت کے مضافات پر حملے

    اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیہ کے ایک اہم حصے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے مطابق ان حملوں کا ہدف حزب اللہ کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنانا تھا۔

    بدھ کی رات لوگوں کو جائے وقوعہ پر جمع ہو کر نقصانات کا جائزہ لیتے دیکھا گیا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  14. ہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کریں گے: صدر ٹرمپ

    SHAWN THEW/EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہSHAWN THEW/EPA/Shutterstock

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ یہ کام کیسے کرے گا تو صدر نے دوبارہ یہی جواب دیا کہ ’ہم اسے حاصل کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائیوں کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اب تک 408 کلوگرام سے زیادہ اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم حوالے نہیں کر سکا ہے۔

  15. بیروت پر اسرائیلی فوج کے حملے: نیتن یاہو کا حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ABIR SULTAN/EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہABIR SULTAN/EPA/Shutterstock

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت میں حملے کیے ہیں جن کا ہدف حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر تھے۔

    نیتن یاہو کے مطابق انھوں نے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے ساتھ مل کر فوج کو ہدایت دی کہ وہ ’فوری طور پر بیروت میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنائیں تاکہ اسے غیر موثر بنایا جا سکے۔‘

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ رضوان فورس اسرائیلی بستیوں پر حملوں اور اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کا طویل ہاتھ ہر دشمن اور قاتل تک پہنچے گا‘، اور یہ بھی کہا کہ ’دشمن کے خلاف اسی طرح کارروائی کی جاتی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کی جائے گی۔‘

  16. بریکنگ, امریکی فوج کی خلیجِ عمان میں کارروائی، ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    US Centcom

    ،تصویر کا ذریعہUS Centcom

    ،تصویر کا کیپشنامریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے بحری جہاز ’ایم ٹی حسنا‘ کی تصویر

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی فوج کے مطابق ’ایم ٹی حسنا‘ نامی ٹینکر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد متربہ خبردار کرنے کے بعد امریکی بحریہ کے جیٹ طیارے سے کینن گن کا استعمال کرتے ہوئے جہاز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ناکارہ ہو گیا۔`

    امریکی حکام کے مطابق ’ایم ٹی حسنا‘ اب ایران کی جانب سفر نہیں کر رہا اور ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے یا جانے والے جہازوں کے خلاف امریکی پابندیاں بدستور نافذ ہیں۔

  17. امریکہ اور ایران میں سے پہلے پیچھے کون ہٹے گا؟, ژیار گُل، بی بی سی فارسی

    امریکی صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کی قیادت میں ایک قدر مشترک ہے: دونوں ہی دباؤ کو تسلیم کرنے اور یہ ماننے سے گریز کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ جنگ سے کس قدر بچنا چاہتے ہیں۔

    ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد اب یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے کہ امریکہ اس تنازع سے باہر نکنے کا راشتہ تلاش کر رہا ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک میں اضطراب کو ہوا دی ہے، جس کے باعث واشنگٹن پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ایران کو اس سے کہیں زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ٹرمپ کی طرح اس کی قیادت بھی مکمل طور پر جنگ میں معاشی نقصان اور ان مشکلات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، جن کا سامنا ایرانی عوام کر رہے ہیں۔

    بہت سی فیکٹریوں نے ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے، انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر دی گئی ہے اور وہ لاکھوں افراد جو ڈیجیٹل معیشت پر انحصار کرتے تھے اب روزی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بہت سے گھرانے اب صرف بنیادی ضروریات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    نظریات کے زیرِ اثر ایران میں سخت گیر عناصر اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے شدید انسانی اور معاشی نقصانات کو قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

    ایرانی حکومت کو خطرہ ہے کہ ملک میں دوبارہ بدامنی پھیل سکتی ہے۔ گذشتہ ایک مہینے میں 20 زیادہ سیاسی اسیروں کو سزائے موت دی گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر افراد کو جنوری میں احتجاجی مظاہروں کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان سزاؤں کے ذریعے ایرانی حکام نوجوان افراد کو دوبارہ حکومت کے خلاف اُٹھنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

  18. جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر اپنے مؤقف سے پاکستانی ثالثین کو آگاہ کر دیا ہے: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے۔

    اسماعیل بقائی کا بدھ کو کہنا تھا کہ ایران نے ان تجاویز پر اپنے مؤقف سے ثالث پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔

  19. امید ہے کہ چین امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا: ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ چین امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ چین نے ایران کے قومی اقتدارِ اعلیٰ اور قومی وقار کے تحفظ کے حق کی توثیق کی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے چینی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی چار نکاتی تجویز کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران، چین پر اعتماد کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ وہ امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    بیان کے مطابق ایران نے جنگ کے بعد ایک نئے علاقائی ڈھانچے کے قیام کی حمایت بھی کی ہے جس کا مقصد ترقی اور سلامتی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔

  20. ایران اور امریکہ مذاکرات: معاہدے کے ’قریب‘ پہنچنے کی اطلاعات مگر کوئی سرکاری تصدیق نہیں, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    Iran-US Paksitan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ کئی گھنٹوں سے بین الاقوامی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے ’قریب‘ پہنچ گئے ہیں۔

    ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ وہ کسی معاہدے کے ’قریب‘ ہیں، روئٹرز بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات دیتا ہوا نظر آیا۔

    تاہم پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران متعدد مرتبہ ایسا لگتا رہا ہے جیسے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کسی معاہدے کے تحت اختتام کو پہنچنے والی ہے۔

    اسلام آباد میں گذشتہ مہینے 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران بھی متعدد مرتبہ حکام نے بی بی سی سمیت متعدد اداروں کو ’مثبت پیش رفت‘ کی خبر دی تھی، تاہم مذاکرات کا وہ دور بے نتیجہ رہا تھا۔

    پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث اس بار بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی تفصیلات دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کے بیان سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

    بی بی سی نے جب پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے اور اس سے متعلق تفصیلات جاننے کی کوشش کی، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان بطور ثالث و سہولت کار اس وقت تک کسی قسم کی تفصیلات یا معلومات شیئر نہیں کر سکتا، جب تک فریقین اس کی اجازت نہ دیں۔‘

    Pakistan-Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ ٹروتھ سوشل پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں یہ تصدیق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ امریکہ نے مجوزہ معاہدہ ایران کے حوالے کر دیا ہے۔

    انھوں نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن بمباری کی جائے گی۔

    ’فرض کریں کہ اگر ایران معاہدے پرعمل کرنے پر رضامند ہو گیا توامریکی آپریشن کا خاتمہ ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ کا فراہم کردہ مجوزہ معاہدہ زیرِ غور ہے اور پاکستان کے زریعے امریکہ کو جواب دے دیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ نے اب تک سرکاری طور پر مجوزہ معاہدے میں درج تفصیلات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تاہم اس سے قبل دو ایرانی ذرائع نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا تھا کہ آبنانے ہرمز کی ناکہ بندی، اس پر ایران کے حق کو تسلیم کرنا اور تہران پر عائد پابندیاں ہٹنے تک براہ راست مذاکرات کے امکانات کم ہیں۔

    ایک ذریعے نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران ابتدائی طور پر جوہری معاملات پر امریکہ کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن اعتماد کی بحالی کے بعد ان معاملات پر بات چیت کو خارج الامکان بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔