یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
این ڈی ایم اے نے انڈین ڈیموں سے پانی کے اخراج کے باعث راوی، ستلج اور چناب میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ بالائی علاقوں میں بہاؤ خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے اور سیلاب میں شدت کا خدشہ ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیڈ مرالہ پر یہ سطح 7.7 لاکھ کیوسک تک پہنچ گئی ہے جو انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال ہے۔
اس کے علاوہ خانکی میں بہاؤ 4.5 لاکھ کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ہیڈ مرالہ، خانکی اور ملحقہ نچلے علاقوں میں رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
ادارے نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، امدادی ٹیموں سے رابطے میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق:
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پیشگی الرٹ پر پی ڈی ایم اے پنجاب ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلا کے اقدامات کر رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، تربیلا ڈیم کے سپل ویز آج رات 2 بجے آپریشنل کیے جائیں گے۔ ڈیم سے مجموعی اخراج 2,50,000 کیوسک تک پہنچ سکتا ہے اور سیلابی سطح نچلے درجے کے سیلاب تک رہنے کی توقع ہے۔
شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبی گزرگاہوں، دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
ادھر اسلام آباد میں آج وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورتحال اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں دریائے ستلج، راوی اور چناب کے اطراف کے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشنز کی رفتار بڑھانے، پھنسے افراد کے انخلا، خوراک، ادویات اور خیموں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ:
اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز خان یونس کے ناصر ہسپتال پر حملے کی ’ابتدائی انکوائری‘ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی اہلکاروں نے ’ناصر ہسپتال کے علاقے میں حماس کی جانب سے نصب کیے گئے ایک کیمرے کو شناخت کیا تھا۔‘
آئی ڈی ایف کے مطابق یہ کیمرا ’فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔‘
’اس سب کی روشنی میں فوجی اہلکار کیمرے کو تباہ کرنے کے لیے متحرک ہوئے اور انکوائری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فوجی اہلکاروں نے اس خطرے کو ختم کیا۔‘
خیال رہے گذشتہ روز خان یونس کے ناصر ہسپتال میں اسرائیلی حملے میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج کی انکوائری رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مرنے والوں میں سے چھ افراد ’دہشتگرد تھے جن میں سے ایک 7 اکتوبر کو اسرائیلی علاقوں میں بھی داخل ہوا تھا۔‘
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چیف آف جنرل سٹاف کو عام شہریوں کے کسی بھی قسم کے نقصان پر افسوس ہے۔‘
عمران خان کی بہنوں نے آج سنٹرل جیل اڈیالہ میں ان سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کو ہدایات دی ہیں کہ ’پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائیں اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر ان انتخابات کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے۔‘
علیمہ خان نے کے مطابق عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے آج سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی دوبارہ ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی مشاورت کے بعد بانی پی ٹی آئی حتمی فیصلہ کریں گے۔
علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کی صحت بلکل ٹھیک ہے تاہم ان کی آنکھ میں کوئی مسئلہ ہے اور اس کے لیے ہم عدالت میں درخواست دے رہے ہیں۔
جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں گذشتہ برس قتل کیے جانے والے اسرائیلی یرغمالی کارمیل گیٹ کے کزن گِل ڈکمین کا کہنا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے میں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے شامل ہو رہے ہیں کہ ’بس اب بہت ہو گیا ہے۔‘
گِل کے کزن کارمیل 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد 11 مہینوں تک مسلح تنظیم کی حراست میں رہے تھے۔ گذشتہ برس ستمبر میں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ کارمیل اور پانچ مزید افراد کی لاشیں رفح میں ایک زیرِ زمین سُرنگ سے ملی ہیں۔
گِل نے بی بی سی نیوز ’ایک سال قبل کارمیل کو رفح میں رکھا گیا تھا اور ہم بار بار (اسرائیلی حکومت) کو کہہ رہے تھے کہ رفح نہ جائیں کیونکہ اس سے یرغمالیوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘
’نیتن یاہو نے پھر بھی ایسا کرنے کا فیصلہ کیا اور کارمیل کو قتل کر دیا گیا۔‘
اسرائیل ایک مرتبہ پھر غزہ شہر میں آپریشن کی تیاری کر رہا ہے اور گِل کہتے ہیں کہ ’ہمیں پریشانی ہے کہ ایسا دوبارہ ہوگا۔ اسرائیلی فوج غزہ شہر میں جائے گی اور اغوا کار یرغمالیوں کو قتل کردیں گے۔‘
انھوں نے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: ’ہم دنیا کو یہ بتانے کے لیے سڑک پر نکلے ہیں کہ یہ اسرائیل کی جنگ نہیں ہے، نیتن یاہو کی جنگ ہے۔‘
قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ معاہدہ ’میز پر موجود ہے‘ تاہم اس کا جواب دینا۔۔۔ یا نہ دینا اسرائیل پر منحصر ہے۔‘
منگل کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ دوحہ سے مذاکرات کو کہیں اور منتقل کرنے کی باتیں اسرائیل کے ’پینترے ہیں جس کا مقصد معاہدے میں تاخیر کرنا ہے۔‘
’میں نہیں سمجھتا کہ بین الاقوامی برادری احمق ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ان پینتروں کا مطلب کیا ہے۔‘
ڈاکٹر ماجد انصاری کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اسرائیلیوں کو مجوزہ معاہدے کا جواب دینا ہوگا۔‘
’ماضی میں وہ اس (مجوزہ معاہدے) پر رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں اور اب اس سے مُکر گئے ہیں۔‘
اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ اور ہزاروں دیگر لوگ سڑکوں پر نکل کر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے شخص متن زنگوکر کی والدہ ایناو زنگوکر نے تلِ ابیب میں ایک نیوز کانفرس کے دوران اپنے ملک کے وزیرِ اعظم پر شدید تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ: ’690 دنوں سے حکومت بغیر کسی واضح مقصد کے ایک جنگ لڑ رہی ہے۔‘
’آج یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نیتن یاہو صرف عوامی دباؤ سے ڈرتے ہیں۔ ہم یہ جنگ ایک برس قبل ختم کر سکتے تھے اور تمام یرغمالیوں اور فوجی اہلکاروں کو گھر واپس لا سکتے تھے۔‘
ایناو کا مزید کہنا تھا کہ: ’ہم ان یرغمالیوں اور فوجی اہلکاروں کو بچا سکتے تھے لیکن وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بار بار اپنے اقتدار کے لیے عام لوگوں کی قربانی دینے کا انتخاب کیا۔‘
احتجاج میں شامل دیگر اسرائیلی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ میں غزہ بندی چاہتے ہیں۔
تل ابیب میں احتجاج میں شامل 27 سالہ آدی کہتی ہیں کہ اسرائیل میں لوگوں کی ’اکثریت‘ امن چاہتی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ جنگ بندی سے اس کی شروعات ہو سکتی ہے۔
آدی نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل لوگوں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔
تلِ ابیب میں اس وقت ایک بڑی ریلی جاری ہے اور لوگوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔ آج اسرائیل کی حکومتی کابینہ کا اجلاس بھی متوقع ہے۔
خطے میں ثالث کاروں نے 60 دن کی جنگ بندی کا ایک پروپوزل پیش کیا تھا، تاہم اسرائیل نے اسے قبول نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک جامع معاہدے پر رضامندی ظاہر کرے گی جس کے تحت تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب غزہ میں فلسطینی اپنے علاقے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ گذشتہ رات بھِ وہاں اسرائیل کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی ہے۔
غزہ میں اس وقت 50 یرغمالی موجود ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے 20 افراد اب بھی زندہ ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید ان کی جماعت کے بانی عمران خان نے ان کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
منگل کو عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک میرے استعفے کا تعلق ہے عمران خان صاحب نے اس کی منظوری نہیں دی۔‘
گذشتہ روز سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے علی بخاری ایڈوکیٹ کے ذریعے عمران خان کو درخواست بھیجی تھی کہ ’مجھے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا کر قانونی معاملات پر توجہ مرکوز کرنی دی جائے۔ خان صاحب نے میری درخواست منظور نہ کی۔‘
اپنے تفصیلی بیان میں انھوں نے ماضی میں ’پارٹی کے اندر اور باہر رقیق حملوں‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’آج ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو اب مجھ سے دو ٹوک فیصلے کا تقاضہ کرتا ہے۔‘
سلمان اکرم راجہ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے کہا تھا کہ ’وہ عمران خان سے گزارش کر کے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔‘
تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا ہے کہ عمران خان نے ایک بار پھر ان کی عہدے سے الگ ہونے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
اسرائیل کے متعدد علاقوں میں غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرے منگل کی صبح سے جاری ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
اسرائیل میں ہزاروں افراد ایک بار پھر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب غزہ میں غذائی قلت کے باعث مزید تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
آج اسرائیل بھر میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے خاتمے اور حماس کے قید میں موجود باقی ماندہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔
یہ مظاہرے یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم کی جانب سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ فورم ایک طویل عرصے سے اسرائیل کی حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح دینے اور جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں میں تیزی لا رہا ہے جبکہ غزہ شہر پر قبضے سے قبل اس کی فوج نے شہر پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
گذشتہ روز غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کی اسرائیل کے اپنے اتحادیوں نے بھی مذمت کی تھی۔
غذائی قلت سے غزہ میں مزید تین افراد ہلاک
حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز مزید تین افراد بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارتِ صحت کے مطابق، غزہ میں قحط اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 303 ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ رپورٹ کے مطابق، مرنے والوں میں 117 بچے بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں غزہ شہر اور آس پاس کے علاقوں میں قحط کی تصدیق کی گئی تھی۔
اسرائیل نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ’سراسر جھوٹ‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں اور اگلے سال اس کی شدت 22 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
لیفٹننٹ جنرل حیدر کا کہنا تھا کہ آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہو گا۔
انھوں نے یہ بات ملک کی موجودہ صورتحال پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کو دی گئی بریفننگ کے دوران کہی۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئرز ختم ہو جائیں گے۔
انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے:
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پانی کے ذخیروں کی نگرانی کی جارہی ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ستلج کے علاقے سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو نکالا جا چکا ہے۔
گلگت بلتستان میں ہونے والی تباہی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جن جگہوں کو نقصان پہنچا ہے، انھیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
لیفٹننٹ جنرل حیدر کا کہنا تھا کہ اب تک مختلف علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھجوایا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہوں پر لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا دیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے ارشد شریف کیس کی تحقیقات کے لیے صحافی حامد میر اور ارشد شریف کی اہلیہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ تاہم جسٹس منہاس کا کہنا ہے کہ ایک معاملہ جب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس کے متعلق ہائی کورٹ کیسے کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔
منگل کے روز سماعت کے دوران صحافی حامد میر اپنے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
بیرسٹر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کن حالات میں ارشد شریف کے خلاف 16 ایف آئی آر ہوئیں اور کن حالات میں انھوں نے پاکستان چھوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنے دوستوں کو پیغام پہنچایا تھا کہ وہ پاکستان واپس آرہے ہیں۔ شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ارشد شریف کا قتل کر دیا گیا۔
بیرسٹر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر اسے کینیا بھیجا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب حامد میر پر حملہ ہوا تو سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنایا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں ارشد شریف نے حامد میر پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور آج انہی کے جوڈیشل کمیشن کے لیے حاضر ہوا ہوں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ اگر ایف آئی اے، سپریم کورٹ، کینیا کی تحقیقات یا ایف آئی آر میں سے کوئی مختلف چیز آجاتی ہے تو آپ کیا کریں گے۔ اس پر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ یہ تحقیقات کیسے کر سکتی ہیں، [یہ کام] بلاخر کمیشن نے ہی کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ایک سال کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس کا کہنا تھا کہ ایک معاملہ جب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس سے متعلق ہائی کورٹ کیسے کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ اس کیس میں جو ایف آئی آر ہوئی ہے وہ کس ڈائریکشن میں ہوئی ہے؟
ڈی آئی جی پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سات رپورٹیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہیں، ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور چالان بھی جمع ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کینیا میں حالات خراب ہیں لیکن یہ انویسٹیگیشن اپنے نتائج کی طرف جا رہی ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں دو ملزمان اشتہاری ہو چکے ہیں۔
درکواست گذار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ تین سال سے زیرِ التوا ہے اور صرف رپورٹس جمع ہونے کی حد تک چل رہا ہے۔
بیرسٹر شعیب رزاق کا مزید کہنا تھا معاملہ محض حامد میر یا میرا نہیں بلکہ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔
عدالت نے سماعت کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے نے دریائے ستلج کے بہاؤ میں اضافے اور پنجاب میں ممکنہ سیلابی صورتحال پر پیشگی الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ دریا کے قریبی علاقوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے پیشگی الرٹ پر صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے ستلج کے قریبی علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اب تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو ممکنہ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
بہاولنگر سے سب سے زیادہ 89 ہزار868 افراد جبکہ قصور سے 14 ہزار140 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اوکاڑہ سے 2 ہزار سے زائد افراد جبکہ بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن سے بھی سینکڑوں افراد کا انخلا کیا جا چکا ہے۔
الرٹ جاری ہونے پر تقریبا 40 ہزار افراد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ شہریوں کو دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، لوگوں کو نشیبی علاقوں سے انخلا کی ہدایت
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دریا کے قریبی علاقوں سے لوگوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے اور شاہدرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جسڑ کے مقام پر 90 ہزار کیوسک پانی مسلسل دریائے راوی میں داخل ہو رہا ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 40 ہزار کیوسک ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ منگل کی رات شاہدرہ سے 60 سے 70 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزرے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دریائے راوی دریائے راوی کے پاٹ میں موجود شہریوں کے فوری انخلا کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
سوموار کے روز انڈیا میں دہلی ہائی کورٹ نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں دہلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی انڈر گریجویٹ ڈگری کے متعلق اطلاعات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) قانون کے تحت تعلیمی قابلیت ’ذاتی معلومات‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
جسٹس سچن دتا، جنھوں نے 27 فروری کو فیصلہ یہ محفوظ کیا تھا، نے کہا ہے کہ ہر ’ایسی چیز جس میں عوام کی دلچسپی ہو‘ وہ ضروری نہیں کہ ’عوامی مفاد‘ کے زمرے میں آتی ہو۔
عدالت کا کہنا ہے اگرچہ شہری کسی بھی فرد کی زندگی کی نجی تفصیلات کے بارے میں متجسس ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا تجسس آر ٹی آئی کے تحت نہیں آتا۔
یہ کیس 2016 میں نیرج نامی شخص کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی کی درخواست سے شروع ہوا۔ انھوں نے 1978 میں بی اے کا امتحان پاس کرنے والے تمام طلبا کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اسی سال انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گریجویشن کیا تھا۔
سی آئی سی نے ان ریکارڈوں کے عوامی معائنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم جنوری 2017 میں ہائی کورٹ نے اس پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔
اس سے قبل 2023 میں انڈیا کی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو نریندر مودی کی ڈگری کی تفصیلات مانگنے پر 25,000 روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے ان کے ارادے پر شک کا اظہار بھی کیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کیجریوال کو ایک ایسے معاملے کو متنازع بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ وزیر اعظم کی ڈگریاں پہلے ہی عام کی جا چکی ہیں۔
سوموار کے روز جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات سے قبل خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کہیں اس ملاقات کا انجام بھی ٹرمپ اور زیلنسکی کی پہلی ملاقات جیسا نہ ہو۔
تاہم، لی جے میونگ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہو گئی۔ لیکن اس کے باوجود جنوبی کوریا کے صدر اس ملاقات سے زیادہ کچھ حاصل نہ کر پائے۔
لی کی ٹیم اس ملاقات سے قبل کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ ماضی میں، ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے خلاف دفاع کے لیے دسیوں ہزار امریکی فوجیوں پر انحصار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ سیول کے دفاعی اخراجات اور امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی سرپلس پر بھی تنقید کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، لی ایک بائیں بازو کے سیاستدان ہیں۔ وہ امریکی اتحاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ماضی میں چین کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
لی کی ٹیم کو خدشہ تھا کہ انھیں بھی اوول آفس میں زیلنسکی جیسے سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انھیں قدامت پسند سازشی نظریات کے خلاف اپنا دفاع کرنا پڑے۔
لیکن لی کی خوشامد کی حکمت عملی واضح طور پر کام کر گئی۔ انھوں نے پہلے تو اوول آفس کی ’روشن اور خوبصورت‘ نئی شکل دیکھ کر حیرانی اظہار کیا اور پھر امریکی صدر کی شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن کے ساتھ ذاتی تعلقات کی تعریف کی۔
لی نے کہا، ’اگر آپ امن قائم کرنے والے بنے تو میں بھی پیس میکر بن کر آپ کی مدد کروں گا۔‘
اپنے سے پہلے کے جنوبی کوریائی صدور کے برعکس، لی شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان پرامن تعلقات کے قیام کے لیے کم جانگ اُن سے مذاکرات چاہتے ہیں۔
لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ٹرمپ کے پاس ایسا کرنے کا کہیں بہتر موقع ہے۔
ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت کے دوران کم جانب اُن سے تین بار ملے۔ ٹرمپ کا یہ بیان بھی کافی مشہور ہوا کہ کم جانگ اُن سے خطوط کا تبادلہ کرتے ہوئے دونوں کافی قریب آ گئے تھے۔
ٹرمپ نے سوموار کے روز ایک بار بھر کہا کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما سے کافی بنتی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں کم جونگ اُن سے کسی مناسب وقت پر ملاقات کے لیے کا منتظر ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کم جونگ اُن ان دونوں رہنماؤں میں سے کسی سے بات کرنا چاہیں گے۔
شمالی کوریا نے بارہا لی کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے، اور وہ امریکہ کی طرف سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔
تاہم شمالی کوریا نے ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے اب مذاکرات اس بنیاد پر ہوں گے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کو تلف نہیں کرے گا۔
یہ ایک ایسی چیز جس پر اب سیول اور واشنگٹن کو توجہ دینی ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی کے مہینے میں ہونے والی مختصر جنگ رکوائی تب تک سات جیٹ مار گرائے جا چکے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے سوموار کے روز ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انھوں نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک متعدد جنگیں رکوائی ہیں جن میں سے انڈیا اور پاکستان کی مابین ہونے والی جنگ سب سے بڑی جنگ ہو سکتی تھی۔
’ہم نے ایسی بہت سی جنگیں روکیں جن کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ روکی نہیں کی جا سکتیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کی جنگ ایک الگ ہی سطح پر تھی جو ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔
’انھوں نے پہلے ہی سات جیٹ طیارے مار گرائے تھے، وہ [جنگ] بہت زوروں پر تھی۔‘
تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس ملک نے کتنے جہاز مار گرائے تھے۔
انھوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انھوں نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے انھیں تجارت کی پیش کی۔
’میں نے کہا، آپ لوگ تجارت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ لڑتے رہے تو ہم آپ کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے نا کچھ اور کریں گے۔‘
’آپ کے پاس اسے حل کرنے کے لیے 24 گھنٹے ہیں'۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس پر انڈیا اور پاکستان جنگ روکنے پر آمادہ ہو گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگیں رکوانے کے لیے انھیں تجارت اور جو کچھ بھی استعمال کرنا پڑا انھوں نے کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے انڈیا کے ساتھ فضائی جھڑپوں کے دوران تین انڈین رفال طیاروں سمیت انڈیا کے پانچ طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے تقریباً تین ماہ بعد، روان ماہ انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک بڑا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ٹرمپ کا پاکستان اور انڈیا سمیت سات ’جنگیں‘ ختم کروانے کا دعویٰ لیکن حقیقت کیا ہے؟
ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں، وہ اکثر اپنے دوسرے صدارتی دور کے دوران امن مذاکرات میں کامیابیوں کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں۔
18 اگست کو وائٹ ہاوس میں بات چیت کے دوران انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں چھ جنگیں ختم کروا چکا ہوں۔۔۔ اور یہ سب معاہدے میں نے جنگ بندی کا لفظ استعمال کیے بغیر کروائے۔‘
اگلے ہی دن یہ تعداد سات جنگوں پر پہنچ چکی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ، جو ان کی جانب سے ختم کروائی جانے والی جنگوں کی فہرست پیش کر چکی ہے، کے مطابق ’پیس میکر ان چیف‘ (یعنی امن قائم کرنے والے صدر) کو امن کا نوبل انعام اب تک مل جانا چاہیے تھا۔
ان میں سے چند جنگیں صرف دنوں پر محیط تھیں اگرچہ ان کی وجہ بننے والے تنازعات بہت پرانے تھے اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ امن معاہدے کتنے پائیدار ثابت ہوں گے۔
تاہم ٹرمپ نے متعدد بار ’جنگ بندی‘ کے لفظ کا استعمال کیا ہے۔ بی بی سی ویریفائی نے ان تنازعات کا جائزہ لیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ صدر ٹرمپ کو انھیں ختم کروانے کا کتنا کریڈٹ ملنا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی غزہ میں آج صبح ہونے والے اسرائیلی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک ’ڈراؤنا خواب‘ قرار دیا ہے۔
خیال رہے حماس کے زیرِ انتظام محکمہ شہری دفاع نے جنوبی غزہ میں واقع ناصر ہسپتال پر حملے میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادھانوم غیبریسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اور سرجیکل یونٹ میں واقع تھا۔
پیر کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس واقعے پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’یہ کب ہوا ہے؟‘
جب ان سے اس حملے پر ردِعمل مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’میں یہ سب نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمیں یہ سب ختم کرنا ہوگا، یہ ڈراؤنا خواب ہے۔‘
انھوں نے اس موقع پر غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کا معاملہ بھی اُٹھایا اور صورتحال کو ’خراب‘ قرار دیا۔
خیال رہے اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں حملے کی تصدیق کی ہے جہاں ناصر ہسپتال واقع ہے۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اس واقعے پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ: ’عام شہریوں، طبی کارکنان اور صحافیوں کی حفاظت کی جانی چاہیے۔‘
’ہمیں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔‘
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے غزہ کے ہسپتال پر حملے کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں اور صحافیوں کی ’ہر صورت میں حفاظت کی جانی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا کو ان کا کام آزادانہ طور پر کرنے دینا چاہیے تاکہ وہ اس تنازع کی حقیقت کی کوریج کر سکے۔‘
جرمنی کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ترکی کے ہیڈ آف کمیونیکیشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے ’ایک بار پھر انسانیت کے خلاف ایک جُرم کیا ہے۔‘
برطانوی جزیرے آئل آف ویٹ میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں ہیمپشائر پولیس نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ تربیتی ہیلی کاپٹر میں سوار چوتھے شخص کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
یہ روبنسن آر44 ٹو ہیلی کاپٹر تھا جو کہ آئل آف ویٹ میں ایک کھیت گِر کر تباہ ہوا ہے۔
ہیمپشائر پولیس کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم لوگوں کے بارے میں مزید تفصیلات دینے سے قاصر ہیں اور خاندانوں سے رابطے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’ہم اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم ایئر ایکسیڈنٹ ایویسٹیگیشن برانچ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔‘
نارتھمبریا ہیلی کاپٹرز نے تصدیق کی ہے کہ اس ہیلی کاپٹر میں چار افراد سوار تھے اور یہ ہیلی کاپٹر سینڈاؤن ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تھا۔
حادثے کے وقت اس ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کو ہیلی کاپٹر اڑانے کی تربیت دی جا رہی تھی۔
نارتھمبریا ہیلی کاپٹرز کا کہنا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ ’مکمل تعاون‘ کر رہے ہیں اور مزید تفصیلات جلد جاری کریں گے۔
انڈیا نے ’سفارتی ذرائع‘ کے ذریعے پاکستان کو سرحد کے دونوں جانب ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی حکام اور نئی دہلی میں ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
انڈین ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے نے اتوار کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ’انسانی بنیادوں‘ پر ممکنہ سیلاب کی وارننگ شیئر کی ہے، نہ کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈیا کی جانب سے وارننگ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پیر کو ایک بیان میں دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’24 اگست کو انڈیا نے سفارتی چینلز کے ذریعے سیلاب کی وارننگ پاکستان کو ارسال کی، جبکہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے ایسا کرنے کا پابند ہے۔‘
خیال رہے پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں گذشتہ مہینوں میں 700 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب انڈیا میں بھی متعدد ریاستوں میں سیلاب کے سبب جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
خیال رہے رواں برس اپریل میں پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا نے دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائی پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
صرف یہی نہیں رواں برس مئی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے تھے۔ انڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث تھا، جبکہ پاکستان اس الزام کی متعدد بار تردید کر چکا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔