امید ہے کہ پہلگام حملے پر انڈیا کے ردعمل سے وسیع تر علاقائی تنازعہ پیدا نہیں ہوگا: نائب امریکی صدر

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد انڈیا کے ردعمل سے بڑے پیمانے پر کوئی علاقائی تنازعہ پیدا نہی ہو گا۔

خلاصہ

  • کچھ مدراس ممکنہ انڈین حملے کے پیش نظر بند کردیے گئے ہیں: پاکستان کے زیر انتظام کشیمر کی حکومت کا بیان
  • امید ہے کہ پہلگام حملے پر انڈیا کے ردعمل سے وسیع تر علاقائی تنازعہ پیدا نہیں ہوگا: امریکہ
  • سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کر لی
  • کوئی ابہام نہ رہے، انڈیا کی فوجی مہم جوئی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا: جنرل عاصم منیر
  • انڈیا نے پاکستانی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے
  • پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا ہے کہ امن کے حصول کے لیے چین ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرتا رہے گا

لائیو کوریج

  1. آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو مشیر برائے قومی سلامتی کا اضافی چارج بھی مل گیا

    آئی ایس آئی

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا تعلق ایک عسکری خاندان سے ہے اور ان کے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) جنرل غلام محمد ملک 90 کی دہائی کے اوائل میں راولپنڈی کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ مشیر برائے قومی سلامتی کا اضافی چارج بھی دے دیا ہے۔

    ان کی اس نئی اضافی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا تعلق ایک عسکری خاندان سے ہے اور ان کے والد لیفٹیننٹ جنرل (ر) جنرل غلام محمد ملک 90 کی دہائی کے اوائل میں راولپنڈی کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جب اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ایک ناکام فوجی بغاوت ہوئی تھی جس پر میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈیئر مستنصر باللہ سمیت متعدد افسران کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل بھی ہوا تھا۔

    پاکستان آرمی کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اعزازی شمشیر کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ وہ امریکہ کے فورٹ لیون ورتھ آرمی کالج کے علاوہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے بھی فارغ التحصیل ہیں۔

    یہ وہی برطانوی کالج ہے جہاں سے پاکستان کی برّی فوج کے سابق سربراہان پرویز مشرف، اشفاق کیانی اور راحیل شریف بھی کورس کر چکے ہیں۔

    انھیں بلوچستان کے امور پر دسترس رکھنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اپنے عسکری کریئر میں انھوں نے دالبندین میں 41 ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان کے علاوہ وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی سنبھالی۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ’وار ونگ‘ کے چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں بھی بطور انسٹرکٹر تعینات رہ چکے ہیں۔

    عاصم ملک ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز کے عہدے پر بھی کام کر چکے ہیں اور بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

  2. انڈیا اور پاکستان کشیدگی کم اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں: سعودی عرب

    سعودی عرب نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں ممالک کی طرف سے سرحد پار سے مسلسل فائرنگ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہ@KSAmofaEN

    سعودی حکومت نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ سعودی عرب نے دونوں ممالک سے عوام اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

  3. انڈیا نے فوجی آپشن چنا تو یہ اس کی چوائس ہو گی، یہ معاملہ آگے کدھر جاتا ہے تو پھر یہ ہماری چوائس ہو گی: ترجمان پاکستانی فوج

    PTV

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ’فوجی تصادم کا راستہ انڈیا نے چنا تویہ ان کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہو گی۔‘

    پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ’فوجی تصادم کا راستہ انڈیا نے چنا تویہ ان کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہو گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ادارے ہمہ وقت اپنی تیاری کے ساتھ موجود ہیں۔‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک متحد قوم ہیں جس کا واضح عزم ہے کہ اگر اشتعال انگیزی کی گئی تو پھر ہمیں الزام نہ دیں جبکہ پاکستانی حکام انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا معاملہ تمام فورمز، بشمول بین الاقوامی برادری کے ساتھ اٹھائیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت کے ساتھ تمام خطرات سے بیک وقت اور مؤثرطریقے سے نمٹنےکے لیے ’پوری طرح اہل‘ ہیں۔‘

    پاکستان کے ردعمل اور اس کے پاس موجود آپشنزکے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم تمام علاقوں میں صورتحال کو بہت احتیاط سے مانیٹر کر رہے ہیں اور ہمارا ردعمل اور جوابی اقدامات تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی سلامتی وخود مختاری کا ہر قیمت پردفاع کرنے کے لیے تیار ہیں، قوم متحد ہے اور تمام جماعتوں کا عزم ہے کہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے۔‘

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں کرے گا لیکن واضح کرتے ہیں اگر انڈیا نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور پہلگام حملے میں انسانی جانوں کی ہلاکت پر دُکھ ہوا ہے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پہلے بھی کہا ہے اور ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے اور ہم نے اس واقعے کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’انڈیا بتائے کسی اہم شخصیت کے دورے پر ہی وہاں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ پہلگام واقعے پر انڈیا نے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد انڈیا نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا جان بوجھ کر خطے میں حالات کو کشیدہ کر رہا ہے اور پاکستان موجودہ صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی دُنیا کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستان کی فوج الرٹ اور چوکس ہے اور انڈیا نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کا واضح پیغام ہے کہ پانی روکنے کا اقدام جنگ تصور کیا جائے گا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہم خود دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر اس درد کو کوئی نہیں سجھ سکتا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات انڈیا میں پلان کیے گئے اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنانے کے پیچھے بھی انڈیا ملوث ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے ممالک اپنے شہریوں کے قتل پر انڈیا کا احتساب کریں۔‘

  4. انڈیا پر ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام، جوابی کارروائی میں انڈین مورچے تباہ کرنے کا دعویٰ

    انڈیا کی جانب سے 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی۔

    سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا نے ایل او سی کے کیانی، منڈل سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس میں چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔‘

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق ’پاکستانی فوج کی جانب سے انڈین فوج کی کارروائی کا جواب دیا گیا جس کے نتیجے میں انڈیا کے کئی مورچے تباہ ہو گئے۔‘

    سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی میں انڈیا کی چکپترا پوسٹ تباہ کر دی گئی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس سے قبل انڈیا نے اپنی جانب کشمیر کے سرحدی علاقوں کو بھی خالی کروالیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔‘

    سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا کی طرف سے یہ اشتعال انگیزی اُن کے جنگی جنون کی گواہی دیتا ہے۔‘

    سکیورٹی ذرائع نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستانی فوج ملکی سالمیت کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔‘

  5. پاکستان انڈیا کشیدگی: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں میں سول ڈیفینس تربیت کا آغاز, نصیر چوہدری، صحافی، مظفرآباد

    Naseerudin

    ،تصویر کا ذریعہNaseerudin

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شہری دفاع کے محکمے نے ممکنہ جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبا زندگیاں بچانے کی تربیت دینے کے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔

    اس تربیتی پروگرام میں ابتدائی طبی امداد، پناہ گاہوں کا استعمال اور بمباری یا گولہ باری کے دوران حفاظتی تدابیر سے متعلق بتایا گیا۔

    محکمہ شہری دفاع کے اہلکار باسط مغل جو اس تربیتی پروگرام کی سربراہی کر رہے تھے نے بتایا کہ ’ہمارا مقصد بچوں اور اساتذہ کو اس حد تک تربیت دینا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال میں خود کو اور اپنے ارد گرد موجود دیگر لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تربیتی پروگرام ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے کہ جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔‘

    Naseerudin

    ،تصویر کا ذریعہNaseerudin

  6. تین ہفتے تک لاپتہ رہنے والے ریڈ کراس کے امدادی کارکن اسرائیل کی قید سے رہا

    PRCS

    ،تصویر کا ذریعہPRCS

    فلسطین میں امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ ماہ جنوبی غزہ میں 15 دیگر ہنگامی کارکنوں کو ہلاک کرنے کے بعد حراست میں لیے گئے اُن کے ایک فلسطینی پیرامیڈک کو رہا کر دیا ہے۔

    اسد النصرہ تین ہفتے سے لاپتہ تھے اُن سے متعلق اُن کے اپنے ادارے ریڈ کراس کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور آیا وہ اسرائیل کی حراست میں یا نہیں۔

    اطلاعات کے مطابق وہ ان 10 قیدیوں میں سے ایک تھے جنھیں منگل کے روز غزہ کے ساتھ اسرائیلی سرحدی راہداری پر رہا کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی جانب سے اس بات کی تصدیق ضرور کی گئی تھی کہ وہ حملے سے متعلق تحقیقات کے لیے ہونے والی ایک بریفنگ کے دوران اسد النصرہ کو حراست میں لیا گیا اور اس عمل میں ’کئی پیشہ ورانہ ناکامیوں‘ کی نشاندہی کی گئی تھی۔

    فلسطین میں امدادی تنظیم ریڈ کراس نے اسرائیلی حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی اس توجیہہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرائم‘ کے ارتکاب کے بعد جواز پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    23 مارچ کی صبح رفح کے علاقے تال السلطان میں ایک ہنگامی صورتحال کی اطلاع ملنے کے بعد مدد کے لیے روانہ ہونے والی ایمبولینسوں، فائر انجن اور اقوام متحدہ کی ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں پی آر سی ایس کے آٹھ پیرامیڈکس، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے چھ امدادی کارکُنان اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انروا) کے ایک اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

    ہلاک ہونے والے ان تمام اہلکاروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد حادثے کی جگہ سے قریب ہی دفن پائی گئی تھیں۔

    امدادی اداروں کے کارکُنوں پر ہونے والے اس حملے کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ اُن کے فوجیوں نے اندھیرے میں گاڑیوں کے ایک ایسے مشکوک قافلے کو نشانہ بنایا تھا کہ جن میں گاڑیوں پر کسی بھی قسم کی لائیٹس نہیں جل رہیں تھیں۔

    تاہم بعد ازاں اسرائیلی فوج کے حملے کا نشانہ بننے والے ایک پیرا میڈک رفعت رادوان کے موبائل فون سے ملنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ قافلہ میں شامل ایمبولینسوں اور دیگر گاڑیوں پر ایمرجنسی لائٹس جل رہیں تھیں۔

    BBC

    20 اپریل کو اسرائیلی فوج کی جانب جاری ہونے والے ایک بیان میں فوج نے اپنی داخلی تحقیقات کا خلاصہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پی آر سی ایس اور سول ڈیفنس کے 14 کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ فوج کے خفیہ ادارے کی جانب سے ’آپریشنل غلط فہمی‘ کا نتیجہ تھا۔

    فلسطینی حکام کی جانب سے منگل کے روز ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملوں سے متعلق کہا گیا ہے کہ شمال میں غزہ شہر میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے تین الشاف کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    بتایا جاتا ہے کہ خان یونس شہر کے قریب جنوبی علاقے المواسی میں بے گھر افراد کے خیموں پر حملوں میں مزید چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ کو انسانی امداد اور دیگر سامان کی فراہمی کو بھی روک رکھا ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

  7. پاکستان انڈیا کشیدگی: ورکنگ باؤنڈری کے قریب پاکستانی حدود میں کاشتکاروں کو گندم کی کٹائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے اثرات لائن آف کنٹرول کے بعد ورکنگ باؤنڈری پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔

    ورکنگ باؤنڈری کے قریب پاکستانی حدود میں واقع دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک وہاں پاکستانی افواج کی نقل و حرکت نظر نہیں آئی لیکن حکام نے انھیں گندم کی کٹائی کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پاکستانی حکام نے ورکنگ باؤنڈری کے قریب پاکستانی حدود میں واقع دیہات کے رہائشیوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اگر انھیں مدد درکار ہے تو حکومتی سطح پر انھیں وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    ورکنگ باونڈری میں پاکستان کے تین سکیٹرز سیالکوٹ، ظفر وال اور شکر گڑھ ہیں اور ان میں سے دو سیکٹرز ضلع نارووال کی حدود میں واقع ہیں۔

    نارووال کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان علاقوں میں گندم کی فصل تیار ہو چکی ہے اور کٹائی کا عمل جاری ہے لیکن انڈیا کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر یہ عمل جلد مکمل کرنے اور گندم ذخیرہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘

    اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں بھی انڈیا کی جانب سے ورکنگ باونڈری پر واقع دیہات میں مارٹر گولے برسائے گئے تھے جس سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ مویشیوں کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔‘

    اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ’ان علاقوں میں بسنے والے متعدد کسانوں کے پاس فصل کی کٹائی کی جدید مشینری موجود نہیں ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ پنجاب کے متعلقہ محکمے کی مدد سے دستیاب وسائل کے ساتھ اس سلسلے میں ان کی مدد کر رہی ہے۔‘

    ورکنگ باونڈری کے ساتھ تحصیل ظفر وال کے گاوں لہڑی کے رہائشی محمد رمضان کا کہنا ہے کہ ’ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مساجد سے یہ اعلانات کروائے گئے کہ وہ گندم کی کٹائی جلد از جلد مکمل کرلیں کیونکہ انڈیا کی جانب سے حملے کے خطرے کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس اعلان کے بعد ان سمیت اس گاوں کے دیگر کسان دن چڑھنے سے پہلے ہی کھیتوں میں چلے جاتے ہیں اور جس قدر بھی تیزی سے ممکن ہے وہ فصل کی کاٹائی کر رہے ہیں۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ورکنگ باؤنڈری کے قریبی گاؤں جنڈیالہ کے ایک رہاشی رشید احمد کا کہنا ہے کہ ’چونکہ ان کا گاؤں انڈین علاقے سے زیادہ دور نہیں اس لیے ان کے گاؤں سمیت دیگر قریبی دیہات میں بسنے والے افراد کے لیے یہ خصوصی ہدایات ہیں کہ وہ مکانات کے باہر نصب لائٹیں نہ جلائیں اس لیے لوگ رات کے وقت گندم کی کٹائی کا کام نہیں کر سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمومی طور پر گندم کی کٹائی کا عمل مئی کے دوسرے ہفتے تک جاری رہتا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کے اعلانات کے بعد یہ عمل جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    خیال رہے کہ چند دن قبل انڈین پنجاب سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے سرحدی اضلاع کے کسانوں کو دو دن کے اندر اپنی فصل کاٹنے کو کہا گیا تھا۔

    انڈین پنجاب کے ضلع گورداس پور کے گاؤں پنڈ روسا کے سابق سرپنچ پربھ شرن سنگھ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ہمیں انھوں نے بتایا کہ سرحد پر لگے گیٹ کے اس پار کھڑی گندم کی کٹائی کے لیے دو سے تین دن کا وقت دیا جا رہا ہے۔‘

    اسی گاؤں کے کسان ہرکیرت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اس گیٹ پر جا کر دیکھیں، ہزاروں لوگ وہاں کھڑے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی فصل کاٹی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک محدود تعداد میں ہی لوگ فصل کاٹ سکتے ہیں اور وسائل بھی کم ہیں۔‘

    کسانوں کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ بڑے کسان اب بھی اپنی فصلوں کے کاٹنے کا انتظام کر سکتے ہیں، لیکن چھوٹے کسانوں کے لیے مسائل اور بھی زیادہ ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنی مشینیں نہیں ہوتی ہیں اور انھیں اپنی فصل کی کٹائی کے لیے بڑے کسانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔‘

  8. سپریم کورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیں

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی آئینی بینچ نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ آڈیو لیکس کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے جس کے بعد یہ کیس تو غیر موثر ہو چکا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے دیگر دو ممبران اب سپریم کورٹ کے جج ہیں۔

    بدھ کے روز درخواست گزار اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ اٹارنی جنرل نے بتانا ہے کہ آڈیو لیکس پر نیا کمیش بنایا جائے یا نہیں۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کے جواب پر کہ اٹارنی جنرل دوسرے آئینی بینچ میں مصروف ہیں، جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ صرف اتنا بتا دیں کہ وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس پر کیا کرنا ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ انھیں ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے۔

    بینچ میں شامل جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کیا مذاق بنایا ہوا ہے آپ نے، کبھی آپ آجاتے ہیں کبھی اٹارنی جنرل، صرف ہاں یا نہ بتانا ہے، کیا اٹارنی جنرل پیش نہیں ہوئے تو نہیں بتائیں گے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کو نیا کمیشن بھی بنانا ہو تب بھی یہ کیس اب غیر موثر ہے۔

    عدالت نے مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستوں کو غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔

  9. 43 سال سے انڈین کشمیر میں مقیم پاکستانی خاتون کی جبری بے دخلی: ’میں اپنی ساری دُنیا چھوڑ کر جارہی ہوں‘, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سری نگر

    ثریا 1982 میں پاکستان سے پومچھ آئی تھیں

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنثریا 1982 میں پاکستان سے پومچھ آئی تھیں۔

    پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان نے اپنے یہاں مقیم ایک دوسرے کے شہریوں کو ملک بدر کرنے کا جو فیصلہ گذشتہ ہفتے لیا تھا، اُس کا اثر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے پاکستانی مردوں اور عورتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

    منگل کے روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریبی ضلع پونچھ سے سات خواتین سمیت 11 ایسے پاکستانی باشندوں کو اٹاری کے راستے واپس پاکستان بھجوایا گیا ہے جو طویل عرصے سے انڈین انتظام والے خطے میں رہ رہے تھے۔

    واپس بھیجے جانے والوں میں 55 سالہ ثریا کوثر بھی شامل ہیں، جنھیں پونچھ کے مینڈھر علاقے میں پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے پرنم آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا۔

    ثریا کی ایک الوداعی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ روتے ہوئے کہتی نظر آتی ہیں کہ، ’میں اپنے پیچھے اپنی ساری دُنیا چھوڑ کر جارہی ہوں، میں نے اگر کسی کا دل دُکھایا ہو تو مجھے معاف کرنا۔ میرے لیے واپس جانا ایک قیامت ہے کیونکہ پاکستان میں میرا کوئی رشتہ دار یا کوئی ٹھکانہ نہیں۔‘

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ثریا 1982 میں پاکستان سے پومچھ آئی تھیں جہاں بعد میں ان کی مینڈھر میں گھولڈ گاؤں کے عابد حسین شاہ سے شادی ہوئی۔ ان دونوں کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

    ثریا کے رشتہ داروں کے مطابق، ثریا کی والدہ پونچھ کی ہی رہنے والی تھیں جو تقسیم کے بعد پاکستان چلی گئی تھیں جہاں اُن کی شادی ہوئی اور بعد میں ثریا پیدا ہوئی۔

    رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ والد کی موت کے بعد جب ثریا اور اُن کی والدہ اکیلی پڑگئیں تو ان کے ماموں 1982 میں پاکستان جا کر دونوں ماں بیٹی کو پونچھ واپس لے آئے تھے۔

    ثریا کے رشتہ داروں کے مطابق پاکستان میں ثریا کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ’اب پولیس نے پاکستان میں ایک نامعلوم علاقے سے کسی بہت دُور کے رشتہ دار کا پتہ معلوم کرکے ثریا کو واپس بھیج دیا ہے۔‘

    دوسری جانب ثریا کے شوہر اور بچے اب بھی پونچھ میں مقیم ہیں۔

    دریں اثنا پولیس کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں شارٹ ٹرم ویزا یا غیرقانونی طور پر رہائش پذیر مزید 34 پاکستانیوں کو ڈیپورٹ کیا جارہا ہے جن میں بیشتر خواتین شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سنہ 2010 میں انڈیا کے اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور دوسرے پاکستانی شہروں میں دہائیوں سے مقیم سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو کشمیر واپس آنے کی اجازت دی تھی۔

    یہ وہ نوجوان تھے جو 1990 کی دہائی کے دوران مبینہ طور پر اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان گئے تھے لیکن وہاں انھوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کی بجائے شہری زندگی کو ترجیح دی۔

    ان کشمیریوں نے پاکستانی خواتین کے ساتھ شادیاں کر لی تھیں اور ان کے بچے بھی تھے۔

    منموہن سنگھ کی بازآبادکاری سکیم کے تحت یہ خاندان ڈیڑھ دہائی قبل واپس کشمیر لوٹے تھے۔

    تاہم پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے شہریوں کو ڈیپورٹ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

    پاکستانی شہریوں کے لیے انڈیا چھوڑنے کی آخری تاریخ 27 اپریل تھی، جسکے بعد اب یہاں رہ جانے والے پاکستانیوں کو جبری طور ڈیپورٹ کیا جارہا ہے۔

  10. پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور انڈیا میں بڑھتی کشیدگی، پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 3600 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    مارکیٹ تجزیہ کار گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو حصص بازار میں مندی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمارکیٹ تجزیہ کار گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو حصص بازار میں مندی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور کاروبار کے دوران مارکیٹ انڈیکس 3600 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی کے بعد 111192 پوائنٹس تک گر گیا۔

    بدھ کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور اس میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباؤ دیکھا گیا ہے جس میں ادارہ جاتی اور انفرادی دونوں سرمایہ کار شامل ہیں۔

    مارکیٹ تجزیہ کار گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو حصص بازار میں مندی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور خطے میں جنگ کے خدشات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنی افواج کو کارروائی کی ہدایت کے بعد پاکستان کے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے اس بیان نے کہ انڈیا کی جانب سے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے نے سٹاک مارکیٹ کے کاروبار پر منفی اثر ڈالا ہے۔

    شہر یار بٹ کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ ایسے بیانات کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہے اور فوری ردِ عمل دیتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے بعد جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں جو مارکیٹ پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

  11. پہلگام واقعے کی تحقیقات کے بجائے مودی سرکار پاکستان پر الزام لگا رہی ہے: عمران خان

    عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی جارحیت نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی جارحیت نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا ہے۔

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد تحقیقات کے بجائے مودی سرکار ایک بار پھر پاکستان پر الزام لگا رہی ہے۔

    منگل کے روز جاری بیان میں عمران خان نے پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پلوامہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ کا واقعہ پیش آیا تو اس وقت بھی پاکستان نے انڈیا کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی لیکن انڈیا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے بجائے مودی سرکار ایک بار پھر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ ارب کی آبادی والا ملک ہونے کے ناطے انڈیا کو 'نیوکلیئر فلیش پوائنٹ' کہلائے جانے والے اس خطے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اہمیت پر زور دیا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دی گئی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جعلی فارم 47‘ کے نتائج کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت نے قوم کو تقسیم کر دیا تھا لیکن نریندر مودی کی جارحیت نے پاکستانی قوم کو متحد کر دیا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن تمام اقدامات کو روکا جائے جو ملک میں تقسیم کا سبب بن رہے ہیں۔

    ’اس نازک وقت میں ریاست کی سیاسی استحصال پر حد سے زیادہ توجہ داخلی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں قوم کی بیرونی خطرات سے نمٹنے کی اجتماعی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔‘

  12. امریکہ کا پاکستان اور انڈیا سے کشیدگی کم کرنے پر زور

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے امریکی حکومت پاکستان اور انڈیا دونوں سے رابطے کر رہی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے امریکی حکومت پاکستان اور انڈیا دونوں سے رابطے کر رہی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے امریکی حکومت پاکستان اور انڈیا دونوں سے رابطے کر رہی ہے۔

    منگل کے روز واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے انھیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک سے پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی نہ بڑھائیں۔

    ٹیمی بروس کا کہنا تھا کہ مارکو روبیو آج یا کل اپنے پاکستان اور انڈین ہم منصبوں سے بات کریں گے۔

    امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق مارکو روبیو نے دیگر قومی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بھی اس مسئلے پر پاکستان اور انڈیا سے رجوع کریں۔

    ٹیمی بروس کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ اس معاملے پر پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصب سے براہ راست بات کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ ان کے رابطوں کا ویسا ہی اثر ہوگا جیسا کہ دیگر لوگوں سے ان کی بات چیت کا ہوتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا سے نہ صرف وزرائے خارجہ کی سطح پر بلکہ دیگر سطحوں پر بھی رابطے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام فریقین سے اس مسئلے کا ذمہ دارانہ حل نکالنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

  13. انڈیا پہلگام کو جواز بنا کر اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں حملہ کر سکتا ہے: عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ انڈیا کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کا کہنا نے کہ انڈیا کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس مستند انٹیلیجنس اطلاعات ہیں کہ انڈیا اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے۔

    منگل کے روز جاری ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈیا کا خطے میں مدعی، منصف اور جلاد کا خود ساختہ کردار سختی سے مسترد کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دو دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا رہا ہے اور اس نے دنیا میں کسی بھی شکل میں دہشتگردی کی سخت مذمت کی ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ ’تاہم بدقسمتی سے انڈیا نے غیر معقولیت اور تصادم کے راستے پر چلنے کا انتخاب کیا جو کہ خطے اور دنیا میں تباہ کن نتائج کا باعث ہو گا۔‘

    وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ انڈیا کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ سے ہونے والے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری صرف اور صرف انڈیا پر عائد ہو گی۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی لڑائی سے گریز کرنا چاہیے جو افسوسناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے
    • انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے
    • پاکستانی فوج نے انڈیا پر سرحد پار دہشتگردی کا الزام لگایا ہے اور اپنے بقول ایسے ’ٹھوس شواہد‘ پیش کیے ہیں جو پاکستان میں گرفتار ہونے والے بعض افراد کو انڈین ’سٹیٹ سپانسرڈ‘ کارروائیوں سے جوڑتے ہیں۔ مکمل خبر جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
    • اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے متاثرین کی ایسوسی ایشن نیٹ ورک کے آغاز کے موقع پر بیان دیتے ہوئے پاکستان مشن کے کونسلر جواد اجمل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے پاس قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں کہ جعفر ایکسپریس حملہ اس کے علاقائی حریفوں کی بیرونی معاونت سے کیا گیا تھا
    • کینیڈا میں عام انتخابات میں لبرل پارٹی کے مارک کارنی جیت گئے ہیں۔
  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔