آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانوی وزیراعظم سے ’مشکل ملاقات‘ کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع، یمن پر اسرائیلی حملوں میں 35 افراد ہلاک

برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ ادھر یمن پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے اور 131 زخمی ہیں۔

خلاصہ

  • یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے جبکہ 131 زخمی ہیں
  • برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘
  • امریکہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اس بار انھیں (حماس کو) نشانہ نہیں بنا سکے تو اگلی دفعہ پھر انھیں ہدف بنا لیں گے‘
  • اسرئیل کو حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: قطری وزیر اعظم
  • دوحہ میں حملے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا، میں اس سے خوش نہیں ہوں: امریکی صدر
  • حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے میں تنظیم کی لیڈرشپ محفوظ رہی، تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. دوحہ میں اسرائیلی حملے پر قطر میں غصہ، واشنگٹن کو کڑے سوالوں کا سامنا, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    دوحہ میں اسرائیلی حملے میں کون ہلاک ہوا اور کون زخمی، یہ شاید اب کم اہم ہے۔ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ اس حملے کا ہدف کیا تھا اور اس کے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر کیا اثرات ہوں گے۔

    اسرائیل نے جلد ہی حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ اس کا ہدف خلیل الحیہ تھے جو کہ قطر میں مقیم حماس کے مرکزی مذاکرات کار ہیں۔

    مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے حملے سے قبل بھی غزہ میں حماس کا ادارتی نظام اس حد تک تباہ ہو چکا ہے کہ قطر میں اس کی قیادت کے لیے فیصلے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ کئی مفرور جنگجو غزہ کے ملبے تلے چھپے ہوئے ہیں۔

    قطر میں اس حملے پر غصہ پایا جاتا ہے۔ اس نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں اور اپنا وقت دیا۔

    ان کی کوششوں سے ماضی میں مثبت نتائج حاصل ہوئے مگر اب یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ یہ کوششیں قطری سرزمین پر جاری رہتی ہیں۔ واشنگٹن کو حملے کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا اور اس وجہ سے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    قطر کا حکمران آل ثانی خاندان شاید واشنگٹن سے کڑے سوال پوچھنا چاہے گا کیونکہ ان کے ملک میں ایک بڑا امریکی اڈہ ہے جہاں سے امریکی فوج کے فضائی آپریشنز کی نگرانی کی جاتی ہے۔

  2. امریکی اہلکار کی کال اس وقت آئی جب دھماکے ہو رہے تھے: قطری وزارت خارجہ

    قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے سے قبل قطر کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

    ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایک امریکی اہلکار کی طرف سے اس وقت کال آئی جب دھماکوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی حکومت نے قطر کو حملے سے قبل صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ ایک بیان کے مطابق ٹرمپ نے معاون خصوصی سٹیو وٹکوف سے کہا تھا کہ وہ قطر کو مطلع کر دیں۔

  3. ٹرمپ نے قطر پر اسرائیلی بمباری پر افسوس ظاہر کیا: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس بریفنگ کے دوران پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملہ ’اسرائیلی یا امریکی اہداف حاصل کرنے میں پیشرفت نہیں ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حماس کے خاتمے کو ’اہم ہدف‘ سمجھتے ہیں۔

    لیوٹ نے کہا کہ قطر امریکہ کا ’قریبی اتحادی‘ ہے اور صدر ٹرمپ حملے کے مقام کے بارے میں افسوس ظاہر کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے امن کے لیے فعال اور جارحانہ کردار ادا کیا ہے۔

    لیوٹ کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد ٹرمپ نے قطری امیر اور وزیر اعظم دونوں سے بات چیت کی ہے۔

    ادھر وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ’امریکی فوج کی طرف سے مطلع کر دیا گیا تھا کہ اسرائیل حماس پر حملہ کرنے والا ہے۔ بدقسمتی سے اس کا مقام قطری دارالحکومت دوحہ میں موجود تھا۔ قطر ایک خودمختار ریاست ہے اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جو کہ امن معاہدے کے لیے خطرہ مول لے رہا ہے۔ اس پر بمباری کرنے سے اسرائیل یا امریکہ کے اہداف حاصل کرنے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ نے معاون خصوصی وٹکوف کو فوراً ہدایت دی تھی کہ وہ ’قطر کو حملے سے قبل اطلاع دیں جو کہ انھوں نے کیا۔‘

  4. دوحہ میں اسرائیلی حملے سے مذاکراتی ٹیم محفوظ رہی: حماس

    حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملے سے اس کی مذاکراتی ٹیم محفوظ رہی ہے تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایک بیان میں حماس نے کہا کہ ’دشمن نے مذاکراتی وفد میں موجود ہمارے بھائیوں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی۔‘

    اس میں کہا گیا کہ یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ نتن یاہو اور ان کی حکومت امن معاہدہ نہیں چاہتے۔

    حماس کے مطابق اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس نے اس کا ذمہ دار امریکی حکومت کو بھی قرار دیا ہے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد میں مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے شامل ہیں۔ جبکہ ان میں قطر کی سکیورٹی فورسز کے رکن بدر سعد محمد الحمیدی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

  5. صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ تسلیم کر لیا جائے تو غزہ جنگ ’فوراً ختم‘ ہو سکتی ہے: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس نے گذشتہ روز غزہ میں چار اسرائیلی فوجی اہلکاروں اور یروشلم میں چھ شہریوں کو ہلاک کرنے کی ’ذمہ داری فخر سے قبول‘ کی تھی۔

    منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’آج دوپہر میں نے اسرائیلی سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس بُلایا اور حماس کے دہشتگرد سربراہوں پر سرجیکل حملے کے احکامات جاری کیے۔‘

    ’جنگ کی ابتدا میں اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ 7 اکتوبر کے حملے کے ذمہ داروں تک پہنچے گا۔ آج اسرائیل اور میں نے وہ وعدہ پورا کیا ہے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل اسرائیلی حکام نے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو فضائی حملے میں نشانہ بنانے کی تصدیق کی تھی۔

    اس موقع پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ غزہ میں جنگ ’فوری ختم‘ ہو سکتی ہے اگر امریکی صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ قبول کرلیا جائے۔

    انھوں نے غزہ کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ’اپنے حقوق اور مستقبل کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ ہمارے ساتھ امن قائم کریں اور صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ قبول کریں۔‘

    اس سے قبل ٹرتھ سوشل پر اپنے ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ہر کوئی یرغمالیوں کی گھر واپسی چاہتا ہے، ہر کوئی اس جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اسرائیلیوں نے میری شرائط تسلیم کرلی ہیں۔ حماس بھی میری شرائط تسلیم کرے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا تھا کہ: ’میں نے شرائط نہ تسلیم کرنے پر حماس کو تنائج سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ میری آخری وارننگ ہے اور اس کے بعد کوئی وارننگ نہیں ہوگی۔‘

  6. قطر میں اسرائیلی حملے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ اور یروشلم میں ہونے والے حملوں کے تناظر میں اس کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

    دوحہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد اب صورتحال کیا ہے؟

    • قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دوحہ میں جس گھر کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے وہاں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے متعدد ارکان رہائش پذیر تھے۔‘
    • حماس کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران اس کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • امریکہ میں وائٹ ہاؤس میں تعینات ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوحہ پر حملے سے قبل اسرائیل نے ٹرمپ انتظامیہ کو ’مطلع‘ کیا تھا۔
    • ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ حماس کے جن ارکان کو نشانہ بنایا گیا ان میں خلیل الحیہ شامل ہیں۔ وہ غزہ سے تعلق رکھنے والے رہنما ہیں جو حماس کے مرکزی مذاکرات کار ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ظہیر جبران کو بھی اس حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دوحہ میں اسرائیلی حملے کو ’قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
    • کویت کی جانب سے اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قطر کی ہر قسم کی جوابی کارروائی کی ’مکمل حمایت‘ کی جائے گی۔
  7. ’اگر ٹرمپ نے اس حملے کی اجازت دی ہے تو یعنی معاہدے کی کوششیں ناکام ہوئیں‘, جیرمی بوون، بی بی سی نیوز

    اسرائیل کے لیے یہ جنگ صرف غزہ تک محدود نہیں۔ وہ حماس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔

    گذشتہ کچھ برسوں کے دوران یہ روایت رہی ہے کہ اسرائیلی قطر میں حماس کو نشانہ نہیں بناتے۔ اسے امریکہ جیسے ممالک کے زیرِ اثر سفارتی عمل خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔

    تاہم اگر امریکی صدر ٹرمپ نے اس حملے کی اجازت دی ہے تو یعنی وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا ڈیل کرنے کا مشہور طریقہ ناکام رہا ہے۔

    اسرائیل کے لیے اس حملے کا جواز حماس کے خلاف ’مکمل فتح‘ ہے۔

    کئی لوگ سمجھتے تھے کہ اسرائیل ایسا حملہ کبھی نہیں کرے گا۔

    قطر نے مشرق وسطیٰ کے لیے سوئٹزرلینڈ جیسی پوزیشن اختیار کی ہے۔ غزہ جنگ کے گذشتہ برسوں کے دوران یہ سفارتکاری کا مرکز رہا ہے۔

    بعض مبصرین یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اسرائیل کی غزہ میں نئی کارروائیاں حماس پر دباؤ ڈالنے کا بہانہ ہیں تاکہ اس پر معاہدہ منظور کرنے اور فوراً یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

    مگر اب واضح ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔

    اسرائیل تمام فرنٹس پر جارحانہ ہو رہا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اسرائیل نے بات چیت کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

  8. قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد تمام نگاہیں ٹرمپ پر

    ہم نے اس سے قبل بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے دوحہ میں حملے سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی تھی۔

    اس سے پہلے ٹرمپ نے حماس کو ’آخری وارننگ‘ دی تھی کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ بندی کا معاہدے قبول کرلے۔

    حماس نے کہا تھا کہ اسے ثالث کاروں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے کچھ آئیڈیاز موصول ہوئے ہیں اور وہ اس پر غور کریں گے۔

    اگر امریکہ نے قطر پر حملے پر رضامندی ظاہر کی تھی تو اب دنیا بھر کی نگاہیں ٹرمپ پر ہی ہوں گی۔

    اسرائیل نے ایک ایسے ملک پر حملہ کیا ہے جو گذشتہ دو برسوں سے حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کروا رہا تھا، یقیناً اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

    دوحہ میں عوام اور قطری قیادت غصے میں ہے اور ایسے میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا راستہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب ٹرمپ سے توقع کی جائے گی کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھنے سے روکیں۔

  9. دوحہ میں حماس کے مرکزی مذاکرات کار کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات, ڈیوڈ گریٹن، بی بی سی نیوز

    حماس کے ایک رہنما نے ہمیں بتایا ہے کہ دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران اس کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ حماس کے جن ارکان کو نشانہ بنایا گیا ان میں خلیل الحیہ شامل ہیں۔ وہ غزہ سے تعلق رکھنے والے رہنما ہیں جو حماس کے مرکزی مذاکرات کار ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ظہیر جبران کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم حملے کے نتائج کے منتظر ہیں۔ سیاسی اور دفاعی قیادت کے درمیان اتفاق ہے۔‘

    پیر کو اسرائیلی وزیر دفاع نے متنبہ کیا تھا کہ بیرون ملک مقیم حماس کے رہنماؤں کو ’بربادی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے اور یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو اس گروہ کو تباہ کر دیا جائے گا۔

    7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں کارروائیاں شروع کی تھیں۔ حماس کے حملے میں قریب 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 64 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

  10. عرب ممالک کی قطری دارالحکومت پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

    اردن کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں قطر میں اسرائیلی حملے کی ’سخت مذمت‘ کرتے ہوئے اسے ’خطرناک، ناقابلِ قبول کشیدگی‘ بڑھانے والا اقدام قرار دیا ہے۔

    کویت کی جانب سے بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قطر کی ہر قسم کی جوابی کارروائی کی ’مکمل حمایت‘ کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم نے بھی قطر میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب عمان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں دوحہ میں حملے کو قطر کی ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا ہے۔

  11. اسرائیل نے دوحہ میں کس مقام پر حملہ کیا؟

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی حملے میں بظاہر جس عمارت کو نقصان پہنچا ہے وہ وادی رون سٹریٹ پر شہر کے مرکز کے شمال میں واقع ہے۔

    یہ ایک کمپلیکس ہے جہاں پانچ عمارتیں موجود ہیں اور ان میں سے تین عمارتوں میں سوئمنگ پولز بھی موجود ہیں۔ اس کمپلیکس کے برابر میں ایک پیٹرول سٹیشن اور کار واش بھی موجود ہے۔

    اسی سڑک پر آگے جا کر ایک سیکنڈری سکول بھی ہے، جبکہ یہاں سے پیدل کی مسافت پر متعدد سفارتخانے بھی موجود ہیں۔

    اس سے قبل قطر کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ دوحہ میں ’حماس کے ایک رہائشی ہیڈکوارٹر‘ کو ہدف بنایا گیا ہے۔

  12. دوحہ میں حماس کی قیادت پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع کا بیان

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا ایک مشترکہ بیان میں کہنا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں حملوں کے تناظر میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ملک کی ایجنسیوں کو حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا حکم دیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آج دوپہر میں ان کے ہاتھ ایک موقع آیا اور اسرائیلی رہنماؤں کی حمایت سے حماس پر حملے کی اجازت دی گئی۔

    مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ایجنسی شن بیت کو گذشتہ رات اس حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اور کاٹز اس حملے کو جائز سمجھتے ہیں کیونکہ 7 اکتوبر 2023 اور گذشتہ روز یروشلم میں ہونے والے حملوں میں حماس کی قیادت ملوث ہے۔

    خیال رہے یروشلم میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری حماس نے قبول کی تھی جس میں چھ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

  13. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی قطر میں اسرائیلی حملے کی مذمت

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دوحہ میں اسرائیلی حملے کو ’قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    کچھ لمحوں پہلے ایک نیوز بریفنگ کے دوران انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے ملک پر حملے کی مذمت کرتے ہیں جو ’جنگ بندی کروانے اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔‘

    ’تمام فریقین کو مستقل جنگ بندی کے لیے کام کرنا چاہیے نہ کہ اسے تباہ کرنے کے لیے۔‘

  14. اسرائیل نے قطر میں حملے سے قبل امریکہ کو ’مطلع‘ کیا تھا: امریکی افسر, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس میں تعینات ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوحہ پر حملے سے قبل اسرائیل نے ٹرمپ انتظامیہ کو ’مطلع‘ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ برطانوی وقت کے مطابق چھ بجے میڈیا سے بات کریں گی اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ دوحہ میں اسرائیلی حملے پر تبصرہ کریں۔

  15. دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے کے وقت وزیرِ اعظم نیتن یاہو کہاں تھے؟

    اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کا کہنا ہے کہ جس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے وفد کو نشانہ بنایا گیا اس وقت اسرائیلی وزیرِ اعظم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں موجود تھے۔

    شن بیت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’حماس کی اعلیٰ قیادت‘ پر حملہ ایجنسی اور اسرائیلی فوج کا مشترکہ آپریشن تھا۔

    شن بیت کے ترجمان کے مطابق دوحہ میں کیے گئے حملے کے وقت وزیرِ دفاع اسرائیلی کاٹز بھی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں موجود تھے۔

  16. کیا امریکہ کو قطر پر اسرائیلی حملے کا علم تھا؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا ڈر کا بہت سے لوگوں کو تھا کیونکہ اسرائیلی حکومت 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد مسلح تنظیم کے ساتھ ’حساب برابر‘ کرنے کے لیے پُرعزم تھی۔

    اگر اس نظریے سے دیکھا جائے تو قطر میں اسرائیلی حملہ اسرائیل کے دشمنوں پر تازہ ترین وار ہے۔ پہلے یہ حملے غزہ، لبنان، شام، ایران اور یمن میں ہوئے تھے، اب قطر میں بھی حماس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس حملے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جن کے جواب مطلوب ہیں۔

    کیا امریکہ کو ان حملوں کی پیشگی اطلاع تھی؟

    اگر امریکہ کو خودمختار قطر میں اس حملے کا علم نہیں تھا تو پھر وہاں واقع امریکی العدید ایئربیس کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس حملے کے امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کے تعلقات پر کیا اثرات پڑیں گے؟

    امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی قطر میں ہوئے تھے اور اگر دوحہ محفوظ نہیں تو پھر کون سے جگہ محفوظ ہے؟

  17. اسرائیل کا حماس کی قیادت پر حملہ: دوحہ میں حملے کے بعد دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں

    منگل کی شب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت پر فضائی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیلی کی جانب سے اس حملے میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تو قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا۔

  18. ایران کی قطر پر اسرائیلی حملے کے مذمت، امریکہ کی اپنی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی پر گفتگو کے دوران قطر پر اسرائیل کے حملے کو ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ اور ’قطر کی قومی خودمختاری پر حملہ‘ قرار دیا ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’یہ واقعہ خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک ’سنجیدہ پیغام‘ ہے۔

    دوسری جانب قطر میں امریکی سفارتخانے نے اپنے اہلکاروں کو محفوظ رہنے کی ہدایایات جاری کی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ امریکی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جہاں ہیں وہیں پناہ لیں۔

  19. بریکنگ, اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے: قطر

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دوحہ میں اسرائیل کے فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ ’قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جس گھر کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے وہاں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے متعدد ارکان رہائش پذیر تھے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہونے کے ساتھ ساتھ قطر میں مقیم افراد کے لیے ’سنگین خطرہ‘ بھی ہے۔‘

    واضح رہے کہ اسرائیل نے قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی تصدیق کردی ہے۔ دوسری جانب حماس کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران ان کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ریاستِ قطر اس حملے کی سخت مذمت کرتی ہے اور اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کے اس لاپرواہ رویّے اور خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرات پیدا کرنے اور اس کی سلامتی و خودمختاری کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کرے گی۔‘

  20. تصاویر: اسرائیلی حملے کے بعد دوحہ میں دھوئیں کے بادل

    ہمیں خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی جانب سے بنائی گئی تصاویر موصول ہو رہی ہیں جن میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس کی جانب سے قطر میں حماس کی سینیئر قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔