دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے، پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا: نریندر مودی

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف دہشتگردی اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر پر بات ہوگی۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ٹرمپ کو امید ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک مستقل سیزفائر ہوا ہے
  • پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہو چکا ہے
  • پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے پاس سیز فائر کے بعد ایک سنہری موقع ہے کہ کشمیر سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کریں
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور ملکی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں انڈیکس پہلی بار 10123 پوائنٹس اضافے کے بعد بند ہوا
  • آپریشن سندور کے حوالے سے انڈین مسلح افواج کی پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈیا کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے پاکستان کے کئی ڈرونز اور میزائل حملے ناکام بنائے، جس میں چینی ساختہ پی ایل 15 شامل ہے

لائیو کوریج

پیشکش: اعظم خان

  1. روس کی یوکرین کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت

    ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روس سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کے حصول کا خواہشمند ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روس سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کے حصول کا خواہشمند ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کو 15 مئی کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

    سنیچر کے روز نشر ہونے والے ایک خطاب میں پوتن کا کہنا تھا کہ روس سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کے حصول کا خواہشمند ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے روز ہی برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹامر نے اپنے جرمن، فرانسیسی اور پولش ہم منصب کے ہمراہ کیئیو کا دورہ کیا تاکہ روس پر سوموار کے روز سے شروع ہونے والے غیر مشروط جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

    بعد ازاں روسی حکموت کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ روس کو اس بارے میں سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ روس پر دباؤ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    پوتن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتے کہ مذاکرات کے نتیجے میں روس اور یوکرین ایک نئے جنگ بندی معاہدے پر متفق ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ مذاکرات پہلے کی طرح اب بھی ترکی کے شہر استنبول میں ہونے چاہئیں۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردووان سے رابطہ کریں گے۔

    یوکرین کی جانب سے اس دعوت کا تاحال جواب نہیں دیا گیا ہے۔

  2. ڈونلڈ ٹرمپ کا انڈیا اور پاکستان کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر ’ہزار سال‘ پرانے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان اور انڈیا کی مضبوط اور غیر متزلزل طاقتور قیادت پر فخر ہے جنھوں نے دانشمندی اور ہمت سے کام لیا اور یہ سمجھا کہ یہ موجودہ جارحیت کو روکنے کا وقت ہے جو بہت سے لوگوں کی موت اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

    ’لاکھوں اچھے اور معصوم لوگوں کی جانیں جا سکتی تھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت کے بہادرانہ اقدامات نے ان کی میراث میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ امریکہ نے دونوں ملکوں کو اس تاریخی فیصلے تک پہنچنے میں مدد کی.

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTruthSocial/@realDonaldTrump

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا ’ہزار سال بعد‘ کشمیر کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنی تجارت کو کافی حد تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔

    خیال رہے کہ سنیچر کے روز پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں دونوں ممالک کو ذہانت اور تدبر کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘

  3. چینی وزیرِ خارجہ کا انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر سے رابطہ: ’انڈیا اور پاکستان بات چیت کے ذریعے مستقل امن کی جانب بڑھیں‘

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سنیچر کے روز انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنچین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سنیچر کے روز انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سنیچر کے روز انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’10 مئی 2025 کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور مرکزی خارجہ امور کے دفتر کے ڈائریکٹر وانگ یی نے انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔‘

    بیان کے مطابق اجیت ڈوول کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے میں انڈین شہریوں کی ہلاکت نے انڈیا کو انسداد دہشت گردی کے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اجیت ڈوول کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا اور یہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ ’انڈیا اور پاکستان جنگ بندی کے لیے پرعزم ہیں اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

    چینی وزیرِ خارجہ نے پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چین ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کل دنیا کی صورتحال بہت مشکل ہے اور ایشیا میں امن کا قیام بہت ضروری ہے۔

    وانگ یی نے یہ بھی کہا کہ انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے اور دونوں چین کے بھی پڑوسی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین انڈیا کے اس موقف کو سراہتا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کی خواہش ہے کہ انڈیا اور پاکستان بات چیت کے ذریعے مستقل امن کی طرف بڑھیں کیونکہ یہ دونوں ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہے۔

  4. جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان اور انڈیا کا ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا الزام

    10 مئی کو لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی کے بانڈی گاؤں کے رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن10 مئی کو لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی کے بانڈی گاؤں کے رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

    سنیچر کے روز پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روز سے جاری کراس بارڈر حملوں کے بعد بالآخر سیز فائر پر اتفاق ہو گیا۔ تاہم جنگ بندی کے محض چند گھنٹوں بعد ہی دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جانے لگا۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دھماکوں کی آواز سنے جانے کے بعد انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں پاکستان نے سیز فائر سمجھوتے کی متعدد بار خلاف ورزیاں کی ہیں۔

    ’یہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے جس پر ہم آج اس سے قبل پہنچنے تھے۔‘

    مسری نے کہا کہ انڈین مسلح افواج ان خلاف ورزیوں کا ’مناسب جواب دے رہی ہیں‘۔ انھوں نے اپنی بریفنگ کا اختتام اس مطالبے پر کیا کہ پاکستان خلاف ورزیاں ختم کرے۔

    انڈین سیکریٹری خارجہ کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ جنگ بندی پر پوری طرح سے عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے بعض علاقوں میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے باوجود ہماری افواج ذمہ داری اور تحمل کے ساتھ حالات سے نمٹ رہی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے راستے میں حائل کسی بھی طرح کے مسئلے کو مناسب سطح پر بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے انڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان قطعاً سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، نہ ایسا سوچا ہے۔ پاکستان میں جشن کا ماحول ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک فتح ہے، جس طرح پاکستان نے جواب دیا۔‘

  5. پاکستان انڈیا کے ساتھ جامع مذاکرات کا خواہاں ہے، عالمی برادری مزید کشیدگی روکنے میں کردار ادا کرے: دفترِ خارجہ

    دفتر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ تعمیری سفارتکاری اور جامع مذاکرات کا خواہاں ہے اور تنازع جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ عالمی برادری بھی مزید کشیدگی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق سے متعلق پیش رفت کو صحیح تناظر میں رکھنا ضروری ہے۔

    بیان کے مطابق ’پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ پائیدار امن کے حصول کے لیے انڈیا کو پاکستان سے نام نہاد دہشت گردی کے جھوٹے بیانیے کو استعمال کرنے سے روکے۔ ایک ترقی پسند پاکستان کو بین الاقوامی برادری کی بے حسی کی نہیں بلکہ حمایت کی ضرورت ہے۔ انڈیا کو دہشت گردی کے رجحان کو پالیسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی سرحد کے پار متعدد مقامات پر میزائل داغے جانے کے جواب میں پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا تھا جسے پاکستان نے استعمال کیا۔‘

    دفتر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کی جانب سے پہلگام حملے میں تحقیحقات کی پیشکش کو ٹھکرایا اور بغیر کسی ثبوت کے سات سے 10 مئی 2025 کے درمیان متعدد حملے کیے جن میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں۔

    بیان کے مطابق اس کے بعد انڈیا نے پاکستان کے طول و عرض میں بڑی تعداد میں ڈرون بھیج کر علاقائی امن و استحکام کو مزید خطرے میں ڈالا جبکہ ہمارے فضائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد میزائل بھی داغے گئے۔ انڈیا کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے احتیاط سے کام لیا اور اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درست اور متناسب جواب دیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’صرف ان اداروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جنھوں نے پاکستان کے خلاف کھلم کھلا جارحیت اور اس کے بے گناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کی منصوبہ بندی کی۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ریاستوں کے درمیان یہ خطرناک تصادم بین الاقوامی برادری کی جانب سے گہری غور و خوض اور جامع جائزہ لینے کا متقاضی ہے۔ اس تنازع کو مسابقتی جغرافیائی سیاسی مفادات کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہئے جس کے منفی اثرات علاقائی سلامتی کا مستقل متغیر بنا رہے ہیں۔‘

  6. ملک بھر میں آج یومِ تشکر منانے کا اعلان، پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    ،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص نے دشمن کی جارحیت کو مؤثر اور بھرپور جواب دیا اور پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی حدود میں کیے گئے انڈین حملوں کا جواب دینے اور آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر آج (اتوار) ملک بھر میں یومِ تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ’افواج پاکستان کی بے مثال بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے اور پوری قوم کے حوصلے کو سراہنے کے لیے یہ دن منایا جائے گا۔‘

    وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم اس کامیابی پر اللہ کے شکر گزار ہیں، جس نے ہمیں سرخرو فرمایا، یہ دن پاکستان کی فوج کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔‘

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ دن اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لانے، افواج پاکستان کی بے مثال بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے اور پوری قوم کے حوصلے اور وحدت کو سراہنے کے لیے منایا جائے گا۔‘

    وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص نے دشمن کی جارحیت کو مؤثر اور بھرپور جواب دیا اور پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی۔‘

    وزیراعظم نے بیان میں کہا ہے کہ ’دشمن کی جارحیت کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل لیکن مکمل تیاری کے ساتھ اپنے دفاع کو یقینی بنایا۔‘

    انھوں نے بیان میں قوم بالخصوص علما کرام سے اپیل کی کہ ’یوم تشکر پرپورے ملک میں اجتماعی دعاﺅں اور نوافل کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور شہدا و غازیوں کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔‘

    وزیراعظم کے مطابق افواج پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  7. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • چار روز تک جاری رہنے والے کراس بارڈر حملوں کے بعد انڈیا اور پاکستان لڑائی روکنے پر متفق ہو گئے ہیں۔
    • انڈین وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سیزفائر پر عمل درآمد کریں گے لیکن افواج انڈیا کی سالمیت کی حفاظت کے لیے چوکنا رہیں گی۔
    • جنگ بندی کے بعد پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
    • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر داخلہ کرنل وقار نور کا دعویٰ ہے کہ سیز فائر کے اعلان کے بعد لائن آف کنٹرول پر واقع تحصیل برنالہ میں انڈین فوج کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے نقصان کا خدشہ ہے۔
    • پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان قطعاً سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، نہ ایسا سوچا ہے۔‘
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ آبی وسائل کی تقسیم، جموں و کشمیر تنازع سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لیے پُرامن مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔