لائیو, بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد کے حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کے تعمیراتی مقام پر تعینات تھے۔

خلاصہ

  • فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دورۂ دمشق کے دوران دو دھماکے
  • بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک
  • امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر 'کام تمام کر دے گا': صدر ٹرمپ
  • دھمکیاں جاری رہیں تو مذاکرات نہیں ہوں گے، اپنے دستخط کی عزت رکھیں: ایران
  • عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ
  • قم میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری

لائیو کوریج

  1. ’اگر اسرائیل کے پاس ہماری رپورٹ کو غلط ثابت کرنے والا کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے پیش کر سکتا ہے‘ جسٹس مرلی دھر, مہتاب عالم - بی بی سی اردو، دہلی

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے کمیشن کی رپورٹ کے جواب میں 18 صفحات پر مشتمل ایک تردیدی دستاویز تیار کر کے تقسیم کی، تاہم یہ دستاویز کمیشن کو باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار جُگل پروہت سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مرلی دھر نے کہا: 'اسرائیلی حکام نے ہماری رپورٹ کے خلاف 18 صفحات کا ایک تردید نامہ تیار کیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کیا۔ انھوں نے یہ ہمیں نہیں بھیجا، لیکن ہم پر امتیاز اور جانبداری کا الزام ضرور لگایا ہے۔'

    جسٹس مرلی دھر، جو انڈین قانون دان اور سابق جج ہیں، نے اس تنقید کا بھی جواب دیا جن میں کہا جاتا ہے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے دوران اسرائیلی فوجیوں سے براہِ راست بات نہیں کی۔

    انھوں نے کہا: 'بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے رپورٹ کی تیاری کے دوران اسرائیلی فوجیوں سے بات نہیں کی۔ لیکن اسرائیلی فوجیوں نے خود ہی اس بارے میں بات کی ہے۔ انھوں نے نہ صرف ہم سے بلکہ پوری دنیا سے بات کی ہے۔ انھوں نے ویڈیوز بنائی ہیں اور ان پر فخر کیا ہے۔'

    خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں غزہ میں نسل کشی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے 'ہزاروں فلسطینی بچوں کو موت اور شدید جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانے کے اقدامات جان بوجھ کر کیے' اور یہ سلسلہ جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔

    کمیشن کے مطابق اس کے پاس یہ نتیجہ اخذ کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ یہ اقدامات غزہ میں فلسطینیوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ تھے۔ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اس تحقیقاتی کمیشن کو مئی 2021 میں قائم کیا تھا۔ اس کی پہلی سربراہ ناوی پلّئی تھیں، جو 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔ کمیشن کے موجودہ سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر ہیں، جنھوں نے ستمبر 2025 میں یہ ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کمیشن کے دیگر ارکان کرس سیدوتی اور فلورینس ممبا ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

    کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ایسے ہتھیار استعمال کیے گئے جو جسم کے اہم اعضا کو نشانہ بناتے ہیں، جن میں کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بچوں سے بھرے مہاجر کیمپوں پر بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً کم عمر لڑکوں، کو اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں 'تشدد اور بدسلوکی' کا نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن کے مطابق اس نے گرفتاری اور حراست کے دوران فلسطینی بچوں کے خلاف 'جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد' کے واقعات بھی دستاویزی صورت میں ریکارڈ کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ میں نوزائیدہ بچوں اور بچوں کے ہسپتالوں پر حملوں کے باعث 'بچوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولتوں تک رسائی منظم انداز میں ختم کر دی گئی، جس سے ان کے زندہ رہنے کے امکانات متاثر ہوئے۔'

    کمیشن نے کہا گیا ہے کہ سکولوں پر حملوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور تعلیمی اداروں کی جبری بندش کے ذریعے اسرائیلی حکام نے بچوں کی تعلیم کے عمل میں 'منظم طور پر خلل ڈالا'، جس سے 'فلسطینی معاشرے کی ذہنی اور سماجی بنیادوں کو نقصان پہنچا'۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور کمیشن کے سربراہ کا جواب

    بی بی سی کے نامہ نگار جُگل پروہت سے گفتگو کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر نے کہا کہ کمیشن نے رپورٹ کا مسودہ اسرائیل کو بھیجا تھا اور اس سے اپنا مؤقف پیش کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔

    انھوں نے کہا: 'میں بار بار یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اس پوری رپورٹ کا ڈرافٹ اسرائیل کو بھیجا گیا تھا۔ ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ ہم غزہ جانا چاہتے ہیں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔'

    جسٹس مرلی دھر کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی حکام کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو کمیشن کو موصول ہونے والی معلومات سے مختلف ہیں تو وہ انھیں پیش کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا: 'جنگ بندی کے بعد بھی بچے مارے جا رہے ہیں اور شدید زخمی ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو حاصل تحفظ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔'

    ان کے مطابق فلسطینی بچوں کی حفاظت، دیکھ بھال اور بقا کو فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے کہا: 'فلسطینی بچوں کی حفاظت، دیکھ بھال اور بقا، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیل بچوں کو نشانہ بنا کر فلسطینی عوام کی موجودگی اور ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔'

    دوسری جانب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'جھوٹا'، 'بدنیتی پر مبنی' اور 'سابقہ رپورٹس کی طرح ایک اشتہاری ٹکڑا' قرار دیا۔

    وزارت خارجہ کے مطابق 'یہ رپورٹ ان اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے جو بے رحمی سے قتل کیے گئے، اغوا کیے گئے اور حماس کی جانب سے نشانہ بنائے گئے، جبکہ فلسطینی بچوں کو انسانی ڈھال اور جنگ کے مہرے کے طور پر استعمال کرنے کے حماس کے طریقۂ کار کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔'

    اسرائیل نے کمیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود نہیں۔

    اس بیان کے جواب میں جسٹس مرلی دھر نے کہا: 'اگر اسرائیل کے پاس کوئی ایسا ثبوت ہے جو ہماری رپورٹ کو غلط ثابت کرتا ہے تو وہ اب بھی اسے پیش کر سکتا ہے۔'

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. جنوبی لبنان میں نباتیح پر اسرائیلی ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر نباتیح میں اسرائیلی ڈرون نے ایک کار کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’سکول کی پرنسپل، ان کی والدہ، ایک غیر ملکی گھریلو خاتون ملازمہ اور ایک مرد شامی کارکن‘ ایک کار میں نبطیہ فوقا کے علاقے میں اپنے گھر سے واپس آرہے تھے کہ ’اسرائیلی ڈرون‘ نے انھیں نشانہ بنایا۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری محدود جھڑپیں جاری ہیں۔

  3. گل پلازہ آتشزدگی کیس: ایسوسی ایشن کے صدر سمیت پانچ ملزمان کی ضمانت منظور, ریاض سہیل - بی بی سی اردو، کراچی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    کراچی کی ایک عدالت نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں نامزد گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا سمیت پانچ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کم عمر ملزم کی درخواست اسی عدالت میں کیوں دائر کی گئی ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان کے خلاف ایک ہی مقدمے کا چالان جمع کرایا گیا ہے، اسی لیے درخواست بھی اسی عدالت میں دائر کی گئی۔

    عدالت نے سوال کیا کہ کم عمر ملزم کا اس مقدمے میں کیا کردار ہے، جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 72 افراد کی جانیں چلی گئیں لیکن پولیس نے آدھے صفحے میں پورا کیس نمٹا دیا اور کسی بھی سرکاری یا سول ادارے پر ذمہ داری عائد نہیں کی۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کو رعایت دیتے ہوئے گرفتار نہیں کیا، جبکہ چارج شیٹ دو مرتبہ مسترد ہونے کے باوجود انھی اعتراضات کے ساتھ دوبارہ چالان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل سنیچر کو پولیس نے اپنے عبوری چالان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ مارکیٹ میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 72 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ دکان کے مالک کی مجرمانہ غفلت اور ایک کم عمر بچے کی لاپرواہی کے باعث بھڑکی۔

    پولیس کے مطابق گراؤنڈ فلور پر واقع دکان نمبر 193 کے مالک اپنی دکان اکثر اپنے کم عمر بیٹے کے سپرد کر کے چلے جاتے تھے۔ واقعے کے روز وہ بچہ اپنے ایک دوست کے ساتھ دکان پر موجود تھا اور مبینہ طور پر کھیل کے دوران ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینک رہا تھا، جس سے دکان میں موجود مصنوعی پھولوں نے آگ پکڑ لی اور آگ تیزی سے پوری مارکیٹ میں پھیل گئی۔

    عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ دونوں بچوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین اور دیگر ملازمین کے بیانات بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

    چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 اور ایدھی کے اہلکاروں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ مارکیٹ کے مختلف فلورز اور مسجد کے اطراف نصب شٹر نما گرل گیٹس پر تالے لگے ہوئے تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور ایمرجنسی لائٹنگ کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے۔

    پولیس نے اپنی تفتیش میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران نے واقعے کے بعد کسی بھی ہنگامی امدادی سروس، جیسے 15 یا 16، پر مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونین نے کم عمر بچے کو دکان چلانے سے روکنے کے لیے بھی کوئی اقدام نہیں کیا۔

    تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس نے بتایا کہ مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ سسٹم، فائر ماسک، ٹارچ اور دیگر بنیادی حفاظتی سہولیات موجود نہیں تھیں، جبکہ مارکیٹ انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی سے متعلق کوئی تربیت بھی نہیں تھی اور دکانداروں کے لیے حفاظتی سیشن بھی منعقد نہیں کیے گئے تھے، حالانکہ اس سے قبل بھی اس پلازہ میں دو مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے تھے۔

    پولیس نے اپنے عبوری چالان میں گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عماد اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، جنرل سیکریٹری محمد امین، دکاندار نعمت اللہ اور ایک کم عمر بچے کو نامزد کیا ہے۔

    چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران اور دکان مالک نعمت اللہ کی عدم گرفتاری کے باعث ان کے خلاف ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ کم عمر ہونے کے باعث بچے کا مقدمہ الگ سے جووینائل کورٹ کو بھیجا گیا ہے۔

  4. بریکنگ, حماس نے تقریباً 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس نے تقریباً 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حماس نے اس ادارے کو تحلیل کر دیا ہے جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رہا تھا۔ اس فیصلے کو حماس کی سیاسی حکمتِ عملی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ذریعے علاقے میں شہری اور انتظامی امور چلانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    حماس 2007 سے غزہ کی انتظامیہ چلا رہی تھی، جب اس کی فورسز نے فتح سے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس سے ایک سال قبل، 2006 میں، حماس فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی۔

    گذشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ گروپ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ کے روزمرہ انتظام سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے غیر مسلح کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔

    حماس کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’محمد فرا، ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے تاکہ انتظامی اور حکومتی امور کی منتقلی کو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے میں آسانی ہو۔‘

    غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی، جو اس وقت قاہرہ میں قائم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فریم ورک کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ امریکی صدر نے یہ فریم ورک اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے دوران متعارف کرایا تھا۔

    حماس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا: ’حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ دار نہیں رہی، تاکہ قابض قوتوں کے لیے کسی بھی بہانے کو ختم کیا جا سکے جو اب بھی جارحیت اور تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  5. برطانیہ کا روسی طیارے کو ناروے کے سمندر کے اوپر روکنے اور دور بھگانے کا دعویٰ

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانوی جنگی طیاروں نے ناروے کے سمندر میں ایک روسی بحری گشت کرنے والے طیارے کو اس وقت روکا، جب وہ کیریئر سٹرائیک گروپ کے ’بار بار قریب آ رہا تھا‘۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق روسی بیئر-ایف (Bear-F) طیارہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہوا ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز طیارہ بردار جہاز کے ’غیر ضروری حد تک قریب‘ آ گیا تھا، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے جمعرات کو سمندر میں 10 سونوبوائز بھی گرائے۔

    وزارتِ دفاع نے کہا کہ ناروے کے سمندر میں ماسکو کی سرگرمی ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ تھی۔

    یہ واقعہ ان ہفتوں کے بعد پیش آیا ہے جب رائل میرینز نے انگلش چینل میں روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے ایک آئل ٹینکر پر کارروائی کی تھی، جبکہ برطانوی فوج کے سربراہ خبردار کر چکے ہیں کہ برطانیہ کو درپیش خطرات اور خدشات سرد جنگ کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

    برطانیہ کا کیریئر سٹرائیک گروپ اس وقت نیٹو کی کمان کے تحت آئس لینڈ کے قریب تعینات ہے، جس پر 1,500 برطانوی اہلکار موجود ہیں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو نے کسی یورپی طیارہ بردار جہاز سے فضائی نگرانی کی کارروائیاں انجام دی ہیں۔

    جن نگرانی کے آلات کو بیئر-ایف طیارے کی جانب سے گرایا گیا، ان کے متعلق سمجھا جاتا ہے، وہ پانی کی سطح پر تیرتے ہیں اور آبدوزوں اور دیگر جہازوں کا پتا لگانے کے لیے سونار استعمال کرتے ہیں۔

    برطانوی افواج نے بین الاقوامی مواصلاتی فریکوئنسیوں پر روسی طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    اس کے بعد دو ایف-35 طیارے پرنس آف ویلز سے اڑے اور بیئر-ایف طیارے کو کیریئر سٹرائیک گروپ سے دور لے گئے۔

    چیف آف دی ڈیفنس سٹاف سر رچرڈ نائٹن نے جون میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ روس ’ہماری دفاعی صلاحیتوں کو جانچ رہا ہے، چیلنج کر رہا ہے اور آزمائش میں ڈال رہا ہے‘ اور ’خطرات بڑھا رہا ہے اور حدود عبور کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔‘

    نیٹو پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ روس 2030 تک فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

  6. تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی آخری رسومات شام 5 بجے تک جاری رہیں گی

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انتظامات کرنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ آج تہران میں آخری رسومات شام پانچ بجے تک جاری رہیں گی۔

    آج علی الصبح، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً چار ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر روانہ کیے گئے۔ یہ جلوس آزادی سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کرے گا۔

    توقع ہے کہ اس تقریب، جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہے، کو 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگے گا۔

    تہران میں ہونے والی آخری رسومات کی تصاویر ملاحظہ کیجیے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. پزشکیان، قالیباف اور علی خامنہ ای کے بڑے بیٹے عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام اور حضرت علی کے روزہ مبارک والے شہر نجف منتقل کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی کل نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔

    علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تقریبات بدھ کے روز عراق کے شہروں کربلا اور نجف میں منعقد کی جائیں گی۔

    اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کو جمعرات کے روز مشہد میں حرمِ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  8. سوگواروں نے ’انتقام کی علامت‘ سرخ جھنڈے اٹھا رکھے ہیں, لیز ڈوسٹ، بی بی سی تہران

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے تابوت کے راستے میں تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) طویل سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ سوگوار نعرے لگا رہے ہیں جبکہ کئی اشک بار ہیں۔

    جنازے کا جلوس مشہور انقلاب سکوائر سے گزرے گا۔ اس چوک پر ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے، جو مضبوطی سے بندھی ہوئی مٹھی کی شکل میں ہے اور اسے ’مزاحمت کی مٹھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ان تقریبات کی نمایاں علامت ہے، جس پر درج نعرہ ہے: ’ہمیں اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔‘

    ایک اور نعرہ بھی مسلسل سنائی دے رہا ہے، جو حکومت کے وفادار حامیوں میں گونج رہا ہے: امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام۔

    انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ جھنڈے اب ہجوم میں نمایاں نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی پوسٹروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اگرچہ اس کا ایک حصہ محض نعرے بازی ہے، لیکن آیت اللہ کے قتل پر غم و غصہ ایران کی نئی قیادت کے اندر بھی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ سخت گیر حلقے خاص طور پر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

  9. امن مذاکرات خامنہ ای کی آخری رسومات تک معطل رہیں گے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج کا جنازے کا جلوس ایسے وقت میں نکل رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جمعے کے روز جنازے کی تقریبات شروع ہونے کے بعد سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    اُنھوں نے سنیچر کے روز نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو بتایا کہ ایرانی فریق ’معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب‘ ہے، لیکن فریقین نے فیصلہ کیا ہے کہ خامنہ ای کے جنازے کی تقریبات کے اختتام تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ لیا جائے۔

    ایران نے اس بات پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ آیا مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

    جنازے میں ایرانی حکومت کی اعلیٰ شخصیات کی موجودگی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ سب وہاں موجود ہیں۔ ایک نشانہ [اور ہم ان سب کا خاتمہ کر سکتے ہیں]، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر ہمارے پاس مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘

  10. خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں بعض سوگواروں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو مخالف پوسٹرز اور بینرز اُٹھا رکھے ہیں

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس کی تصاویر میں کچھ سوگواروں کو ٹرمپ مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن پر تشدد پر مبنی پیغامات، بشمول جان سے مارنے کی دھمکیاں، درج ہیں۔

    ان بینرز میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف نعرے بھی درج ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے جس میں سوگواروں کو ایک پل پر امریکی صدر کے پوسٹر پوسٹر پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہWANA via Reuters

  11. پہلگام حملہ کیس: انڈیا نے حافظ سعید پر ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی، جنگ شروع کرنے اور سازش تیار کرنے کی دفعات شامل

    حافظ سعید

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کہا ہے کہ اس نے پہلگام حملہ کیس میں پاکستان میں موجود کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی مبینہ ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ اور بانی حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی ہے۔

    تحقیقاتی ایجنسی کا حوالے دیتے ہوئے اے این آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ ضمنی چارج شیٹ جموں میں قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جمع کرائی گئی۔ اس میں حافظ سعید پر انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی فعال ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق چارج شیٹ میں حافظ سعید پر انڈیا کے خلاف جنگ شروع کرنے اور سرحد پار سے سازش تیار کرنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    این آئی اے کا کہنا ہے کہ 1597 صفحات پر مشتمل اصل چارج شیٹ کے تسلسل میں جمع کرائی گئی اس ضمنی چارج شیٹ میں پاکستان کی مبینہ سازش، حافظ سعید کے مبینہ کردار اور کیس میں جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں، جو ایجنسی کے مطابق سائنسی تحقیقات اور زمینی تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے۔

  12. ایرانی عوام ’عزت، ترقی اور عظمت‘ کے راستے پر گامزن رہیں گے: صدر پزشکیان

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ’ایران کی عزت، ترقی اور عظمت کے راستے‘ پر گامزن رہیں گے۔

    انھوں نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سب کو یہ سکھایا کہ ملک کا ’سب سے بڑا سرمایہ‘ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔

  13. تجزیہ: ایران کی نئی قیادت اس عوامی اجتماع کے ذریعے ایک پیغام دینا چاہتی ہے, لیز ڈوسیٹ، تہران میں موجود مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں رکھے ہیں اور گاڑی تہران کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر سوگواروں کا ایک ہجوم ہے جو غم زدہ ہیں اور غصے میں ہیں۔

    ایران کی نئی قیادت چاہتی ہے کہ سوگواروں کے اس بڑے اجتماع کے ذریعے ملک کے اندر اور باہر موجود اپنے مخالفین کو طاقت اور مزاحمت کا ایک پیغام دیا جائے۔

    تہران میں تین روزہ عوامی سوگ کا آج آخری دن ہے۔ اس کے بعد یہ رسومات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے دیگر شہروں کی طرف منتقل کر دی جائیں گی۔

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  14. علی خامنہ ای کا جنازہ، ایرانیوں کا خراجِ عقیدت

    ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر جاری ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں ایک سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا میں کی جائے گی۔

    ،ویڈیو کیپشنعلی خامنہ ای کے جنازے پر آبدیدہ ایرانی
  15. تہران کی سڑکوں پر سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں لے جائے جا رہے ہیں۔ یہ گاڑی چاروں طرف سے کھلی ہے اور سوگوار اس میں رکھے تابوتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہAtta KENARE / AFP via Getty Images

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہWANA via Reuters

    علی خامنہ ای کا جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  16. تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں شروع ہو گئی ہیں۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    متعدد گاڑیاں سوگواروں کے ہجوم سے گزرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت موجود ہیں۔

    آخری رسومات سات دنوں پر محیط ہیں۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. امریکی شہر نیو یارک میں چھوٹے طیارے کی دریا میں ہنگامی لینڈنگ

    پانی میں ڈوبا طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایک چھوٹے آبی طیارے (وہ ہوائی جہاز جو پانی میں اتر سکتا ہے) نے دریا میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب مین ہیٹن میں ایک طیارے کے دریا میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔

    نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حادثے کے بعد آبی طیارہ پانی میں عمودی حالت میں کھڑا تھا، جسے بعد ازاں کھینچ کر گھاٹ تک لے جایا گیا۔

    کوڈیاک 100 ماڈل کے طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو امدادی کارکنوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان میں سے دو افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم انھوں نے طبی امداد لینے سے انکار کر دیا۔

    واقعے کی تحقیقات کرنے والی امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارے کے پروں کو سہارا دینے والا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔

  18. بلوچستان میں 130 پولیس اہلکاروں کے بین الاضلاعی تبادلے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران سے 130 پولیس اہلکاروں کا تبادلہ ضلع چاغی کر دیا گیا ہے۔

    ماضی میں بلوچستان میں کسی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت تبدیلی کی مثال نہیں ملتی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی تادیبی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ سکیورٹی اور پیشہ ورانہ امور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق پولیس اہلکاروں کا بین الاضلاعی تبادلہ ان کے تحفظ اور دہشت گردی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہے۔

    بلوچستان میں پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

    رواں سال لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد بلوچستان میں اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر بین الاضلاعی تبادلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

    ماضی میں صوبہ انتظامی طور پر اے اور بی ایریاز میں تقسیم تھا۔ اے ایریاز شہری علاقوں پر مشتمل ہوتے تھے جہاں پولیس اپنے فرائض انجام دیتی تھی جبکہ بی ایریاز کے نام سے 80 فیصد سے زیادہ علاقے لیویز فورس کی عملداری میں تھے۔

    ماضی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیویز فورس کے علاقوں میں عام جرائم کی شرح کم ہونے کے باوجود بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا۔

    صوبائی حکومت نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو درپیش امن و امان کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں بابر یوسفزئی نے بتایا کہ بعض اوقات جب کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد پولیس چوکیوں یا تھانوں پر حملے کرتے ہیں تو مقامی سطح پر رشتہ داری یا واقفیت کے باعث اہلکار ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے۔

    ان کے بقول حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اہلکار اپنے آبائی اضلاع سے باہر تعینات ہو کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں تعیناتی سے نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی بہتر ہو گی بلکہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اہلکار اپنے آبائی ضلع کے بجائے کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوں گے تو کالعدم تنظیموں کے کارکن ان کے اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  19. فٹبال ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے

    شائقین فٹبال میچ دیکھ رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAlishia Abodunde/Getty Images

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں انگلینڈ اور ناروے نے اہم فتوحات حاصل کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جبکہ میکسیکو اور پانچ بار کا عالمی چیمپیئن برازیل ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

    انگلینڈ نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں میکسیکو کو 3-2 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔

    اُدھر ناروے نے برازیل کو 2-1 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

    اس طرح کینیڈا، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ میزبان ممالک میں اب صرف امریکہ باقی رہ گیا ہے، جس کا مقابلہ سات جولائی کو بیلجیئم سے ہو گا۔

  20. سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستانی حکام اور عوام کا شکریہ: ایران

    ایرانی رہبر اعلیٰ کی آخری رسومات میں شریک پاکستانی وفد

    ،تصویر کا ذریعہx.com/IranAmbPak

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت ان تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا جو علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہوئے اور ’ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے لکھا: ’اس قدر ممتاز، اعلیٰ سطح اور بڑی تعداد پر مشتمل پاکستانی وفد کی موجودگی دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کی گواہی ہے۔‘