دوحہ میں اسرائیلی حملے پر قطر میں غصہ، واشنگٹن کو کڑے سوالوں کا سامنا, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہReuters
دوحہ میں اسرائیلی حملے میں کون ہلاک ہوا اور کون زخمی، یہ شاید اب کم اہم ہے۔ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ اس حملے کا ہدف کیا تھا اور اس کے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر کیا اثرات ہوں گے۔
اسرائیل نے جلد ہی حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ اس کا ہدف خلیل الحیہ تھے جو کہ قطر میں مقیم حماس کے مرکزی مذاکرات کار ہیں۔
مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے حملے سے قبل بھی غزہ میں حماس کا ادارتی نظام اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کہ قطر میں اس کی قیادت کے لیے فیصلے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ کئی مفرور جنگجو غزہ کے ملبے تلے چھپے ہوئے ہیں۔
قطر میں اس حملے پر غصہ پایا جاتا ہے۔ اس نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں اور اپنا وقت دیا۔
ان کی کوششوں سے ماضی میں مثبت نتائج حاصل ہوئے مگر اب یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ یہ کوششیں قطری سرزمین پر جاری رہتی ہیں۔ واشنگٹن کو حملے کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا اور اس وجہ سے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قطر کا حکمران آل ثانی خاندان شاید واشنگٹن سے کڑے سوال پوچھنا چاہے گا کیونکہ ان کے ملک میں ایک بڑا امریکی اڈہ ہے جہاں سے امریکی فوج کے فضائی آپریشنز کی نگرانی کی جاتی ہے۔













