انڈیا نے مقامی
طور پر تیار کردہ ایک مربوط دفاعی نظام کا تجربہ کیا ہے جو ڈرونز اور میزائلوں کو
مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انڈیا کے دفائی
تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کے تیارکردہ اس انٹیگریٹیڈ ائیر ڈیفنس سسٹم کا
تجربہ سنیچر کے روز اوڈیسہ کی ایک ساحلی تجربہ گاہ سے کیا گیا۔ یہ
ایڈوانسڈ دفاعی ہتھیار کا پہلا تجربہ تھا جس کے بارے میں انڈین حکام کا دعویٰ کیا
ہے کہ یہ تجربہ کامیاب رہا۔
یاد رہے کہ انڈیا
نے مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کی جانب سے داغے گئے میزائلوں
اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے روسی ساخٹہ ایس۔400 ایئر ڈیفنس سسٹم کا استعمال کیا
تھا۔
یہ ملک گیر سطح
پر فضائی حملے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک دفاعی
شیلڈ تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
دفاعی تجزیہ کار
راہل بیدی نے بی بی بی سی کو بتایا کہ ’ڈی آر ڈی او اس پر 10، 15 برسوں سے کام کر رہا تھا۔ ڈی آر ڈی او نے
ایک بیلسٹک مزائل شیلڈ تیار کی تھی اور یہ نیا تجربہ اس دفائی سلسلے کی اگلی کڑی
ہے۔‘
وزارت دفاع کی
طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام ایک ملٹی لیئر
ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو ملک میں تیار کیے گئے زمین سے فضا میں وار
کرنے والے کوئک ری ایکشن میزائل، بہت کم دوری والے ایڈوانس میزائل اور ہائی پاور لیزر
بیسڈ ڈائریکٹڈ انرجی ویپن ڈی ای ڈبلییو پر مشتمل ہے۔‘
اتوار کو جاری
کیے گئے ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس ایئر ڈیفنس سسٹم کے پہلے تجربے
میں دو تیز رفتار فکسڈ ونگز ڈرونز اور ایک ملٹی کاپٹر ڈرون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تینوں اہداف کو مختلف دوری اور اونچائی پر ایک ساتھ
میزائلوں اور لیزر ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں سے کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا۔
’میزائل نظام، ڈرون کی نشاندہی اور اسے
تباہ کرنے، کمانڈ اینڈ کنٹرول، کمیونیکیشن اور ریڈار سمیت ایئر ڈیفنس کے ہتھیاروں
کے سبھی حصوں نے کسی غلطی کے بغیر کامیابی سے اپنا کام انجام دیا۔‘
انڈین وزیر دفاع
راج ناتھ سنگھ نے ایکس پر ایک پیغام میں ڈی آر ڈی او اور ڈیفنس انڈسٹری کو
مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’انٹریگریٹیڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کے اس پہلے تجربے سے
ہمارے ملک کی ملٹی لیئر فضائی دفاعی صلاحیت اجاگر ہو گئی ہے۔ اس سے ملک کی اہم
تنصیبات کو دشمن کے فضائی خطروں سے علاقائی دفاع مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔‘
انٹیگریٹیڈ ایئر
ڈیفنس سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
انڈین دفاعی
تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او نے جس ایئر ڈفنس سسٹم کا تجربہ کیا ہے وہ کئی سطحوں
اور نیٹورک سینٹرک شیلڈ پر کام کرتا ہے جس میں ایک یونیفائیڈ کمانڈ نظام کے تحت میزائلوں
اور ڈرونز وغیرہ کی نشاندہی اور ہائی پاور لیزر انرجی ہتھیار وغیرہ شامل ہیں۔
اس دفاعی نظام
کا محور ایک سینٹرلائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے جو ریڈار اور الیکٹرو آپٹیکل سینسر
کو مربوط کر کے ریئل ٹائم میں فضا کی ایک مکمل کی تصویر پیش کرتا ہے۔ دشمن کے میزائل
یا ڈرونز وغیرہ کی اونچائی، رفتار اور پرواز کے راستے کا تعین کرنے کے بعد سینٹرلائزڈ
کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انھیں تباہ کرنے کے سب سے موزوں ہتھیار کا استعمال
کرتا ہے۔
کوئک ری ایکشن
زمین سے فضا میں وار کرنے والے سیم مزائل ہائی موبلیٹی لانچر پر ریڈار کے ساتھ نصب
کیے گئے ہیں۔ یہ 25 سے 30 کلو میٹر کی دوری کے دائرے میں اور 10 کلو میٹر کی
اونچائی تک تیزی سے آتے ہوئے جہاز، ہیلی کاپٹر اور کروز میزائل اور گائڈڈ بم کو
انٹرسپٹ کرنے کے لیے ہے۔ یہ نظام آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا
ہے اور تیزی سے استعمال میں لائے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انتہائی کم دوری
کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار روٹیری ونگس پلیٹ فارمس، یو اے وی اور کم رفتار
والے فکسڈ ونگس ایئرکرافٹ سے تحفظ کے لیے ہیں۔ اس کی رینج تقریبآ 6 کلومیٹر ہے اور
یہ 4 کلومیٹر کی اونچائی پر اڑتے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
تیسری سطح پر
ہائی پاور لیزر ڈائریکٹڈ انرجی ویپن ہے۔ یہ ہتھیار کنسنٹریٹیڈ طاقتور لیزر شعاعوں
سے یو اے وی کے ایئر فریم یا اس کے اندر لگی ہوئی مشئنری کو تباہ کرنے کے مقصد سے
نصب کیا گیا ہے۔ میزائل کے مقابلے میں لیزر ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی حد نہیں
ہوتی۔ اس سے دیر تک مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈرون کو نشانہ بنایا
جا سکتا ہے۔
راہل بیدی کہتے
ہیں ’لیزر
ہتھیار ایک نیا سسٹم ہے۔ یہ جنگوں میں یو اے وی ، ڈرونز اور اس نوعیت کے دوسرے
ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر شامل کیا گیا ہے۔ اس سے فضائی دفاع کی
صلاحیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے چند مہینے قبل کنسنٹریٹیڈ لیزر شعاع
ہتھیار کا کامیابی سے تجربہ کیا تھا۔ ملٹی لیئر سسٹم میں اس کی شمولیت سے ایئر
ڈیفنس کی صلاحیت بہتر ہو گی۔‘
ائیر ڈیفنس نظام
تیار کرنے کا مقصد ملک کے اہم صنعتی مراکز، پاور پلانٹس، جوہری تنصیبات، ریڈار،
فضائی اور مزائل اڈوں سمیت اہم فوجی اور دفاعی ٹھکانوں کو علاقائی تحفظ فراہم کرنا
ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے یوم آزادی کے
موقع پر ملک کی اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ایک ’سدرشن چکر‘ نام کے ایک ملٹی لیئر دفاعی شیلڈ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ڈی آر
ڈی او کا سنیچر کے روز کا تجربہ اسی دس سالہ دفاعی منصوبہ کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔