’اگر اسرائیل کے پاس ہماری رپورٹ کو غلط ثابت کرنے والا کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے پیش کر سکتا ہے‘ جسٹس مرلی دھر, مہتاب عالم - بی بی سی اردو، دہلی

،تصویر کا ذریعہUN
اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے کمیشن کی رپورٹ کے جواب میں 18 صفحات پر مشتمل ایک تردیدی دستاویز تیار کر کے تقسیم کی، تاہم یہ دستاویز کمیشن کو باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔
بی بی سی کے نامہ نگار جُگل پروہت سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مرلی دھر نے کہا: 'اسرائیلی حکام نے ہماری رپورٹ کے خلاف 18 صفحات کا ایک تردید نامہ تیار کیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کیا۔ انھوں نے یہ ہمیں نہیں بھیجا، لیکن ہم پر امتیاز اور جانبداری کا الزام ضرور لگایا ہے۔'
جسٹس مرلی دھر، جو انڈین قانون دان اور سابق جج ہیں، نے اس تنقید کا بھی جواب دیا جن میں کہا جاتا ہے کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے دوران اسرائیلی فوجیوں سے براہِ راست بات نہیں کی۔
انھوں نے کہا: 'بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے رپورٹ کی تیاری کے دوران اسرائیلی فوجیوں سے بات نہیں کی۔ لیکن اسرائیلی فوجیوں نے خود ہی اس بارے میں بات کی ہے۔ انھوں نے نہ صرف ہم سے بلکہ پوری دنیا سے بات کی ہے۔ انھوں نے ویڈیوز بنائی ہیں اور ان پر فخر کیا ہے۔'
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں غزہ میں نسل کشی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے 'ہزاروں فلسطینی بچوں کو موت اور شدید جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانے کے اقدامات جان بوجھ کر کیے' اور یہ سلسلہ جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔
کمیشن کے مطابق اس کے پاس یہ نتیجہ اخذ کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ یہ اقدامات غزہ میں فلسطینیوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ تھے۔ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اس تحقیقاتی کمیشن کو مئی 2021 میں قائم کیا تھا۔ اس کی پہلی سربراہ ناوی پلّئی تھیں، جو 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہ چکی ہیں۔ کمیشن کے موجودہ سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر ہیں، جنھوں نے ستمبر 2025 میں یہ ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کمیشن کے دیگر ارکان کرس سیدوتی اور فلورینس ممبا ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ایسے ہتھیار استعمال کیے گئے جو جسم کے اہم اعضا کو نشانہ بناتے ہیں، جن میں کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بچوں سے بھرے مہاجر کیمپوں پر بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً کم عمر لڑکوں، کو اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں 'تشدد اور بدسلوکی' کا نشانہ بنایا گیا۔ کمیشن کے مطابق اس نے گرفتاری اور حراست کے دوران فلسطینی بچوں کے خلاف 'جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد' کے واقعات بھی دستاویزی صورت میں ریکارڈ کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں نوزائیدہ بچوں اور بچوں کے ہسپتالوں پر حملوں کے باعث 'بچوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولتوں تک رسائی منظم انداز میں ختم کر دی گئی، جس سے ان کے زندہ رہنے کے امکانات متاثر ہوئے۔'
کمیشن نے کہا گیا ہے کہ سکولوں پر حملوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور تعلیمی اداروں کی جبری بندش کے ذریعے اسرائیلی حکام نے بچوں کی تعلیم کے عمل میں 'منظم طور پر خلل ڈالا'، جس سے 'فلسطینی معاشرے کی ذہنی اور سماجی بنیادوں کو نقصان پہنچا'۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی حکومت کا ردعمل اور کمیشن کے سربراہ کا جواب
بی بی سی کے نامہ نگار جُگل پروہت سے گفتگو کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس سری نواسن مرلی دھر نے کہا کہ کمیشن نے رپورٹ کا مسودہ اسرائیل کو بھیجا تھا اور اس سے اپنا مؤقف پیش کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
انھوں نے کہا: 'میں بار بار یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اس پوری رپورٹ کا ڈرافٹ اسرائیل کو بھیجا گیا تھا۔ ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ ہم غزہ جانا چاہتے ہیں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔'
جسٹس مرلی دھر کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی حکام کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو کمیشن کو موصول ہونے والی معلومات سے مختلف ہیں تو وہ انھیں پیش کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: 'جنگ بندی کے بعد بھی بچے مارے جا رہے ہیں اور شدید زخمی ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو حاصل تحفظ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔'
ان کے مطابق فلسطینی بچوں کی حفاظت، دیکھ بھال اور بقا کو فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا: 'فلسطینی بچوں کی حفاظت، دیکھ بھال اور بقا، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیل بچوں کو نشانہ بنا کر فلسطینی عوام کی موجودگی اور ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔'
دوسری جانب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'جھوٹا'، 'بدنیتی پر مبنی' اور 'سابقہ رپورٹس کی طرح ایک اشتہاری ٹکڑا' قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق 'یہ رپورٹ ان اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے جو بے رحمی سے قتل کیے گئے، اغوا کیے گئے اور حماس کی جانب سے نشانہ بنائے گئے، جبکہ فلسطینی بچوں کو انسانی ڈھال اور جنگ کے مہرے کے طور پر استعمال کرنے کے حماس کے طریقۂ کار کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔'
اسرائیل نے کمیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود نہیں۔
اس بیان کے جواب میں جسٹس مرلی دھر نے کہا: 'اگر اسرائیل کے پاس کوئی ایسا ثبوت ہے جو ہماری رپورٹ کو غلط ثابت کرتا ہے تو وہ اب بھی اسے پیش کر سکتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images


























