آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈین ڈیموں سے پانی کے اخراج کے بعد دریائے راوی، ستلج اور چناب میں ممکنہ سیلاب کا خطرہ

این ڈی ایم اے نے انڈین ڈیموں سے پانی کے اخراج کے باعث راوی، ستلج اور چناب میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ بالائی علاقوں میں بہاؤ خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے اور سیلاب میں شدت کا خدشہ ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں
  • پنجاب میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ڈیڑھ لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل
  • این ڈی ایم اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں اور اگلے سال اس کی شدت 22 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی کے مہینے میں ہونے والی مختصر جنگ رکوائی تب تک سات جیٹ مار گرائے جا چکے تھے
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز جنوبی غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک 'ڈراؤنا خواب' قرار دیا ہے
  • غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں اطلاعات کے مطابق پانچ صحافیوں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے

لائیو کوریج

  1. ’ہم خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے‘: پاکستان کی ’گریٹر اسرائیل‘ سے متعلق وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی مذمت

    پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ’گریٹر اسرائیل‘ سے متعلق بیان کی مذمت کرتا ہے۔

    پیر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان 31 عرب ممالک اور او آئی سی کے جنرل سیکریٹیز کے اس بیان کی توثیق کرتا ہے جس میں انھوں نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے حوالے سے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیان کی مذمت کی ہے۔

    اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ان کا بیان عرب قومی سلامتی، ریاستوں کی خودمختاری، خطے اور بین الاقوامی امن و سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔‘

    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ: ’غزہ معصوم زندگیوں اور بین الاقوامی قوانین کا قبرستان بن چکا ہے۔‘

    ’ہم خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے۔‘

    ’تاریخ ہمارے الفاظ نہیں بلکہ اقدامات یاد رکھے گی۔ فلسطینی عوام کو ہمارے بیانات نہیں چاہییں، انھیں اسرائیلی قبضے سے آزادی اور تکالیف سے نجات کے لیے ٹھوس اقدامات چاہییں۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان غزہ میں مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی چاہتا ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی کو اس صورتحال میں بھرپور عزم کے ساتھ فوری اقدامات لینے ہوں گے۔

  2. حماد اظہر کا والد کی نشست پر ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ: ’انتخابی مہم میں حصہ لینا ممکن نہیں‘

    پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے والد میاں اظہر کی موت کے نتیجے میں خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔

    حماد اظہر کے والد میاں اظہر گذشتہ مہینے طویل علالت کے بعد وفات گئے تھے، جس کے بعد لاہور میں ان کی نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129 میں ضمنی انتخاب 18 ستمبر کو ہوگا۔

    تاہم حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ان کی جگہ ضمنی انتخاب میں میاں اظہر کے بھانجے چوہدری ظہیر ارسلان حصہ لیں گے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے لیے انتخابی مہم میں حصہ لینا ممکن نہیں اور نشست جیت کر حلف لینا بھی ممکن نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے اپنے کزن کے بارے میں لکھا کہ ’ارسلان ظہیر تحریکِ انصاف کے دور میں لاہور فروٹ اینڈ سبزی منڈی کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں اور ہونہار نوجوان ہیں۔‘

  3. ’کبھی اتنے طاقتور طوفان کے بارے میں نہیں سُنا‘: ویتنام میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر منتقل، ایئرپورٹس بند

    ویتنام میں طوفان کاجیکی آہستہ آہستہ ساحل سے ملک کے اندرونی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے سبب نہ صرف تیز بارشیں ہو رہی ہیں بلکہ ہوائیں بھی تقریباً 133 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

    ویتنام میں حکام کو توقع ہے کہ طاقتور ہواؤں کا زور جلد ہی ٹوٹ جائے گا لیکن بی بی سی ویدر کے میٹ ٹیلر کے مطابق ملک میں تیز بارشوں کے اثرات دیر تک اور دور تک محسوس کیے جائیں گے۔

    ویتنام میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ طوفان کاجیکی کے سبب 5 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ملک میں اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ملک کے چھ صوبوں میں تقریباً 400 آبادیوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے کیونکہ انھیں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے خطرہ ہے۔

    طوفانی صورتحال کے سبب تھان ہوا اور قوانگ بنہ صوبوں میں ایئرپورٹس کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ویتنام ایئرلائنز اور ویتجیٹ نے متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

    خیال رہے تقریباً ایک برس قبل یاگی نامی طوفان نے بھی ویتنام میں تباہی مچائی تھی اور اس کے سبب ملک میں نہ صرف اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا بلکہ 15 لاکھ افراد بجلی سے بھی محروم ہو گئے تھے۔

    گذشتہ برس ستمبر میں یاگی طوفان سے شمالی ویتنام کے علاوہ تھائی لینڈ، میانمار اور لاؤس بھی شدید متاثر ہوئے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں پورے خطے میں 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اس سے قبل ویتنام میں حکام نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ طوفان کاجیکی بھی گذشتہ برس آنے والے طوفان جتنا طاقتور ہوگا۔

    طوفان کے سبب بے گھر ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے قبل اتنا طاقتور طوفان کبھی نہیں دیکھا ہے۔

    52 سالہ نگوین تھی نہان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارے لیے طوفان اور سیلاب عام سی بات ہیں لیکن اتنا بڑا طوفان کبھی نہیں آیا ہے۔‘

    ویتنام کے شہر وِن میں ایک سپورٹس سٹیڈیم میں پناہ لینے والے 66 سالہ لے من ٹنگ کا کہنا ہے کہ: ’میں نے اس سے قبل کبھی اپنے شہر میں اتنے طاقتور طوفان کے بارے میں نہیں سُنا۔‘

    ’میں خوف میں ضرور ہوں لیکن ہمیں اسے (طوفان) تسلیم کرنا ہی ہوگا کیونکہ یہ قدرت کا نظام ہے اور ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘

  4. بلوچستان سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ’سکیورٹی وجوہات‘ کے سبب دو روز کے لیے معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پشاور تک چلنے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس کو دو روز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

    کوئٹہ میں ریلویز کے ایک سینیئراہلکار نےفون پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ معطلی کی وجہ سے جعفر ایکسپریس پیر کی صبح کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ نہیں ہوسکی۔

    انھوں نے بتایا کہ 25 اور 26 اگست کو جعفر ایکسپریس کو ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل 11سے 14 اگست تک بھی سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر ٹرین سروس کو معطل کیا گیا تھا۔

    خیال رہے رواں برس مارچ میں مسلح افراد نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر دیا تھا جس میں عسکری اہلکاروں سمیت 31 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ فوجی آپریشن میں 33 مسلح افراد بھی مارے گئے تھے۔

    حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

    خیال رہے کہ سنہ 2000 سے قبل کوئٹہ اور پنجاب اور کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلنے والوں کی ٹرینوں کی تعداد زیادہ تھی، تاہم سکیورٹی اور بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے ان کی تعداد میں کمی کی گئی تھی۔

    اس وقت بلوچستان اور دیگر صوبوں کے درمیان صرف دو ٹرینیں چلتی ہیں جن میں جعفر ایکسپریس اور بولان میل شامل ہیں۔

    ان میں سے جعفر ایکسپریس لاہور اور راولپنڈی کے راستے کوئٹہ اور پشاور کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر چلتی ہے، جبکہ بولان میل کوئٹہ اور کراچی کے درمیان ہفتے میں صرف دو دن چلتی ہے۔

  5. غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک: محکمہ شہری دفاع, یولانڈے نیل اور رفیع برف، بی بی سی نیوز

    غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں اطلاعات کے مطابق پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں روئٹرز کے ایک کیمرا مین اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک صحافی بھی شامل ہیں، جبکہ ایک صحافی کا تعلق الجزیزہ سے بتایا جاتا ہے۔

    حماس کے زیرِ انتظام محکمہ شہری دفاع نے 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پہلے حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب ریسکیو اہلکار نصر ہسپتال میں امدادی سرگرمیوں کے لیے موقع پر پہنچے تھے۔

    ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے ’بے قصور افراد کو ہونے والے نقصان پر افسوس ہے اور وہ صحافیوں کو اپنا ہدف نہیں بناتے۔‘

    تصاویر میں جنوبی غزہ کے مرکزی ہسپتال کی اوپری منزل سے دھواں اُٹھتا ہوا جاسکتا ہے جبکہ وہاں نقصان بھی صاف نظر آ رہا ہے۔

    ہسپتال کے باہر لوگوں کو افراتفری کے عالم میں بھاگتے ہوئے اور چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے کیمرا مین حسام المصری بھی شامل ہیں، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کے ساتھ کام کرنے والی فری لانس صحافی مریم ڈگہ بھی اس حملے میں ہلاک ہوئی ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا کہ مریم کی ہلاکت پر وہ ’صدمے‘ میں ہیں۔

    ہلاک ہونے والے مزید دو صحافیوں کی شناخت محمد سلاما اور معاذ ابو طحہٰ کے نام سے ہوئی ہے۔

  6. انسدادِ دہشتگردی عدالت نے عمر ایوب، زرتاج گُل اور شبلی فراز سمیت 59 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سُنا دی

    فیصل آباد کی ایک انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنماؤں سمیت 75 ملزمان کو 9 مئی کو رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملے سے متعلق ایک کیس میں قید کی سزائیں سُنا دی ہیں۔

    عدالت نے اس مقدمے میں 109 ملزمان میں سے 34 کو بری کر دیا ہے۔

    اس مقدمے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گُل، کنول شوزب، احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، انصر اقبال اور بلال اعجاز سمیت 59 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزائی سنائی گئی ہیں۔

    دوسری جانب اسی کیس میں دیگر 16 ملزمان کو تین، تین برس قید کی سزائیں سُنائی گئی ہیں۔

    انسدادِ دہشتگردی کی عدالت سے بری ہونے والے افراد میں فواد چوہدری اور زین قریشی بھی شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی نے اس مقدمے میں سنائی جانے والی سزاؤں کو ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما زُلفی بخاری کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’9 مئی کی آڑ میں عام شہریوں، ان کے خاندانوں اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ نہ صرف ناانصافیاں کی جا رہی ہیں بلکہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے، زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں اور ان پر ناقابلِ سوچ ظلم کیا جا رہا ہے۔‘

  7. انڈیا کو جہاں سے تیل سستا ملے گا وہاں سے خریدے گا: روس میں تعینات انڈین سفیر کا بیان

    روس میں تعینات انڈیا کے سفیر کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنے 1.4 ارب لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں سے بھی اسے ’بہتر سودا‘ ملے گا وہاں سے تیل خریدنا جاری رکھے گا۔

    ونے کمار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر عائد 50 فیصد ٹیرف نافذ ہونے میں محض دو روز باقی ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے عائد ٹیرف میں سے 25 فیصد روسی تیل اور ہتھیار خریدنے پر بطور جرمانہ شامل کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ کہ ٹرمپ کا انڈیا پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ ڈالنا اور اسے یوکرین میں جنگ روکنے پر مجبور کرنا ہے۔

    یوکرین جنگ کی آغاز کی بعد سے انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں اضافے کے باعث انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات پر بھی اثر پڑا ہے۔

    2024 میں انڈیا کی تیل کی کل درآمدات کا 35 سے 40 فیصد روسی خام تیل پر مشتمل تھا۔ 2021 میں یہ شرح محض 3 فیصد تھی۔ امریکہ کا الزام ہے کہ انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی خریداری یوکرین میں جنگ کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہے، تاہم دہلی اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    اتوار کے روز ونے کمار نے روسی خبر رساں ایجنسی ٹاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی تجارت مارکیٹ کے عوامل پر مبنی ہے اور اس کی ترجیح مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے توانائی کا حصول یقینی بنانا ہے۔

    انھوں نے ایک بار پھر انڈیا کے اس موقف کو بھی دہرایا کہ ٹرمپ کا اضافی محصولات لگانے کا فیصلہ ’غیر معقول اور غیر منصفانہ‘ تھا۔

    اس سے قبل انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے انڈیا کی طرف سے روسی خام تیل کی خریداری کا دفاع کیا تھا۔ ’یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایسے لوگ جو کاروبار کے حامی امریکی انتظامیہ کے لیے کام کرتے ہیں وہ دوسروں پر کاروبار کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔‘

  8. راوی اور ستلج میں سیلاب کی وارننگ جاری، شہریوں کو نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت

    پاکستان میں حکام نے دریائے راوی اور دریائے ستلج میں سیلاب کی وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے نے آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے دریائے راوی میں درمیانے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تھین ڈیم سے پانی کے اخراج اور انڈیا سے آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث دریائے راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث تھین ڈیم 1717 فٹ کے ساتھ 86 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق، ڈیم سے پانی کے اخراج کی صورت میں سیالکوٹ، نارووال، قصور اور گردونواح کے نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    حکام نے شہریوں کو دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے اور غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے ڈآؤن سٹریم پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کی مقامی انتظامیہ کو ممکنہ سیلابی صورتحال کے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ڈائیریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو پیشگی حساس مقامات پر تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ موسلادھار بارشوں کی صورت میں شہریوں کو پیشگی آگاہ کیا جائے جبکہ مساجد میں اعلانات اور لوکل سطح پر شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شہری ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  9. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیلابی ریلوں سے سڑکیں، رابطہ پُل تباہ، دریائے توی کا پانی بستیوں میں داخل, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی خطہ جموں کے دریائے توی میں پانی کی سطح بڑھنے اور مسلسل بارشوں نے پورے خطے میں سیلابی صورتحال برپا کردی ہے۔

    انڈین حکومت نے اتوار کے روز پاکستان کو دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا۔

    حکومت نے جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے حساس علاقوں میں انسدادِ بحران محکمہ کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں گذشتہ روز 199 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے توی دریا کے ساتھ ساتھ ندی نالوں اور نہروں کا پانی سڑکوں اور بستیوں میں داخل ہوگیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے کٹھوعہ۔پٹھان کوٹ ہائی وے پر سحرکھور علاقے میں ایک طویل پُل ٹوٹ گیا جس سے آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ توی کے علاقے میں واقع ایک میڈیکل کالج کی عمارت کی پہلی منزل تک پانی چڑھ گیا جس کے بعد درجنوں طلبا و طالبات کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

    توی پُل کے قریب ایک مندر بھی سیلابی ریلے میں منہدم ہو گیا ہے۔

    جموں شہر کے بھوانی نگر، رُوپ نگر، جانی پور، شمبھو گیٹ، مُٹھی، بن تلاب، ٹھاٹھر نالہ اور کئی دیگر بستیوں میں لوگوں کو رافٹنگ کشتیوں کی مدد سے گھروں سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

    واضح رہے توی دراصل دریائے چناب کا معاون دریا ہے جو جموں، بھدرواہ، ڈوڈہ اور اُدھمپور سے ہوتے ہوئے پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کی طرف چناب میں بہتا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جموں کے ہی کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے جو طغیانی آئی تھی اُس میں ابھی تک حکومت نے 65 افراد کی ہلاکت اور 100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

    انڈین وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو جموں میں سیلاب کے متاثرین ملاقات کی۔ سوموار کے روز انھوں نے کشتواڑ روانگی سے قبل بتایا کہ طغیانی کی وجہ سے لاپتہ ہوئے 32 افراد کی تلاش جاری ہے جس کے لیے جموں کشمیر کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ وفاقی اہلکار بھی کام کررہے ہیں۔

  10. انڈیا کا مقامی طور پر تیار کردہ ایئر ڈیفنس سسٹم کا تجربہ جو ’ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت‘ رکھتا ہے, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

    انڈیا نے مقامی طور پر تیار کردہ ایک مربوط دفاعی نظام کا تجربہ کیا ہے جو ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انڈیا کے دفائی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کے تیارکردہ اس انٹیگریٹیڈ ائیر ڈیفنس سسٹم کا تجربہ سنیچر کے روز اوڈیسہ کی ایک ساحلی تجربہ گاہ سے کیا گیا۔ یہ ایڈوانسڈ دفاعی ہتھیار کا پہلا تجربہ تھا جس کے بارے میں انڈین حکام کا دعویٰ کیا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب رہا۔

    یاد رہے کہ انڈیا نے مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے روسی ساخٹہ ایس۔400 ایئر ڈیفنس سسٹم کا استعمال کیا تھا۔

    یہ ملک گیر سطح پر فضائی حملے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مقامی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک دفاعی شیلڈ تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بی بی بی سی کو بتایا کہ ’ڈی آر ڈی او اس پر 10، 15 برسوں سے کام کر رہا تھا۔ ڈی آر ڈی او نے ایک بیلسٹک مزائل شیلڈ تیار کی تھی اور یہ نیا تجربہ اس دفائی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔‘

    وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام ایک ملٹی لیئر ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو ملک میں تیار کیے گئے زمین سے فضا میں وار کرنے والے کوئک ری ایکشن میزائل، بہت کم دوری والے ایڈوانس میزائل اور ہائی پاور لیزر بیسڈ ڈائریکٹڈ انرجی ویپن ڈی ای ڈبلییو پر مشتمل ہے۔‘

    اتوار کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس ایئر ڈیفنس سسٹم کے پہلے تجربے میں دو تیز رفتار فکسڈ ونگز ڈرونز اور ایک ملٹی کاپٹر ڈرون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تینوں اہداف کو مختلف دوری اور اونچائی پر ایک ساتھ میزائلوں اور لیزر ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں سے کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا۔

    ’میزائل نظام، ڈرون کی نشاندہی اور اسے تباہ کرنے، کمانڈ اینڈ کنٹرول، کمیونیکیشن اور ریڈار سمیت ایئر ڈیفنس کے ہتھیاروں کے سبھی حصوں نے کسی غلطی کے بغیر کامیابی سے اپنا کام انجام دیا۔‘

    انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایکس پر ایک پیغام میں ڈی آر ڈی او اور ڈیفنس انڈسٹری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’انٹریگریٹیڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کے اس پہلے تجربے سے ہمارے ملک کی ملٹی لیئر فضائی دفاعی صلاحیت اجاگر ہو گئی ہے۔ اس سے ملک کی اہم تنصیبات کو دشمن کے فضائی خطروں سے علاقائی دفاع مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔‘

    انٹیگریٹیڈ ایئر ڈیفنس سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

    انڈین دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او نے جس ایئر ڈفنس سسٹم کا تجربہ کیا ہے وہ کئی سطحوں اور نیٹورک سینٹرک شیلڈ پر کام کرتا ہے جس میں ایک یونیفائیڈ کمانڈ نظام کے تحت میزائلوں اور ڈرونز وغیرہ کی نشاندہی اور ہائی پاور لیزر انرجی ہتھیار وغیرہ شامل ہیں۔

    یہ بھی پڑھیے:

    اس دفاعی نظام کا محور ایک سینٹرلائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے جو ریڈار اور الیکٹرو آپٹیکل سینسر کو مربوط کر کے ریئل ٹائم میں فضا کی ایک مکمل کی تصویر پیش کرتا ہے۔ دشمن کے میزائل یا ڈرونز وغیرہ کی اونچائی، رفتار اور پرواز کے راستے کا تعین کرنے کے بعد سینٹرلائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انھیں تباہ کرنے کے سب سے موزوں ہتھیار کا استعمال کرتا ہے۔

    کوئک ری ایکشن زمین سے فضا میں وار کرنے والے سیم مزائل ہائی موبلیٹی لانچر پر ریڈار کے ساتھ نصب کیے گئے ہیں۔ یہ 25 سے 30 کلو میٹر کی دوری کے دائرے میں اور 10 کلو میٹر کی اونچائی تک تیزی سے آتے ہوئے جہاز، ہیلی کاپٹر اور کروز میزائل اور گائڈڈ بم کو انٹرسپٹ کرنے کے لیے ہے۔ یہ نظام آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے اور تیزی سے استعمال میں لائے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انتہائی کم دوری کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار روٹیری ونگس پلیٹ فارمس، یو اے وی اور کم رفتار والے فکسڈ ونگس ایئرکرافٹ سے تحفظ کے لیے ہیں۔ اس کی رینج تقریبآ 6 کلومیٹر ہے اور یہ 4 کلومیٹر کی اونچائی پر اڑتے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    تیسری سطح پر ہائی پاور لیزر ڈائریکٹڈ انرجی ویپن ہے۔ یہ ہتھیار کنسنٹریٹیڈ طاقتور لیزر شعاعوں سے یو اے وی کے ایئر فریم یا اس کے اندر لگی ہوئی مشئنری کو تباہ کرنے کے مقصد سے نصب کیا گیا ہے۔ میزائل کے مقابلے میں لیزر ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس سے دیر تک مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈرون کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    راہل بیدی کہتے ہیں ’لیزر ہتھیار ایک نیا سسٹم ہے۔ یہ جنگوں میں یو اے وی ، ڈرونز اور اس نوعیت کے دوسرے ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر شامل کیا گیا ہے۔ اس سے فضائی دفاع کی صلاحیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے چند مہینے قبل کنسنٹریٹیڈ لیزر شعاع ہتھیار کا کامیابی سے تجربہ کیا تھا۔ ملٹی لیئر سسٹم میں اس کی شمولیت سے ایئر ڈیفنس کی صلاحیت بہتر ہو گی۔‘

    ائیر ڈیفنس نظام تیار کرنے کا مقصد ملک کے اہم صنعتی مراکز، پاور پلانٹس، جوہری تنصیبات، ریڈار، فضائی اور مزائل اڈوں سمیت اہم فوجی اور دفاعی ٹھکانوں کو علاقائی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر ملک کی اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ایک ’سدرشن چکر‘ نام کے ایک ملٹی لیئر دفاعی شیلڈ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ڈی آر ڈی او کا سنیچر کے روز کا تجربہ اسی دس سالہ دفاعی منصوبہ کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

  11. بالی وڈ اداکار گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی مشکلات کا شکار: ’معاملہ پرانا ہے اور جلد ہی دونوں کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے‘

    بالی وڈ کے مشہور اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کی 38 سالہ شادی مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے کیونکہ دونوں کے درمیان معاملہ طلاق تک پہنچ گیا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ سنیتا آہوجا نے ایک سال قبل طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس کیس کی پہلی سماعت جمعرات کو ممبئی کی فیملی کورٹ میں شروع ہوئی جہاں سماعت کے دوران انھیں بھی دیکھا گیا۔

    اگرچہ سماعت کے دوران گووندا عدالت میں بہ نفس نفیس موجود نہیں تھے لیکن انھوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت میں حصہ لیا۔ عدالت نے انھیں آئندہ سماعت کے دوران ذاتی طور پر حاضر ہونے کو کہا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت تین ماہ بعد نومبر کے مہینے میں ہوگی۔

    گووندا کے وکیل للت بِندل نے بی بی سی ہندی کو بتایا: 'گووندا کے خلاف مختلف دفعات کے تحت طلاق کی درخواست سنیتا آہوجا نے گذشتہ سال دسمبر میں دائر کی تھی۔'

    للت بندل نے مزید کہا: 'معاملہ پرانا ہے اور جلد ہی دونوں کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔ گووندا کے خلاف سنیتا کی طرف سے مقدمہ درج کرنے کی وجہ کچھ بھی ہو، لیکن اب یہ معاملہ حل ہونے کے قریب ہے۔'

    للت بندل نے اس معاملے میں مزید معلومات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال کونسلنگ کا مرحلہ چل رہا ہے۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ 21 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران، وہ خود گووندا کی طرف سے درخواست دینے کے لیے فیملی کورٹ میں موجود تھے۔

    کیس سے منسلک وکلا کے مطابق سنیتا آہوجا نے فیملی کورٹ میں غیر قانونی تعلقات، ظلم اور بیوی سے علیحدہ رہنے کی بنیاد پر طلاق کی درخواست دی ہے۔ سنیتا آہوجا نے ہندو میرج ایکٹ 1955 کی دفعات 13 (1) ون اے اور ون بی کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔ بی بی سی ہندی نے سنیتا آہوجا اور گووندا دونوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

    سنیتا آہوجا نے ایک ہفتہ قبل اپنی سالگرہ کے موقع پر یوٹیوب چینل شروع کرکے نئی اننگز کا عندیہ دیا تھا۔

    اس ویڈیو میں سنیتا آہوجا نے ولاگنگ کی دنیا میں آنے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اپنی اور گووندا کی علیحدگی کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

    انھوں نے نامعلوم افراد پر گووندا کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا الزام لگایا۔

    گووندا اور سنیتا کی شادی 11 مارچ 1987 کو ہوئی تھی۔گووندا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنیتا انھیں فلم سٹار بننے سے پہلے ہی اچھی طرح جانتی تھیں۔

    63 سالہ گووندا اور 57 سالہ سنیتا آہوجا کی ایک بیٹی (36 سال) اور ایک بیٹا (28 سال) ہے۔ بیٹی کا نام نرمدا ہے جسے فلم انڈسٹری میں ٹینا آہوجا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    ان کے بیٹے کا نام یشووردھن آہوجا ہے اور وہ فلموں میں قدم رکھنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

  12. انڈیا: شیو سینا کا وزیرِ اعظم مودی کو خط، ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے کی مخالفت

    انڈیا میں شیو سینا کے اہم رہنماؤں اور اراکین پارلیمان نے ایک بار پھر انڈیا-پاکستان کے درمیان ایشیا کپ کے دوران ہونے والے میچ کے خلاف آواز بلند کی ہے اور انھوں نے وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات و نشریات کو اس بابت خطوط لکھے ہیں۔

    شیو سینا کے اہم لیڈر اور رکن پارلیمان (ایوان بالا) سنجے راؤت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ 'پہلگام حملے میں مارے گئے انڈین شہریوں کے خون ابھی خشک نہیں ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے آنسو ابھی بھی تھمے نہیں ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنا غیر انسانی ہے!'

    انھوں نے اپنے خط کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا ہے اور اسے وزیر اعظم، وزیر داخلہ امت شاہ اور انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ بی سی سی آئی کو ٹیگ کیا ہے۔

    اسی طرح شیو سینا کی ترجمان اور رکن پارلیمان پرینکا چترویدی نے وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو کو لکھے اپنے خط میں ان سے گزارش کی ہے کہ انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ کی براہ راست نشریات نہیں کی جائے۔

    انھوں نے اپنے خط کو سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر شیئر کیا ہے اور لکھا ہے کہ 'انڈیا برہم ہے، تمام انڈینز آپریشن سندور کے ذریعے کی جانے والی کوششوں میں حکومت کے ساتھ کھڑے رہے اور آپریشن سندور کے متعلق وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ ابھی جاری ہے ایسے میں پاکستان کے ساتھ کوئی بھی روابط اس حمایت سے غداری ہوگی۔ امید ہے کہ آپ 'انڈیا فرسٹ' کے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دیکھیں گے اور وہ کریں گے جو ملک و قوم اس کی حکومت سے توقع کرتے ہیں۔'

    واضح رہے کہ جب سے ایشیا کپ کا شیڈیول جاری ہوا ہے اس وقت سے انڈیا میں پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے۔

    اپریل کے اواخر میں انڈیا کے سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جس کی پاکستان نے سختی سے تردید کی تھی۔ لیکن پھر اس کے بعد مئی کے اوائل میں انڈیا نے 'آپریشن سندور' کے نام سے پاکستان میں مبینہ شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک مختصر جھڑپ اور پھر جنگ بندی ہوئی تھی۔

    لیکن حال میں ہی اختتام پزیر پارلیمان کے مانسون اجلاس میں وزیر اعظم اور کئی دوسرے رہنماؤں نے کہا تھا کہ آپریشن سندور ابھی رکا ہے ختم نہیں ہوا ہے۔

    اسی اجلاس کے دوران آپریشن سندور پر مباحثے کے دوران مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے پر جو سوال اٹھائے تھے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا تھا: ’کیا آپ کا ضمیر اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بیسرن میں مارے گئے افراد کے لواحقین سے انڈیا کا پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے کہیں؟۔۔۔ ہم پاکستان کا 80 فیصد پانی روک رہے ہیں، یہ کہہ کر کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہے گا، کیا ایسے میں آپ یہ میچ کھیلیں گے؟ میرا ضمیر مجھے اس میچ کو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کیا اس حکومت کے پاس یہ ہمت ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کو فون کر کے کہیں کہ دیکھو ہم نے بدلہ لیا، اب تم پاکستان کا میچ دیکھو۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔'

    خیال رہے کہ انڈیا، عمان، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیم کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے۔ انڈیا کا پہلا میچ 10 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کے خلاف ہے جبکہ دوسرا میچ 14 ستمبر کو دبئی میں پاکستان کے خلاف ہے۔

    جب ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان ہوا تھا تو اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ گروپ اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک میچ تو ضرور ہو۔ لیکن کرکٹ میں امکانات پر نظر رکھنے والے یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ دونوں ٹیمیں اس ٹورنا منٹ میں ایک سے زیادہ بار بھی آمنے سامنے آ سکتی ہیں۔

  13. یمن پر اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک، درجنوں زخ٘می

    یمن کے شہر صنعا پر اتوار کے روز ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے یمنی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ صنعا میں حزیز پاور سٹیشن اور 60ویں سٹریٹ پر واقع آئل کمپنی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک جبکہ 86 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش اور شناخت کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا پر اسرائیلی فضائی حملے میں صدارتی محل کے علاوہ شہر کے پاور سٹیشن کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا حمایت یافتہ گروپ ’اسرائیل پر اپنے حملوں کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔‘

    المسیرہ ٹی وی نے یمنی دارالحکومت کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا کہ فضائی حملوں میں صدارتی کمپلیکس، میزائل اڈوں اور تیل اور پاور پلانٹس کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں صدارتی محل کے علاوہ دو پاور سٹیشنز اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی جگہ بھی شامل ہے۔

    صنعا کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شہر میں واقع صدارتی محل پر پہلے بھی بمباری ہو چکی ہے اور وہ برسوں سے خالی پڑا ہے۔

    صنعا میں برسرِ اقفتدار حوثی انصار اللہ گروپ سے وابستہ حکومت کا کہنا ہے کہ یمن کے خلاف اسرائیلی جارحیت گھناؤنے جنگی جرم کے ایک نئے باب کی عکاسی ہے اور یہ حملے یمنی عوام کو غزہ کی حمایت سے روک نہیں پائیں گے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے صنعا پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔

  14. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران ڈھاکہ کا ’تاریخی مسائل‘ کے حل کا مطالبہ، دونوں ملکوں کے درمیان چھ معاہدوں پر دستخط
    • غزہ میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں مزید 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں: غزہ کی وزارتِ صحت
    • پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
    • امریکہ سے مذاکرات کی تجاویز سطحی ہیں، ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے: ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای
  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔