آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانوی وزیراعظم سے ’مشکل ملاقات‘ کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع، یمن پر اسرائیلی حملوں میں 35 افراد ہلاک

برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ ادھر یمن پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے اور 131 زخمی ہیں۔

خلاصہ

  • یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے جبکہ 131 زخمی ہیں
  • برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘
  • امریکہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اس بار انھیں (حماس کو) نشانہ نہیں بنا سکے تو اگلی دفعہ پھر انھیں ہدف بنا لیں گے‘
  • اسرئیل کو حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: قطری وزیر اعظم
  • دوحہ میں حملے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا، میں اس سے خوش نہیں ہوں: امریکی صدر
  • حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے میں تنظیم کی لیڈرشپ محفوظ رہی، تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, دوحہ میں دھماکے: اسرائیل کا قطر میں حماس کی قیادت پر فضائی حملہ

    قطر کے دارلحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    بی بی سی کو ایک اسرائیلی افسر نے تصدیق کی ہے کہ قطر میں اس حملے میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھی ایک اسرائیلی افسر نے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی تھی۔

    حماس کے ایک رہنما نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران ان کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    عینی شاہدین نے روئٹرز کو بتایا کہ منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں اس بات کی تصدیق تو کی گئی ہے کہ انھوں نے ایک حملے میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس بیان میں انھوں نے اس بات کی تصدیق یا وضاحت نہیں کی ہے کہ حماس کی قیادت پر یہ حملہ کس جگہ پر یا کس مُلک میں کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے حملے سے متعلق قطر نے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    تاہم ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دارالحکومت کے علاقے ’کٹارا‘ میں دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے پیر کے روز دھمکی دی تھی کہ ’یہ غزہ اور بیرون ملک حماس کے لئے ایک آخری وارنگ ہے۔ انھیں قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے اور فوری طور پر ہتھیار ڈال دینے چاہییں ورنہ غزہ تباہ ہو جائے گا اور وہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔‘

  2. پنجاب کی تحصیل جلالپور پیر والا کے لیے آئندہ 24 گھنٹہ خطرناک قرار، لوگوں کی محفوظ مقامات کا جانب نقل مکانی شروع

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل جلالپور پیر والا شہر میں تو سیلابی پانی داخل نہیں ہوا ہے مگر اس کے ارد گرد کے متعدد علاقے زیرِآب آگئے ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عُمر دراز کے مطابق تحصل جلالپور پیر والا کے لیے آئندہ 24 گھنٹے خاصے خطرناک ہیں کیونکہ دریائے چناب میں ان تحصیلوں اور شہروں کی جانب بڑھنے والا بڑا سیلابی ریلا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

    اس صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے خطرناک سمجھے جانے والے علاقے اور اس تحصیل جلالپور پیر والا کے سیلابی پانی سے متاثر ہونے والے علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    تاہم سی پی او ملتان صادق ڈوگر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تحصیل جلالپور میں کُچھ مقامات ایسے ہیں کہ جہاں سیلابی پانی آیا ہوا ہے اور وہاں کے لوگوں کو مُشکلات کا سامنا ہے، ان لوگوں کی مدد کے لیے انتظامیہ بھرپور انداز میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’60 کشتیوں کی مدد سے اب تک 9200 لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا چُکا ہے، تاہم ڈرونز کی مدد سے علاقے کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہاں جا سکتا ہے کہ 3000 افراد اب بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں موجود ہیں اور انھیں نکالنے کی کوشش جاری ہے۔‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جلالپور پیروالہ کے کمشنر عامر کریم خاں کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والی چھوٹی بستیوں سے اب تک 400 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چُکا ہے۔

    اُنھوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز ایک دن میں ساڑھے چار ہزار سے زائد متاثرین کو ریسکیو کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب کے خطرے سے دوچار اور سیلابی صورتحال کا سامنا کرنے والے علاقوں کی مکمل نگرانی جاری ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔

    کمشنر جلالپور پیروالہ کے مطابق تمام متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔

  3. سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کا خطرہ

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے سندھ اور بلوچستان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والے الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، جامشورو، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ، دادو، جیکب آباد اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ تاہم نشیبی اور شہری علاقے زیرِ آب آنے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اسی کے ساتھ ساتھ ادارے کا کہنا ہے کہ سکھر، روہڑی، لاڑکانہ، شکارپور، گھوٹکی اور کشمور میں بھی وقفے وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان جبکہ کیرتھر رینج میں برساتی ریلوں کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب ادارے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے جنوبی و مشرقی اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش متوقع ہے۔ بلوچستان میں لسبیلہ، حب، خضدار، اواران، بارکھان، سوئی، سبی، ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، کوہلو، قلات اور ژوب میں بارشوں کا امکان ہے جبکہ کیچ، گوادر، پسنی، اورماڑہ، سوراب اور جنوبی واشک میں بھی بارش متوقع۔

    این ڈی ایم اے کے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ شدید بارشوں کے باعث وڈھ، خضدار، بیلا، اورماڑہ، ہنگول ویلی کے علاقوں میں برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے اور ان بارشوں کے باعث کچے مکانات، زرعی زمینیں اور رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

  4. ’غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 83 افراد ہلاک متعدد زخمی‘ وزارت صحت

    غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں 83 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر 2023 سے اب تک اموات کی کل تعداد 64 ہزار چھ سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بمباری کی گئی ہے وہاں متعدد لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور امدادی عملہ تاحال ان تک پہنچنے اور مدد نہیں کر پایا ہے۔

    وزارت کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے تاہم وہ شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کرتا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے حملوں کے پیشِ نظر بڑی تعداد میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ایک طالبہ رزان صالحہ نے بی بی سی کی نامہ نگار ایلس کڈی کو ایک وائس نوٹ بھیجا یعنی ایک آڈیو پیغام بھیجا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ دو روز قبل غزہ شہر سے بے گھر ہو گئی تھیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’غزہ شہر پر مسلسل بمباری اور کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے ہم (وسطی غزہ میں) دیر البلح منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے جہاں اب ہم تقریباً 20 افراد پر مشتمل خاندان کے افراد کے ساتھ ایک کمرہ میں رہنے پر مجبور ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے یہاں پہنچنے کے لیے ایک گاڑی والے کو 375 ڈالر دیے۔ یہاں بہت سے لوگوں نے ابھی تک اپنا گھر بار نہیں چھوڑا۔ غزہ شہر میں اب بھی لوگ موجود ہیں کیونکہ ان کے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے یا اس نقل مکانی کے لیے اُن کے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘

    رزان کا کہنا ہے کہ ’ہم اب اس بار بار کی نقل مکانی سے تھک چُکے ہیں اور غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔‘

  5. ’غزہ میں اب کوئی بھی مقام محفوظ نہیں رہا‘ اقوام متحدہ

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’غزہ کو مٹایا جا رہا ہے اور اسے ایک بنجر زمین میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی نے ایکس پر لکھا کہ ’غزہ کے لوگوں کو قحط اور بھوک کا شکار کر کے اُن سے علاقہ خالی کروایا جا رہا ہے اور ماواسی نامی ایک نام نہاد ’محفوظ‘ علاقے میں منتقل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’غزہ میں کوئی اب کوئی مقام اور کوئی جگہ محفوظ نہیں۔‘

    لازارینی نے مزید کہا کہ المواسی ’ایک بڑا اور بڑھتا ہوا کیمپ ہے جس میں بھوکے فلسطینیوں کو مایوسی میں مرکوز کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ قحط کی وارننگ تو سُننے کو ملی مگر ہوا کُچھ نہیں۔‘ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے گذشتہ ماہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ غزہ شہر میں قحط پڑ رہا ہے۔

    تاہم اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اس رپورٹ کو ’سراسر جھوٹ‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔‘

  6. ’سیلاب کا بڑا ریلا ملتان میں موجود، خطرہ برقرار مگر تاحال بند توڑنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب تینوں دریاؤں میں تاحال سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ آج یعنی منگل کے روز ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عُمر دراز کے مطابق ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ کے مقام سے اس وقت بھی پانی کا ایک بڑا ریلا گزر رہا ہے اور ان دونوں مقامات پر یہ صورتحال آج رات گئے تب برقرار رہنے کا امکان ہے۔

    ان دونوں مقامات پر پانی کی سطح خطرناک ہو جانے کی صورت میں انتظامیہ کی جانب سے اُن مقامات کی نشاندہی کر دی گئی ہے کہ جہاں سے بند توڑے جا سکتے ہیں۔ تاہم اب تک کسی بھی بند کو انتظامیہ کی جانب سے نہیں توڑا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو ہیڈ تریموں سے پانچ لاکھ کیوسک کا ریلا ہیڈ محمد والا پہنچنے سے پانی کی سطح میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔

    دریائے چناب میں موجودہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ملتان شہر کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ’اکبر بند‘ کے نام سے ایک بند اس دریا کے پانی کو روکنے کے لیے موجود ہے، جس کے قریب پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    دریائے چناب میں پانی کی سطح میں ہونے والے اضافے کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا شہر کو اور ہیڈ کو بچانی کے لیے شہر سے کُچھ کلومیٹر دور بنائے جانے والے بند کو توڑنا ہے یا نہیں۔ تاہم تاحال انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی بند کو توڑنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اسی حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی پی او ملتان صادق ڈوگر نے بتایا کہ متلان شہر میں پانی کے داخل ہونے کا ابھی تک خدشہ نہیں ہے اور سیلابی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ پولیس، پاکستانی فوج، سول انتظامیہ اور ریسکیو ادارے تمام ہی مکمل طور رپ رابطے میں ہیں شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور انتظامات کر رہے ہیں۔

    انتظامیہ اور اداروں کی جانب سے اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک ملتان کے قریب کے علاقوں میں پانی کا بڑا ریلا تو گزر رہا ہے مگر ابھی تک دریا کے کناروں پر بنائے جانے والے بند محفوظ ہیں اور کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ایسے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملتان شہر کو موجودہ سیلابی صورتحال میں کسی بھی قسم کا کوئی خطرے نہیں ہے اور نہ ہی کسی بند کو توڑنے کا فاصلہ کیا گیا ہے۔

  7. دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع، انڈیا کا سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ

    انڈیا نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر رابطہ کرتے ہوئے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارت آبی وسائل کے مطابق انڈین ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے، اور بتایا ہے کہ دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہریک اور فیروز پور کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

  8. ملتان میں سیلاب متاثرین حفاظتی بندوں پر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟

    ضلع ملتان میں سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے۔ حکومت نے ان کے لیے ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں لیکن متاثرین کی ایک بڑی تعداد کئی روز سے حفاظتی بندوں پر بیٹھی ہے۔ یہ لوگ امدادی کیمپوں میں کیوں نہیں گئے؟

    ویڈیو:عمر دراز ننگیانہ اور فرقان الٰہی

  9. اسرائیلی فوج کا غزہ کے تمام رہائشیوں کو فوری طور پر شہر چھوڑنے کا حکم

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے تمام رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے اپنے پاس موجود مغویوں کو رہا نہ کیا تو آئی ڈی ایف غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دے گی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا ہے کہ فوج ’غزہ شہر میں پوری طاقت سے کارروائی کرے گی‘ اور شہریوں کو علاقے سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    انھوں نے لکھا ’دفاعی افواج حماس کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں اور غزہ شہر میں بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کریں گی۔‘

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ماہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کی منصوبہ بندی کی منظوری دی تھی۔ خیال رہے اس شہر میں لاکھوں فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔

  10. طورخم بارڈر سے افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری: اب تک سات لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد واپس جا چکے

    محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے مختلف سرحدی راستوں، خصوصاً طورخم بارڈر کے ذریعے افغان شہریوں کی واپسی اور ڈیپورٹیشن کا عمل جاری ہے۔

    مورخہ 8 ستمبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ روز طورخم بارڈر سے 2491 افراد کو واپس بھیجا گیا جن میں 746 غیر قانونی طور پر مقیم افراد بھی شامل تھے۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق اب تک خیبرپختونخوا کے ذریعے مجموعی طور پر سات لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد واپس جا چکے ہیں، جن میں چھ لاکھ پانچ ہزار 992 غیر قانونی طور پر مقیم افراد، 89 ہزار 467 پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز اور 48 ہزار 254 افغان سیٹیزن کارڈ (اے سی سی) ہولڈرز شامل ہیں۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق سب سے زیادہ واپسی طورخم بارڈر کے ذریعے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں بشمول اسلام آباد، پنجاب، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان سے بھی مجموعی طور پر 30 ہزار 694 افغآن باشندوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ یہ سلسلہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی نگرانی میں جاری ہے تاکہ قانونی اور محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل منظم اور شفاف انداز میں جاری رکھا جائے گا۔

    خیال رہے مذکورہ اعداد و شمار 8 ستمبر 2025 تک کے ہیں اور آج 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے ہیں۔

  11. پنجاب میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری: معمولاتِ زندگی درہم برہم، شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق فیصل آباد میں 175 ملی میٹر، ملتان میں 133 ملی میٹر، لاہور میں 113 ملی میٹر، شیخوپورہ میں 56 ملی میٹر، حافظ آباد میں 45 ملی میٹر، خانیوال میں 24 ملی میٹر، جھنگ اور نارووال میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اسی طرح لیہ میں 13 ملی میٹر، اوکاڑہ میں 12 ملی میٹر، ڈی جی خان میں 11 ملی میٹر، رحیم یار خان میں آٹھ ملی میٹر، بہاولپور میں سات ملی میٹر، گجرانوالہ میں پانچ ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چار ملی میٹر اور سرگودھا میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشوں کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے رودکوہی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام متعلقہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ خراب موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف جمع ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آندھی یا طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہنے کی کوشش کریں اور یمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  12. پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار: ستلج میں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 61 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا,

    پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال بدستور جاری ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سلیمانکی کے مقام پر بھی دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 69 ہزار کیوسک ہے جبکہ خانکی ہیڈ ورکس اور قادرآباد کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں بالترتیب ایک لاکھ 8 ہزار اور ایک لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 16 ہزار کیوسک ہے، جبکہ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 52 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر کے مطابق دریائے راوی میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28 ہزار کیوسک ہے جبکہ شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 59 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ چار ہزار کیوسک ہے۔ اس کے علاوہ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

  13. ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سیلابی ریلوں کے درمیان دلہا کشتی میں اپنی دلہن بیاہ لایا, احتشام شامی، صحافی

    پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ایک دلہا اپنی دلہن کو کشتی کے ذریعے بیاہ لے آیا۔

    دلہن کی رخصتی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

    شہزاد نامی نوجوان کی بارات کمالیہ کے علاقے کلیرا اڈا سے روانہ ہوئی جہاں زمینی راستوں کے سیلاب میں ڈوب جانے کے باعث کشتیوں کا سہارا لیا گیا۔ قریبی گاؤں خان دا چک میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی کشتی میں دلہن کی رخصتی عمل میں آئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے ویڈیو کلپس میں دلہن کو لال جوڑے میں ملبوس، بازوؤں پر چوڑیاں اور ہاتھوں میں گجرے سجائے، پرس پکڑے ہوئے کشتی میں سوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں ایک ریسکیو اہلکار انھیں لائف جیکٹ پہنا رہا ہے۔

    ایک اور کلپ میں دلہا اور دلہن کے ساتھ ریسکیو اہلکار گروپ فوٹو بنواتے نظر آتے ہیں۔ سب سے دلچسپ منظر وہ ہے جہاں ایک شخص کشتی میں ڈھول بجا رہا اور شادی کا گیت گا رہا ہے۔

    اس کشتی میں دلہن سمیت پانچ خواتین اور کچھ بچے بھی موجود تھے۔

    کمالیہ، لاہور سے 218 کلومیٹر اور تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، دریائے راوی کے طغیانی کے باعث یہ علاقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ سیلاب نے ذرائع آمدورفت کو معطل کر رکھا ہے لیکن ریسکیو 1122 نے اس مشکل صورتحال میں شادی کی تقریب کو ممکن بنایا۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکار فیضان علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور بارات کو سیلابی ریلے سے گزار کر دلہن سمیت منزل مقصود تک پہنچایا۔‘

    ریسکیو 1122 نے اپنے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا: ’سیلاب میں گھری بارات، ریسکیو 1122 کے اہلکار بنے سہاگ کے محافظ۔۔‘

    انھوں نے لکھا ہے کہ دریائے راوی کی طغیانی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاؤں خان دا چک سمیت درجنوں دیہات کو زیر آب کر دیا ہے۔

    ’اس مشکل صورتحال میں مسلم شیخ خاندان نے ہمت دکھائی اور شادی کی تقریب منعقد کی مگر جب زمینی راستے ڈوب گئے تو ہمارے اہلکاروں نے کشتیوں میں باراتیوں کا روپ دھارا۔ ڈھول کی تھاپ، شادی کے گیت، بچوں کی ہنسی اور بزرگوں کے مطمئن چہروں نے اس منظر کو یادگار بنا دیا۔‘

    دلہا کے والد نے جذباتی انداز میں کہا ’ہمیں لگا تھا کہ شاید یہ خوشی کا دن مکمل نہیں ہو سکے گا لیکن ریسکیو 1122 کے اہلکار ہمارے رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر نکلے۔ انھوں نے نہ صرف ہماری جانیں بچائیں بلکہ ہماری خوشیوں کے محافظ بھی بنے۔‘

    یہ سیلابی شادی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، انسانیت کا جذبہ اور حوصلہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

  14. سندھ حکومت سیلابی صورتحال پر دن رات نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں: شرجیل انعام میمن

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ میں دریاؤں میں پانی کی صورتحال غیر معمولی ہے، تاہم حکومت سندھ نے بروقت اور موثر اقدامات کر رکھے ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے سیلاب کی صورتحال پر دن رات نظر رکھے ہوئے ہیں اور الرٹ ہیں۔

    صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور ریلیف محکمے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    ان کے مطابق تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 90 فیصد بھر چکا ہے اور خانپور، راول اور سملی ڈیم میں بھی پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1550.00 فٹ، منگلا ڈیم 1232.95 فٹ، خانپور ڈیم 1980.15 فٹ، راول ڈیم 1750.90 فٹ اور سملی ڈیم کا لیول 2314.90 فٹ ہے۔

    صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ گنڈا سنگھ والا اور سدھنائی پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پنجند پر بہت اونچے درجے کا سیلاب دیکھا جا رہا ہے۔ تریمو، بلوکی، سلیمانکی اور میلسی سائفن پر اونچے جبکہ راوی، سائفن، شاہدرہ اور اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو اور سکھر پر درمیانے درجے کا جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ تریموں بیراج پر آمد و اخراج 438,097 کیوسک، پنجند کے مقام پر آمد و اخراج 438,097 کیوسک، گڈو بیراج پر آمد 443,494 کیوسک اور اخراج 434,294 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 374,800 کیوسک اور اخراج 359,050 کیوسک، اور کوٹری بیراج پر آمد 233,788 کیوسک اور اخراج 231,763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ کچہ کے علاقوں سے اب تک 141,611 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور ممکنہ سیلاب کی پیش بندی کے طور پر کل 388,940 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ 8,577 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 974,825 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا جا چکا ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے 159 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ کیمپس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4,894 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

  15. حماس نے ٹرمپ کی ’آخری وارننگ‘ کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز پر غور شروع کر دیا

    حماس کا کہنا ہے کہ اسے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ’کچھ تجاویز‘ موصول ہوئی ہیں۔

    فلسطینی مسلح گروپ نے کہا ہے کہ وہ ان تجاویز پر غور کر رہا ہے اور اس نے واضح کیا کہ وہ غزہ میں موجود باقی 48 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ کے خاتمے کا ایک ’واضح‘ اعلان چاہتا ہے۔

    ایک فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی منصوبے کے تحت 60 دن کی جنگ بندی کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا اور مستقل جنگ بندی پر نیک نیتی سے بات چیت کی جائے گی۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو معاہدے پر راضی ہونے کے لیے ’آخری وارننگ‘ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ان کی شرائط تسلیم کر لی ہیں تاہم انھوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے معاہدے پر راضی ہونے کو تیار ہے جو جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں (جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے) کی رہائی اور حماس کے غیر مسلح ہونے پر مشتمل ہو۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضے کے لیے اپنی زمینی کارروائی میں شدت لائی ہے اور وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے قحط زدہ غزہ شہر میں رہنے والے تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کو فوری انخلا کی وارننگ دی ہے۔

    نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ’گذشتہ دو دنوں میں ہم نے 50 دہشت گردوں کی بلند عمارتوں کو تباہ کیا اور یہ غزہ شہر میں زمینی کارروائی کی صرف شروعات ہے۔ میں غزہ شہر کے رہائشیوں سے کہتا ہوں: آپ کو خبردار کر دیا گیا ہے، وہاں سے نکل جائیں۔‘

    غزہ کے ہسپتالوں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 25 غزہ شہر اور شمالی علاقوں میں مارے گئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں جھڑپوں کے دوران اس کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

  16. امریکی قانون سازوں نے ایپسٹین کی ’سالگرہ کی کتاب‘ کی نقول جاری کر دیں، ٹرمپ کے مبینہ نوٹ کا انکشاف

    امریکی قانون سازوں نے ایک ’سالگرہ کی کتاب‘ کی نقول جاری کی ہیں جو 2003 میں بچوں سے جنسی زیادتی اور مالیاتی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین کو تحفے میں دی گئی تھی۔ اس کتاب میں ایک نوٹ بھی شامل ہے جس پر مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط موجود ہیں۔

    یہ کتاب ان دستاویزات کے ایک بڑے مجموعے کے ساتھ جاری کی گئی ہے جن میں ایپسٹین کی وصیت اور ان کی ذاتی ایڈریس بک شامل ہے۔ اس میں شاہی خاندان کے افراد، دنیا بھر کے سیاستدانوں، مشہور شخصیات اور ماڈلز کے رابطہ نمبر درج ہیں۔

    ایپسٹین کی جائیداد کے وکلا نے یہ دستاویزات ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کو بھیجیں جنھوں نے پچھلے ماہ انھیں طلب کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی جانب سے منسوب اس مبینہ خط کی تردید کی ہے جس میں ایک عورت کے جسم کا خاکہ بھی موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر نے ’نہ یہ تصویر بنائی اور نہ ہی اس پر دستخط کیے ہیں۔‘

  17. ملتان ’ہائی رسک‘ پر: اگلے 24 گھنٹوں میں ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ بند پر پانی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے نئے سیلابی ریلے کے باعث ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر ہے۔

    انھوں نے یہ بات کمشنر ملتان عامر کریم خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے 63 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 4300 سے زیادہ دیہاتوں سمیت 26 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ 74 ہزار سے زیادہ لوگ خیموں میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں مون سون بارشوں کا دسواں سپیل چل رہا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں تاریخ کی سب سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ اگلے 24 سے 48 گھنٹے بارش اسی طرح وقفے وقفے سے جاری رہے گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آٹھ سے 10 گھنٹے میں گجرات کو اربن فلڈنگ سے کلئیر کر لیں گے۔‘

    عرفان کاٹھیا کا کہنا تھا کہ ’ستلج میں تین لاکھ 19 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ اسلام پر 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔۔۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ فلڈ بندوں پر 24 گھنٹوں میں پانی کا دباؤ بڑھے گا۔‘

    ادھر کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ ’شیر شاہ کو بریچ کرنے کا فیصلہ ٹیکنکل کمیٹی نے کرنا ہے۔

    ’جلالپور پیر والا میں ایک روز میں 4 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ بیشتر متاثرین فلڈ ریلیف کیمپوں کی بجائے عزیز و اقارب کے گھر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

  18. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • رحیم یار خان میں لیاقت پور کے علاقے نور والا میں ریسکیو آپریشن کے دوران سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ جانے سے دو خواتین ڈوب کر ہلاک ہو گئی ہیں۔ اس کشتی میں 28 افراد سوار تھے جن میں سے 13 کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ 13 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
    • لاہور میں تیز بارش کے سبب شہر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 108 ملی میٹر بارش پانی والا تالاب میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
    • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جلالپور پیر والا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے شہریوں کا انخلا جاری ہے جبکہ شہر کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    • این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسی آپریشن سینٹر نے پنجاب، سندھ اوربلوچستان میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پنجاب کے شمال مشرقی اور جنوبی اضلاع میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے عوام کو مالی مدد فراہم کرے۔
    • بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے 200 سے زیادہ رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
    • سپریم کورٹ کے آج ہونے والے فل کورٹ اجلاس میں چار ججز نے شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں ان ججز نے کہا ہے کہ پہلے سپریم کورٹ رولز کو سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا اور پھر رولز میں پیوندکاری کے لیے فل کورٹ بلا لیا گیا ہے۔
    • نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ خود کو’جنریشن زی‘ کہنے والے مظاہرین کی احتجاجی کال پر کٹھمنڈو میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ہزاروں افراد جمع ہوئے تھے۔ خیال رہے نیپال میں حکومت نے فیس بُک، ایکس اور یوٹیوب سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا ہے۔
    • یروشلم میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کے مطابق، مرنے والے چاروں افراد مرد ہیں جن میں سے ایک کی عمر 50 سال سے زائد ہے جبکہ دیگر تین 30 ​​سال سے زائد عمر کے ہیں۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تازہ ترین معلومات اور تجزیوں کے لیے ہماری لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔