ایران تبدیلی کے دہانے پر مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی؟, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نمائندہ بی بی سی

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران بدل رہا ہے مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران میں کیا تبدیلی آئے گی۔
اب تک ایرانی حکام کی گرفت مضبوط ہے۔ نہ اعلیٰ سیاسی حلقوں میں کوئی دراڑ نظر آئی ہے اور نہ ہی سکیورٹی اداروں میں، جن میں طاقتور پاسداران انقلاب بھی شامل ہے جو 1979 میں انقلاب کا تحفظ کے ہی ایک مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
دوسری جانب اپوزیشن میں جلاوطنی کے شکار کئی رہنما ہیں، بعض اوقات وہ ایک دوسرے پر بھی تنقید کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکومت پر بھی۔ ایران کے اندر سے بھی کچھ باوقار آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جن میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی شامل ہیں جو اب بھی جیل میں ہیں اور اندرونِ ملک پُرامن تبدیلی کی بات کر رہی ہیں۔
اس حالیہ بے چینی کے دوران سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی اپنی عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، لیکن وہ اس سے قبل ایک متحد کرنے والی شخصیت ثابت نہیں ہوئے۔
سماجی تحریکیں اکثر اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ وہ کسی رہنما کے بغیر ہیں، یوں حکام کے لیے کوئی نمایاں ہدف باقی نہیں رہتا جسے ختم کیا جا سکے۔
مگر یہ صورتحال اُن ایرانیوں کو پریشان کرتی ہے جو تبدیلی چاہتے ہیں لیکن انتشار یا انہدام نہیں، وہ اصلاحات کے خواہاں ہیں، انقلاب کے نہیں۔
اس بے چینی سے یہ بات واضح ہے کہ اب کوئی آسان حل باقی نہیں رہا۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تبدیلی کے عناصر موجود ہیں مگر یہ کس طرح جڑیں گے، اس بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

















