آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے
  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے
  • ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں‘
  • ایرانی عدلیہ کے مطابق مظاہروں کے دوران گرفتار عرفان سلطانی کو اب تک سزائے موت نہیں سنائی گئی ہے
  • امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ اب تک 2403 مظاہرین اور 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے دعوے ’بے بنیاد‘ ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران تبدیلی کے دہانے پر مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی؟, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نمائندہ بی بی سی

    ایران بدل رہا ہے مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران میں کیا تبدیلی آئے گی۔

    اب تک ایرانی حکام کی گرفت مضبوط ہے۔ نہ اعلیٰ سیاسی حلقوں میں کوئی دراڑ نظر آئی ہے اور نہ ہی سکیورٹی اداروں میں، جن میں طاقتور پاسداران انقلاب بھی شامل ہے جو 1979 میں انقلاب کا تحفظ کے ہی ایک مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب اپوزیشن میں جلاوطنی کے شکار کئی رہنما ہیں، بعض اوقات وہ ایک دوسرے پر بھی تنقید کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکومت پر بھی۔ ایران کے اندر سے بھی کچھ باوقار آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جن میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی شامل ہیں جو اب بھی جیل میں ہیں اور اندرونِ ملک پُرامن تبدیلی کی بات کر رہی ہیں۔

    اس حالیہ بے چینی کے دوران سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی اپنی عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، لیکن وہ اس سے قبل ایک متحد کرنے والی شخصیت ثابت نہیں ہوئے۔

    سماجی تحریکیں اکثر اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ وہ کسی رہنما کے بغیر ہیں، یوں حکام کے لیے کوئی نمایاں ہدف باقی نہیں رہتا جسے ختم کیا جا سکے۔

    مگر یہ صورتحال اُن ایرانیوں کو پریشان کرتی ہے جو تبدیلی چاہتے ہیں لیکن انتشار یا انہدام نہیں، وہ اصلاحات کے خواہاں ہیں، انقلاب کے نہیں۔

    اس بے چینی سے یہ بات واضح ہے کہ اب کوئی آسان حل باقی نہیں رہا۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تبدیلی کے عناصر موجود ہیں مگر یہ کس طرح جڑیں گے، اس بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

  2. ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز بحال ہو گئیں: ایران میں پاکستانی سفیر

    ایران میں پاکستان کے سفیر کے مطابق ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز بحال ہو گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں پاکستانی سفیر محمد مدثر نے لکھا کہ ’میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’یہ معلومات ہمارے شہریوں کے لیے اپنے عزیزوں سے فوری طور پر رابطہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔‘

  3. ارشد شریف قتل کیس: ’تفتیش کا عمل کافی سست ہے تاہم اس معاملے میں مناسب آرڈر جاری کیا جائے گا‘ جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وفاقی آئینی عدالت میں صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے اور عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    ارشد شریف قتل کیس کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ حقیقت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے اور عدالت کسی پر الزام نہیں دینا چاہتی تاہم اس معاملے میں مناسب آرڈر جاری کیا جائے گا۔

    سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سو موٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش تاحال جاری ہے، جبکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ عدالت اس کیس میں کیا کر سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا اقدامات ممکن ہیں ؟

    ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کینیا میں کیس دائر کیا گیا جس کا فیصلہ ان کے بقول ان کے حق میں آیا۔ انھوں نے کہا کہ کینیا کی عدالت سے حادثے کو قتل کا وقوعہ قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی جسے منظور کرتے ہوئے تفتیش کا حکم دیا گیا تاہم کینیا میں بھی ابھی تک تفتیش میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

    ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل کے مطابق پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور اسی مقصد کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پہلے ہی عدالت میں پیش کی جا چکی، ابتدا میں کینیا کی حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کیا تھا تاہم گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے معاہدہ طے پایا۔

    ان کے مطابق مزید تفتیش کے لیے جیسے ہی کینیا کی حکومت کہے گی، پاکستان اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجے گا اور کینیا حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھے گی۔

    اس از خود نوٹس کی سماعت کے دورانِ ایم کیو ایم رہنما عمران فاروق قتل کیس کا حوالہ بھی دیا گیا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران فاروق کا قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا جہاں انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی تاہم ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ اس کیس میں چالان جمع کرا دیا گیا ہے، دو ملزمان کو نامزد کیا گیا، جو اس وقت کینیا میں موجود ہیں، ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں اور انٹرپول کو بھی لکھ دیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔

    عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا اور پوری کوشش ہے کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے

  4. ایران میں انٹرنیٹ 132 گھنٹوں سے بند ہے: نیٹ بلاکس

    انٹرنیٹ مانیٹرنگ ایجنسی نیٹبلاکس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 132 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے اور ملک اب بھی آن لائن دنیا سے کٹا ہوا ہے۔

    ایرانی حکام کی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کے باعث عوام کی اکثریت بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں کر پا رہی، جس سے ملک کے اندر کی صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔

    یہ بلیک آؤٹ گزشتہ جمعرات کو اس وقت شروع ہوا جب مظاہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں اور عینی شاہدین کے بیانات غیر ملکی صحافیوں تک پہنچے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل انٹرنیٹ بندش نہ صرف معلومات کے بہاؤ کو روک رہی ہے بلکہ عوامی آواز کو دبانے کی ایک بڑی کوشش بھی ہے۔

  5. ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود عرفان سلطانی کو آج پھانسی دیے جانے کا خدشہ

    ایرانی حکام نے حکومت مخالف مظاہروں میں شامل عرفان سلطانی کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا تھا جنھیں اب عدالتی کارروائی کے دوران سزائے موت سنائی گئی ہے۔

    عرفان سلطانی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ سلطانی جن کی عمر 26 برس ہے کو آج بدھ 14 جنوری کو پھانسی دیے جانے کا امکان ہے۔

    بی بی سی فارسی سے گفتگو میں عرفان سلطانی ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ سلطانی کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا، جب ایران میں مظاہرے اپنے عروج پر تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انتہائی تیز رفتار عدالتی کارروائی کے دوران صرف دو دن کے اندر عدالت نے انھیں سزائے موت کا حکم بھی جاری کر دیا۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیم ہنگاو کے نمائندے اوویار شیخ نے کہا کہ ان کی ٹیم نے کبھی کسی مقدمے کو اتنی تیزی سے آگے بڑھتے نہیں دیکھا۔

  6. ایران سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایران میں سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے ’ایک ایسے وقت میں کہ جب ہم آپ کی (ایرانی حکومت) جانب سے مظاہرین پر تشدد کو بے نقاب کیا جا رہا ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ ہم ان سیاسی قیدیوں کو بھول گئے ہیں جو ان مظاہروں سے پہلے ہی جیل میں ہیں۔ جن میں نرگس محمدی، سپیدہ قلیان، جواد علی‌کردی، پوران ناظمی، رضا خندان، مجید توکلی، شریفہ محمدی، حسین رونقی اور بہت سے دیگر لوگ شامل ہیں۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان تمام سیاسی افراد کی مسلسل قید تشویش ناک بات ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً ان قیدیوں کو رہا کیا جائے۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ نے زور دیا کہ ایران میں سیاسی اور عقیدہ کی بنیاد پر قید افراد کی رہائی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

  7. ’ہم امریکہ کا نہیں، ڈنمارک کا انتخاب کریں گے: وزیرِاعظم گرین لینڈ

    گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ اگر ان کے عوام کو ’فی الفور‘ یہ کہا جائے کو وہ کسی مُلک کا انتخاب کریں تو وہ امریکہ کی بجائے ڈنمارک کو ترجیح دیں گے۔

    گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے یہ بیان حال ہی میں ڈنمارک کی وزیراعظم میتے فریڈرکسن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا، جسے اُن کی جانب سے اب تک کا سب سے سخت اور واضح ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے خطرات سے بچاؤ کے لیے امریکہ کا گرین لینڈ پر ’مالکانا حق‘ ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس نے جزیرے کو خریدنے کی تجویز دی ہے، تاہم اسے اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔

    بعد ازاں منگل کو جب صدر ٹرمپ سے نیلسن کے اس بیان پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ان کا مسئلہ ہے میں ان سے متفق نہیں ہوں۔۔۔ یہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بننے والا ہے۔‘

    گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت موجود ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے اور وزیراعظم میتے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی طاقت استعمال کی گئی تو یہ ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد کے خاتمے کی علامت ہوگی۔

    شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع گرین لینڈ کی جغرافیائی حیثیت اسے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی وارننگ نظام کے لیے نہایت اہم بناتی ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کے اعتبار سے بھی اس کی اسٹریٹجک اہمیت مسلم ہے۔

  8. ایرانی حکام انسانی حقوق اور انسانیت کا احترام قائم رکھیں: اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایران میں حالیہ ملک گیر مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔

    ماہرین نے زور دیا کہ حکومت پر لازم ہے کہ انسانی حقوق اور انسانیت کا احترام قائم رکھیں۔

    اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مای ساتو اور تین دیگر ماہرین، جو ماورائے عدالت اور سزائے موت اور اپنے حق کے لیے آواز اُٹھانے والوں کے امور پر کام کرتے ہیں، نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ ریچارد بینٹ نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریاں ـ بشمول بچوں کی گرفتاری اور طبی مراکز پر حملے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بے دریغ طاقت کا استعمال صرف اسی وقت جائز ہے جب یہ آخری راستہ ہو اور اس وقت بھی اسے قانونی اصولوں، ضرورت، تناسب اور احتیاط کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    مای ساتو نے خبردار کیا کہ ’خطرناک سیاسی زبان، جس میں پرامن مظاہرین کو ’دہشت گرد‘، ’فسادی‘ یا ’مزدور‘ کہا جاتا ہے دراصل پرتشدد کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔‘

  9. تھائی لینڈ میں مسافر ٹرین پر کرین گرنے سے 22 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے ناخون راتچاسیما میں ایک تعمیراتی کرین ٹرین پر گرنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن اب بھی تباہ شدہ ڈبوں میں پھنسے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے صوبے ناخون راتچاسیما میں ایک بڑی تعمیراتی کرین چلتی ہوئی ٹرین پر گر گئی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں اور ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    یہ حادثہ بدھ کی صبح سیکیئو ضلع میں پیش آیا، جو بینکاک سے 230 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کرین ایک ریلوے ٹریک پر کام کر رہی تھی جب وہ نیچے سے گزرنے والی ایک مسافر رٹین پر جا گری۔ اس تصادم کے نتیجے میں ٹرین پٹڑی سے اتر گئی اور کچھ دیر کے لیے اس میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔

    امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

  10. اگر مظاہرین کو سزائے موت دی گئی تو ’انتہائی سخت کارروائی‘ ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو سزائے موت دیتی ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت کارروائی‘ کرے گا۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام کے پرتشدد کریک ڈاؤن میں اب تک 2400 سے زائد حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنے ہیں جبکہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف مزید سخت اقدامات ایران کے لیے سنگین نتائج پیدا کریں گے۔

    ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حالات سے متعلق اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے حکام کو ’انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کو قتل یا سزائے موت دی گئی تو ایران کو اس کے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے، جو منگل کی شام ریاست مشی گن میں ڈیٹرائٹ کے دورے سے واپس واشنگٹن جا رہے تھے نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہی ایران کی صورتحال پر غور کریں گے۔

    انھوں نے ایرانی حکومتی حکام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اُمید ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کا قتلِ عام نہیں کریں گے۔۔۔ مگر لگ رہا ہے کہ ان کا رویہ مظاہرین کے ساتھ بہت خراب رہا ہے۔‘

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کو سزائے موت دیتا ہے تو امریکہ حکومتِ ایران کو سخت جواب دے گا۔

  11. دنیا نے آپ کی آواز سن لی ہے، ایرانی فوج ہم وطنوں کی جانوں کا تحفظ کریں، مدد آرہی ہے: رضا پہلوی

    ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایران میں جاری مظاہروں سے متعلق ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کیا ہے۔

    رضا پہلوی نہ کہا کہ ’ایرانی عوام کے نام میں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دنیا نہ صرف آپ کی آواز اور جرات کو دیکھ اور سن رہی ہے بلکہ اب اس پر ردعمل بھی دے رہی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں پتہ چلا ہے کہ امریکی صدر کا پیغام آپ تک پہنچ چکا ہے کہ ’مدد آرہی ہے آپ احتجاج جاری رکھیں۔‘

    ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں مظاہرین سے کہا کہ ’اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور حکومت کو یہ تاثر ظاہر نہ کرنے دیں کے اب حالات معمول پر آرہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’احتجاج کے دوران بہنے والے خون نے ہمارے اور حکومت کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ ان تمام مجرموں کے نام محفوظ رکھیں، وہ اپنے جرائم کی سزا پائیں گے۔‘

    رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں فوج کے اہلکاروں کو خصوصی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایران کی قومی فوج ہیں، اسلامی جمہوریہ کی فوج نہیں۔ آپ پر فرض ہے کہ اپنے ہم وطنوں کی جانوں کا تحفظ کریں۔ آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے جلد از جلد عوام کا ساتھ دیں۔‘

    واضح رہے کہ نو جنوری کو ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت لانے کے لیے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، احتجاج کریں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔

  12. ایران امریکہ کشیدگی خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے: قطر, بی بی سی فارسی

    قطر نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کی بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے لیے ’خطرناک نتائج‘ کا باعث بن سکتی ہے۔

    قطر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کو قتل کرے گی تو امریکہ ایران کو ’سخت ضرب‘ لگائے گا۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے منگل کو دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کی بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں ’تباہ کن اثرات‘ مرتب کر سکتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ دوحہ اس سے ’ہر ممکن حد تک‘ بچنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے بارہ روزہ جنگ کے دوران، امریکہ کی جانب سے اپنے جوہری تنصیبات پر حملے کے جواب میں، گزشتہ سال دو جولائی کو العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوجیوں کا مرکز ہے۔

    ماجد انصاری نے مزید کہا کہ ’ہم اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں ایک سفارتی حل ممکن ہے۔ ہم تمام فریقین سے بات کر رہے ہیں تاکہ کوئی سیاسی و سفارتی راستہ نکالا جا سکے۔‘

  13. ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 2000 سے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ، امریکہ کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے دوران اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ’احتجاج جاری رکھیں مدد آرہی ہے۔‘

    امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ 17 روز کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود وہ اب تک 1850 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 135 حکومتی حامی افراد، نو عام شہری اور بچے بچے بھی مارے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکی ورچوئل ایمبیسی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران میں جاری مظاہرے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ مزید پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، سڑکیں بند، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت نے موبائل، لینڈ لائن اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورکس تک رسائی محدود کر دی ہے۔ فضائی کمپنیوں نے ایران آنے اور جانے والی پروازوں کو محدود یا منسوخ کر دیا ہے، جبکہ کئی ایئرلائنز نے اپنی سروس معطل کر دی ہے۔‘

    امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے ترکی یا آرمینیا روانہ ہو جائیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث درست اعداد و شمار تک رسائی مشکل ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    ایران سے حال ہی میں نکلنے والے افراد یا وہ لوگ جو سٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ کی مدد سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں بڑی تعداد میں زخمی اور لاشیں موجود ہیں۔

    انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش کے باعث گزشتہ دنوں میں درست معلومات حاصل کرنا اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ آزاد میڈیا کی غیر موجودگی میں ان خبروں کی جانچ پڑتال تقریباً ناممکن ہے۔

  14. ایرانی نظام پر شدید دباؤ ہے مگر یہ ختم ہونے والا نہیں, جیریمی بوؤن کا تجزیہ

    ایک آمرانہ نظام کیسے مرتا ہے؟ جیسا کہ ارنسٹ ہیمنگ وے نے کہا تھا ’آہستہ آہستہ۔۔۔ اور پھر اچانک۔‘

    ایران میں مظاہرین اور بیرون ملک ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں اسلامی نظام آخری مرحلے میں ہے۔ لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اگر یہ کمزور ہو رہا ہے تو ابھی آہستہ آہستہ مرحلے میں ہے۔

    حالیہ دو ہفتوں کے احتجاج نظام کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    ایرانی عوام کا غصہ اور مایوسی پہلے بھی سڑکوں پر نظر آ چکی ہے، لیکن حالیہ احتجاج پچھلے دو سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر لگائے گئے فوجی اور اقتصادی دھچکوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اس دوران حکومتی فورسز نے شہریوں پر طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے مظاہرے، جیسا کہ ظاہر ہے، ختم ہو گئے ہیں۔

    اگرچہ ایرانی نظام شدید دباؤ میں ہے، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔

  15. امریکہ اور اسرائیل کی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ 279 مظاہرین گرفتار کر لیے گئے: ایرانی پولیس چیف

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 279 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ ہیں۔

    ایرانی سرکاری براڈکاسٹر آئی آر ائی بی کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانی عوامی سکیورٹی پولیس کے چیف فراجا نے 279 ’شرپسندوں‘ کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

    حالیہ ہفتوں کے مظاہروں کے دوران، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور مظاہرین کو ’شرپسند‘ قرار دیا۔

  16. ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایران میں براہِ راست مداخلت کے لیے تیار ہیں, سارہ سمتھ، بی بی سی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر

    ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کے خلاف اپنی زبان کو سخت کر رہے ہیں ۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ اور ان کے قومی سلامتی کے حکام ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    وہ کئی دنوں سے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ ’تیار اور مکمل طور پر مسلح ہے‘ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کس حد تک جانے کو تیار ہیں، یا جب وہ ایک ہی سوشل میڈیا پوسٹ میں مظاہرین سے کہتے ہیں کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، تو اس کا مطلب کیا ہے۔۔۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بڑی بھاری قیمت ادا کریں گے۔

    صدر کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں: وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کا حکم دے سکتے ہیں (جس پر جون میں امریکہ نے حملہ کیا تھا)، یا بیلسٹک میزائل سائٹس پر حملہ کر سکتے ہیں۔

    چھوٹے یا محدود آپشنز میں سائبر حملہ یا ایران کے سیکورٹی اداروں کے خلاف کارروائی شامل ہو سکتی ہے، جو مظاہریں پر تشدد کر رہے ہیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر حملہ ہوا تو وہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر جواب دینے پر مجبور ہوگا۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگائیں گے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ کس طرح نافذ کیے جائیں گے اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا کہ یہ ٹیرف کب اور کیسے نافذ ہوں گے۔

    اگرچہ امریکہ کی جانب سے ایران میں کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی قسم کی براہِ راست مداخلت کے لیے تیار ہیں۔

  17. گزشتہ روز کی خبروں پر ایک نظر

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر ’نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں‘ دینا ناقابلِ قبول ہے۔ وزارت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا۔ ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے کی دھمکیاں ’قطعی طور پر ناقابلِ قبول‘ ہیں۔ انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران میں بدامنی کو ’بہانہ‘ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے، جیسا کہ گذشتہ سال جون میں امریکی فضائیہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
    • برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے قتل کی برطانیہ ’سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر تشدد کی مذمت کی ہے، اور انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے فون پر گفتگو کے دوران اسی مؤقف کو دہرایا۔
    • ایران کی جامعات نے اپنے امتحانات ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیے ہیں اور انٹرنیشنل طلبہ کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ تہران میں پاکستان کے سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کر لیں۔‘
    • ایرانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سرحدی علاقوں میں سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ملک کے اندر ’جاسوسی اور تخریب کاری‘ کی کارروائیاں تھا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق کچھ ایرانی ایلون مسک کی سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس استعمال کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ حکام نے سگنل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے، جسے وہ ’جیمنگ‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
  18. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    یہاں آپ کو پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں، تجزیے اور تبصرے پیش کیے جائیں گے۔

    گذشتہ روز کے لائیو پیج پر جانے اور خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کر سکتے ہیں۔